اسرائیل کے عرب ممالک سے تعلقات۔۔۔ سیداسد تقوی

اسرائیل عرب دنیا میں ایک کینسر کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اسی کی دہائی تک عرب دنیا اور اسرائیل آپس میں مدمقابل رہے، تاہم سیاسی میدان میں اسرائیل برطانیہ اور امریکہ کی آشیر باد سے ہمسایہ حکومتوں کے ساتھ امن معاہدے کرتا چلا گیا۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ بہت سے مسلم ممالک میں اسرائیل کے سفارت خانے کھل گئے۔ کچھ ممالک نے اگرچہ اسرائیل کو کبھی قبول تو نہ کیا، تاہم اس کے ساتھ روابط کا آغاز کر دیا۔ بعض ممالک نے اسرائیل کو نہ صرف قبول کر لیا بلکہ اس اکائی کے ساتھ باقاعدہ سفارتی روابط قائم کئے اور کچھ ایسے بھی ہیں جنھوں نے نہ کبھی اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا اور نہ ہی ان ممالک کے اسرائیلی ریاست سے کوئی سفارتی روابط ہیں۔ بعض مسلم ممالک ایسے بھی ہیں جنھوں نے ابتداء میں تو اسرائیل کے وجود کو شرائط کے ساتھ قبول کیا، لیکن بعد میں اپنی اس توثیق کو واپس لے لیا اور کئی ریاستوں نے بعد کے عرصے میں سفارتی تعلقات کو ختم کر دیا۔ مصر، آذربائیجان، مالدیپ، ترکی، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، تنزانیہ سمیت متعدد غیر مسلم ممالک اسرائیل کے وجود کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان کے سفارتی روابط بھی قائم ہیں۔ بعض مسلم ممالک جنھوں نے اگرچہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم تو نہیں کیا، تاہم ان کے تعلقات اس اکائی سے مکمل طور منقطع بھی نہیں، ان میں افغانستان، بحرین، قطر، انڈونیشیا، ملائشیا، عرب امارات شامل ہیں۔

سعودی عرب کا شمار ان ممالک میں ہوتا رہا، جس نے نہ تو اسرائیل کے وجود کو کبھی تسلیم کیا تھا اور نہ ہی اس اکائی سے کسی قسم کے روابط قائم کئے تھے، تاہم کچھ عرصے سے سعودی حکومت اور اسرائیل کے خفیہ روابط کی باتیں سامنے آرہی تھیں، جو اب خفیہ نہیں رہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک ان روابط کو کبھی بھی سرکاری سطح پر نہ تو اسرائیل نے قبول کیا اور نہ ہی سعودی حکومت نے ان روابط کی توثیق کی۔ اتنا کچھ خفیہ رکھنے کے باوجود بہت سی ایسی باتیں ہیں، جو منظر عام پر آتی رہیں یا لائی جاتی رہیں، جیسا کہ 2005ء میں سعودیہ نے اسرائیلی مصنوعات اور خدمات پر عائد پابندی پر سے خاتمے کا اعلان کیا۔ 2015ء میں ’’دی ٹائمز آف اسرائیل‘‘ کے ایک آرٹیکل میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل نے سعودی عرب کو آئرن ڈوم راکٹ ٹیکنالوجی کی پیشکش کی ہے، تاکہ یمن کی جانب سے آنیوالے راکٹوں کو مار گرایا جاسکے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے یہ ٹیکنالوجی حماس کے راکٹوں کو مار گرانے کے لئے تشکیل دی ہے اور حماس سے ہونے والی آخری جنگ میں اس ٹیکنالوجی سے کافی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ سعودیہ کے معروف ٹویٹر اکاونٹ ’’مجتھد‘‘ جو شاہی خاندان کی اندر کی باتیں منظر عام پر لاتا ہے، کے مطابق سعودیہ میں ڈرون طیاروں کی اسمبلی کا پلانٹ جو جنوبی افریقہ کی وساطت سے چل رہا ہے، بنیادی طور پر اسرائیلی پلانٹ ہے، جس میں ڈرون طیارے پہلے جنوبی افریقہ جاتے ہیں اور وہاں ان طیاروں کو کھولا جاتا ہے اور دوبارہ سعودیہ میں لا کر انھیں جوڑا جاتا ہے۔

2011ء میں اسرائیل کے فوجی جہازوں کا تبوک کے ہوائی اڈوں پر اترنا بہت سے خبری اداروں نے رپورٹ کیا۔ اس خبر کو مغربی میڈیا نے دبا دیا، تاہم ورلڈ آف جوڈیشیا نامی سائٹ نے اپنی اشاعت میں اس خبر کو عام کر دیا۔ فوجی ساز و سامان سے لدے اسرائیلی طیاروں کی زمین حجاز پر یہ کوئی آخری لینڈنگ نہ تھی۔ یہ سلسلہ یمن جنگ کے دوران میں مسلسل جاری ہے۔ 2016ء میں ایک سابق سعودی جنرل ماہرین تعلیم اور چند کاروباری افراد کے وفد کے ہمراہ اسرائیل گیا اور اس نے دونوں ممالک کے مابین موجود روابط کو بڑھانے کی بات کی۔ سعودی جزائر سنافیر و طیران جو مصر اور اسرائیل کے مابین وجہ نزاع رہے ہیں، کی سعودیہ کو سپردگی کے وقت بھی سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اسرائیل اور مصر کے مابین ہونے والے معاہدے کا احترام کریں گے، تاہم اس مسئلہ میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست طور پر روابط قائم نہیں کریں گے۔ اپریل 2016ء میں اسرائیلی وزیر دفاع نے بتایا کہ سعودیہ نے تحریری یقین دہائی کروائی ہے کہ خلیج طیران سے اسرائیلی جہازوں اور کشتیوں کو محفوظ طریقے سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

شام کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اسرائیل اس اتحاد کا حصہ ہے، جو دہشت گردوں کو مالی وسائل، فوجی تربیت اور تزوراتی معلومات مہیا کرتا ہے۔ جھبۃ النصرہ کے کئی ایک جنگجو اسرائیلی فوجی ہسپتالوں میں زیر علاج رہے اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان جنگجوؤں سے ملاقات بھی کی۔ نیتن یاہو اپنے متعدد بیانات میں اس بات کی جانب اشارہ کرچکے ہیں کہ عرب ریاستوں میں سے چند ایک کے ساتھ ان کے تزویراتی روابط ہیں۔ انھوں نے بہرحال کبھی واضح طور پر نہ کہا کہ ان عرب ریاستوں میں سعودیہ بھی ایک ہے۔ ایران کی مخالفت میں یہ دونوں ریاستیں یعنی سعودیہ اور اسرائیل باہم کس قدر ہم آہنگ ہوچکے ہیں، اس بارے میں اطلاعات اب منظر عام پر آنا شروع ہوچکی ہیں اور اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی۔ امریکہ کے معروف جریدے دی ٹائمز نے ایک خبر شائع کی کہ سعودیہ اسرائیل کو اپنی فضا کا استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملے کی صورت میں اپنے دفاعی نظام کو چیک کر رہا ہے۔ اسی طرح یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ایران کے بارے میں معلومات کے تبادلے کے حوالے سے بھی سعودیہ کے ایک اہم جنرل انور عشقی اور اسرائیل کے سابق سفیر جو نیتن یاہو کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں، کے مابین ایک ملاقات واشنگٹن کی کونسل فار فارن ریلیشنز میں ہوئی، اس ملاقات میں دونوں شخصیات نے ایران کے خلاف دونوں ریاستوں کے مشترکہ مفادات پر بات کی۔

جون 2017ء میں سابق اسرائیلی وزیر دفاع موشے یلون نے کہا کہ ہم اور عرب! وہی عرب جنھوں نے چھے روزہ جنگ میں یہودی ریاست کو تباہ کرنے کے لئے ایک اتحاد تشکیل دیا تھا، آج ایک کشتی میں سوار ہیں۔ موشے یلون نے کہا کہ قطر کے علاوہ تقریباً سبھی عرب ممالک نیوکلیئر ایران کو ایک خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نومبر 2017ء یعنی رواں ماہ اسرائیل کے ٹی وی چینل 10 نیوز نے ایک سفارتی کیبل کو لیک کیا، جس میں اسرائیل کی وزارت خارجہ کی طرف سے اپنے تمام سفیروں کو ایک میل کی گئی تھی۔ یہ کیبل عبرانی زبان میں تھی، جس میں اس بات کی توثیق کی گئی تھی کہ اسرائیل اور سعودیہ کے مابین سعد الحریری کے استعفٰی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے تعاون موجود ہے۔ اس کیبل میں تمام سفارت کاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ حزب اللہ اور ایران پر دباؤ پیدا کرنے کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اس تعلق کا اگلا مرحلہ اسرائیل کے چیف آف آرمی اسٹاف کا 16 نومبر 2017ء کو سعودیہ کے ایک نشریاتی ادارے کو دیا گیا انٹرویو ہے۔ کسی بھی اسرائیلی عہدیدار کا سعودیہ کے کسی نشریاتی ادارے کو دیا گیا یہ پہلا انٹرویو ہے۔ جو بذات خود سعودیہ اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس انٹرویو میں گادی ایزینکوت نے کہا کہ ہم ایران کے بارے میں سعودیہ کے ساتھ اطلاعات کے تبادلے کے لئے تیار ہیں۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل نے سعودیہ کی جانب سے شام کے خلاف پیش کی جانے والی اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی بھی تائید کی۔ اسرائیل کے کمیونیکیشن کے وزیر ایوب کارا نے سعودیہ کے مفتی اعظم کو اسرائیل کے بارے میں دوستانہ بیان دینے پر اسرائیل کے دورے کی دعوت دی۔ الجزیرہ نیٹ ورک کے ایک کالم کے مطابق محمود عباس کو بھی اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں سعودیہ بلایا گیا۔ کالم نگار کا کہنا ہے کہ سعودی حکمران کی جانب سے محمود عباس کو طلب کرنے کا مقصد انہیں اس بات پر راضی کرنا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مشیر جیریڈ کشنر کے فلسطین کے مسئلے کے حل کے حوالے سے منصوبے کو قبول کر لیں، جس میں اسرائیل اور سعودیہ کا کلیدی کردار ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے عنوان سے بہت سے دیگر اقدامات بھی متوقع ہیں، جس میں اسرائیلی کاروباری حضرات کے لئے اردن، مصر، عرب امارات اور سعودیہ کا ویزہ، مسافروں کی منتقلی اور مواصلاتی روابط کی بحالی شامل ہیں۔

خطے میں اسرائیلی مفادات جن کو اب سعودیہ اور خلیچ کی دیگر چند ریاستوں نے باقاعدہ طور نہ صرف اپنا لیا ہے بلکہ اس کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا ہے، آہستہ آہستہ رنگ دکھا رہے ہیں۔ شام میں حکومت کے خاتمے کے لئے ایک طویل جنگ، حزب اللہ کے خلاف اقدامات، حماس اور اخوان کے حامی ملک قطر کے خلاف پابندیاں اس کھیل کا ایک حصہ ہیں۔ ان عرب ریاستوں پر حاکم شخصیات اگر اپنے عوام کے جذبات کا لحاظ رکھیں تو کبھی ایک ایسی ریاست کی ہاتھوں میں ہاتھ نہ ڈالیں، جو گھٹنوں تک فلسطینیوں کے خون میں غرق ہے۔ حالات کا سرسری سا جائزہ اس حقیقت پر سے پردہ اٹھانے کے لئے کافی ہے۔ عرب ریاستوں پر حاکم ان شخصیات کا واحد مفاد ان کا اپنا اقتدار ہے، ایران سے خطرہ فقط یہی ہے کہ یہاں سے امت مسلمہ کو وہ فکر ملی، جس نے جبر و استبداد اور مغربی غلامی نیز شہنشاہیت کے خلاف آواز بلند کی، مقاومت کا راستہ اپنایا اور اس میں کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ کبھی اس پر فرقہ وارانہ جنگ تھونپی جاتی ہے تو کبھی اسے عربوں کا دشمن بیان کرکے لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سعودی اور خطے کے دیگر حکمران اپنا اقتدار بچانے کے لئے جس بھیڑیے کی گود میں بیٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کی اسلام دشمنی اور مسلمان ستیزی کسی سے پنہاں نہیں ہے۔ حیرت کی بات ہے یہ سب انہیں نظر کیوں نہیں آرہا۔؟

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *