نفسیاتی اُلجھنیں اور شادی شدہ عورت کے مسائل۔۔تنویر سجیل

نفسیاتی مسائل کے حوالے سے ہمارا عمومی رویہ ایک ایسی نظر اندازی کا شکار ہے جس کو عقل تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے ہر خاص و عام ، تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ کے نزدیک اوّل تو نفسیاتی مسائل وجود ہی نہیں رکھتے اگر رکھتے بھی ہیں ان کے علاج کے لیےکسی ماہر نفسیات کے پاس جانے کی ضرورت کو ہی محسوس نہیں کرتے اور مسائل کے حل کے لیے ایسے طریقے دریافت کرتے ہیں جو مسائل تو حل نہیں کر پاتے البتہ مزید مسائل کا اضافہ کر دیتے ہیں ۔

نفسیاتی مسائل کے وجود سے انکار کرنے والے گروہ کی یہ بات ہی نرالی ہے کہ وہ ایسے  حقیقی امراض کے وجود سے انکارکرتے ہیں جن کا تعلق سوچ، ذہنی اعمال ، اور روز مرّہ کے رویوں سے ہوتا ہے ایسے لوگ دراصل اپنی کم علمی اور نا واقفیت کی وجہ سے نہ صرف خود کی زندگی کو مشکل بناتے ہیں بلکہ ساتھ رہنے والوں خاص طور پر فیملی ممبرز کی زندگی کو بھی اجیرن کر دیتے ہیں اور اپنی اسی جامد سوچ اور غیر لچکدار رویے کی وجہ سے زندگی سے بھرپور شخص کواک زندہ مردے میں بدل دیتے ہیں ۔

دوسرے طبقے کی منطق بھی کم نرالی نہیں ہے جو نفسیاتی مسا ئل کا اقرار تو کرتے ہیں مگر اس کے مناسب علاج کے لیے ماہرین نفسیات سے رجوع کرنے سے انکار کرتے ہیں اور نفسیاتی مسائل کی ایسی توجیہات بتاتے ہیں جن کا تعلق ذرا بھی مسئلے سے نہیں ہوتا جیسا کہ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ نفسیاتی مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب کوئی شخص دین سے دور ہو ، اپنی عبادات کو ادا نہ کرتا ہو اور نفسیاتی مسائل دوسرے لوگوں کے کیے گئے شیطانی عملیات و تعویزات کی وجہ سے ہوتے ہیں اور پھر اسی سوچ کے تابع مسائل کے حل کے لیے ایسے غیر رسمی و طلسماتی طریقے اختیار کرتے ہیں جو مسائل کو کبھی کنارے نہیں لگنے دیتے اور زندگی میں مزید الجھاؤ کا سبب بنتے ہیں ۔

نفسیاتی مسائل کوئی پاگل پن نہیں ہوتے جس میں یہ ضروری ہو کہ نفسیاتی مسائل میں الجھا شخص ایسی حرکات کرے جو بہکی بہکی ہوں جس سے لگتا ہو کہ اس شخص کا ذہنی توازان اورحواس اپنی نارمل حالت میں نہیں ہیں بلکہ یہ ایسے مسائل ہیں جن کی موجودگی میں لوگ زندگی میں خوشی محسوس نہیں کرتے، ہر وقت پریشانی و ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں ، زندگی میں تمام سہولیات کے باوجود اپنی ذات کو کمتر سمجھتے ہیں ، اداسی ، وسوسے اور وہم کے گرداب میں رہتے ہیں ، کسی انجانے خوف سے الجھ رہے  ہوتے ہیں یا پھر ہوش و حواس پر ٹینشن اور سٹریس کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں ۔

نفسیاتی مسائل کی لسٹ کو پڑھ کے شاید آپ کو لگے کہ یہ تو وہ مسائل ہیں جن میں ہر دوسرا شخص مبتلا ہے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ ہمارے ہاں نفسیاتی مسائل کی آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہم یہ جان ہی نہیں پاتے کہ سر میں ہونے والا درد دراصل حد سے زیادہ سٹریس لینے کی وجہ سے ہو رہا ہے ، رات کی نیند اس وجہ سے خراب ہے کہ ذہن پر ٹینشن کا پریشر ککر چڑھا ہو اہے جس کی بجتی سیٹی سے نیند غائب ہے ایسی اور بھی بہت سی نفسیاتی و جذباتی وجوہات ہیں جو جسمانی تکلیف اور بیماری کا  سبب بنتی ہیں ۔

نفسیاتی مسائل کی صورت میں سب سے مشکل مرحلہ اس کے علاج کا فیصلہ لینا ہے اور یہ مرحلہ مزید مشکل تب ہو جاتا ہے جب پارٹنرز میں کوئی ایک نفسیاتی الجھن کا شکار ہو اس حقیقت کو جان کر بھی افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مرد یا اسکے خاندان والے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ علاج  کروانا  ہے یا نہیں اوّل تو وہ اس بات کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں کہ ماہر نفسیات سے علاج کے لیے رجوع کیا جائے اگر وہ مان بھی لیں کہ علاج کی ضرورت ہے تو پھر بھی غیر رسمی طریقہ علاج کو اپناتے ہیں جس پر وقت اور پیسہ ضائع کرتے رہتے ہیں۔

دوسرا یہ بھی ایک خوفناک حقیقت ہے کہ شادی شدہ خواتین کو اتنی آزادی میسر نہیں ہوتی کہ وہ نفسیاتی الجھن کی صورت میں خود سے یہ ٖفیصلے لیں کہ اس کو علاج کے لیے ماہر نفسیات سے رجوع کی ضرورت ہے اس شخصی آزادی کے نہ  ہونے کی وجہ سے وہ مزید مسائل کا شکار ہو جاتی ہے جبکہ نفسیاتی مسائل پر کی گئی تحقیقات کو پڑھا جائے تو معلوم ہو گا کہ نفسیاتی مسائل کا تناسب سب سے زیادہ خواتین میں پایا جاتا ہے ۔

چونکہ شادی شدہ خواتین کی آزادی کا انحصار شوہر اور سا س سسر کی مرضی اور دقیانوسی سوچ کے تابع ہوتا ہے  جس کی وجہ سے وہ باقائدگی سے مناسب علاج سے محرومی کا شکار ہو جاتی ہیں، علاج کے حوالے سے قائم یہ صنفی امتیاز خواتین کی نفسیات پر ایک مسلسل عذاب کی مانند اُترتا ہے جو کہ خانگی اور گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ میں مزید دب جاتا ہے اور عورت خود کو احساسات سے عاری انسان محسوس کرنے لگتی ہے ۔

ایسی صورت میں مسائل کی شدت کا بڑھنا ایک فطری عمل ہے جس کے بُرے اثرات خاتو نِ خانہ کے روز مرہ کے کام کاج ، پروفیشنل لائف اور شادی شدہ زندگی پر بہت منفی ہو سکتے ہیں ایک ایسی خاتون جس کے کندھے پہلے ہی گھریلو ذمہ داریوں سے جھکے ہوتے ہیں وہ نفسیاتی مسائل کے مزید بوجھ تلے دب کر اپنی زندگی کی خوشی سے محروم ہو جاتی ہے اس کے لیے کسی طور بھی یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ لائف پارٹنر یا ماں کے طور  پر امور خوش اسلوبی سے انجام دے سکے۔

البتہ اگر خاوند سمجھ دار ہو اور نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے نہ صرف اجازت دے بلکہ خود ساتھ جانے میں دلچسپی لے تو ایسی خواتین کے مسائل بہت تیزی سے ختم ہوتے ہیں اور پارٹنرز کی لائف کوالٹی بہت زیادہ بہتر ہو جاتی ہے مگر ایسا کم ہی ہوتا ہے اگر ہو بھی جائے تو سسرال کے باقی افراد اس علاج کےآڑے آنے لگتے ہیں اور طرح طرح کی ایسی غیر ضروری باتیں اور سازشیں بناتے ہیں کہ اس خاتون کی علاج کے لیے ہمت ہی ختم ہو جاتی ہے اور زندگی کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اگر ایک نظر ہم نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کے صنفی رجحان پر ڈالیں تو بیشمار ایسی تحقیقات ہماری آنکھیں کھولنے کو تیار ہو ں گی جو بتا رہی ہوں گی کہ کسی بھی خاتون کا نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کا تناسب مردوں کی نسبت تین گنا زیادہ ہے اور بہت سے ایسے سماجی ، جذباتی اور ماحولیاتی عناصر ہیں جن سے مرد اتنا متاثر نہیں ہوتے جتنا عورت متاثر ہو کر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے ۔
چنانچہ اس بات کے بارے ایک مثبت سوچ اور رجحان کی اشد ضرورت ہے جس میں خواتین کے نفسیاتی مسائل کے علاج کو اہمیت دی جائے اور ایسی حوصلہ شکن رکاوٹوں کو عقلمندی سے رد کیا جائے جو شادی شدہ خواتین کے نفسیاتی مسائل کے مناسب علاج میں رکاوٹ کا سبب بنیں کیونکہ ذہنی ، جذباتی اور نفسیاتی صحت مند لائف پارٹنر ہی زندگی کے دامن کو خوشیوں سے بھر سکتا ہے اور ایک مضبوط خاندان کی بنیاد ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments

Tanvir Sajeel
تنویر سجیل ماہر نفسیات حویلی لکھا (اوکاڑہ)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply