آہ ۔۔مولانا سلیم اللہ خان

خبر غم
وصال سلیم اللہ خان
خارج ز دامِ عقل ہے داخل در ارضِ دل
سمٹا تو نقطہ، بکھرا تو پھر بے کنار عشق
کچھ سانحات اپنی آمد کی خبر تو نہیں دیتے اشارات ضرور دیتے ہیں آج جب یہ شعر سرزد ہوا تب میں سوچ رہا تھا عشق میں ایسا کون ڈوبا ہے کہ محبوب کے سامنے بے وقعت نقطہ اور پھیلنے پر آئے تو عالم بے کنار پر جن کے وجود سے انوارات بکھر رہے ہوں.
آہ وہ استاد گرامی حضرت شیخ سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کی ذات تھی.. لاکھوں علماء و مشائخ کے استاد، جامعہ فاروقیہ کے سربراہ، وفاق المدارس کے صدر، دینی تحریکات اور مسلمانان پاکستان کی وحدت کے غیر متنازعہ ستون قضائے الہی سے انتقال فرما گئے.
انا للہ و انا الیہ راجعون
ان للہ ما اخذ و لہ ما اعطی وکل شیئ عندہ باجل مسمی فلتصبر ولتحتسب
ممکن ہو تو حضرت شیخ کے رفع درجات کیلیے قرآن مجید کا کچھ حصہ تلاوت فرماکر ایصال ثواب فرمائیں.
اللہ ہم سب کی اس علمی کڑی جس کا آخری سرا ہادی عالم علیہ الف الف صلاہ و سلاما ہے کی نسبت سے خاتمہ بالخیر فرمائے
شاد مردانوی

شاد مردانوی
شاد مردانوی
خیال کے بھرے بھرے وجود پر جامہ لفظ کی چستی سے نالاں، اضطراری شعر گو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *