بریسٹ کینسر۔اسماء مغل

بریسٹ کینسر کی آگاہی ٹیم کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح دوسرے ایشیائی ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ہر9 میں سے 1 عورت بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہے۔

بریسٹ کینسر کیا ہوتا ہے؟

جسم کے خلیات کی تقسیم کا عمل ابنارمل ہوجانے پر سرطان کی ابتدا ہوتی ہے۔ یہ خلیات کام کرتے کرتے مردہ خلیات کی جگہ سنبھال کر کام شروع کردیتے ہیں ۔ بعض اوقات خلیے اس وقت بنتے ہیں جب ان کی ضررت نہیں ہوتی،یا پرانے خلیے ابھی زندہ ہوتے ہیں ۔ اس طرح ان کی کثیر تعداد ایک گروپ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اور گلٹی نما مادےکی شکل اپنا لیتی ہے۔ یہ ٹیومر اپنی نوعیت کےا عتبار سے سرطانی یا غیر سرطانی ہوسکتا ہے، سرطانی ٹیومر ارد گرد کے خلیات اور عضلات کو تباہ کردیتا ہے۔
چھاتیوں کے زیادہ تر سرطان یا تو چھاتیوں کے اندر نالیوں میں ہوتے ہیں یا پھر چھاتیوں کی گولائی میں خوابیدہ (غیر عامل) رہتے ہیں ۔تاہم سرطان چھاتیوں کے دیگر عضلات میں بھی پیدا ہوسکتے ہیں ۔

بریسٹ کینسر کی اقسام۔

چھاتیو ں کی بناوٹ میں غدود چربی اور جوڑنے والے ریشے دار عضلات شامل ہوتے ہیں ، چھاتیوں کے اندر گولائی والی بہت سی ساختیں ہوتی ہیں ۔ یہ ساختیں مزید چھوٹی گولائیوں میں تقسیم ہوتی ہیں ، جن کا اختتام دودھ کے غدود پر ہوتا ہے۔ ان چھؤٹے غدودوں سے بہت سی چھوٹی نالیاں نکلتی ہیں ،پھر یہ آپس میں مل جاتی ہیں ،اور ان کا اختتام نپل پر ہوتا ہے۔زیادہ صورتوں میں سرطان چھاتیوں کی نالیوں میں پیدا ہوتا ہے، یہ کیفیت نالیوں کا سرطان کہلاتی ہے۔چھوٹی گولائیوں میں پیدا ہونے والے سرطان کو گولائیوں کا سرطان کہا جاتا ہے۔چھاتیوں کے سرطان کی دیگر نسبتاً کم عام اقسام بھی شامل ہیں ، مثلاً چھاتیوں کا سوجن والا سرطان ،Medullar cancer,مخلوط ٹیومرز ،اور سرطان کی وہ اقسام جس میں نپل متاثر ہوتے ہیں اوراسے Pagets Disease کہا جاتا ہے۔

چھاتیوں کا نہ پھیلنے والا سرطان!

سرطان کی یہ قسم اپنے مقام سے ارد گرد کے عضلات اور جسم کے دیگر حصوں کی جانب منتقل ہوتے ہیں ۔

چھاتیوں کا پھینے والا سرطان!
سرطان کی یہ قسم ارد گرد عضلات اور جسم کے دیگر عضلات کی جانب منتقل نہیں ہوتی۔

پھیلنے والے سرطان کو سرایت کرنے والا سرطان کہتے ہیں ۔اور جب چھاتیوں کی اندرونی گولائیوں سے ارد گرد عضلات میں سرایت کرتا ہے تو اسے اندرونی گولائیوں سے سرایت کرانے والا سرطان کہا جاتا ہے۔

بریسٹ کینسر کی اقسام!
Metastatic cancer
یہ سرطان ٹیومر کے ابتدائی مقام سے پھیل کر جسم کے دور کے عضلات تک پہنچ جاتا ہے، جہاں چھاتیوں کا سرطان ہوتا ہے،زیادہ تر صورتوں میں لمف نوڈز ،یا ہنسلی کی ہڈی کے بالائی حصے تک پہنچ جاتا ہے، دیگر صورتوں میں چھاتیوں کا سرطان پھیل کر دماغ،ہڈیوں اور جگر تک پہنچ جاتا ہے۔

بریسٹ کینسر جو دوبارہ ہوجاتا ہے!

کینسر کی یہ قسم علاج کے کچھ عرصہ بعد دوبارہ لاحق ہوجاتی ہے۔ یہ کینسر چھاتیوں ،یاسینے کی دیوار یا جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتا ہے۔

بریسٹ کینسر ہونے پر کن خطرات کا سامناہوتا ہے؟

فیملی کی ہسٹری،خطرے کا ایک عامل ہے، اس حوالے سے ماں باپ دونوں سائیڈ کے رشتے داروں کی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر ماں یا بہن کو بریسٹ کینسر ہوتو اس کے نتیجے میں متعلقہ عورت کے لیے خطرہ چار گنا بڑھ جاتا ہے۔

ہارمونز کی وجہ سے بریسٹ کینسر کےاسباب!

چھاتی کا کینسر ہونے کے اسباب اب تک مکمل طور سے سمجھ میں نہیں آسکے ہیں- لیکن چند چیزیں جنہیں خطرے کے عوامل کہا جاتا ہے، کسی عورت کے چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کا موجب بن سکتی ہیں- بعض عورتوں کو یہ بیماری لاحق ہونے کے امکانات بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں- لیکن خطرے کے عوامل کی موجودگی کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ آپ کو چھاتی کا کینسر ضرور ہوگا- بعض عورتوں کو یہ ہو جاتا ہے جبکہ دوسری عورتوں کو (ایک جیسے خطرے کے عوامل کے باوجود) یہ نہیں ہوتا-

ذیل میں ہم معلوم شدہ خطرے کے چند عوامل کا ذکر کر رہے ہیں!
عورتوں کی عمر جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے،چھاتی کے کینسر کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے

1۔بریسٹ کینسر سے متاثرہ بعض خواتین میں جینیاتی نقائص دیکھے گئے ہیں۔جنھیں( آربی سی اے) جین میں تبدیلی سے تعبیرکیاجاتاہے۔
2۔اگرخاندان میں جیسے ماں ،بہن یاوالد وغیرہ اس مرض میں مبتلاہوں تو اس مرض کے لاحق ہونے کاخطرہ بڑھ جاتاہے۔
3۔بریسٹ کینسرمیں بڑھتی ہوئی عمر اورخواتین کے ہارمونز بھی اہم کرداراداکرتے ہیں۔
4۔شادی کے بعد بچوں کانہ ہونایاتاخیر سے ہونا بھی اس کاایک سبب ہوسکتاہے۔
5۔ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی (ایچ آر ٹی) اورمانع حمل گولیوں کااستعمال بھی اس کی وجہ ہوسکتاہے۔
6۔ماہواری کاجلدی شروع ہونایاسن یاس کادیرسے ہونابھی شامل ہے

مُوٹاپا، زائد مقدار میں الکحل کااستعمال، زیادہ وقت بیٹھنے کا طرز زندگی ،چھاتیوں کے سرطان کاخطرہ بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چھاتی کو پہنچنے والا نقصان (جیسے ایک ضرب) کینسر کا باعث بن سکتا ہے-
چھاتی کا کینسر کوئی متعددی بیماری نہیں ہے اور یہ کسی شخص سے دوسرے لوگوں میں منتقل نہیں ہو سکتا۔

چھاتیوں کا سرطان،چند مہینوں یا سالوں کے دوران بڑھتا ہے ۔ایک بار اِس کی تشخیص ہوجانے کے بعد، اِس کے علاج کے حوالے سے جلد پیش رفت ہونے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ۔کیوں کہ چھاتیوں کے سرطان کے پھیلنے کے دوران اِس کا علاج کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔درجِ ذیل میں سے کسی بھی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں آپ کو اپنے معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔
اس کی علامات کیا ہیں؟

چھاتی میں گلٹی
چھاتی کے حجم یا شکل میں تبدیلی
جلد میں گڑھے پڑ جانا یا چھاتی کی بافتوں کا موٹا ہو جانا
نپل کا نیچے جھکاؤ (اندرونی جانب)
نپل کے اوپر خارش (مثلا چنبل)
نپل سے سیال مادہ کا اخراج
بغل میں سوجن یا گلٹی

بریسٹ کینسر کے بارے میں عمومی غلط فہمیاں !

تیزی سے پھیلنے والے کینسرکی قسم، بریسٹ کینسر کو لے کر لوگوں کو کئی طرح کی غلط فہمیاں ہیں ۔بریسٹ کینسرکے بارے میں ضروری آگہی پھیلانا اور غلط فہمیوں کو دور کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ اس پر وقت رہے قابو پاکر اس کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ بریسٹ کینسر کے بارے میں مندرجہ ذیل غلط فہمیاں عام ہیں:

1بریسٹ میں گلٹی کی موجودگی لازماًکینسر کی علامت ہے
صرف چند فیصد گلٹیاں ہی کینسر کا باعث بنتی ہیں ۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر گلٹی کو کینسر کی علامت ہی سمجھ لیا جائے ۔ تاہم اگر کوئی گلٹی مستقل طور پر چھاتی میں موجود ہے یا آپ کو چھاتی کی بناوٹ میں کوئی تبدیلی محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں ۔

2۔بریسٹ کینسر صرف عورتوں میں ہوتا ہے
اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہر سا ل دو ہزار کے قریب مرد بریسٹ کینسر کا شکا ر ہوتے ہیں جن میں سے400کی اموات بریسٹ کینسر کے باعث ہوتی ہے

3۔ایکسرے کینسر کے پھیلنے کا باعث بنتا ہے
میمو گرام یعنی بریسٹ کا ایکسرے بریسٹ کینسر کی جانچ کا ابتدائی ذریعہ ہے۔میمو گرام کے دوران بریسٹ پر دباؤ دیا جاتا ہے جو بعض لوگوں کے مطابق کینسر کے پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہے۔نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے مطابق میمو گرام سے حاصل ہونے والے فوائد اس سے نکلنے والی شعاعوں کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔میمو گرام میں شعاؤں کا بہت معمولی اخراج ہوتا ہے۔

4۔یہ موروثی مرض ہے
ایسی خواتین میں کینسر کے خطرات بڑھ ضرور جاتے ہیں جن کی فیملی میں کینسر کے مریض پہلے سے موجود ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس فیملی کی ہر عورت کو کینسر ہوگا۔اکثر عورتیں جو بریسٹ کینسر کا شکار ہوتی ہیں ان کی فیملی میں کینسر کی بیماری سرے سے ہوتی ہی نہیں۔صرف دس فیصد مریض ایسے پائے گئے ہیں جن کی فیملی میں یہ بیماری پہلے سے تھی۔

6۔بریسٹ کینسر چھوت کی بیماری ہے
یہ بیماری نہ ہی دوسرے سے ہمیں لگتی ہے اور نہ ہی ہم سے دوسروں کو۔خلیات کی غیر معمولی افزائش جو بریسٹ کے ٹشوز میں پھیل جاتے ہیں کینسر کا باعث بنتے ہیں۔آپ صحت مند طرز زندگی اپنا کر اور ان خطرات کے بارے میں معلومات حاصل کرکے شروع میں ہی اس بیماری پر قابو پا سکتے ہیں۔ ۔

7۔گلٹی ہی کینسر کی واحد ممکنہ علامت ہے
کینسر زیادہ تر گلٹی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے لیکن خواتین کو بریسٹ میں ہونے والی دوسری تبدیلیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اس میں سوجن،خارش ،چھاتی میں درد،نپل کا بڑا ہوجانا،دھنس جانا یا نپل سے پس کا اخراج ہونا شامل ہے۔ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔اکثر بریسٹ کینسر بغل تک پھیل جاتا ہے اور بغل میں سوجن ہوجاتی ہے،یہ علامت چھاتی میں گلٹی محسوس ہونے سے پہلے ہوتی ہے۔دوسری طرف بریسٹ میں کوئی ظاہری تبدیلی یا علامت نہ بھی ہو تو میمو گرام سے اس کا پتہ چل جاتا ہے۔

8۔بائیوپسی سے کینسر پھیلتا ہے
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔یہ ایک دقیانوسی سوچ ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے مریض جن کی بائیوپسی ہوتی ہے ان میں کینسر تیزی سے نہیں پھیلتابہ نسبت ان لوگوں کے جن کی بائیوپسی نہیں ہوتی۔

میمو گرافی کیا ہے؟
میموگرام ،چھاتیوں کا ایکس رے ہوتا ہے ،جس کی مدد سے گلٹی نما ساخت کی نوعیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔سرطان کے ابتدائی مراحل کا پتہ چلانے کے لئے بھی میموگرام کروانے کا مشورہ دِیا جاتا ہے۔عام طور پر میموگرام کو دیکھ کر بتایا جا سکتا ہے کہ آیا گلٹی نما ساخت سرطان ہے یا نہیں، تاہم کوئی بھی ٹیسٹ 100 فیصد قابلِ اعتماد نہیں ہوتا ۔میموگرام کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ،10 سے 15 فیصد صورتوں میں ،میموگرام کے ذریعے سرطان کی تشخیص نہیں ہو پاتی ،جب کہ سرطان موجود تھا۔
میمو گرام کو دِیگر ٹیسٹوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ،کیوں کہ صِرف میموگرام ،گلٹی نما ساخت کا پتہ لگانے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔

بائیوپسی کیا ہے؟

چھاتیوں کے سرطان کا یقینی طور پ پتہ چلانے کا واحد یقینی طریقہ متعلقہ عضلات کی بائیوپسی کروانا ہے۔بائیوپسی کے معنیٰ یہ ہیں کہ متعلقہ عضلہ کا ایک بہت ہی چھوٹا ٹکڑا لے کر ،ایک پیتھا لوجسٹ اِس کا معائنہ اور ٹیسٹ کرتا ہے۔پیتھالوجسٹ مرض کی تشخیص کرنے کے سلسلے میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں،جو خورد بین کے ذریعے خلیات اور عضلات کو جانچ کر بتا سکتے ہیں کہ آیا سرطان موجود ہے یا نہیں۔

بریسٹ کینسر کا علاج کیا ہے؟

چھاتیوں کے سرطان کی علامات اور نشانیوں کے بارے میں آگہی کے ذریعے ،اِس سرطان کی جلد تشخیص میں مدد مِل سکتی ہے۔چھاتیوں کے سرطان کے علاج کا دارومدار ،اِس کی قِسم اور اِس کے مرحلے پر ہوتا ہے۔آپریشن، شُعائیں، ہارمونی عوامل، یا کیمیائی علاج وغیرہ ،اِس سرطان کے علاج میں شامل ہوسکتے ہیں۔عام طور علاج کو دَو درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ،یعنی طبّی طریقوں کے ذریعے علاج یا آپریشن کے ذریعے علاج۔

طبّی طریقوں کے ذریعے علاج!
بہت سی عورتوں کو ،آپریشن کے علاوہ ،طبّی طریقوں سے بھی علاج کروانے کی ضرورت ہوتی ہے،جن میں شُعاؤں ،کیمیائی اور ہارمونی طریقے سے علاج کرنا شامل ہوسکتا ہے۔ اِضافی علاج کے بارے میں فیصلہ، سرطان کی قِسم اور اس کے مرحلے ، ہارمون کی وصولی یا HER-2/neu کی وصولی کے مقامات،متعلقہ مریض کی صحت اور اُس کی ترجیحات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

شُعاؤں کے ذریعے علاج!
اگر آپریشن کے بعد ،ٹیومر کے کچھ خلیات باقی رہ جائیں تو انہیں ختم کرنے کے لئے شُعاؤں سے علاج کیا جاتا ہے۔شُعاؤں کے ذریعے علاج مقامی نوعیت کا ہوتا ہے ، لہٰذا یہ ٹیومر کے صِرف اُن خلیات پر اثر انداز ہوتی ہیں جو شُعاؤں میں براہ راست واقع ہوں۔شُعاؤں کے ذریعے علاج ہفتے میں 5 دِن اور 5 سے 6 ہفتوں تک کیا جاتا ہے ۔اور ہر وزٹ میں صِرف چند منٹ کا وقت خرچ ہوتا ہے۔شُعاؤں سے علاج میں کوئی درد یا تکلیف نہیں اورذیلی اثرات بھی نسبتأٔ کم ہوتے ہیں۔تاہم شُعاؤں کی وجہ سے جِلد میں بے آرامی یا ہلکی جلن ہو سکتی ہے۔

کیمیائی علاج!
اِس طریقہ علاج میں ،ایسی کیمیائی ادویات دی جاتی ہیں جو یا تو سرطان کے خلیات کو ختم کر دیتی ہیں یا ان کی مزید افزائش کو روک دیتی ہیں۔کیمیائی علاج عام طور پر’’دورانیوں‘‘ میں کیا جاتا ہے۔ہر دورانئے میں ایک بار شِدّت سے علاج کیا جاتا ہے جس کا دورانیہ چند دِن یا چند ہفتوں تک جاری رہتا ہے ، اِس کے بعدایک یا دَو ہفتے تک بحالی کا وقفہ کروایا جاتا ہے۔چھاتیوں کے سرطان والے زیادہ تر افراد کا ابتدا میں ، دَو یا پھر اکثر اوقات چار،دورانیوں میں علاج کیا جاتا ہے۔اِس کے بعد ٹیسٹ دوبارہ کئے جاتے ہیں تا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ کیمیائی علاج کا سرطان پر کس حد تک کامیاب اثر ہُوا ہے۔

کیمیائی علاج ،شُعاؤں کے ذریعے علاج سے ،اِس لحاظ سے مختلف ہوتا ہے کہ کیمیائی علاج میں پورے جسم کا علاج ہوتا ہے اور اِس طرح چھاتی کے علاقے سے باہر ،جسم میں دُور کے حِصّوں کی جانب منتقل ہوجانے والے سرطانی خلیات کو بھی نشانہ بناتا ہے۔کیمیائی علاج سے پیدا ہونے والے ذیلی اثرات کے بارے میں کافی معلومات دستیاب ہیں۔اِن ذیلی اثرات کی نوعیت کا دارومدار،استعمال کی جانے والی ادویات پر ہوتا ہے۔کیمیائی علاج کی بہت سی ادویات کے ذیلی اثرات کے طور پر بالوں کا گِرنا، متلی اور اُلٹی ہونا،بھوک کی کمی، تھکن، اور خون کے خلیات کی تعداد میں کمی ہونا وغیرہ شامل ہیں۔خون کے خلیات کی کمی کی وجہ سے مریضوں کے لئے انفکشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ، وہ خود کو بیمار اور تھکا ہُوا محسوس کرتے ہیں، یا معمول کی نسبت اُن کا خون جلد بہنے لگتا ہے ۔ایسی ادویات دستیاب ہیں جن کے ذریعے اِن ذیلی اثرات کا علاج یا اِن سے بچاؤحاصل کرنا ممکن ہے۔

ہارمونی علاج!

ہارمونی علاج بھی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ چھاتیوں کے سرطان(خاص طور پر ایسے سرطان جن میں ایسٹروجین یا پروجسٹیرون کی وصولی کے مقامات زیادہ ہوتے ہیں) ، اکثر صورتوں میں ہارمونی تبدیلیوں کے حوالے سے حِسّاس ہوتے ہیں۔ہارمونی علاج ٹیومر کے دوبارہ پیدا ہونے بچنے یا موجودہ مرض کے علاج کے لئے کیا جاتا ہے ۔

آپریشن!

چھاتیوں کے سرطان کی تشخیص کے بعد ،عام طور پر ،آپریشن پہلا قدم ہوتا ہے۔آپریشن کی نوعیت ،ٹیومر کی جسامت اور اِس کی قِسم ،مریض کی صحت اور اُس کی ترجیحات پر منحصر ہوتی ہے ۔
سرطانی عضلہ اور اس سے ملحقہ نارمل حِصّوں کو کاٹ کر الگ کرنا (LUMPECTOMY)
اِس طریقے میں ،سرطانی عضلہ اور اس سے ملحقہ نارمل حِصّوں کو کاٹ کر الگ کیا جاتا ہے ۔اِس طریقے کو معالجہ تصور نہیں کیا جاتا ،بلکہ یہ طریقہ دِیگر طبّی طریقوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ،مثلأٔ کیمیائی علاج کے ساتھ یا اِس کے بغیر ،شُعاؤں کے ذریعے علاج یا ہارمونی علاج کے ساتھ۔

کیا چھاتیوں کے سرطان سے بچا جا سکتا ہے؟
چھاتیوں کے سرطان کے حوالے سے سب سے زیادہ اہم عوامل میں ،جنس، عمر اور جینیات شامل ہیں۔کیوں کہ عورتیں اِن خطرات کے ضمن میں کچھ نہیں کر سکتیں، لہٰذا،باقاعدگی سے اِسکریننگ کی تجویز دی جاتی ہے تا کہ اِس سرطان کی تشخیص جلد ممکن ہوسکے اور اِس طرح چھاتیوں کے سرطان کی وجہ سے ہونے والی اموات کی روک تھام کی جاسکے۔
باقاعدگی سے اِسکریننگ میں،چھاتیوں کا ذاتی معائنہ ، کلینک میں چھاتیوں کا معائنہ ، اور میموگرافی وغیرہ شامل ہیں۔

جن عورتوں کو ماہواری آتی ہے ،اُن کے معائنے لئے ،بہترین وقت ماہواری کے اختتام کے فورأٔ بعد کا وقت ہوتا ہے۔
جن عورتوں کو ماہواری نہیں آتی ہے ،یا جن کی ماہواری انتہائی بے قاعدگی سے آتی ہے،اُن کے معائنے لئے ،ہر ماہ کی کوئی مخصوص تاریخ مقرر کر لینا بہترطریقہ معلوم ہوتا ہے۔ چھاتیوں کے ذاتی معائنے کے حوالے سے ہدایات ،چھاتیوں کے کلینک سے وابستہ ڈاکٹر سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

طبّی لحاظ سے چھاتیوں کا معائنہ : طبّی لحاظ سے چھاتیوں کے معائنے کی تعدا د کا دارومدار ،اِس سرطان کے بڑھنے کے بلند خطرے یا کم خطرے کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ سرطان کی امریکی سوسائٹی کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ ،20 سال کی عمر سے ہر تین سال بعد ،اور 40سال کی عمر سے ہر سال ،صحت کے تربیت یافتہ خدمت فراہم کرنے والے فرد کی جانب سے چھاتیوں کامعائنہ کیا جانا چاہیے۔40سال کی عمر سے ،ہر ایک یا دَو سال کے وقفے سے میموگرام کروانے کی تجویز پیش کی جاتی ہے ۔جن عورتوں کو ،چھاتیوں کا سرطان ہونے کا بلند خطرہ ہو ،اُن کے لئے میموگرام اِسکریننگ کا آغاز جلد کیا جاسکتا ہے ،عام طور پر اُس عمر سے 10سال پہلے ،جب سب سے زیادہ نو عمر قریبی رشتہ کو چھاتیوں کا سرطان ہُوا تھا۔

طرز زندگی میں تبدیلی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔جسمانی طور پر فعّال عورتوں میں ،چھاتیوں کا سرطان ہونے کا اِمکان کم ہوتا ہے ۔تمام عورتوں کو تجویز دی جاتی ہے کہ وہ جسم کا وزن نارمل حدود میں قائم رکھیں ،خاص طور پر،(عمر کے زیادہ ہونے کے سبب) ماہواری بند ہوجانے کے بعد سے،اور الکحل کا استعمال محدود کر دینا چاہیے۔ طبّی طور پر ضرورت ہونے کی صورت میں بھی ،ادویات کی صورت میں ہارمون لینے کا دورانیہ مختصر ہونا چاہیے۔

پاکستان میں اس مرض کی بڑھتی شرح کو دیکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ معلوماتی پروگرامز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے،دیہات میں جہاں خؤاتین شرم کے مارے اس بیماری کے بارے میں   اپنے گھر کے فرد سے بھی بات نہیں کرپاتیں ،وہاں بہت ضروری ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز خاص طور پر ایسے علاقوں میں جاکر  آگاہی پروگرام چلائیں ۔تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جاسکے۔

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *