• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • طالبات سے جنسی زیادتی اور ہمارا قومی بیانیہ ۔ عبید اللہ چوھدری

طالبات سے جنسی زیادتی اور ہمارا قومی بیانیہ ۔ عبید اللہ چوھدری

ایک نوجوان لڑکی کیا سوچتی ہے؟ وہ کیا کرنا یا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ کیا وہ ہم مردوں کی طرح سوچتی ہے؟ توبہ توبہ زمانہ غرقی پر ہے۔ میاں اس انگریزی تعلیم نے تونوجوان نسل کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ اب کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ ملالہ اور شرمین عبید کیا کم تھیں ہماری قومی غیرت کا عالمی اشتہار لگانے کے لئے جو اب کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیوں نے بھی بے شرم ہو کر استادوں پر الزام لگانا شروع کر دیا ہے۔ کالی  بھیڑیں ہر جگہ ہوتی ہیں کسی ایک استاد سے کچھ غلطی ہو گئی ہے تو اس کی سزا اب سب کو تو نہیں ملنی  چاہیے! اور یہ لڑکیاں بھی کہاں رابعہ بصری ہوتی ہیں۔ کچھ نہ  کچھ موقع تو دیا ہی ہو گا۔ ایسے ہی استاد کا دماغ خراب نہیں ہو جاتا۔ ایسی بے شرم لڑکیاں ، جن کو اپنے والدین کی عزت کا کوئی خیال نہیں ان کے ہاتھوں استاد کی عزت کیسے محفوظ رہ سکتی ہے!

یہ ہے وہ قومی بیانیہ جس نے ہمیشہ ہی برائی پر پردہ ڈالنے کی تر غیب دی ہے۔ ـ ’’تم دوسرے کے عیب پر پردہ ڈالو اللہ تمہارے عیب پر پردہ ڈالے گا‘‘۔ لیکن ان کو کون سمجھائے کہ کسی کی عزت تار تار کرنا عیب نہیں جرم ہے اور اس کی سزا بھی ہوتی ہے۔ گزشتہ سال سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ دوران سفر ایک سفید گاڑی میں ایک عالم دین  اپنے شاگرد کے زبردستی بوسے لے رہے تھے۔ فرنٹ سیٹ پر ایک کلاشنکوف بردار محافظ بھی بیٹھا تھا اور ایک صاحب اس کارروائی کی موبائل سے  ویڈیو بنا رہے  تھے۔ پھر کیا ہوا؟  وہی پردہ ڈالو ، مٹی پاؤ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اس طرح سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ایک لڑکی کی نعش برآمد ہوئی تو اس سانحہ کو بھی دبانے کی کوشش کی گئی۔

پردہ ڈالنے والا بیانیہ اب کمزور پڑ رہا ہے اور اس کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ اب لڑکیوں نے چپ رہ کر ظلم سہنے کی رسم توڑ دی ہے اور اب وہ بول رہی ہیں کہ ۔۔۔میں بھی۔۔۔ میں بھی ۔۔۔اور میں بھی۔۔۔ اس ظلم کا شکار ہوں۔  اہل دانش جانتے ہیں اور خاص کر کے استاد تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یونیورسٹیوں میں یہ چلن نیا نہیں۔ پہلے سالانہ امتحان کا نظام رائج تھا  اور اس میں چند سٹوڈنس کو  تھیسس بھی کروایا جاتا تھا۔ کلاس میں پوزیشن لینے کےلئے تھیسس ہی واحد راستہ تھا جس پر استاد کا مکمل کنٹرول تھا۔ باقی پرچے تو مارکنگ کے لئے باہر جاتے تھے لیکن تھیسس تو گھر کی بات تھی۔

سوشل سائنس کے مظامین میں ۸۰ سے زیادہ نمبر دینے کا رواج نہ  تھا جبکہ اگر تھیسس ہے تو ۹۵ تک بھی نمبر دے دئیے جاتے تھے۔ اور اکشر اوقات ان نمبروں کی قیمت یونیورسٹی گیسٹ ہاوس میں وصول کر لی جاتی تھی۔ جو اتنی جرات نہیں کر پاتے تھے وہ  لائبریری میں یا اپنے کمرے میں شاگردہ کو گھنٹوں بٹھا کر ’’تکتے رہتے تھے‘‘۔ ایسے میں شکار کے لئے دور دراز کے علاقوں سے آئی ہوئی’’ کامیابی کے لئے پر جوش ‘‘  طالبات کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ یہ واردات اپنی نوعیت میں عالمگیر ہے۔ اس میں بعض اوقات واجبی ظاہری شکل وصورت والی لڑکیوں کو بھی آسان حدف کے طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر لڑکی شکایت بھی کرے تو کوئی اس کی بات پر اعتبار نہ  کرے کہ ۔۔۔( اس پر دل آیا تھا؟ جھوٹ بولتی ہے؟ )۔

اب یونیورسٹیوں میں سمیسٹر  سسٹم رائج کر دیا گیا ہے۔ عام طور پر سال میں ۲سمیسٹر  ہوتے ہیں۔ امتحانی پرچے بھی استاد نے بنانے ہیں اور چیک بھی اس نے ہی کرنے ہیں۔ اس نظام میں استاد کے پاس شاگرد کو ’’ راضی‘‘ کروانے کے بہت سارے اختیار مل گئے ہیں ۔ اب سٹوڈنٹ کا لالچ بھی بڑھ گیا ہے۔ اچھا ’’ جی پی اے ‘‘   لینے کا اور استاد کا بھی کہ ۔۔۔ایک دو تین چار ۔۔۔۔ ایسے میں اب وہ استاد جو حقیقت میں ایک اچھے استاد ہوتے ہیں ان کی عزت بھی خاک ہو رہی ہے۔

پاکستان میں ۲ دہائی قبل عورتوں کے حقوق کی بات اور اس کی ترجمانی کرنا قریب قریب بغاوت کے زمرے میں آتا تھا۔ مشرف دور کی بات لے لیں ۔ وویمن منسٹری کے تعاون سے عورتوں پر تشدد کے موضوع پر ایک سٹڈی کروائی گئی۔ عام سے سوال تھے؟ مثلاً ۔ کیا مردوں کا عورتوں کو گھورنا (تاڑنا) ہراساں کرنے میں شمار ہوتا ہے۔ کیا آپ کو گھر سے باہر جانے کی آزادی ہے؟  اور کچھ ایسے سوال۔ کیا شادی کے لئے آپ کی مرضی پوچھی گئی تھی اور پھر ۔۔ ابتدائی نتائج پر ہی ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ ’’ ایک عورت کی مرضی پوچھنے کی کیا ضرورت ہوتی ہے؟‘‘  اور  ’’ہمارے معاشرے اور مذہب میں عورت کو اطاعت گزار بنایا ہے۔‘‘  ایسی باتوں سے پاکستان کا امیج خراب ہو گا ۔ ہم اس رپورٹ کو چھاپنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اور یہ فیصلہ ’’روشن خیال‘‘ کمانڈو حکمران نے خود لیا تھا۔  ابھی کچھ ماہ قبل ہی ٹی وی ڈرامہ ’’اڈاری‘‘ پر بھی شور مچایا گیا ہے۔

اب ایک بار پھر عورتوں نے اور خاص کر کے لڑکیوں نے ہمت دکھائی ہے۔ اب ان کا ساتھ دینا چاہے۔ اور مقدس رشتوں کی آڑ میں  نوجوان لڑکیوں کی عزت سے کھیلنا بند ہونا چاہیے۔ اور  مقدس اور محرم رشتوں  کو گندا کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔ اب ہر یونیورسٹی میں عورتوں کی سربراہی میں پروٹیکشن کمیٹیاں بنائی جایئں جوایسے واقعات کی تحقیق کریں۔ مجرم کو سزا دیں۔ تاکہ لڑکیوں اور اچھے استادوں کی عزت محفوظ بنائی جا سکے۔

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *