ہم اپنے سب سے بڑے وکیل اور دوسروں کے لئے سخت ترین جج ہیں اگر سماجی تناظر میں ہم ایک دوسرے کو دیکھیں تو کوئی بھی کسی کو انسان تصور نہیں کرتا ہے بلکہ ہر قسم کی برائی جو ہمارے ذاتی مفاد کے لئے ہو اسے نہ صرف اپنا حق سمجھتے ہیں بلکہ اسے برحق سمجھتے اور تسلیم کرانے کی بھی اپنی سی مکمل کوشش کرتے ہیں۔
ہم اپنے ہر برے فعل کا دفاع اس متشددانہ و بےرحمانہ انداز میں کرتے ہیں کہ سامنے والوں کی شخصیت و اخلاق کے بخئے ادھیڑ دیتے ہیں اور اس کو اپنی فتح تسلیم کرتے ہیں اور ہمارے حلقہ احباب کے لوگ ہمیں نہ صرف مستحسن نظروں سے دیکھتے ہیں بلکہ ویسا بننے کی بھی اپنی سی مکمل کوشش کرتے ہیں اور وقت کی کروٹ انہیں ہم سے بھی مزید دو ہاتھ آگے کر دیتی ہے اسی لئے ہمارے سماج میں لاقانونیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کی تنزلی کا گراف بھی دن بدن دلدلی رذیلیت کی نظر ہو رہا ہے۔
ہم اپنی ہر برائی کا جواز سماج میں پنپتی یا سماج سے جڑی مزید برائیوں سے پیش کرتے ہیں اور ایسا کر کے ہم خود کو حق بجانب تصور کرتے اور باور کراتے ہیں جیسے ملالہ یوسف کے ایک نامکمل بیان کو لے کر تاریخی کہانیوں میں سے ایسی ایسی انسانیت سوز غیر اخلاقی کہانیوں میں سے ایسے گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں جن سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ انسانی سماج سے جڑی تاریخ اس قدر مسخ ہے اور یہ مسخ تاریخ ہر غیر انسانی رویے کے لئے بہت بڑا جواز ہے اور ہم ہر قسم کی اخلاق باختگی ہمارا حق ہے۔
کسی بات کو واضح کرنے کے لئے میرے خیال میں دو طریقے ہو سکتے ہیں ایک یا تو دوسرے کی برائیوں کو اس بری طرح سے اچھالا جائے کہ ہماری برائی کسی کو برائی محسوس ہی نہ ہو اور ایسی صورت میں بحیثیت انسان میں نے محسوس کیا ہے کہ تعصب و نفرت کے جذبات ہماری ذات پہ مسلط ہو جاتے ہیں اور وہ برائیاں بھی مخالفت میں منسوب کر دیتے ہیں جو کہانیوں کی حد تک بھی غیر فطری و غیر انسانی محسوس ہوتی ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنی خوبصورتی و خوبیوں کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ لوگوں کے دل اس اچھائی کی طرف لپکنے میں ذرا برابر بھی تامل نہ کریں اور میرا یقین ہے کہ یہ طریقہ زیادہ پراثر، کارگر اور اہل علم کی میراث ہے۔

کوئی برائی کسی اور برائی کے لئے انسانی سماج میں کیا دلیل یا جواز بن سکتی ہے ہم سوچتے کیوں نہیں ہم اس قدر غیر انسانی روش کا شکار کیوں ہیں اور وہ دوست جو اہل علم ہیں عام لوگ ان کو پڑھتے ہیں ان کی بات کا اثر لیتے ہیں وہ اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں جو برائی کے لئے برائی کو جواز یا دلیل بناتے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں