نظریات کی بکاؤ منڈی۔۔۔ محمد حسنین اشرف

کبھی دیکھا ہے انسانوں کو تجارت کرتے؟ نہ نہ، ارے نہیں، بالکل بھی نہیں، سر بازار بکتے جسموں کی بات نہیں کررہا۔ وہ دیکھو ذرا، وہ والی منڈی، سب سے بڑی منڈی۔ ارے دیکھو تو، یہ پٹی اتار بھی دو اب۔ادھر آؤ، ان صاحب کو دیکھو، یہ ایک ٹانگ پر جو کھڑے ہیں، اور وہ دیکھو کیسے لال پیلے ہیں، کافر کافر، گستاخ گستاخ، ارے یہ تو جھاگ اڑا رہے ہیں۔ انکی بھی تو سنو، یہ کہتے ہیں انکو پتہ ہے خدا کیسا ہے، ان صاحب نے تو حد کردی، یہ کہتے ہیں خدا، ہاں ہاں وہی خدا، جس نے پیدا کیا ہے۔ روٹی دیتا ہے۔ وہ بدلہ لیتا ہے؟ جلا دیتا ہے، راکھ کردیتا ہے؟ جو اسکو نہیں مانتے۔ جو اسکے سامنے سر جھکا دیں وہ چاہے کیسے گناہ گار کیوں نہ ہوں۔ ایک  توبہ پر معاف کردیتا ہے۔

کیا کہا، ذہین خدا؟ خدا ذہین ہوتا ہے؟ خدا خدا ہوتا ہے اور بس!  نہیں، تو ،وہ تو منصف بھی تو ہوتا ہوگا نا، بھلا صرف اپنی تعریف سن کر، اپنے مریدوں کو کیونکر وہ جنت میں ڈال دے گا، چاہے انہوں نے ساری زندگی کوئی نتیجہ خیز کام نہ بھی کیا ہوتو؟  ارے میاں آگے بڑھو۔ کیسے سوالات کرتے ہو ، استغفراللہ!یہ کون لوگ ہیں؟ یہ واہ واہ کیوں کر رہے ہیں؟ اور وہ بوڑھا، انکا کوئی پیر لگتا ہے، یا شائد کوئی راہنماء، اسکے چہرے کی جھریاں اور مدھم آواز۔ یہ کہتا کیا ہے، ذرا کان لگا کر سنو تو؟تین آوازیں؟ نہیں نہیں، یہاں تو کئی آوازیں ہیں۔ اچھا اچھا، یہ صاحب اپنا کوئی کلام سنا رہے ہیں۔ چلو یہاں سے نکلو، یہ سٹھیا گیا ہے۔ لگتا ہے کسی جشن کی بات کررہا ہے۔ “جشن ہے ماتم امید کا آؤ لوگو”

ذرا دیر کو رکو، سنیں تو کیا کہتا ہے:

وہ یہ کہتے ہیں تو خشنود ہر اک ظلم سے ہے

وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے

گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟

ان کی مانوں کہ تیری ذات کا انکار کروں؟
چلو چلو، نکلو یہاں سے، کیسی کفریہ باتیں کرتا ہے یہ بابا! خدا کی پناہ۔

رکو، ادھر دیکھو، وہ تمہارے دائیں طرف، ہاں نا وہی جو لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ یہ صاحب چبوترے پر کیوں چڑھے ہیں۔ چھی چھی,، یہ تو وہی ہیں جو کہتے ہیں کوئی خدا نہیں ہوتا، یہ بس کہانیاں ہیں، رطب و یابس ہیں۔ تو پھر کیا؟ پھر بس قصہ ختم، ہاں ہاں، بس کھایا پیا اور مر گئے۔کس بچی کا کیا؟ اچھا وہ جسےماردیا تھا، جسکا ریپ ہوا تھا۔ ارے تم بھی معصوم ہو، اب بھلا اس بچی کا کیا ہوگا۔ قصہ ختم۔ الٹے سوال مت کیا کرو، اب جسے ساری زندگی انصاف نہ ملا، جسے حق نہ ملا، اسکے لئے افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ منصف اعظم؟   ؟  منصف اعظم کوئی نہیں ہوتا، یہ بس دماغی خلل ہے انسان کا۔ کمال کرتے ہو میاں، انصاف بھلا کیسے منصف اعظم کے وجود کی دلیل ہوسکتا ہے۔  کیا اول فول بکتے جاتے ہو۔ پیاس، اب یہ کیا نئی کہانی ہے؟

کہو کہو، ہم بھی تو سنیں,  ہائیں، کیا کہا؟ اس جملے کا اب بھلا کیا مطلب ہو ” بالکل ایسے جیسے پیاس پانی کے ہونے کی دلیل ہے، صرف پیاس کا وجود ہوتا، اگر پانی نہ بھی ہوتا تو تشنگی ہمیں عقلی دلیل فراہم کرتی کہ پانی جیسی کوئی چیز ہونی چاہیے جو پیاس کی تسکین کا کام کرے، دنیا کی ناتمامی بھی تو ایک دلیل ہے نا”۔

ابے چلتے رہو، کیا فلسفیانہ بک بک سے دماغ چاٹتے ہو۔پھر وہی بات، موت کے بعد کیا؟  سائنسدان تو کہتے ہیں کہ موت کے بعد کچھ نہیں انہوں نے کئی تجربے کرکے دیکھ لئے۔ موت کے بعد کچھ نہیں ہوتا، اگر ہوتا تو سائنسدان نہ پکڑ لیتے،،  تجربہ نہ کرلیتے۔ ہاں ہاں، سائنس بے شک، طبعیات کا علم ہے اور یہ مابعد طبیعات کا موضوع، لیکن پتہ بھی تو چلے۔ ثبوت بھی تو ہو کہ مابعد طبعیات جیسی کوئی چیز ہے۔ اب تم لا یعنی بحث مت کرو، اب بھلا میں اس سوال کا جواب کیا دوں کہ طبعیات پر تحقیق کرنے والے مابعد طبیعات پر کیسے رائے دے سکتے ہیں ؟جبکہ ابھی تک طبعیات نے ایسا کوئی پیمانہ ہی دریافت نہیں کیا؟بحث کرتے ہو تو ،کرتے چلے جاتے ہو، نہ اللہ والوں کی باتوں پر قانع ہو اور نہ دنیا والوں کی باتوں پر کان دھرتے ہو۔کیا کہا؟ میں تمہیں بولنے نہیں دیتا، ساری راہ، تم ہی تو بولتے آئے ہو۔میں چپ رہوں؟کیونکر بھلا؟جواب دینا چاہتے ہو،تو لو کہو

“یہ دنیا نظریات کی بکاؤ منڈی ہے، جہاں ہر شخص اپنے اخذ کردہ نتائج کی تسکین کو دلائل دیتا اور ڈھونڈتا ہے، سچائی کی تلاش کسی کا مقصد نہ کل تھی نہ آج ہے۔ ہم “انسان” اپنی ساری زندگی اپنے اخذ کردہ نتائج کی تشکیل، تسکین اور تعمیر میں لگا دیتے ہیں۔ کیونکہ میرے نتیجے کی تسکین مجھے لطف دیتی ہے، مجھے منفرد بناتی ہے۔ بالکل ایسے جیسے منڈی میں دوکاندار کی نئی پیشکش اسے ممتاز کرتی ہے۔ دیکھتے نہیں ہو، لوگ بیٹے دیتے ہیں، خدا سے ملاتے ہیں، سکون دلاتے ہیں، مسائل کا حل ڈھونڈ کردیتے ہیں، آزادی دیتے ہیں، موت کے بعد عورت دلاتے ہیں، موت سے پہلے اموال کی بہتات کے وعدے کرتے ہیں ۔ لڑتے ہیں، مارتے ہیں۔ لوگوں کو مذہب سے آزاد کرتے ہیں۔ عقل کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن تم نے کبھی سوچا سچائی کہا ںملتی ہے؟ادھر آؤ،سچائی شہر کے اس شور شرابے سے بہت دور،  جنگل میں غار کے کنارے ایک تازہ پانی کےجوہڑ میں کنول کے پھول کی مانند پرورش پاتی ہے جہاں سورج ڈوبتا ہے تو چاند پہرہ دیتا ہے۔ جہاں پرندے سریلی میٹھی آواز میں راگ الاپتے ہیں، وہاں پتوں اور ہوا کا سنگیت بجتا ہے۔ اس جگہ کا نام جانتے ہو کیا ہے؟ اور علم ہے وہاں اتنا سکون کیوں ہے؟

اسکا نام ہے “علمی دنیا” اور تم انسانوں میں سے یہاں کوئی نہیں آتا، تم سب وہ دور، نظریات کی بکاؤ منڈی میں مصروف ہو۔اسلئے یہاں سکون ہے!

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *