جرنیلی سڑک۔ابنِ فاضل/قسط5

گجرات کے باسی طبعاً بچوں ایسے ہیں یعنی بہت معصوم اور ضدی ہیں۔ اب دیکھیے نا کہ کسی بھی محفل سے جاتے ہوئے انسان معصومیت کی بنیاد پر اپنا جوتا بھول جائے اور جاتے ہوئے کسی اور کا تھوڑا بہتر جوتا غلطی سے پہن جائے تو اس کا یہ مطلب تھوڑا ہی ہے کہ وہ جوتا چور ہے۔ مگر یار لوگوں نے تو بس بات پکڑ لی کہ گجراتی جوتی چور ۔ پھر ضد میں آکر انہوں نے جوتیاں بنانا شروع کر دیں ۔اب پاکستان کا سب سے بڑا جوتے بنانے کا کارخانہ یہیں واقع ہے ۔ جس میں محتاط اندازے کے مطابق ماہانہ آٹھ سے دس لاکھ جوتے بنائے جاتے ہیں ۔

اسی طرح بہت پہلے کسی نے کہہ دیا کہ باہر کے ملکوں میں پیسے تو درختوں پر لگے ہوتے ہیں ۔ بس وہ دن اورآج کا دن،ضلع گجرات کا ہرمعصوم نوجوان ملک سے باہر جانے کا سپنا آنکھوں میں سجائے ہی جوان ہوتا ہے ۔ اور اس منزل کے حصول کی خاطر تن من اور آخری ایکڑ کی بازی لگا دیتا ہے ۔ حالانکہ بہت سے واپس آنے والے دہائی دیتے آرہے ہیں کہ باہر بہت برے ماحول میں بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اس سے کہیں بہتر ہے کہ وطنِ عزیز میں عزت سے برسرِ روزگار ہوا جائے مگر وہی بچوں سی ضد۔۔

یہی وجہ ہےکرہ ارض پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں مکھیاں، چڑیاں اور ضلع گجرات کے جوان نہ پائے جاتے ہوں۔ ویسے اس معاملہ کو اگر نگاہِ حکمت سے دیکھا جائے تو ملکی سطح کے کئی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔ اگر احباب بضد ہیں کہ انہیں پردیس ہی جانا ہے تو ان کو باقاعدہ ایسی تعلیم و تربیت دی جائے کہ وہ باہر جا کر معاشی طور پر زیادہ مفید ثابت ہو سکیں تو نتیجتاً وطنِ عزیز میں زیادہ زرِ مبادلہ آئےگا ۔ اسی طرح ان کو بےرحم ایجنٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے باقاعدہ حکومت کے لائسنس یافتہ اور تربیت یافتہ افراد پر مشتمل ریکروٹنگ ایجنسیاں بنائی جائیں جو دنیا بھر سے ملازمت کے مواقع تلاش کرکے ان نوجوانوں کو وہاں بھیجیں۔ اس سلسلہ میں بھارت کی ریاست کیرالہ اور سری لنکا کی حکومت کے نقوش ہائے پا پر چلا جا سکتا ہے ۔ سری لنکا میں تو باقاعدہ ایک وزارت اس کے زیر انتظام کئی محکمے  اور سینکڑوں لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیاں ہنر مند نوجوانوں کو بیرون ممالک باعزت روزگار دلوانے پر معمور ہیں۔

اہلِ گجرات پنکھے بنانے  میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ بہت پنکھے بناتے ہیں ۔یقین کریں اتنے تو شکیرا اور ماریہ شراپووا نے فین نہیں بنائے ہوں گے جتنے گجرات میں بنتے ہیں ۔ اتنے لوگوں کو تو بین الاقوامی کمپنیوں والے ٹی وی اشتہارات کے ذریعہ الو نہیں بناتے جتنے گجرات والے پنکھے بناتے ہیں ۔ اتنے تو سرکاری سکولوں میں مرغے نہیں بنتے جتنے گجرات میں پنکھے بنتے ہیں ۔ اور پنکھے کے متعلق تو آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ شتر مرغ کے بعد دنیا کی واحد پروں والی چیز جو اڑتی نہیں ۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ شتر مرغ کے دو پر ہوتے ہیں جبکہ پنکھے کے تین ۔ شتر مرغ انڈے دیتا ہے اور پنکھا ہوا۔ مرد کے دماغ عورت کی زبان، اور شیخ کی دکان کے  بعد پنکھا ہی وہ شے ہے جو ایک جگہ پر کھڑے رہ کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق گجرات میں پنکھے بنانے کی چھوٹی بڑی تین سو فیکٹریاں ہیں جن میں تقریباً پچاس لاکھ پنکھے سالانہ بنتے ہیں ۔

جوتوں اور پنکھوں کے علاوہ یہاں چینی کے برتن اور اس کا دوسرا صنعتی سامان بھی بڑی تعداد میں بنتا ہے ۔ اب یہ لفظ چینی سے احباب نامعلوم کتنا کام لیں گے ۔ پہلے چینی زبان اور چینی قوم ، پھر چینی کھانے والی اور اب یہ چینی کے برتن ۔ زیادتی ہے کہ نہیں۔ دیکھیں نا ساتھ والی بوتل میں نمک بالکل فارغ پڑا تھا، کیا برا تھا نمک کے برتن ۔ مگر شاید تذکیر و تانیث میں پنہاں ہے انتخاب کی حکمت ۔ بقول شاعر
موت بھی اس لیے گوارا ہے
کہ یہ آتا نہیں آتی ہے!

چینی کے برتن اور دیگر سامان بطور احسن بنانے کی خاطر لوگوں کو جدید تربیت دینے کے لئے اور اپنے ہنر مندوں کو دنیا میں موجودہ سطح کے علم کے برابر لانے کے لئے سرکار نے ایک انسٹیٹیوٹ آف سرامکس ٹیکنالوجی بھی یہاں بنا رکھا ہے لیکن اس کا وہی حال ہے جو عام طور سرکاری اداروں کا ہوتا ہے، لہذا فی الحال باقی سب چیزوں کی طرح اس میدان میں بھی ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر جوتے اور پنکھے اور سرامکس کا سامان بننے کے باوجود گجرات کے لوگ خوشحال اور مطمئن کیوں نہیں ،اور کیوں بیرون ممالک جانے کے لئے بیقراررہتے ہیں ۔ اس کے ممکنہ طور پر دو جواب ہوسکتے ۔ ایک تو یہ کہ یہ اشیاء “ویلیو ایڈڈ پراڈکٹس” کے زمرے میں نہیں آتیں لہذا ان سے کوئی بہت زیادہ منافع نہیں ۔ دوسرا یہ کہ بڑی کمپنیاں زیادہ تر منافع خود رکھ لیتی ہیں اور اپنے وینڈرز کو بہت کم منافع دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے یہ چند بڑی کمپنیاں تو بہت خوشحال ہیں مگر چھوٹے صنعتکار مجبور محض ہی رہتے ہیں۔

گجرات کے بعد آتا ہے قصبہ لالاموسیٰ۔ لالا تو مقامی زبان میں بھائی کو کہتے ہیں۔ اور موسیٰ ہمارے گمان میں ‘مو’سا تھا ۔ بالکل ایسے جیسے”لکھے مو سا پڑھے خود آ”۔۔۔یعنی کوئی دھان پان سا بالکل اپنے پرویز خٹک ایسا ۔ لیکن قابل خرگوشوی نے محمود غزنوی سے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گمانِ خام کا بت پاش کیا کہ یہ لالا دراصل موسیٰ ہی تھا اور شہنشاہ اکبرکی طرف سے اس علاقہ کا منتظم مقرر کیا گیا تھا ۔یہ بستی اسی کے نام کی نسبت سے لالا موسیٰ کہلائی ۔ اس جگہ کے باسی شاید اپنے چینیوں سے بہت متاثر تھے اور ان کی پیروی میں مشہور عام گھریلو استعمال کی اشیاء بطور خاص میک اپ کا سامان کی بہت عمدہ نقل بنایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ نقل اور دو نمبر اشیاء کے تسمیہ کے لیے “چائنہ کی بنی ہوئی”کی جگہ “لالاموسیٰ کی بنی ہوئی ” استعمال ہونا شروع ہو گیا ۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کوئی  شخص اگر لڑائی میں دانت تڑوا بیٹھتا تو یار دوست صلاح دیتے کہ لالا موسیٰ کے دانت لگوا لو۔ اب شاید یہ ایماندار ہو گئے ہیں یا ہم عادی۔ ویسے اگر اس ہنر مندی کو راست سمت اور مناسب حوصلہ افزائی مل جاتی تو دو نمبر سے ایک نمبر مصنوعات بنانے کا سفر زیادہ کٹھن ثابت نہ ہوتا ۔

مگر افسوس کہ صاحبانِ بست و کشاد کی ترجیحات ہی اور ہیں۔ لالا موسی میں ایک مشہورِ زمانہ میاں جی دا ہوٹل ہے جس کی پکائی ہوئی چنے کی دال بہت مشہور ہے ۔ شاید ہی ہو کوئی مائی کا لعل کہ جس کی رال میاں جی کی دال دیکھ کر نہ ٹپکی ہو۔ بلکہ وہاں تو دال کے دیوانوں کا اکثر ایسا رش ہوتا ہے کہ بیرا باورچی سے با آوازِ بلند کہتا رہتا دال ڈال ۔۔دال ڈال اور ہم قریب کھڑے بچپن کے عہد شاہی پہنچ جاتے ہیں ،زبان پر خود سے رواں ہو جاتا ہے ۔د ڈ ذر ڑ ز ژ س ش ص ض ۔۔۔

جاری ہے!

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *