• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • امریکہ میں ’کورونا ویکسین لگوائیں اور مفت چرس پائیں‘

امریکہ میں ’کورونا ویکسین لگوائیں اور مفت چرس پائیں‘

امریکہ میں نیویارک کے شہریوں کو کورونا ویکسین لگوانے پر ایک انوکھا انعام دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق میری جوانا یعنی گانجے کو نیویارک میں قانونی قرار دینے کے بعد منگل کو سماجی کارکن ہر اس شخص کو مفت گانجا دے رہے تھے جس نے کم از کم ایک دفعہ ویکسین لگوائی ہے اور اس کے پاس اس کا ثبوت بھی ہے۔
سماجی کارکن مشیل اومالے کا کہنا ہے کہ ’یہ پہلا موقع ہے کہ ہم لوگوں کو گانجا دے سکتے ہیں۔ ہم وفاقی حکومت کی کورونا ویکسین مہم کی حمایت کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ مرکزی حکومت بھی گانجے کو قانونی قرار دے۔‘

Advertisements
merkit.pk

میری جوانا کی حمایت کرنے والے سماجی کارکنوں نے 20 اپریل کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ گانجا پینے والے ہر سال اس دن کو مناتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں بھی مفت گانجا بانٹا۔
نیویارک میں منگل کو صبح 11 بجے مفت گانجا دینے کا آغاز ہوا تو درجنوں پُرسکون نظر آنے والے افراد لائنوں میں لگ گئے۔
ایک خاتون نے ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا ’ویکسین کی حمایت کرو، ویڈ کی حمایت کرو۔‘
لوگوں کو گانجا حاصل کرنے میں قریب 10 منٹ لگے۔ انہوں نے اپنے ویکسین کارڈز دکھائے، اپنے ای میل ایڈریسز دیے اور انہیں گانجا مل گیا۔
ان میں سے کچھ افراد ایسے بھی تھے جو دو مرتبہ لائن میں لگے تاکہ انہیں زیادہ گانجا ملے۔ آرگنائزر نے کہا کہ ’ہمیں اس چیز کی زیادہ فکر نہیں ہے۔‘
38 برس کی سارہ اوورہولٹ نے اپنا اور اپنی والدہ کا کارڈ دکھا کر گانجے کے دو سگریٹس حاصل کیے۔ ان کے مطابق ویکسین اور گانجا دونوں اہم ہیں۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’میں روزانہ گانجا پیتی ہوں اور میرا یقین کیجئے کہ اسے پینے کے بعد میں زیادہ بہتر ہو جاتی ہوں۔‘
ایک قریبی دفتر سے آنے والے تاجر ایلکس زربے نے کہا کہ انہوں نے کوروان کی دونوں خوراکیں لگوا لی ہیں اور وہ دن کو ایک یا دو بار گانجا پیتے ہیں۔
’میں ویسے بھی گانجا حاصل کر سکتا ہوں، لیکن مفت گانجے کا اپنا ہی مزہ ہے۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply