گوگل ٹرانسلیٹ ایپ میں مزید دو زبانوں کا اضافہ

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے زبانوں کے ترجمے کی اپنی سروس ‘ گوگل ٹرانسلیٹ’ میں مزید 110 زبانوں کے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں ان نئی زبانوں کے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گوگل ٹرانسلیٹ زبان کی رکاوٹوں کو توڑتا ہے تاکہ لوگوں کو اپنے ارد گرد کی دنیا سے جڑنے اور بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد مل سکے۔

گوگل نے کہا کہ ہم ہمیشہ جدید ترین ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس ٹول تک رسائی حاصل کر سکیں۔

گوگل نے جن نئی زبانوں کا اضافہ کیا ہے ان میں پنجابی ( شاہ مکھی)، بلوچی، دری، افار، کینٹونیز، مینکس اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔

پنجابی ( شاہ مکھی) کے بارے میں گوگل کا کہنا ہے کہ یہ فارسی-عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی پنجابی کی ایک قسم ہے اور یہ پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

کمپنی کے مطابق نئی شامل کی گئی زبانیں 61 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ لوگ بولتے ہیں یا یہ دنیا کی تقریباً آٹھ فی صد آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

‘ گوگل’ کا کہنا ہے ان زبانوں کو مختلف مراحل میں استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد 10 کروڑ کے لگ بھگ ہے جب کہ کچھ ایسی بھی ہیں جو معدوم ہو رہی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ہیں جو ان کو محفوظ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

گوگل کے مطابق وہ نئی زبان کو شامل کرتے ہوئے ان زبانوں کی علاقائی تنوع، لہجوں اور املا کے مختلف معیارات پر غور کرتا ہے۔

گوگل ٹرانسلیٹ میں 110 زبانوں کا اضافہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس (اے آئی) کے ذریعے ایک ہزار زبانوں کو سپورٹ کرنے کے اس اقدام کا حصہ ہے جس کا اعلان 2022 میں کیا گیا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم زبانوں کو بڑھانے کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں اور ہمارے ‘PaLM 2’ لینگوئج ماڈل کی بدولت ہی ہم نے گوگل ٹرانسلیٹ میں 110 نئی زبانوں کو شامل کیا ہے۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply