حضرات گرامی یہ جانبداری ہے

حضراتِ گرامی یہ منافقت ھے۔۔۔۔۔۔!
ہم میں سے بہت لوگ بڑے مفاد پرست، دو رخے، اندر سے کچھ ، باہر سے کچھ ، آسان لفظوں میں کہوں کہ پکے منافق ہیں، اپنے مفاد کے حصول کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں، بلکہ گدھے کو بھی سئیں سئیں کہتے ہیں، اور جب مفاد، پورا ہوجائے سب کو لات مار دیتے ہیں، اندر کھاتے دوسروں کے لیے عداوت، اور نفرت رکھتے ہیں. چاہے فریق مخالف نظریاتی ہو یا سیاسی، مذہبی ہو یا غیر مذہبی، عوام خواص، سب طبقات ، پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرنک میڈیا سب ہی ایک دوسرے سے ایک ہاتھ آگے ہیں، عملی طور پہ مفاد پرستی یہاں کا اجتماعی رویہ ہوگیا ہے ، اِس نوعیت کے مناظر آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں، مثلاً چند روز قبل چار افراد لاپتا ہوئے ، سوشل میڈیااور الیکٹرانک میڈیا پر ایک شور برپا ہوگیا، طرح طرح کے نیوز کیپشن لگا کر یہ خبر دی جاری تھی کہ اب آواز حق دبا دی گئی، رفاہی کام کرنے والے اور انسان دوستوں کو لاپتا کیا جارہا ہے، تمام تجزیہ کار اپنے پیسے حلال کرنے کے لیے نت نئے طریقے سے چرب زبانی کر رہے تھے، موم بتی برادری جاگ گئی، سول سوسائٹی کے کارندے بلوں سے نکل آئے، احتجاجی مظاہر ہونے لگے، خفیہ ہاتھوں سے ملنے والی تنخواہ کا حق چُکانے کا گویا وقت آن پہنچا، سب ہی ان مغویوں کی رہائی کے مطالبات کر رہے تھے، افراد کی خاطر ریاست سے سوالوں کے انبار لگا دیےگئے۔
میری کوئی غرض نہیں وہ کون تھے، کیوں لاپتہ ہیں، کس نے انہیں اغوا کیا، کیا جرم ہے ان کا، میرا سوال صرف یہ ہے کہ یہ ہنگامہ برپا کرنے والے اب تک کیوں چپ تھے، اِس ملک میں ہزاروں بےضابطگیاں ہیں، لاقانونیت کا بازار ہرجگہ ہروقت گرم ہے، ہزاروں لوگ اغوا ہوتے ہیں، سینکڑوں لاپتہ ہیں سینکڑوں کی لاشیں ملتی ہیں، لواحقین تلاش کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں، ورثاء دربدر ہیں، اکثر کا کچھ پتہ نہیں کہ کہاں گئے، زمین کھاگئی کہ آسمان نے اچک لیا، یہ سب کچھ معلوم اور معروف ہونے کے باوجود یہ شورمچاوبرادری ہمیشہ ہی لاتعلق اور خاموش رہی، کیا وہ سب انسان نہ تھے، کیا وہ پاکستانی نہ تھے، کیا اُن کی فیملی نہ تھی، کیا اُن کے معصوم بچے پیار اور ہمدردی کے حقدار نہ تھے، یہ کیسی انسانیت ہے جو دکھ درد کو بھی اپنے پرائے کے زاویہ سے جانچتی ہے، ہزارہا لوگوں سے لاتعلق رہنا اور مشتبہ مشکوک متازعہ معاملات میں ملوث چند افراد کے معاملہ میں اِس قدر بےچین ہوجانا تعصب تقسیم جانبداری اور منافرت کو واضح کرتا ہے، انسانیت اور انصاف کا تقاضہ تھا کہ ہر فرد سے ہمدردی کا برتاو ہوتا، مگر ایسا نہیں ہوتا تو کہنا پڑیگا کہ انسانی حقوق کا یہ دعویٰ محض منافقت ہے، اِن کے خود ساختہ دستور و منشور سب فراڈ ہیں۔

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *