کر صبر تو تھوڑا سا

خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم جاتا ہے
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جب قربانیاں زیادہ ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی زیادہ ہو جاتی ہے ۔ اپنی مدد آپ سب سے بڑی چیز ہے ۔ جس کی عملی مثال ساری دنیا کو کشمیری قوم کی طرف سے ملی ہے ۔ لاکھوں لوگ اپنے کاروبار چھوڑ کر کے ایک مقصد پہ ڈٹے ہوئے ہیں کہ انھیں آزادی چاہیے۔ کشمیر کے حالات جس موڑ پہ پہنچ گئے ہیں اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ جلد خدائے ذوالجلال ،کشمیر کو آزادی کی دولت سے نواز دے گا۔ ہر روز آپ کو میڈیا پہ کشمیر کے حالات سے آگاہ کیا جارہا ہے ۔ کشمیری اپنی آزادی کی منزل پانے کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہیں ۔ بچے ہوں یابوڑھے جوان ہوں یا عورتیں ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق آزادی کے لیے تگ و دو کر رہا ہے ۔
آزادی پسندوں کے حق میں نعرے بازی اور سنگ بازی روز کا معمول ہے ۔ شہداء کے جنازوں میں لوگوں کی تعداد دیکھ کر ظالم بوکھلا سا گیا ہے ۔ مودی کی آمد کے خلاف جو احتجاج ہوئے اس سے ساری دنیا آگاہ ہو چکی کہ کشمیریوں کو اب آزادی سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ فریڈم فائیٹرز کی حفاظت کے لیے لوگ اپنی جانیں پیش کیے جارہے ہیں ۔ مجھے واللہ خوشی ہوتی ہے کہ کشمیر کے لوگ اس قدر متحرک ہو چکے ہیں۔ جو مثال کشمیری قوم نے اپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے پیش کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔ تحریکِ آزادی کاجوش ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے ۔ وہ بھارت جو کل تک کہتا تھا کہ کشمیر اٹوٹ انگ ہے آج اس کی فوج کے آفیسر یہ کہنے پہ مجبور ہیں کہ کشمیر کو بھارت بنانا ہمارے بس کی بات نہیں ۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد جس قدر تحریک آزادی میں تیزی آئی ہے اس سے بھارتیوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں ۔
ایسے مشکل ترین حالات میں پاکستانی حکومت اور عوام کو ہر سطح پر کشمیریوں کا ساتھ دینا ہو گا ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فیصلہ کشمیریوں کا حق ہے۔ واللہ جب کشمیر کی ہر گلی ،کوچے سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان تو میں سوچتا ہوں کہ کشمیری کس قدر پاکستان سے والہانہ محبت رکھتے ہیں حالاں کہ پاکستانی بے حس اور اپنے کاموں میں مشغول ہیں ۔پاکستانی بچوں کو تو اتنا بھی نہیں پتہ کے 5فروری کو چھٹی کس چیز کی ہوتی ہے۔ خدارا پاکستانیو ! اپنا کردار ادا کرو ۔ واللہ ان کی آزادی کی تحریک ان کی اپنی مدد آپ کے تحت ہے ۔ نہ پاکستانی قوم ان کے لیے مخلص ہوئی اور نہ حکمران ۔ انھوں نے لاکھوں قربانیاں دے کر بھی آزادی کی جستجو کو نہیں چھوڑا ۔ ان کے جوانوں میں جذبہ حریت بیدار ہو چکا ہے ۔ اب انھیں کوئی دنیاوی طاقت روک نہیں سکتی ۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

Avatar
نعیم الرحمان
کم عمر ترین لکھاری ہیں۔ روزنامہ تحریک کے لیے مستقل لکھتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر ایک طالب علم ہیں ۔ اصلاح کی غرض سے لکھتے ہیں ۔ اسلامی نظریے کو فروغ دینا مقصد ہے ۔ آزادی کو پسند کرتے ہیں لیکن حدود اسلامی کے اندر۔ لبرل ازم اور سیکولرزم سے نفرت رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *