ہماری خوش فہمی۔امجد خلیل عابد

اکنامک ہٹ مین کے مصنف جان پرکنز نے اپنی انڈونیشیاء میں اسائنمنٹ کے دوران کا واقعہ لکھا ہے جس میں ایک پڑھی لکھی انڈونیشین خاتون انہیں کہتی ہے کہ مغرب بالخصوص امریکہ ساری دنیا کا کنٹرول حاصل کرنا اور تاریخ کی سب سے بڑی ایمپائر کھڑی کرنا چاہتا ہے- جبکہ سوویت یونین اس کے رستے کی فی الوقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے-لیکن سوویت زیادہ عرصہ ان کے سامنے ٹک نہیں پائے گا کیونکہ سوویت کے نظریہ کے پیچھے  مذہب ہے عقیدہ ہے اور نہ کوئی اور ایسا طاقتور نظریہ-تاریخ کی گواہی موجود ہے کہ الہیاتی قوت پہ ایمان ضروری ہے-

جان پرکنز کو اس خاتون نے اپنی بات میں جان ڈالنے کے لیے آرنلڈ ٹونیبی نامی برطانوی مصنف کا حوالہ بھی دیا-خاتون نے کہا ہم مسلمانوں کے پاس ایمان عقیدہ مذہب کی طاقت ساری دنیا حتی کہ عیسائیوں سے بھی زیادہ ہے، ہم انتظار کریں گے اور ایک دن کھڑے ہوں گے- وہاں موجود ایک اور مومن نے فرمایا؛ہم وقت لیں گے اور سانپ کی طرح حملہ آور ہوں گے-تب بیسویں صدی کے ختم ہونے میں کم و بیش تین دہائیاں رہتی تھیں-چالیس سے پینتالیس سال کا عرصہ گزرچکا-

اب آپ خود اندازہ کیجئے دنیا کہاں جارہی ہے، دنیا کا لیڈر کون ہے، دنیا پوسٹ امریکن تو ہوتی جارہی ہے لیکن کمانڈ سٹک کسی بھی مسلم ملک کے پاس نہیں آرہی یہ چائنا کے پاس جانے لگی ہے، وہ ملک متبادل سپرپاوربنتا چلا جارہاہےجس کے ساتھ ہماری دوستی کا دعویٰ ہمالیہ جیسا  اونچا اورسمندروں سے گہرا اور شہدسے میٹھا ہے- یہ اونچائی، گہرائی شیرینی ہماری صنعت اور برآمدات کا کچھ نہیں کررہی اور نہ ہی کچھ کرسکتی ہے-ہم دوستی کی جتنی مرضی اونچائیوں گہرائیوں میں چلے جائیں اس سادہ ترین اصول سے مستثناءنہیں ہوسکتے کہ جب تک دنیا کو کچھ بنا کر نہیں بیچتے اس وقت تک بھوک بیماری اور بیروزگاری ہمارے آنگن میں ننگی بھی ناچےگی اور خون آشام بھی-یاد رہے مذہب عقیدہ ایمان چائنہ میں اتنا ہی کمیاب ہے جتنا آٹے میں نمک-

دنیا کا کنٹرول صرف و صرف مذہب،عقیدہ و ایمان کی بنیاد پہ حاصل کیا جاسکتا تو آج دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی ملاء عمر کے حکم پہ داڑھیوں کے ساتھ پھر رہی ہوتی-جس دن ہم دنیا کو اورنج ٹرین بنا کردینے لگیں گے،جس دن دنیا سوارب ڈالر کے اسلحے کا ٹھیکہ امریکہ کو دینے کی بجائے کسی اسلامی جمہوریہ کو دینے لگے گی، جس دن بیرونی دنیا پہ چائنہ کی طرح ہمارا انحصار روز بروز کم ہونے لگے گا، جس دن غیرملکی برانڈز اور اشیاء سے ہم جان چھڑا لیں گے، جس دن سمارٹ فون سے لے کر بلند و بالا عمارتوں میں استعمال ہونے والی لفٹیں تک سندر انڈسٹڑیل اسٹیٹ لاہور کی کسی فیکٹری میں بننے لگیں اس دن دنیا کا کنٹرول ہمارے پاس آجائے گا-

خدا کی پناہ، بےبی سائیکل سے لے کر ناشپاتی اور جنگی طیارے تک چائنہ سے آتے ہیں اور ہم دنیا پہ حکومت و خودمختاری کا خواب دیکھتے ہیں-مخصوص دنوں کے موقع پر محض جنگی مشینری کی نمائش اور ترقی کسی ملک کو دنیا کا لیڈر نہیں بناسکتی- سوویت یونین کو اپنی ساری فوج اور جنگی صلاحیتوں کے ساتھ تاریخ کے قبرستان میں دفن ہونا پڑا اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نت نئی دریافتوں کے ساتھ امریکہ دنیا کا لیڈر بنتا چلا گیا- ٹیکنالوجی کا سارازور جنگی مشینری پہ لگانے کا نتیجہ نا ختم ہونے والی جنگوں کی صورت میں نکلتا ہے اور ملک سویت یونین بن جاتا ہے-

چائنہ نہ صرف جنگی صلاحیتیں حاصل کررہا ہے بلکہ دنیا بھر کے نوجوان اور ذہین اذہان کے لیے بھی اپنے راستے کھول رہا ہے تاکہ نت نئی ایجادات و دریافت کا دروازہ چائنہ میں بھی کھولا جاسکے- ایمان کی مضبوطی توشہِ آخرت ضرور بنے گی لیکن دنیا کی قیادت وہی کرے گا جو ٹیکنالوجی میں سب سے بہتر ہوگا-ہم میں سے ہر شخص کو کسی نہ کسی چیز پہ ریسرچ کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہیے- ہمیں اس مثال کو سامنے رکھ کر سمجھ لینا چاہیے کہ جیسے ہی ہم خودانحصاری کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ہمارے اوپر پابندیاں ایسے ہی لگنا شروع ہوجاتی ہیں جیسے ایران پہ لگ رہی ہیں اور جےسی پی اواے یعنی ایران نیوکلئیر ڈیل صرف اس وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ ختم کرنا چاہتی ہے کہ ایران کو اپنے میزائل پروگرام سے بھی ہاتھ پیچھا کھینچ لینا چاہیے-

ہماری حالت یہ ہے کہ سعودی شاہ سونے کی سیڑھی کے استعمال کو ہی بڑی بہادری اور اعزاز کی بات سمجھ رہا ہے- آخری اطلاعات کے مطابق امکانات یہ ہیں کہ سعودی ساحلوں پہ بھی گوریوں کے پیچ وخم سے آنکھیں سینکنے کا انتظام ہوا چاہتا ہے-
نوٹ:خواتین کے لئے پردے کاخصوصی انتظام ہر گز نہیں ہوگا-

Avatar
امجد خلیل عابد
ایک نالائق آدمی اپنا تعارف کیا لکھ سکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *