کیا ہمارے پاس جمہوریت کا کوئی متبادل موجود ہے؟

دنیا میں اقوام ترقی کی راہوں پر تب چلتی ہیں جب انہیں اپنی غلطیوں کا ادراک ہو اور وہ ان غلطیوں پر ندامت کا اظہار کرنے اور اپنے رویہ میں تبدیلی کو تیار ہوں۔ ہماری قوم کا کثیر حصہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جو بلکل کنفیوز ہے۔ کچھ کو لبرلزم کے فلسفہ نے شدت سے جکڑ رکھا ہے اور کچھ کو اسلامزم نے اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ یہ ایک کھینچا تانی کا ماحول ہے جو ایک عرصے سے ہمارے ملک میں موجود ہے۔ اس کھینچا تانی میں دونوں گروہ ہی ایک عجیب سی بنیاد پر کھڑے ہو کر چلا رہے ہیں۔ کسی کو چودہ سو سال قبل موجود نظام خلافت کے ثمرات نظر آ رہے ہیں اور کسی کی آنکھوں کو چند سال پرانی جمہوریت نے خیرہ کرکے رکھ دیا ہے۔ مذہبی طبقہ اس ملک میں اب ہاتھ پہ ہاتھ دھرے ضدی بچے کی طرح ایک ہی رٹ لگائے ہوا ہے کہ اس معاشرے میں جب تک خلافت کا نظام اور خلیفہ نہی آئے گا کوئی تبدیلی کی امید نہی۔ اسلئے انہوں نے اس ملک کے لئے سوچنا سمجھنا چھوڑ کر مفادات کی سیاست میں اپنے قدم جمانا شروع کردئیے ہیں۔ اور لبرل طبقہ یہ رٹ لگا رہا ہے کہ یہاں جمہوریت ہی آخری حل ہے، کیونکہ یورپ نے ترقی جمہوریت کی گاڑی پر چڑھ کر کی ہے۔

کسی بھی قوم کی زندگی میں مختلف مراحل آتے ہیں جن کی سختی سے گذر کر کسی بھی قوم کی بلندی و پستی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس بلندی یا پستی میں کارفرما عناصر نہ تو جمہوری ہوتے ہیں اور نہ ہی مذہبی (اگر آپ نے جمہوریت کو مذہب کی ضد قرار دے ہی دیا ہے، حالانکہ حقیقت مختلف ہے)، اقوام کی زندگی میں نظام کی اہمیت بے شک ریڑھ کی ہڈی کی ہوتی ہے۔ لیکن سب اس سے بھی بڑھ کر اہم چیز اس قوم کا رویہ ہوتا ہے۔ نظام تو ایک گاڑی ہے اس گاڑی کو چلانے والے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں، انکی صلاحیتیں کیا ہیں، آیا کہ ان میں قائدانہ صلاحیت موجود ہے یا نہی، وہ قوم کے مستقبل کے متعلق زیادہ پریشان ہیں یا اپنی ذاتی مفاد کی خاطر دن رات ایک کئے ہوئے ہیں؟ یہ رویہ اس نظام میں جان ڈالنے یا اس نظام کی جان نکالنے کے لئے زیادہ اہم ہوتاہے۔

دنیا میں مفکرین کو اگر کسی بھی نظام پر تنقید کے لئے اکسایا جائے تو پچھلی صدی نے اس دنیا کو بہترین نقاد دئیے ہیں۔ اب کوئی بھی نظام خواہ وہ جمہوریت کے نام سے پیش کیا جائے یا خلافت کے نام سے، اہل فکر ایک لمبی لسٹ بنا سکتے ہیں خامیوں کی، لیکن کیا نظام اپنی حثیت میں ناکارہ ہوتے ہیں؟

نظام میں خامیاں ہوتی ہونگی، لیکن اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو اقوام عالم کی زندگی میں موجود بہترین دن، جنہیں ان اقوام کا جنہوں نے اس عالم پر راج کیا کا سنہری دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان ادوار میں ان اقوام نے جو رویہ اختیار کیا وہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

آپ مسلمانوں کی تاریخ اٹھا لیں خلافت کے جھنڈے تلے جمع مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کا مطالعہ کرلیں۔ جب گوالے کی بیٹی کو اتنا خوف ہو کہ عمر دیکھے نہ دیکھے خدا تو دیکھ رہا ہے تو خلیفہ بھی وہ میسر آتا ہے جو چراغ کی لو کو صرف اسلئے پھونک مار کر بھجا دیتا ہے کہ سائل کا کام ذاتی نوعیت کا ہے اور ذاتی نوعیت کے کام میں بیت المال کے خرچے سے جلنے والے تیل کی روشنی استعمال نہی ہوتی۔ اور پھر دو بھی وہ آتا ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید بادلوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ جہاں بھی برسو گے سلطنت میری ہی ہوگی۔

لیکن جب خلیفہ یہ تو مانتا ہو کہ حاکمیت اللہ ہی کی ہے لیکن اسکے اعمال اسکے علم سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو ہم نے خلافت کے برے دن بھی دیکھ رکھے ہیں۔

جمہوریت کے سنہری ادوار کا مطالعہ کرلیں۔ جب احساس یہ تعمیر ہو کہ میرے دفتر میں استعمال ہونے والا پین میرا نہی میرے دفتر کی ملکیت ہے اور میرے دفتر میں گذرنے والا ہر منٹ میری ملکیت نہی۔ تو پورے نظام میں لاکھ خامیوں کے باوجود وہی اقوام دنیا پر راج کرتی ہیں۔ جب برصغیر میں بادشاہ کے منہ سے نکلے الفاظ "جو چاہتے ہو مانگ لو" کے بدلے جواب یہ نکلے کہ میری "قوم" کو اس ملک میں تجارت کرنے کی اجازت دی جائے کہ الفاظ نکلتے ہیں تو پھر جمہوریت ہو یا ملوکیت، ان اقوام کو دنیا پرا راج کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہی روک سکتی۔

لیکن جب جمہوریت یہ تومانتی تو کہ امر صرف جمہور کا ہوگا لیکن انکا علم بھی عمل سے مطابقت نہ رکھے تو ہم جمہوریت کے برے دن بھی دیکھے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔

جب انفرادی مفادات غالب آ جائیں تو پھر نظام جمہوریت ہو یا خلافت قوموں کو برباد ہونے سے نہی روک سکتا، اور جب مفادات اجتماعی ہوں تو نظام جو بھی قومیں ترقی کی راہ پر نکل ہی پڑتی ہیں۔

جب قوم میں سب سے زیادہ یہ احساس طاقت ور ہو کہ مجھے شیعہ و قادیانی کو اس ملکی آئین کے تحت دائرہ اسلام سے خارج کرنا ہے یا نہی، جب قوم کا اجتماعی ضمیر اپنے مسائل کو سلجھانے سے زیادہ باہری مسائل میں الجھنا زیادہ پسند کرتا ہو، جب ساری دنیا نیشن سٹیٹس پر قائم ہو اور آپ سعودیہ اور ایران کی پالیسیوں کی مخالفت اسلئے نہ کرسکو کہ وہ آپکا اسلامی برادر ملک ہے اور اسکی جنگ میں کودنے کو تیار ہو تو پھر نظام جو بھی ہو، ۔ جب لیڈران خدا بن جائیں، انکی غلطی دکھائی نہ دے، اور مخالفین کی درست بات بھی غلطی بن جائے اور جب ٹالک شوز خبروں پر تبصرہ کم ایک سرکس کا سماں زیادہ پیش کریں۔ تو بربادی آپکے در پر بیٹھ جاتی ہے۔

ایک تعفن زدہ جسم جتنے مرضی لبادے بدل لے جتنی مرضی خوشبوئیں لگا لے، اسکے وجود سے کبھی بھی آب و ہوا معطر نہ ہوسکے گی۔ جب تک وہ ان پیپ زدہ زخموں کا علاج نہ کرلے جن زخموں سے وہ بدبو برامد ہو رہی ہو۔

جمہوریت کا متبادل ہو یا نہ ہو، خلافت اسلامی نظام ہو یا نہ ہو،

اس ملک کے لئے،

اس قوم کے لئے اہمیت کا حامل نظام کون سا ہے یا ہوسکتا ہے؟

ہم ابھی اس سٹیج پر ہی نہی پہنچے کہ یہ بحث چھیڑ سکیں ابھی تعمیر کے بہت سے مراحل باقی ہیں۔ اگر ہم اپنی اور اس قوم کی تربیت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر جمہوریت کا متبادل ہو یا نہ ہو، اس ملک کی تقدیر بدلنے کی امید کی جاسکتی ہے۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *