دلہے کا ناڑا۔۔سیّد مہدی بخاری

آپ نے کچھ عرصہ قبل میری تحریر “چچا کا ناڑا” پڑھی ہو گی۔ خیر، وہ تو چچا سسر تھے ان پر لکھ کر آج تلک بیگم سے ٹھنڈے طعنے رپیٹ در رپیٹ سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ یہ قصہ ہے میری حالیہ حاضر سروس بیگم سے شادی کا اور آج لکھ یوں رہا ہوں کہ چچا سسر کے ناڑے پر لکھنے کے بعد بیگم کو صبر نہیں آ رہا وہ آئے دن سنا دیتی ہے کہ اپنا قصہ بھی تو بتائیں۔ بہرحال اگر آپ نے وہ نہیں پڑھا تو اس تحریر کا لنک درج ذیل ہے

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3648185351927142&id=127528420659537

tripako tours pakistan

سن 2016 میرے لئے ڈپریشن کا سال تھا۔ میرا دس سالہ ازدواجی تعلق ختم ہوا تو میں نوکری وغیرہ سے بھی استعفی دے کر گھر بیٹھ گیا۔ ان دنوں کچھ نہیں سوجھتا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ڈپریشن کا فیز زہر قاتل ہوتا ہے۔ عقل ماؤف کر دیتا ہے۔ خیر، جب دوسری شادی طے ہو ہی گئی تو میں چاہتا تھا کہ انتہائی سادہ طریقے سے سرانجام پا جائے۔ وقت نے ایک بار پھر دولہا بنا ہی دیا ہے تو اب وہ جذبہ معصوم اور پہلی خوشی کہاں سے لائیں ؟ مگر چونکہ ہماری زوجہ کی پہلی شادی ہو رہی تھی لہذا ان کے ہاں اور زوجہ کے حضور خوشیاں نہ صرف دیدنی تھیں بلکہ عروج پر تھیں۔ ہمارا نکاح 4 ماہ قبل ہو چکا تھا۔ ان کی تیاری دیکھ کر میں نے بیگم کو کال کرتے کہا کہ محترمہ آپ کیوں گھر والوں کا کونڈا بنا رہی ہیں۔ سادہ سادہ تقریبات میں ہی خوشی منا لیں، ضرور گھر والوں کو کنگال کر کے ہی رخصت ہونا چاہتی ہیں ؟ ۔ ترنت جواب اور پہلا طعنہ اسی روز آیا ” آپ نہیں ہوں گے خوش تو میں کیا کروں ؟ آپ تو پہلے پر بھنگڑے ڈال چکے ہوں گے میری تو پہلی ہو رہی ہے ناں ؟ آپ کا خرچہ تھوڑی کروا رہی ہوں، آپ بیشک محفل سماع برپا کریں یا ساری بتیاں گل کر کے ہال کے صوفے پر بیٹھے خیالوں میں گم سگریٹ نوشی کرتے رہیں”۔

رخصتی میں دو دن بچے تھے کہ میرا ایک سپر کمینہ دوست آ دھمکا۔ یہ کمینے پن کی سپر لیٹیو ڈگری تھا۔ عرصہ آٹھ دس سال سے دبئی مقیم تھا اور ان دنوں پاکستان آیا ہوا تھا۔ جیسے ہی اسے میرے نکاح بابت معلوم ہوا وہ مجھے لاہور سے مبارک دینے سیالکوٹ آ پہنچا۔ حال احوال دریافت کر کے جب اسے یہ خبر ملی کہ شادی پر میں سادہ سی شلوار قمیض کے اوپر واسکٹ پہن جاؤں گا تو بولا ” ایسے کیسے مہدی ؟  پورا ششکا کرنا ہے۔ اٹھ ابھی لاہور چلیں کوئی ڈھنگ کی شیروانی لیں۔  یہ تو نے کیا حال بنایا ہوا ہے اپنا ؟ شیو بڑھی ہوئی، سگریٹ پہ سگریٹ، سالے ہونا تھا جو ہو چکا اب کیا تو دیوداس بنا رہے گا۔ اٹھ ادھر سے ابھی کے ابھی لاہور جانا ہے”۔

اس نے مجھے اتنا زور دیا کہ سچ پوچھیں تو مجھے اس کی والہانہ محبت کی خاطر اٹھنا پڑا مگر اس شرط پر کہ شیروانی وغیرہ جیسا کچھ نہیں ہو گا چلو تمہاری خاطر کوئی ڈھنگ کی شلوار قمیض واسکٹ نئی نکور لے لیتے ہیں۔ ہم اس کی گاڑی میں چلے اور لاہور پہنچ گئے۔ ایک مشہور برآنڈ پر پہنچے جو اپنی کرتہ شلوار کے باعث پاپولر ہے۔ کرتہ لیا واسکٹ لے لی اور چپل بھی لے چکے۔ سیلز مین درمیانی عمر کا پینتس چالیس سالہ شخص تھا۔ اس کو معلوم ہو چکا تھا کہ ہم لوگ شادی کی شاپنگ کر رہے ہیں۔ جب سب شاپنگ اسی ایک شاپ سے ہو چکی تو سیلزمین نے قریب آ کر قدرے رازداری سے یوں کہا جیسے انسان میڈیکل سٹور پر جا کر شرمندہ شرمندہ سا کنڈوم مانگتا ہے۔ بولا ” سر جی، ناڑا تو لیا ہی نہیں۔ ہمارے پاس بڑے فینسی قسم کے ناڑے بھی ہیں۔ گولڈن دھاریوں والے۔ “۔ یہ کہتے اس نے ہاتھ میں تھامے دو چار ناڑے دکھانے کو آگے بڑھا دیئے۔

ناڑے تو یوں لگ رہے تھے کہ پہلی نظر میں مجھے لگا کہ خواتین کے پراندے تھام رکھے ہیں۔ رنگین اتنے کہ غضب خدا کا ایک تو ست رنگی قسم کا تھا۔ مجھے وہ دیکھ کر ہنسی آ گئی۔ سیلز مین بولا ” سر شادی ہو رہی ہے تو ناڑا تو ذرا اچھا ہونا چاہیے”۔ یہ کہتے اس نے کھسیانی ہنسی ہنسی۔ مجھے اس کی بات چنداں مناسب نہیں لگی مگر کمینے دوست کی اب رگ پھڑکی۔ ” اوئے لے لے، ویخ تے سہی کیسا پھمن اے ایدا۔ گولڈن تاگے والا پھمن۔ “۔ میں نے اسے شٹ اپ کروانے کو اس کو ناگواری سے گھورا تو سیلز مین کی پھر آواز آئی ” سر جی، سب کچھ آپ نے بہترین لے لیا اب ناڑے میں کنجوسی تو نہ دکھائیں ناں۔ صرف 899 پرائس ہے۔ “۔ میں نے اسے غصے سے جواب دیا ” ابے یار کیا تم نے ناڑا ناڑا لگا رکھا ہے۔ کہا ناں نہیں چاہیئے”۔

میرے دوست راحیل نے میرا بازو پکڑا اور مجھے سائیڈ پر لے گیا۔ ” اوئے ، مینوں پتہ اے تیرے کولوں ناڑا کھلنا وی نئیں ہے گا مگر فیر وی لے لے، شلوار کتلے کلی تے ننگی ٹنگی ہوئی تے کم از کم ناڑے دی وجہ توں چنگی تے لگے گی”۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ اب یہ مجھے جان کر بالغانہ جگتیں لگانے کے موڈ میں آ چکا ہے۔ میں نے اسے جواب دیا ” ابے یار اس پراڈکٹ کو میں نے کوئی جھوم جھوم کے دکھانا ہے کہ یہ دیکھو میرا فینسی گولڈن دھاگے و پھمن والا ناڑا ؟ کیا فضول بحث لگا رکھی ہے۔ ناڑے گھر بہت پڑے ہیں میں کیوں یہ واہیات سے رنگین ناڑے لے لوں ؟ “۔ اس نے سن کر فوری پلٹ جواب دیا ” اوئے ، فرسٹ امپریشن از دی لاسٹ امپریشن۔ سالے بھابھی تے ہو سکدا اے چنگا امپریشن پے جاوے کہ توں اپنے ناڑے تک دا کنا خیال رکھنا ایں”۔۔

اسی اثنا میں میرا دھیان مڑ کر سیلزمین کی جانب گیا تو وہ مزید دو تین نئے قسم کے ناڑے ہاتھ میں لئے ہماری جانب دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ مجھے شدید کوفت ہونے لگی۔ میں واپس اس کے پاس آیا اور کہا “چلو کاؤنٹر پر باقی اشیاء کا بل بنواؤ اور مجھے کوئی ناڑا نہیں لینا۔ کہا ناں”۔ اب کے اس نے مجھے بپھرا ہوا دیکھا تو قدرے دھیما سا بولا ” سر جی، آپ کو خوش ہونا چاہیئے، خوشی کا موقع ہے۔ آپ کیوں اتنا غصہ کر رہے ہیں۔ ٹھیک ہے آپ نہ لیں مگر ایک بار یہ تو دیکھیں۔ میں آپ کی پسند سمجھ گیا ہوں کہ آپ کو سادہ سادہ اشیاء پسند آتی ہیں۔ یہ دیکھیں انتہائی سادہ سا ٹچ دیا ہوا ہے ناڑوں کو۔ اتنا تو اب چلتا ہے ناں سر جی، آپ کا سوٹ آف وائٹ سا ہے تو ہلکا سا سلور دھاگہ یا گولڈن دھاگہ بہت سجے گا۔ یہ دیکھیں سلور پھمن والا ناڑا اور یہ ہلکا سا گولڈن والا۔ باقی سارا ناڑا سادہ ہے صرف جھومر میں ہی رنگ دیا گیا ہے” ۔۔

یہ بکواس سن کر میرا فیوز شارٹ ہو گیا۔ میں نے مینجر  کو آواز لگائی کہ کوئی ہے یہاں منیجر ؟ سیلزمین گھبرا کے پیچھے ہٹا اور ناڑے غائب کرنے لگا۔ راحیل نے آگے بڑھ کر مجھے کاندھوں سے دبایا اور بولا ” چل بس کر، غریب بندہ اے کیوں اوہدی شکایت لان لگا ایں۔ چھڈ توں نہ لے ناڑا۔ چل چلیئے”۔

دکان سے باہر نکلنے سے لے کر واپس سیالکوٹ پہنچنے تک راحیل نے ناڑے کو لے کر جو جو جگت لگا سکتا تھا لگا ئی۔ میں نے اسے کچھ نہیں کہا کہ اس کو موقع مل گیا تھا تو وہ اپنی خوشی منا ہی لے۔ شادی کے روز میں نے انتہائی سادہ سا ناڑا پہنا جو ہر گھر میں دستیاب ہوتا ہے۔ رخصتی چونکہ کراچی سے تھی لہذا دوست تو شامل نہ ہو سکا۔ ولیمہ البتہ یہیں تھا تو وہ ولیمے کے روز آیا اور مجھے گفٹ تھماتے بولا ” لے وئی مہدی، یادگار گفٹ ہووے گا۔ یاد کریں گا توں”۔ مجھے ذرا بھنک نہ پڑ سکی کہ یہ شرارت کر رہا ہے۔

ولیمے کی رات ایونٹ سے تھکے ہارے گھر پہنچے۔ بیگم سارے گفٹس  کھولنے کو بیتاب تھی۔ وہ ایک ایک کر کے کھولتی جاتی اور مجھے دکھاتی جاتی۔ کسی سے پرفیوم نکلتا، کسی سے میک اپ کا سامان، کسی نے شیونگ کٹ دی ہوئی تھی تو کوئی ڈیکوریشن پیس گفٹ کر گیا تھا۔ میں اپنے دھیان میں لگا کوئی اور کام کر رہا تھا کہ اچانک ایک گفٹ کھلا تو بیگم کا منہ بھی اس کے ساتھ کھلا رہ گیا۔ پھر اس نے ست رنگی ناڑا ہاتھ میں تھامے میری جانب کیا اور بولی ” یہ آپ کا دوست راحیل کون ہے ؟ یہ دیکھیں اس کا گفٹ ذرا۔ اتنا واہیات گفٹ اور کیسا گھٹیا سا ناڑا ہے۔ اتنے  رنگین تو لڑکیاں پراندے نہیں پہنتیں”۔ میں نے فوری پلٹ کر دیکھا۔ ناڑا بستر پر یوں رکھا ہوا تھا جیسے سانپ کنڈلی مارے بیٹھا ہو اور اس کا سرا یعنی پھمن یوں لگا جیسے کوبرا نے سر اٹھایا ہو۔ گفٹ کے ساتھ کارڈ تھا جس پر لکھا تھا ۔

” ڈئیر مہدی۔ فرسٹ امپریشن از دی لاسٹ امپریشن”

آدھی رات تک تازہ بیگم یہی دریافت کرتی رہی بلکہ کریدتی رہی کہ آپ کے دوست نے ایسا گفٹ کیوں دیا تھا ؟ اور یہ جو اس نے ساتھ لکھا ہوا ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟ میں دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتا رہا اور بلآخر زچ ہو کر اسے کہا ” سو جاؤ بیگم، تمہاری مہربانی ، اس کا مطلب سمجھنے کو ابھی عمر پڑی ہے” ۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *