موبائل فون سے دوری ہمیں بے چین کیوں کردیتی ہے؟

ہم میں سے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے فون سے دور ہونے پر پریشانی اور اضطراب کے شکار ہو جاتے ہیں، لیکن اگر اسمارٹ فون سے چند لمحوں کی جدائی بھی تکلیف دہ بن جائے تو یہ ایک نفسیاتی عارضے کی وجہ ہوسکتی ہے، جسے ’نوموفوبیا‘ کہا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کےمطابق نوموفوبیا شخصیت کی حساسیت اور کسی فعل کے ذہن پر حاوی ہونے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، اس طرح فون اگر زندگی کے معاملات میں حاوی ہونے لگ جائے تو یہ پریشان کن کیفیت ہوگی، اسی وجہ سے ماہرین فون کے ناغے اور دن میں کئی گھنٹوں تک دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

tripako tours pakistan

اسی طرح لوگ گھر پر اسمارٹ فون بھول جانے کی صورت میں دوبارہ گھر جا کر لے آتے ہیں جواکثر افراد کا مسئلہ بن چکی ہے، حال میں ہی کیے گئے سروے کے مطابق صرف امریکا میں 44 فیصد افراد اس کے شکار تھے۔

نوموفوبیا ہے کیا ؟

نفسیاتی ماہرین کے مطابق نوموفوبیا کی اصطلاح بہت پرانی نہیں ہے، اور دس برس قبل اس کا نام گردش میں آیا ہے، اس میں لوگ بے چینی اور الجھن کا شدید اظہار اس وقت کرتے ہیں، جب وہ اپنے فون کو نہیں پاتے یا اس سے دور ہوتے ہیں، تاہم اسے مینٹل ڈس آرڈر میں اب تک شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں 495 نوجوانوں کا سروے کیا گیا جن کی عمریں 18 سے 24 برس تھی، اس میں شرکاء کو دو سوالنامے بھرنے کو کہا گیا تھا، پہلا سوالنامہ ان کے فون کے پر انحصار کے بارے میں تھا اور دوسرا ان کی ذہنی کیفیات مثلاً بے چینی،الجھن، ادھورا پن اور دماغٰ پر کسی کیفیت طاری ہونے کے بارے میں تھا۔

سروے کے دوران معلوم ہوا کہ جو دن میں جتنا زیادہ فون استعمال کرتا تھا وہ اس کے بغیر اتنا ہی بے چین تھا، اس کے علاوہ جو افراد کسی سوچ کے مستقل حاوی ہونے کے شکار تھے، ان میں فون کے گم ہوجانے یا اس سے دور ہوجانے کا خوف اتنا ہی زیادہ ہوتا تھا، یہ تمام علامات نوموفوبیا کو ظاہر کرتی ہیں، تاہم اس کی گہرائی میں تفصیلات کو ابھی بھی جاننے کی ضرورت ہے۔

لوگوں میں یہ خوف ہوتا ہے فون سے دور ہوجانے پر وہ سماجی طور پر ایک دوسرے سے کٹ کر رہ جائیں گے، ایک اور انکشاف یہ ہوا کہ ایسے لوگ اگر دوستوں سے دور ہوجائیں تو انہیں کوئی فکر نہیں ہوتی لیکن فون سے دوری ان کے لیے محال ہوتی ہے، یہ رحجان سماجی دوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

اس کے مضر اثرات میں توجہ میں کمی، فکری پریشانی اور کسی کام پر ارتکاز کی کمی شامل ہیں، اسی لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ جبرکر کے بھی فون سے دور رہنے کی کوشش کریں، اگر یہ نہ کیا جائے تو یہ نفسیاتی مسائل جسمانی عارضوں کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *