صحافت کی منی بدنام تو کیا نیلام ہو گئی ہے۔۔گل بخشالوی

گزشتہ دنوں جب میں پریس کلب میں شامل ہوا تو ایک دوست نے سوال کیا کہ پریس کلب کیا ہے اور اس کے بنیادی مقاصد کیا ہیں ،وہ جانتے تھے لیکن مجھ سے کہلوانا چاہتے تھے، پریس کلب کا بنیادی مقصد صحافیوں کی ایک تنظیم ہے کچھ عرصہ قبل پریس کلب میں شامل صحافی جانتے تھے کہ وہ معاشرے کی ایک حساس آنکھ ہیں وہ صحافی جو صحافت کو پیشہ کے طور پر ا پناتے ہیں وہ ورکنگ جرنلسٹ ہوتے ہیں اور جو جزوقتی طور پر لکھتے ہیں ان کا کسی اخبار سے رابطہ نہیں ہوتا مختلف موضوعات پر مضامین، کالم اور فیچر لکھتے ہیں وہ آزاد صحافی کہلائے جاتے ہیں !

صحافت کی مختصر تعریف یہ ہے ۔ جدید وسائل وابلاغ کے ذریعے عوامی معلومات رائے عامہ اور عوامی تفریحات کی باضابطہ اور مستند اشاعت کا فریضہ ہے مطلب ہے صحافت ایک ہنر ہے ایک فن ہے ایسا فن جس میں تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال ہوتا ہے ۔صحافت دراصل ادب کا ایک حصہ ہے ادب اور صحافت کا بنیادی مقصد ابلاغ ہے!

tripako tours pakistan

برنارڈ شا، لکھتے ہیں اعلیٰ ادب دراصل صحافت ہے قرب زمانی اور تازگی صحافت کی جان ہے،
مہاتھیو آرنالڈ، لکھتے ہیں اعلیٰ ادب ہی صحافت ہے یہ عجلت میں لکھا گیا ادب ہے ۔

سر سید احمد خان اردو صحافت کے امام ہیں ان کے نزدیک صحافت ایک خدمت ہے اور ادب،سماج کی اصلاح کا بڑا ذریعہ ہے۔
صحافت کے ابتدائی دور میں ادب اور صحافت ایک دوسرے کے لئے لازم اور ملزوم تھے لیکن دور ِ حاضر میں ادب کو صحافت سے الگ کر کے صحافت کو تین طبقوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے صحافت کی منی بدنام تو کیا نیلام ہو گئی ہے۔ آج کی صحافت میں پہلا طبقہ وہ ہے جو لکھتے ہیں، دوسرا وہ طبقہ جو بولتے ہیں لیکن لکھ نہیں سکتے ، تیسرا وہ طبقہ جو نہ بول سکتے ہیں اور نہ لکھ سکتے ہیں بس معاشرے کو موبائل کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ لکھنے اور بولنے والا اسی کے گیت گاتا ہے جو لفافہ دیتا ہے مطلب لفافہ پرست ہے لفافے کا وزن جس قدر زیادہ ہو گا اس قدر لفافہ دینے والے کے لئے سفید جھوٹ بولے گا اور لکھے گا، تیسرا طبقہ معاشرے کو اپنے موبائل کیمرے کی آنکھ سے دیکھنے والا ہے جو صبح اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو گھر کی دہلیز سے باہر آکر بھول جاتا ہے ان کے اندر کی انسانیت کی حس دم توڑ دیتی ہے ، د ہ ڈوبتے کو ڈوبتے دیکھتا ہے اسے بچاتا نہیں بلکہ اس کی وڈیو بنا تا ہے، جنسی درندگی کا شکار قومی بہن اور بھائی کی وڈیو ریکا رڈنگ کر کے پوچھتا ہے تمہارے ساتھ جو ہوا کہاں پر ، کس وقت، کیوں اور کیسے ہوا، دہشت گردی، المناک حادثات میں تڑپتے زخمیوں کو طبی امداد کے لئے لیجانے کی بجائے اس کے وڈیو بناتا ہے اس دوران زخمی تڑپ تڑپ کر اس کی بے حسی پر ماتم کرتے کرتے دم توڑ دیتا ہے اور یہ انتظامیہ کی بے حسی کا رونا روتے ہوئے وڈیوفیس بک اور واٹس ایپ وال پر پوسٹ کر کے اپنی صحافت کے گیت گاتا ہے ۔لیکن معا شرے کی آنکھ میں وہ کیا ہوتا ہے یہ وہ نہیں جانتا اس لئے کہ اس کے وجود میں انسانیت دم چھوڑ چکی ہے! آج کی صحافت میں کچھ زندہ ضمیر بھی ہوتے ہیں جو اپنے آج  اور کل سے بے پرواہ ہوتے ہیں وہ سچ لکھتے ہیں لیکن ان کی سچائی انہیں بہت مہنگی پڑتی ہے اس کا مجھے ذاتی تجربہ بھی ہے اوّل تو ان کو خوفزدہ کرنے کے لئے ان پر گنتی کے دستوں کی برسات ہوتی ہے لیکن اگر پھر بھی وہ اپنی سچائی سے بعض نہیں آتے تو وہ اجرتی قاتلوں کے ہاتھوں یا کسی پولیس مقابلے میں پار ہوجاتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *