اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط5)۔۔سلمیٰ اعوان

سینٹ مارک سکوائر،چرچ،ڈوگی پیلس اور Rialtoبرج

o ہوٹل ملنے کی الف لیلوی کہانی۔
o وینس ایک مرتا ہوا شہر جس کے شہری اور لینڈ لارڈ گوناگوں مسائل کا شکار ہیں۔
o حکومت وینس جیسے تاریخی ورثے کو سنبھالنے کے خبط میں بری طرح مبتلا ہے۔
o وینس جیسے بنگلہ دیشیوں کے ہاتھوں یرغمال ہوا پڑا ہے۔

tripako tours pakistan

سب سے پہلے نقشے کھولے۔اب جہاں تشریف کا ٹوکرہ رکھے ہوئے ہوں وہ ٹرین اسٹیشن سانتا لیوسیاSanta Lucia ہے۔نقشے پر اِس یافت نے مسرور کردیا تھا۔ سرور کی لہر دوڑی۔ٹھیک ٹھیک تولا سا سر ہلایا۔خوشی کی کلکاری بھری۔تو بھئی یہاں تو میں بیٹھی ہوں۔چلواب آگے چلتی ہوں۔ گرینڈ کینال سانپ کی طرح بل کھاتی اپنے دائیں بائیں مختلف جگہوں کو لیے سینٹ مارک پر ختم ہوتی ہے۔یہ بھی بڑا واضح ہے۔ اب دیکھتی ہوں کہ میں جو ابھی ابھی Ca’D’oroکی مہم جوئی کرتی آئی ہوں وہ نقشے پر کہاں ہے؟ اب سر جھکائے آنکھیں پھوڑ رہی ہوں۔ وہ تو کہیں نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ورقے پلٹ کر دوسرا نقشہ کھولتی ہوں۔کوئی پندرہ بیس منٹ اُس پر سر کھپاتی ہوں۔خاک پلے نہیں پڑا۔تیسرا نقشہ کھولا،چوتھا،پانچواں۔یااللہ یہ میں کس عذاب میں پڑگئی ہوں؟
بھئی یا تو میں بڑی نالائق ہوں یا پھر ان نقشہ بنانے والوں کو عقل نہیں۔ نام تو وہ اتنے مشکل کہ پڑھنے میں زبان لکنت کھاکھا جائے۔
زچ ہوکر میں نے کتاب بیگ میں رکھی۔ٹافی منہ میں ڈالی اور گردوپیش کا جائزہ لینے لگی۔
ذرا دور مجھے آ ہنی ریڑھیاں سامنے رکھے تین ایسی صورتیں نظر آئیں جن پر بنگلہ دیشی ہونے کا گمان گزرا۔اپنا پٹارہ سنبھالا اور ان کے پاس جابیٹھی۔قیاس ٹھیک تھا۔
”اپنا رکُیمن اچّھن(آپ کیسے ہیں؟)لہجے میں زمانے بھر کی شیرینی گھول لی۔ میں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے پڑھا ہے۔“
بنگلہ دیش کے سب شہروں کے نام بھی فر فر دہرا دیے کہ رعب پڑجائے۔محسوس ہوا تھا کہ کوشش میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے۔دو اگر میری عمر کے نہیں تو مجھ سے تھوڑا ہی چھوٹے ہوں گے۔اِن میں سے ایک وضع قطع اور حال حُلیے سے ذرا بہتر نظر آتا تھا۔نام بدیع العالم۔ دوسرا ماٹھا سا دکھتا تھا۔یہ نوراسلام تھا اور تیسرا نوجوان لڑکا جس کا نام حبیب الرحمن تھا۔لڑکے کے انداز اور طور طریقے کاروباری اطوار کے نمائندہ تھے۔تینوں میں بدیع العالم کچھ پڑھا لکھا بھی لگتا تھا۔اُردو اور انگریزی اچھی بول لیتا تھا۔
اپنا مسئلہ انہیں بتایا ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ہوٹل سستا ہواور نزدیک بھی ہوتو کیا بات۔ یعنی چوپڑیاں اور دو دو(مطلب روٹی گھی سے چپڑی ہو اور ہوں بھی دو۔)

دونوں بوڑھوں نے نوجوان کو مشورے دینے شروع کردئیے۔ وہاں پتہ کرو۔اُسے پوچھو۔ بدیع العالم نے تو اپنا موبائل بھی استعمال کیا۔لڑکے کی انگلیاں بھی موبائل پر تیزی سے متحرک ہوگئیں۔ پھر نوّے یورو پر کمرے کی دستیابی کا مژدہ سُننے میں آیا۔ ”ہائے اندر نے جیسے تڑپ کر کہا۔یہ تو بہت زیادہ ہے۔“ اظہار بھی برملا ہوگیا۔مگر آدھ گھنٹہ کی کاوشوں کا نتیجہ صفر ہی تھا۔
”دراصل وینس بہت مہنگا ہے۔خصوصاً اسٹیشن کے قُرب وجوار کا علاقہ۔حبیب الرحمن بولا۔ اب مرتا کیا نہ کرتا والی بات۔نوّے یورو پر لڑکے کی سوئی اٹک گئی تھی۔
”چلو دفع کرو۔ٹھیک ہے۔“ لُور لُور پھرنے اور ہوٹل کھوجنے کی ہمت نہیں تھی۔

لڑکے نے ریڑھی سیدھی کی۔یہ یقیناً  سامان کیلئے تھی۔مجھ فقری کے پاس سامان کہا ں تھا؟ایک مُنّا سا دستی ہینڈ بیگ جسے عرف عام میں پرس کہتے ہیں۔ بس۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ دونوں بوڑھوں میں سے ایک نے کہا۔”خود بیٹھ جاؤ۔“ہنسی چھوٹ گئی۔بغداد اور اس کی چوبی ریڑھیاں یاد آگئیں۔
میرے انکار سے پہلے ہی نوجوان نے” ناہیں ناہیں ” کہہ دیا۔ دفعتاً حبیب الرحمن نے مجھے پرس ریڑھی پر رکھنے کا کہا۔
”پرس یہاں رکھوں۔“
میرا دایاں ہاتھ اضطراری کیفیت میں سینے پر چلا گیا۔وینس میں لٹیرے بھی ہیں۔پرس کا بہت دھیان رکھنا ہے۔“محسوس ہوا جیسے فضا میں اقبال کی کہی ہوئی بات کی بازگشت تیرنے لگی ہے۔
دفعتاً سانتا لیوسیاSanta Lucia کاٹرین اسٹیشن،سامنے بہتی گرینڈ کینال،اس پر بنا Scalzi برج،سینٹ میری آف نزّارتNazareth کا چرچ اور لوگوں کے پُرے سب نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔
اور “اب کیا کروں ”
پورے ماحول پر سوالیہ نشان کی صورت بن کر پھیل گیا ہے۔

ہائے وے میریا ربّا کِس سیاپے میں پڑگئی ہوں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش اعتماد اور محبت کے رشتوں کا خون پہلے ہی کیے بیٹھے ہیں۔
پھر پتہ نہیں کیا ہوا؟ بس پل بھر میں ہی اِس گومگو سے باہر تھی۔بیگ کو ریڑھی پر آہستگی سے رکھا اور قدم اٹھائے۔دورویہ دکانوں سے سجے راستے پر چلتے، دھڑکتے دل کو قابو کرتے،ہر قدم پر اوپر والے کا کرم مانگتی،پرس پر نظریں جمائے،ایک کلاسیک میدان میں داخل ہوئی۔
یہاں ایک درمیانی عمر کی اونچی لمبی، خوبصورت،ماڈرن، سک سرمے سے آراستہ عورت نے کاروباری مسکراہٹ سے باچھیں پھیلاتے ہوئے کچھ کہا۔یقینا خوش آمدید جیسے لفظ ہی ہونگے۔ساتھ ہی پرس اٹھالیا۔
”ہائے میرے اللہ“
میں نے جھپٹ کر خاتون کے ہاتھوں سے اُسے کھینچا۔
حبیب الرحمن نے کہا۔”گبھرائیے نہیں۔“
مگر میں اُسے کلیجے سے لگائے کھڑی اپنی دھڑکنوں کی تیزی پر خوف زدہ سی اُسے سُنتی تھی جو کہہ رہا تھا۔
”آپ مجھ پر بھروسہ رکھیے۔یہاں کِسی ہیرا پھیری کا کوئی سوال ہی نہیں۔آئیے۔“

اب میں دونوں کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔میدان کے ساتھ ہی بے حد پررونق گلی میں پھلوں اور جوسز کی دکان کے ساتھ ایک ڈیڑھ فٹ چوڑے زینے پر خاتون نے آگے چڑھتے ہوئے مڑکر میری طرف دیکھا۔پانچ چھ پوڈوں پر میں نے رُک کر خوف زدہ انداز میں اوپر بند دیوار اور دائیں ہاتھ ایک کمرے کو دیکھا۔
یہ کیسا ہوٹل ہے؟اسکا تو ماحول ہی ہوٹلوں والا نہیں۔کہاں ہے ریسپشن روم؟سوال جواب کا یہ کھاتہ میرے اندر نے اپنے آپ سے کھولا۔
خاتون آخری پوڈے پر کھڑی مجھے اشارے کرتی تھی اور تعاقب سے بنگالی چھوکرہ کہتا تھا۔
”اوپر چڑھیے نا۔“

اب چار قدم اوپر چڑھنے پر دو ڈھائی فٹ مربع نما چوڑے ایک پلیٹ فارم کے ساتھ ایک کمرہ اور اس سے آگے مڑتے ہوئے چھوٹے سے آ ہنی جنگلے کے ساتھ ایک اور کمرہ۔دفعتاً بجلی بھی چلی گئی۔سارے میں اندھیرا پھیل گیا۔
ایک چیخ میرے حلق سے نکلی اور میں چلائی۔
”مجھے یہاں ہرگز نہیں ٹھہرنا۔“
عورت نے دیوار پر برقی انداز سے ہاتھ مارااور ماحول روشن ہوگیا۔میں نے ہونقوں کی طرح اپنے سے چند قدم اوپر کھڑی عورت کو دیکھا پھر دیوار کو۔وہاں تو کِسی قسم کا کوئی سوئچ بورڈ نظرنہیں آرہا تھا۔
”ہائے میرے اللہ یہ میں کہاں پھنس گئی ہوں۔“
اب میرا انکاراورپیچھے کی طرف اترنے کی کوشش جسے حبیب الرحمن نے تسلی بھرے الفاظ سے ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
”آپ میری ماں جیسی ہیں۔بھروسہ رکھیے۔“
عورت نے مجھے بازو سے پکڑا اور چار پوڈے چڑھا کر کمرے میں لے آئی۔نیچی چھت والا ایک آراستہ پیراستہ کمرہ،ڈبل بیڈ اور سائیڈ پر ایک چھوٹے بیڈ کے ساتھ نظرآیا۔میں بیڈ پر بیٹھ گئی۔
”پانی“
میرے خشک ہونٹوں سے نکلا۔خاتون نے بھاگ کر سامنے کُھلے باتھ روم کی ٹونٹی سے گلاس بھرا۔
میں نے پھر رونکّھی آوازمیں چلّاکر کہا تھا۔
”مجھے یہ نہیں پینا۔منرل واٹر چاہیے۔“
کِسی طلسماتی جن کی طرح بوتل آگئی۔دو گلاس پانی پینے،ذرا حواس بحال ہونے اور حبیب کے تسلی بھرے الفاظ نے مجھے پاسپورٹ اور 93 یورو اس خاتون کے حوالے کرنے کو کہاجو میرے سر پر کسی دیو کی طرح کھڑی پاسپورٹ اور رقم کا مطالبہ کرتی تھی۔

میں نے بیگ سے پچاس یورو کے دو نوٹ اور پاسپورٹ نکالا۔اُسے دیا۔صرف پانچ منٹ بعد ایک رسید،پاسپورٹ،سات یورو سب مجھے تھما دئیے گئے۔یقیناً  تین یورو بوتل کے کاٹے ہوں گے۔
سات یورو کے سکّے میں نے فوراً حبیب الرحمن کی ہتھیلی پر رکھ دئیے۔ چابیاں،کمرے کو بند کرنے کا طریقہاُس نے مجھے سمجھایا۔ایک بار پھر میری تسلی کی۔
انکے جانے کے بعد میں نے فوراً دروازے کو لاک کیا۔دو گلاس پانی کے اور چڑھائے۔بستر پر لیٹ کر خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی۔میں اپنے بلڈ پریشر سے خوف زدہ تھی۔پھر اٹھی۔چھوٹی سی خوبصورت چوبی شیشوں والی کھڑکی کھولی۔نیچے نظرڈالی۔ لوگ جیسے پانی کے ریلے کی طرح ہجوم میں بہہ رہے تھے۔اپنے وجود کو کھڑکی میں جُھکاتے ہوئے میں نے دائیں طرف نگاہ کی۔دھوپ میں چمکتا پل نظرآیا۔نہر کی جھلک دکھائی دی۔سامنے کی بلندوبالا عمارتیں ایسی ہی بند کھڑکیوں سے سجی لشکارے مارتی تھیں۔
میں دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔حبیب الرحمن کا دیا ہوا کارڈ اٹھایا۔انگریزی میں چھپے کارڈ سے میں سب جان گئی تھی۔وہ پورٹر تھے۔چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں کی ایجنٹی کرتے تھے۔یہ ڈربا نما جگہ ہر گز ہرگز نوّے یورو کی نہیں تھی مگر اُس نے مجھے پھانس لیا تھا۔
ایک گہری اطمینان سے بھری سانس میرے اندر سے نکلی۔یہاں کوئی ڈرڈُکر نہیں۔شہر کا مصروف ترین مرکز ہے۔
”دفع کرو۔اٹھو،نکلو، لوگوں سے ملو،کروز کی سیر کرو،شہر کے بارے جانو۔“

میں نے دودھ کی ساری بوتل خالی کردی۔منہ ہاتھ دھو،بالوں میں کنگھی چلا،ہونٹوں پر لپ اسٹک سجا کر نیچے اُتر آئی تھی۔اسٹیشن پراُسی جگہ اب صرف بدیع العالم بیٹھا ہوا تھا۔میں سیدھی اُسی کے پاس چلی گئی تھی۔خوش ہوا دیکھ کر۔ میں نے اپنی حماقتوں بابت کوئی بات کرنی پسند نہ کی۔
بدیع العالم عرصہ بیس سال سے یہاں تھا۔ابتدائی دو تین سال سسِلی میں گزارے پھر وینس آگیا۔تو کچھ اُس کے حالات اور کام کاج کے بارے جاننے پر پتہ چلا کہ ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی کا حصّہ دار ہے جس کے گھر کا وہ ملازم ہے۔فیملی بہت اچھی اور خیال رکھنے والی ہے۔مورینوMuranoمیں اُنکا محل نما گھر ہے۔خاندان آجکل جنوبی افریقہ سیر سپاٹے کیلئے گیا ہوا ہے۔میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
”لوگ تو ان کے گھر آتے ہیں۔اور یہ آگے سدھارے ہوئے ہیں۔“
”ارئے بھئی اپنی مرغی تو دال برابر ہوتی ہے نا۔یوں بھی خاندان وینس سے عاجز آیا پڑا ہے۔بچے تو سارے نیویارک میں ہیں۔کبھی کبھار ہی آتے ہیں۔ یہاں تو میاں بیوی ہیں۔“
میں نے حیرت سے دیکھا اورو جہ پُوچھی۔

یہ بات میں نہیں یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ وینس ایک مرتا ہوا شہر ہے۔62000آبادی والا جو تیس سال قبل تھی۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ آج بھی وہی ہے۔لوگ اب ہر سال سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں دوسرے ملکوں میں نقل مکانی کررہے ہیں۔جن لوگوں کی اکثریت یہاں رہ رہی ہے وہ کون ہیں؟بوڑھے پچپن 55ساٹھ سال یا اس سے ذرا اوپر کے لوگ۔
میں نے حیرت، دُکھ اور تاسف سے یہ سب سنا اور سوال کیا۔
”اللہ اتنا خوبصورت شہر تاریخ اور تہذیب سے لبالب بھرا آخر ایسا کیوں ہورہاہے؟
بدیع العالم نارمل سے لہجے میں بولا۔
”یہاں رہائشی گھر بہت چھوٹے ہیں اوروہ کتنے مہنگے ہیں اس چھوٹی سی مثال سے سمجھ لینا کہ ایک ہزار مربع فٹ جگہ تقریباً ایک ملین ڈالر کی بکتی ہے۔حبس بہت ہوتا ہے۔ سیلاب تو خیر معمول کی بات ہے۔یہ کوئی سال میں ایک آدھ بار نہیں بلکہ اکثرو بیشتر آتے رہتے ہیں۔وجہ ان کی لہریں نہیں ہوتیں بلکہ وہ طوفانی ہوائیں ہیں جو بالعموم جنوبی علاقوں یعنی مصر وغیرہ سے اٹھتی ہیں۔اِس سے نقصان اور املاک کی جو شکت و ریخت ہوتی ہے اس کا حال احوال بھی خاصا بُرا ہے۔اس کا زیادہ نشانہ سینٹ مارک سکوائر اور چرچ بنتا ہے۔مگر باقی جگہیں بھی بہت متاثر ہوتی ہیں۔اب تو خیر سے اسے خاصا اونچا کردیا ہے مگر پھر بھی جیت تو ہمیشہ پانی ہی کی ہوتی ہے۔
”حکومت کا اِس ضمن میں کیا کردار ہے؟میرے تو سُننے میں آیا ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے معاملے میں بھی بڑی دلچسپی رکھتی ہے۔“

گورنمنٹ کو اِس تاریخی ورثے کو سنبھالنے کا خبط پڑا ہوا ہے۔کیونکہ وہ اِس قیمتی اثاثے کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ ہمہ وقت قانون اور اسکے ضوابط۔ مالکوں کی ملکیت ہوتے ہوئے بھی اُن کے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔کہیں عمارت میں کوئی ردّوبدل کرنی ہو۔درخواست حکومتی لال فیتے کی نذر ہوجاتی ہے۔ ہر چیز مہنگی ہے کیونکہ ترسیل کا ذریعہ خشکی نہیں جہاز ہیں۔یہ نہیں کہ حکومت کچھ نہیں کرتی ہے۔کرتی ہے مگر پھر بھی مقامی لوگوں سے محروم ہوتی جارہی ہے۔“
یہ کہنے پر کہ مجھے کیا کیا دیکھنا چاہیے؟اور ساتھ ہی بیگ سے کتاب نکال کر نقشے کھولتے ہوئے کہا کہ راہنمائی بھی کر دیجیے جگہوں کی۔“
بدیعٰ عالم نے نقشے اور میری کتاب کو بند کرتے ہوئے کہا۔

”یہاں اتنی تاریخ ہے کہ اینٹ اٹھاؤ گی تو نیچے سے پوری کتاب نکلے گی۔اتنے گرجے،اتنے محل،آرٹ سے بھرے عجائب گھر،انکے ساتھ ساتھ ان کی تاریخ کے پلندے۔ہمیں ابھی تک سمجھ نہیں آئی تو آپ کو دو دن میں کیا پتہ چلے گا؟بس یوں کیجئیے چند موٹی اور قابل ذکر جگہیں دیکھ لیں۔سینٹ سکوائر دیکھنا ہے۔وہاں اتنا کچھ ہے کہ چار پانچ گھنٹے گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ویپوریٹو کا آخری سٹاپ ہے۔ساتھ ساتھ جڑے ہوئے چرچ،محل،بیل ٹاور،میوزیم۔برج Rialto مگر وہاں آجکل مرمت ہورہی ہے۔اور ہاں اکیڈیمہ Academia بھی ضرور جانا۔یہی سب بہت کافی ہے۔زیادہ چکروں میں پڑوگی تو اُلجھ جاؤ گی اور کسی سے لطف اندوز نہ ہوسکو گی۔“

وینس مچھلی جیسی صورت لئیے ہوئے ہے۔شہر کی ساری اہم شاہراہیں نہریں ہیں جو انسانی جسم کی رگوں کی طرح شہر کے وجود میں خون کی طرح دوڑتی پھرتی ہیں۔گرینڈ کینال وینس کی مرکزی شاہراہ ہے۔یہ تقریباً دو میل لمبی 150 فٹ چوڑی اور کوئی پندرہ فٹ گہری ہے۔یہ وہ نہر ہے جس کے ساتھ وینس کے تمام مشہور آرٹ اور تعمیراتی شاہکار کے حامل محلات جڑے ہوئے ہیں۔کہہ لیجئیے کہ یہ نہر دریا کا ایک ٹکڑا ہے۔وینس ڈیلٹاؤں کی دلدلی زمینوں پر تعمیر ہواشہر ہے جس کے محل مینار ے اُن زمانوں کی یادگاریں ہیں جب یہ دنیا کا سب سے امیر ترین شہر سمجھا جاتا تھا۔
اُف بدیع عالم کی یہ بات مجھے اٹھا کر میرے بچپن کے اُن سنہری دنوں میں لے گئی تھی۔جب شام ڈھلتے ہی میں بازار کی طرف بھاگتی۔ دس صفحات پر مشتمل کتابی کہانیاں کرایے پر لے کر آتی جن کے امیر کبیر سوداگر اِسی پانیوں والے شہر وینس کے ہی ہوتے تھے۔

وینس کے اصلی باشندے اس کے ماہی گیر،نمک بنانے والے کارکن جو دنیا کی طاقتور ترین رومن سلطنت کے بادشاہوں سے جڑے ہوئے تھے۔وینس تب بھی امیر لوگوں کا تفریحی مقام تھا۔اور جب رومن سلطنت وحشی بربروں کا نشانہ بنی تو پناہ گزینوں نے اسی شہر کے دامن میں پناہ لی۔ان سب نے اِس شہر کو ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے امیر ترین کیا۔
وینس جگمگاتے رنگوں کا شہر ہے۔کروز میں بیٹھ کر صدیوں پہلے کے اِن عالیشان محلات کے درودیواروں کو پانی سے اٹھکیھلیاں کرتے دیکھنا کس قدر لطف بھرا کام تھا۔سانتا لوسیا ٹرین اسٹیشن گویا ایک طرح وینس کے اندر داخلے کا گیٹ وے تھا۔بہت خوبصورت ماڈرن عمارت جس کی سیڑھیوں پر میں جب سے آئی ہوں تین بار آکر بیٹھ چکی ہوں۔
میں نے ٹکٹ سینٹ مارک سکوائر کا لیا۔کروز پر بیٹھی۔اس بار نہ گبھراہٹ تھی،نہ پریشانی۔ بہت پرسکون۔مزے سے فضاؤں کو دیکھتی،ہواؤں میں سانس لیتی،اوپر والے کا شکر ادا کرتی۔سٹاپ آتے۔ آبی بس کے رکنے اور لوگوں کے اُترنے چڑھنے کے سلسلے پہلے ہی طرح جاری تھے۔

اس وقت دھوپ میں تیزی تھی۔پانیوں پر سورج کی کرنیں نقش و نگار بناتی تھیں۔سٹاپوں کے حُسن آنکھوں میں تعجب،پسندیدگی اور حیرت کے جذبات بھرتے تھے۔انتہائی آراستہ پیراستہ محلات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے اسی طرح ایستادہ ہیں جیسے کِسی خوبصورت گیت کے بول بہت سے گلوکاروں کے ہونٹوں سے ایک ساتھ نکل کر فضا میں بکھرکر ایک موہ لینے والا تاثر بکھیر دیں۔عمارتوں کے وجود پر پھیلی نیلے،پیلے،سرخ، قرمزی رنگوں کی برسات پھوار کی طرح برستی آنکھوں کے راستے جذبات کو بھگوتی چلی جاتی ہے۔
اُف ناموں میں بڑی گڑ بڑ تھی۔نقشے پر کچھ تھے جسکا اعلان ہوتا تھا اور جو لوگوں سے پوچھتی تھی۔وہ کچھ اور ہوتے۔میرا خیال ہے خود میں اُلجھی ہوئی تھی۔اور یہ سب میری موٹی عقل میں نہیں آرہے تھے۔

Rialto Bridgeنے پوری طرح اپنے حصار میں لیا۔ایسا پررونق،ایسا رنگیلا،ایسا حسین کہ آنکھیں چمکتی تھیں۔بندہ کِس کِس کی تعریف کرے۔اُس کی خوبصورت عمارتوں،اُن پر چمکتے ہلکے اورگہرے رنگوں،عمارتوں کی برجیوں،گرجا گھروں کے میناروں،کہیں ڈھلانی چھتوں،کہیں محرابی لمبوتری کھڑکیوں،پل پر سے جھانکتے لوگوں کے پُروں۔
وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے اپنے دل میں پختہ فیصلہ کیا کہ مجھے چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر یہاں آنا ہے۔سٹاپ گزر رہے تھے۔
آبی بس دھیرے دھیرے سینٹ سکوائر کی جیٹی کی طرف بڑھتی ہے۔ایک طرف وسیع سمندر کے پانیوں کے لشکارے ہیں۔ حُسن و رعنائیوں سے بھرے اڑتے پھرتے منظر ایک کے بعد ایک نگاہوں میں سمارہے تھے۔دائیں بائیں،آگے پیچھے نظاروں کی بہتات سراسمیہ کرنے والی ہے۔ میں انہیں گرفت میں لینے کی کوشش میں ہپوہان سی ہورہی تھی۔ جیٹی پر اُتر کرتیزی سے سامنے شاندار سکوائر کی طرف بڑھتے ہجوم کی میں نے پرواہ نہیں کی۔میں اپنی آنکھوں میں، اپنے کیمرے میں اپنے اردگرد پھیلے اِن منظروں کو سمونے کی خواہش مند تھی۔
میں کھڑی تھی۔گردوپیش کو دیکھتی تھی۔اور مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا۔ جیسے بلندوبالا کالم پر ٹکا سینٹ تھیوڈور وینس کے پہلے سرپرست نے مجھے خوش آمدید کہا ہے۔محبت بھرے لہجے میں شکوہ کرتے ہوئے گویاہوا ہے۔
”وینس تو تمہارا زمانوں سے انتظار کررہا تھا۔کب آئی ہو؟“
اپنی جذباتیت پر آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔کاش یہ منظر کہیں جوانی میں نصیب ہوجاتا۔

دوسرے کالم کی چوٹی پر بیٹھے شیر کو دیکھا۔شیر ببر اپنے ملک کا شیر یاد آیاتھا۔چودھویں صدی کے اِن مجسمہ سازوں کو سلام کیا۔چمکتی دھوپ جس کی تیزی کو پانیوں سے آتی ہوائیں ماررہی تھیں۔
لوگوں کے پُرے جو شیڈوں کے نیچے کرسیوں پر بیٹھے گپیں لگانے اور کھانے پینے میں مصروف تھے نے توجہ کھینچی۔ وینس کے خصوصی گوتھک سٹائل کے ڈوگی Doge’s پیلس اپنی انفرادیت اور تاریخ کے سارے رنگوں کے ساتھ سامنے تھا۔جب چلنے لگی تو آگے آگے قدم بڑھانے لگا۔ حال کچھ ایلس ان ونڈر ینڈ کی طرح تھا۔ میرے اوپر بھی نئے نئے جہاں وا ہورہے تھے۔
تو پھر وہاں پہنچی اور اُس سکوائر کو مشتاق نظروں سے دیکھا جسے دنیا کا لاؤنج کہا گیا ہے۔ہمارے سطح مرتفع پامیر کی طرح جو دنیا کی چھت کہلاتا ہے۔مستطیل صورت کا جو رنگا رنگ انسانوں،کبوتروں، اطراف کی شاندار عمارتوں اور سان مراکو San Marco چرچ سے بھرا پڑا تھا۔چرچ کے سامنے بنے بڑھاوے میں سے ایک کے کشادہ پوڈے پر بیٹھ گئی اور خاموش نظروں سے ماحول کے حسن سے لطف اندوز ہونے لگی۔چلبلے سیاح کبوتروں کے ساتھ کیاکیا کھیل تماشے کررہے تھے؟

وینس زندگی میں ہمیشہ سے ایک خواب کی طرح رہا۔آج اِس کی تعبیر دیکھتی تھی اور اوپر والے کی ممنون تھی۔کتنی دیر گزر گئی۔میں نظاروں کی،اپنے اندر کے جذبوں کی،مے پیتی رہی،خوش ہوتی رہی۔مجھے جلدی نہیں تھی۔دیر بعد اٹھی اور خود سے بولی۔
”میں کیا کھاؤں؟اتنے شاندار ریسٹورنٹ اور خوشبوئیں اڑاتے کھانے۔چکر لگایا۔شوکیسوں میں جھانکا۔میزوں پر پڑے کھانوں پر نظرڈالی۔میں بڑی لبرل قسم کی مسلمان ہوں۔مگر کچھ رکھ رکھاؤ اور دل کو بھاتی پابندیوں کو خود پر لاگو کرنے سے دلی تسکین محسوس کرتی ہوں۔کاک ٹیل فروٹ سلاد لیا،دودھ لیا،پانی لیا،چکن سموسہ لیا۔بس ایسا ہی ڈھیر سا لے کر باہر آگئی۔
اب کیا کہوں کہ رنگا رنگ لوگوں کو اپنی ترنگ میں موج میلے کرتے دیکھنا اور ساتھ ساتھ کھانے پینے کا شغل کرنا مجھے ہی دلچسپ لگتا ہے یا لوگ بھی ایسا کرنے میں لُطف اُٹھاتے ہیں۔گھنٹہ بھر اِس شغل سے منہ ماری کرنے کے بعد گاڈ کا گھر دیکھنے کھڑی ہوئی۔

سینٹ مارکو کے نام پر وقف کیے جانے والا یہ چرچ 828میں تعمیر ہوا۔مجھے خوشی ہوئی تھی ایک تو یہاں ٹکٹ نہیں تھا دوسرے رومن کیتھولک چرچ کی لباس بارے جو اخلاقیات ابھی بھی قائم ہیں اُن کی یہاں بھی پابندی تھی۔ مجال نہیں کہ کوئی چھ سات سال کا بچہ یا بچی ننگے بازؤوں والی ٹی شرٹ،کسی ٹاپ یا شورٹس پہنے اندر داخل ہو۔
گرجا گھر کا موجودہ نام اس واقعے نے دیا جو تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔مگر کتنا سچا اور کتنا جھوٹا ہے اس کی وضاحت نہیں۔وینس کے دو تاجرٹریبیونTribune اور رسٹیکو Rustico اسکندریہ میں تھے۔جب مصر کے حکمران خلیفہ نے اسکندریہ کے گرجا گھر کو لوٹنے کا حکم دیا۔دونوں تاجروں نے فوراً سینٹ مارک کا جسد خاکی لکڑی کے صندوق میں ڈالااور اُسے سور کے ٹکڑوں سے ڈھانپا اور وینس لے آئے۔وینس والوں نے بڑی محبت اور تکریم سے اسمیں دفنایا اور اسے یہ نام دیا۔

نویں صدی میں یہ چھوٹا سا میدان تھا جسمیں چھدرے چھدرے درخت تھے۔اسکا یہ شان و شوکت اور رعب و دب والا چرچ تب Dohzh ڈوز حکمرانوں اور محل والوں کا گرجا گھر تھا۔
یہ بازنطینی سٹائل کے ساتھ ساتھ مشرقی اور مغربی طرز تعمیر کی سب خوبصورتیوں کی آمیزش سے مزین ہے۔اس کا ایک نام “سونے کا چرچ” بھیتھا۔
اور جب میں اس کی اندرونی حصّوں کی محراب در محراب دیواروں اور چھتوں پر گردن اٹھا اٹھا کر آرٹ کے بکھرے شاہکار وں کو دیکھتی اور گنگ سی خود کو کِسی ایسی دنیا میں محسوس کرتی تھی جس پر مجھے حقیقت کا نہیں کِسی خواب کا سا گمان گزرے۔

سچی بات ہے اپنی کم علمی کا کھلے دل سے اعتراف ہے کہ میں تو اُن ہستیوں سے بھی ناواقف تھی جن کی مذہبی حوالوں سے بے حد اہمیت تھی اور وہ یہاں جلو ہ افروز تھے۔ میرے تو دامن دل کو کھینچنے والا وہ آرٹ تھا۔جو یہاں محرابی صورت والی گزرگاہوں،دیواروں اور چھتوں پر بکھرا ہوا تھا۔ رنگوں کی خوبصورت آمیزش متاثر کن تھی۔ مجسمے قدموں کو روکتے اور کہتے تھے کہ کھڑے ہو کر اُن سنگ تراشوں کو خراج عقیدت پیش کرتی جاؤ جنہوں نے یہ بنائے ہیں۔تفصیلات تو یقناً ا تنی ثقیل اور بوجھل ہیں کہ قاری کے پلّے پڑنے والی نہیں۔

ہاں اعتراف کرنے دیں کہ جس شاہکار پینٹنگ نے میرے دل و دماغ کو قابو کیا وہ وینس کے اُن ماہی گیروں کی تھی جو وہ عجیب و غریب صندوق کھولے بیٹھے تھے۔جسمیں سینٹ مارک کا مردہ جسم اسکندریہ سے آیا تھا۔وینس کے لوگوں کے لباس، انکے چہروں پر بکھرے دُکھ اور کرب کے تاثرات کی ایسی دلآویز عکاسی تھی کہ جس نے مجھے دیر تک وہاں سے ہلنے نہ دیا۔دوسرا موہ لینے والا شاہکار میری (مریم)کا تھا جویقینا ً میری بھی ہے۔
پاس ہی ٹاور ہے۔اس کے ساتھ پرانے دفاتر کی عمارات کا لمبا سلسلہ ہے۔

چرچ کے ایک طرف سینٹ مارکوکے بیل ٹاور کی بڑی کلاسیکل قسم کی عمارت ہے۔نشاۃ ثانیہ دور کی عمارتوں کی ایک خصوصیت انکے مرکزی ٹاور کا ہونا ہے۔یہ کوئی 1496 – 99 کی یادگار ہے۔اس کی چھت پر آ ہنی جنگلے کے اندر نصب ایک دیو ہیکل قسم کی گھنٹی کو وینس کے ابتدائی دور کے دو قوی البحثہ کانسی کے مجسمے ایک بوڑھا اور دوسرا جوان گڈریے کے لباس میں ہر گھنٹہ بعد اپنے ہاتھوں میں پکڑے آ ہنی گزر سے بجاتے اور سکوائر میں ایک فسوں خیز سی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔اوپرکے طواف سے نظریں پھسلتی پھسلتی نیچے اتریں اور دوسرے شاہکار پر رُک گئیں۔
یہاں پروں والا شیر کھلی کتاب کے ساتھ نظرآتا ہے۔کہتے ہیں پہلے یہاں Dohzh خاندان کے ایک ڈیوک Agostino کا مجسمہ تھاجو شیر کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکا ہوا تھا۔جب نپولین نے شہر پر قبضہ کیا تو آگسٹینو کا بُت تو فوراً ہٹادیا۔

شاید نہیں یقینا ً یہ فاتح لوگوں کی نفسیات ہوتی ہے کہ پرانی یادیں اور پرانے نقش مٹادو۔ہاں اب شیر اور کتاب موجود ہیں۔اِن دونوں کی کیا فلاسفی ہے؟ اسکا علم نہیں ہوا۔ اس سے ذرا نیچے کنواری مریم اور بچہ ہے۔اور پھر وہ کلاک ہے۔ دنیا کا پہلا ڈیجیٹل کلاک۔اس کی بھی خاصی تفصیلات ہیں۔
اسکے محرابی مرکزی گلیارے نما داخلی دروازے سے میں نے اندر داخل ہوکر لوگوں کو پاگلوں کی طرح خریداری کرتے دیکھا۔ میں نے یہ مہم جوئی نہیں کی۔جوتیوں کی خوبصورت دکانوں نے مجھے ضرور ترغیب دی اور میں ان کے اندر گئی بھی۔مگر چار فٹ گیارہ انچ والی میری قامت کے پاؤں بونوں جیسے ہیں۔اچھے خوبصورت ڈیزائن بڑے سائزوں میں تھے۔
دراصل میری آٹھ سالہ پوتی کی جوتی اب میرے پاؤں میں فٹ آنے لگی ہے۔پنجابی زبان کی کہاوت کے مطابق وہ تو “دیہاڑی کا گٹھ وار”کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔اس کی ماں کی چاؤ سے خریدی اُس کی ڈھیروں ڈھیر جوتیوں کا کیا بنے گا؟

جو میرے حساب کتاب میں آئیں گی وہ میں نے ہی پہننی ہیں تو اب جوتیوں کے ہار تو نہیں بنانے نا۔سچی بات ہے یوں دل تو میرا بڑا للچایا تھا۔مگر مصیبت یہاں ایک اور بھی ہے کہ لنڈے سے عشق کرنے والوں کے نصیب میں اترن لکھ دی جاتی ہے۔اب پچیس تیس یورو کی جوتی مہنگی ہی لگنی ہے جب کہ ساری دیہاڑی گل کرکے ڈیڑھ دو سو کا شاندار پیس جوتوں کے ڈھیروں میں سے ڈھونڈ نکالنا مسئلہ نہ ہو بلکہ مشغلہ ہو۔گھر لاکر اُسے مسلمان کرنے کیلئے پاک صاف کرنا کہ آخر وہ اُترن تو موئی کافرینوں کی ہیں۔دو تین دن پاؤں میں پہن پہن کر اسکا تنقیدی جائزہ لینا بذات خود دلچسپ اور دل کا رانجھا راضی کرنے والا شغل ہے۔تو بھئی اِس شغل سے محرومی تو بڑی کِھلتی ہے نا۔

یہی بازار آگے چل کر Rialto برج سے جاجڑتا ہے۔یہ بھی کوئی 1496کے لگ بھگ اسی دور کی تعمیر ہے۔بلندوبالا بے حد خوبصورت کلاک ٹاور سکوائر کی شان بڑھاتا ہے۔
کاش مجھے تھوڑی سی عقل ہوتی۔میں تھوڑی سی منصوبہ بندی سے کام لیتی۔چلنے سے قبل ینٹ پر بیٹھتی اور جانتی کہ Ca’d’ora کی گلیوں سے Rialto برج تک اور وہاں سے آگے بیچ بیچ کی گلیوں سے سینٹ مارک سکوائرتک پہنچا جاسکتا تھا۔پیسے کا ضیاع ایک طرف اور وقت کا ضیاع دوسری طرف۔مگر اب ہو کیا سکتا تھا۔افسوس کف افسوس اور اپنی نالائقیوں پر لعن طعن۔ رونقوں سے لُطف اٹھاتے،نظاروں سے ملتے ملاتے۔چلو خیر اب ایسی حماقتیں بھی تو سفر کا لازمی جز ہیں۔

مجھے واش روم کی حاجت تھی۔شکر ہے کہ وہ وہیں سکوائر میں ہی تھا۔
dohzhپیلس کا بھی دیکھنے سے تعلق تھا۔وینس کا یہ مخصوص گوتھک سٹائل کا حکمران، خاندان کا رہائشی محل تھا۔اس وقت وینس کا لینڈ مارک اور اسکے بہترین عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔چودھویں اور پندرھویں صدی کا شاہکار وقت کے حکمران خاندان کی بے تحاشا دولت اور شان و شوکت کا مظہر۔
سچ تو یہ ہے کہ آنکھیں پھٹ پھٹ جاتی تھیں۔صحن میں داخل ہوتے ہی عمارتی حسن اور اس کی کندہ کاریوں کے جو جلوے نظرآتے ہیں وہ آپ کو مبہوت کرتے ہیں۔کمروں کی دیواروں اور چھتوں پر شاہکار بنائے گئے ہیں وہ ہلنے نہیں دیتے۔فنکاروں نے رنگوں اور برش سے وہ حُسن بکھیرا ہے کہ بندہ تو گم سُم خدا کی اِس تخلیق نام جسکا انسان ہے کی مہارت پر عش عش کراٹھتا ہے۔ہر کمرہ منفرد،ہردیوار،ہر چھت رنگوں اور نئے افسانوں کی ترجمانی کرتی ہے۔بس چند ہی دیکھے۔

ابھی تو شکر ہے کہ مسافروں کے آرام کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے کہ جگہ جگہ خوبصورت بینچ دھرے ہیں۔بیٹھو اُن پر اور سینکو اپنی آنکھیں اُن شاہکاروں سے۔ کتنے تو نام تھے۔پنک ہاؤس،شادی کا کیک۔یہ گوتھک سٹائل کا نمائندہ ہونے کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں اسلامی طرز تعمیر کی جھلکیاں بھی منعکس کرتا ہے کہ اِن ڈیوک کے تعلقات عثمانیہ حکمرانوں کے ساتھ گہرے تھے۔عثمانی سلطنت کی بحری فوج اور طاقت بھی اپنے عروج پر تھی۔تعلقات اور دشمنیاں دونوں چلتی تھیں۔اِسے دیکھ کر مجھے استنبول کے محل یاد آئے تھے۔روس کا ونٹر پیلس یاد آیا تھا۔مگر نہیں اِس جیسے شاہکار وہ ہرگز نہ تھے۔میرا دل نکلنے پر مائل نہ تھا مگر مجھے اپنی اور اپنی آنکھوں کی سلامتی درکار تھی۔
ٍ میں تھک کر بیٹھ گئی تھی۔دھوپ کی شوخی اب دھیرے دھیرے ماند پڑنے لگی تھی۔پانچ بج رہے تھے۔بس میں نے سوچا میں یہاں بیٹھ کر سکوائر کے نظارے لوٹوں گی۔اِن دو رویہ عظیم الشان عمارتوں کے سلسلوں کو اور لوگوں کو دیکھنا کونسا کم دلچسپ کام تھا۔

پھر یوں ہوا کہ ایک فیملی میرے قریب آکر بیٹھ گئی۔لباس تو پاکستانی نہ تھامگر زبان ضرور اپنی تھی۔جونہی معلوم ہوا جیسے سارا سکوائر اپنایت کی خوشبو سے بھر گیا۔گھر کا سربراہ افضال احمد کوئی پچیس سال پہلے پاکستان سے آیا تھا۔اس وقت صرف میٹرک تھا اب مکینیکل انجنیرنگ کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہت شاندار پوسٹ پر بیٹھا تھا۔وینس اسکا پسندیدہ شہر ہے۔ اگست کا مہینہ چھٹیوں کا ہوتا ہے۔دو بیٹوں اور بیٹی کے ساتھ سیر کیلئے آیاہوا تھا۔میں نے اُن کا نمبر اور انہوں نے میرا نمبر لیا۔یہ لوگ یہیں سینٹ مارک سکوائر کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔
جیسے جیسے شام اپنے رنگ گہرے کررہی تھی۔توں توں سکوائر کی رونقوں میں تیزی آرہی تھی۔مختلف ریسٹورنٹوں کے سامنے خوب گہما گہمی تھی۔میز کرسیاں سیٹ کئیے جارہے تھے۔آرکیسٹرا کا اہتمام ہورہا تھا۔

یہ تو مجھے افضال احمد سے پتہ چلا تھا کہ سکوائر کا کیفے فلورئین Caffe Florian بے حد تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ لارڈ بائرن،چارلس ڈکنزDickens اور Woody Allen جیسی ہستیوں نے وہاں کافی پی تھی۔میوزک سے لُطف اندوز ہوئے تھے۔
میرا بھی جی چاہا تھا کہ رخصت ہونے سے قبل اُس کیفے کا چکر لگاؤں گی۔مگر سارا جوش و ولولہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا کہ جب پتہ چلا کہ باہر بیٹھ کر کافی کا کپ پینے اور میوزک سننے کا مطلب تیس یورو کی قربانی ہے۔
”تو بھئی یہ تو بڑا مہنگا سودا ہے۔لعنت بھیجو۔“ بس یہ بات چپکے سے اپنے دل میں کہا۔
عجیب سی بات ہے میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ میں اُس بھریے میلے سے نکلوں مگر واپسی بھی لَولَو میں کرنا چاہتی تھی۔خاندان سے اجازت لی۔واپسی کا ٹکٹ لیا۔اب ہم اناڑیوں کو تو بہت سی باتوں کا پتہ نہیں تھا کہ پاس لیا جائے تو بہت بچت ہوجاتی ہے۔
چلو خیر۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *