ایم ایم اے کی بحالی، اصولی موقف کی قربانی۔۔۔ محمود شفیع بھٹی

کوچہء یاراں میں سوال ہوامتحدہ مجلس عمل بحال ہونے جارہی ہے۔ مذہبی ووٹ اور اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے۔ اسلام اور ریاست کے تقدس کی بحالی کا علم بلند ہوگا۔ لوگوں کو دینیات سکھائی جائے گی۔ لوگوں کو اصل اور نقل کا فرق بتلایا جاۓ گا اور ساتھ ساتھ اصلی مسلمان کی تعریف بھی سمجھائی جاۓ گی۔

ایک نکتہ دان نے نکتہ چینی کرتے ہوۓ کہا کہ متحدہ میں شامل جماعتوں کا بغور جائزہ لیا جاۓ تو اس کے سب سے بڑے شراکت دار مولانا فضل الرحمن ہیں، اس کے بعد سراج الحق اور پھر مولانا سمیع الحق ہیں۔ ماضی میں ایم ایم اے انہی لوگوں کے مرہون منت چلتی رہی۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ لوگ اب سیاست میں اپنی سوچ کا پرچار کرچکے ہیں۔ فضل الرحمن عمران کو یہودی جبکہ نواز کو دودھ کا دھلا ڈکلئیر کرتے ہیں۔ سراج الحق حکومت اور اس کے اتحادیوں کو کرپٹ کہتے ہیں اور اب اسی کرپٹ اتحادی کے ساتھ مل کر ایم ایم اے بحال کرنے جارہے ہیں۔ کیا یہ انکے اصولی اور دوٹوک موقف کی قربانی نہیں؟ یا پھر سیاست کا دوسرا نام،منافقت اور سودے بازی سے مصداق ہے۔

مولانا سمیع الحق جنہوں نے آج تک مولوی عبدالعزیز کو برا نہیں کہا، جنہوں نے آج تک طالبان کے خلاف فتویٰ نہیں دیا اور یہ آج بھی شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔ کیسے یہ لوگ سسٹم کے استحکام کی بات کریں گے؟ طالبان سے مذاکرات ہوں یا پھر ذاتی تعلق کا حوالہ مولانا پیش پیش رہے۔ کیا ایم ایم اے پلیٹ فارم سے مولانا سمیع الحق اپنا قلبی موقف پیش کریں گے یا پھر کاغذ پر لکھ کردیا گیا موقف؟ مولانا سمیع الحق کس منہ سے عمران خان کو برا کہیں گے، انہی کی حکومت سے دارالعلوم حقانیہ کے لیے امداد وصول کی۔مولانا کس منہ سے نواز شریف کو کرپٹ کہیں گے اسی کے اتحادی بھی رہے اور اسی طرح سراج الحق کس منہ سے مولانا کے ہمنوا بنیں گے؟ عمران خان کے اتحادی بھی رہے؟

2002 میں ایم ایم اے کی الیکشن میں کامیابی کی چار وجوہات تھیں
1- نائین الیون کا واقعہ اور امریکہ دشمنی
2- نواز شریف کا نہ ہونا
3- اینٹی مشرف ووٹ
4- مذہبی حلقوں کا اتحاد

نائین الیون کے بعد دنیا یکسر بدل گئی اور اسی تبدیلی کی وجہ سے ایک اسلامسٹ لہر اٹھی ،جس میں افغان جہاد اور ہمدردی شامل تھی۔ جہاد کی حامی جماعتوں کو عوام نے ووٹ ديے۔نواز شریف کی عدم موجودگی اور قاف لیگ کے قیام نے فکری اتحاد کی راہ ہموار کی اور نواز شریف کا نرم گوشہ ان کے لیے باعث قبولیت ثابت ہوا۔مشرف ایک ناپسندیدہ شخصیت ہونے کی وجہ عوام میں قبولیت ایم ایم اے کی ہوئی۔ اور سرحد میں اکرم درانی وزیراعلیٰ بنے۔

اس وقت تمام مذہبی حلقے ایک پیج پر تھے،جبکہ اب ملی مسلم لیگ جو اہل حدیث مکتبہ فکر کی علمبردار جماعت ہے اور لبیک یا رسول اللہ ﷺ بریلوی مکتبہ فکر کی علم بردار ہے ۔ جس کی وجہ سے تقریباً ساٹھ فی صد مذہبی ووٹ ان لوگوں کی جانب جائے گا اور باقی کا چالیس فی صد بھی تقسیم ہوگا۔میرے نزدیک ایم ایم اے کی بحالی کارگر ثابت نہ ہوگی۔ کیونکہ پنجاب میں اس وقت ن لیگ اور تحریک انصاف دست و گریباں ہیں۔
پختونخوا میں اس وقت تک تحریک انصاف کافی مقبول اور مضبوط ہے۔ چند ایک حلقوں کو چھوڑ کر کوئی بڑا سیاسی شگاف پڑتا ہوا نظر نہیں آرہا۔سندھ میں پی پی اور تحریک انصاف، متحدہ قومی اور پاک سرزمین کے درمیان مقابلہ ہوگا اور بلوچستان کا سردار کلچر ہی اسکی سیاست کا تعین کرے گا۔اس صورتحال میں ایم ایم اے کی بحالی انکے موقف کی قربانی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ عوام کو گزشتہ چار سالوں میں جو راگ انہوں نے سناۓ ہیں ان سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹے تو یہ مسترد ٹھہریں گے۔ عوام اس وقت کافی باشعور ہیں اور ہر لیڈر کے بیان اور عمل پر نظر ہے۔ اس لیے اگر ایم ایم اے کو ایمپائر کی یقین دہانی ہوئی تو بحال ہوگی وگرنہ عوام کا ایمپائر ان کو آوٹ قرار دے کر سیاست سے باہر پھینک دے گا۔ کیونکہ ایم ایم اے کی بحالی کئی چہروں سے نقاب اتارے گی، منافقتیں عیاں ہوں اور اصول بکیں گے اور ان سب باتوں کو سیاست اور غریب کی فلاح کا نام دیا جاۓ گا۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *