• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ادب، ادیب اور انقلاب(بالشویک انقلاب میں ادب کا کردار)۔۔۔۔۔(پہلا حصہ)مشتاق علی شانـ

ادب، ادیب اور انقلاب(بالشویک انقلاب میں ادب کا کردار)۔۔۔۔۔(پہلا حصہ)مشتاق علی شانـ

7نومبر1917( روسی جنتری کے بموجب 25اکتوبر1917)کو روس کے طول وعرض میں صدیوں کسی مہیب بدروح کی طرح چنگھاڑتی زار شاہی کے نام سے موسوم ایک رجعتی جاگیردارانہ،نیم سرمایہ دارانہ بادشاہت اور اس کی جگہ سنبھالا لینے میں مصروف زردار قوتوں کو صحنہءاقتدار سے بہا لے جانے ، ملوکیت واستبداد کے فلک بوس قلعوں کو ڈھا دینے والے عظیم اکتوبر انقلاب کا زلزال معلوم انسانی تاریخ میں محنت کار انسانوں کی سب سے بڑی انگڑائی ،سب سے بڑی انقلابی جست تھی ۔اس انقلاب کی صداجہاں روس کے مزدوروں، کسانوں، عورتوں،مظلوم قوموں اور صدیوں کی دھتکاری ہوئی سماجی پرتوں کے لیے نجات کا آوازہ بن کر گونجی وہاں یہ دنیا بھر کے محنت کشوں،ان کی انقلابی جماعتوں کے لیے بھی حق وصداقت کی فتح وکامرانی کانقارہ بن گئی جو ذرائع پیداوار، آلات پیداوار کی نجی ملکیت کے خاتمے اورپیداوارسمیت ان کی مشترکہ سماجی ملکیت کے لیے لڑی جانے والی طبقاتی جنگ کے ہر اول دستوں کے طور پر مصروفِ جہد تھیں ۔یہ انقلاب فرد کے ہاتھوں فرد کے استحصال کے خاتمے کے لیے لڑی جانے والی جنگوں کے ایک ایسے مورچے پر کامیابی تھی جس کی توقع مزدور طبقے کے انقلابی نظریات کے بنیاد گزار کارل مارکس نے بھی نہیں کی تھی ۔یہ انقلاب صدیوں سے طبقات کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھائی گئی مظلوم انسانیت کے دیرینہ خواب کی تعبیر تھی جس کی پاداش میں سروں کی فصلیں کاٹنا استحصالی طبقات کا صدیوں سے معمول تھا۔
عظیم اکتوبرانقلاب ، اس کے بانی کامریڈ لینن ،ان کے رفقائے کاراور اسے برپا کرنے والی بالشویک پارٹی کا اعجازیہ تھا کہ جدوجہد کے کسی بھی مرحلے میں انھوں نے مارکس اور اینگلز کی بنیادی تعلیمات سے انحراف کیے بغیر اپنے عصراورمعروض کے مطابق بے پناہ قوت تخلیق ومشاہدے سے انقلاب کی سائنس میں گراں قدر اضافے کیے اور نت نئی حکمت عملیاں وضع کیں جسے عمل کی کھسوٹی نے کھرا ثابت کیا۔یوں سماجی تبدیلی ،محنت کش طبقے اور نوع انسانی کی نجات کا سائنسی علم جو مارکسزم کہلاتا تھا محض مارکسزم نہیں رہا ۔یہ مارکسزم، لینن ازم کہلایا ،آج بھی کہلاتا ہے اور تاحال اپنا کوئی ثانی ، کوئی مدِ مقابل نہیں پاتا۔

کارل مارکس کے بقول اگر’ انقلاب تاریخ کا انجن ہوتے ہیں‘ توعظیم اکتوبر انقلاب انسانی تاریخ کا سب سے توانا اور بے نظیر انجن تھا جس نے نہ صرف روس میں سرمایہ داری، جاگیرداری نظام،اس کی فرسودہ شکلوں اور چرچ کے رجعتی ادارے کا خاتمہ کیا ، زار شاہی سلطنت میں صدیوں سے غلام بنائی گئی یورپی وایشیائی مظلوم قوموں کو حقیقی آزادی سے ہمکنار کیا بلکہ ایشیا سے لے کر افریقہ اور جنوبی امریکہ  تک کے غلاموں کو نظری توانائی اور مادی امداد فراہم کی ۔ اس انقلاب کے ایک ہاتھ میں اگر دنیا بھر کے محنت کشو ں کے اتحاد و نجات کا تو دوسرے ہاتھ میں ردِاستعماریت اور محکوم اقوام کی آزادی کا عَلم تھا ۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس انقلاب سے الہام پاتے ہوئے گراں خواب چینی بیدار ہوئے ،کامریڈ ماؤ¿ کا لانگ مارچ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا طبقاتی تحرک بن کر نمودار اور آخر میں فتح یاب ہوا۔ کوریا ،ویت نام سے لے کرمشرقی یورپ،کیوبا اورانگولا ، موزمبیق ،ایتھوپیا سے لے کر جنوبی یمن اور افغانستان تک میں اشتراکیت اور قومی آزادی کی جنگیں ،ان کی کامرانیاں اسی انقلاب کا تسلسل بن کر تاریخ کے اوراق پر نمودار ہوئیں اور آئندئگاں کی جدوجہد کے نشاں چھوڑ گئیں ۔

روسی محنت کشوں کے اس ہمہ گیر انقلاب کے اثرات عالمگیر اور دور رس نتائج کے حامل تھے اور ہیں جواس نے سیاستِ عالم سے لے کر سماجیات ،اقتصادیات، ادبیات اور فنونِ لطیفہ و فلسفے تک پر مرتب کیے ۔ اس انقلاب کی قوتِ محرکہ محنت کش طبقہ ، اس کی آئیڈیالوجی پر استوار انقلابی پارٹی تھی ۔وہ کون سے عوامل تھے جو روسی مزدوروں، کسانوں کی طبقاتی جدوجہد کے دوران اس سماجی انقلاب کے لیے میدان ہموار کرنے میں ممد ومعاون ثابت ہوئے ؟ بلاشبہ روس میں ایک غیر طبقاتی نظام کے قیام اور ذرائع پیداوار کے مالک طبقات کے خلاف محنت کار عوام کی جدوجہد کو فیصلہ کن موڑ پر لانے ،اس انقلاب ، اس کے مقاصد کو روس سے لے کر عالمی سطح پر متعارف کرانے اور اس کے نظریاتی دفاع میں وہاں کے ادبا ،شعرا اور دانشوروں کے کردار کو ایک اہم عنصر کے طور پر فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔تاریخ کا مادی نقطہ ءنظر ثابت کرتا ہے کہ ادب کہیں کا بھی ہو بنیادی طور پر انسانی زندگی کامعروضی اظہار ہوتا ہے۔خود روسی ادب اس صداقت کی گواہی دیتا ہے کہ ماقبل از انقلاب ،دورانِ انقلاب روسی،ادبا،شعرا اور دانشوروں کی کئی ایک نسلوں نے طبقاتی نظام کی تنقید کو ایک متبادل نظام کے قیام سے جوڑتے ہوئے طبقاتی شعور کی بیداری میں کلیدی کردار ادا کیا ۔اور پھر یہی جدید روسی ادب تھا جو نہ صرف روس بلکہ دنیا بھر میں شاعروں، ادیبوں اور تخلیق کاروں کو مقصدیت کے ایک نئے رنگ ، نئے ذائقے سے روشناس کر گیا جس کی گہری چھاپ آج بھی عالمی ادب کے شہہ پاروں پر بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔

روسی محنت کشوں کا یہی عظیم اکتوبر انقلاب تھا جس سے فکری توانائی پاکر،اسے حرزِ جاں بنا کر ایک ایسی عالمی تحریک کا آغاز ہوا جس کے تحت کرہ ارض کے گوشے گوشے میں تخلیق ہونے والا ادب محض ہیئت کے تجربوں ، زبان وبیان کی شیرینی، کسی داخلی واردات،حسی تجربات تک محدود نہ تھا بلکہ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے شعوری اور بامقصد تخلیق کاری سے وسیع تر تھا اور ہے۔اس نے ادب کے قدیم رجعتی تصورات کے ساتھ ساتھ جدید سرمایہ دارانہ انفرادیت پسندوں کے اس نظریے کو بھی رد کر دیا کہ ادیب کا کوئی مقصد اور نظریہ نہیں ہوتا ۔اس ادب نے ثابت کیا کہ ادب ایک عظیم سماجی فریضہ ہے ،ادب اور ادیب کا تعلق ناگزیر طور پر زندگی سے ہے اس لیے اسے زندگی کے ترقی پسند نظریات اور قوتوں کی نمائندگی کرنا چاہیے۔

مارکس جب یہ کہتا ہے کہ ” اب تک فلسفی دنیا کی تشریح کرتے رہے ہیں لیکن اصل کام تو اسے تبدیل کرنا ہے ۔“

(1) تو فکروعمل کی یہ اکائی ادب اور ادیب کے اہداف کی،اس کے فریضے کی بھی واضح نشاندہی ٹھہرتی ہے کہ ایک ادیب کو ایسا ادب تخلیق کرنا چاہیے جو دنیا /سماج کی تبدیلی میں معاون ومددگار ثابت ہو نہ کہ محض اس کی تشریح و منظر کشی پر مبنی ہو ۔اس لیے جب عظیم اکتوبر انقلاب سے قبل، اس کے دوران اور اس کے بعد تخلیق ہونے والے ادب پر ہم نظر ڈالتے ہیں وہ ان خصوصیات کا حامل،ان سے مملو دکھائی دیتا ہے ۔روسی ادیبوں کی اکثریت نے اپنی تخلیقات کی اساس دنیا کی تشریح کی بجائے اس تبدیل کرنے پر رکھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ ادب وقت کی آغوش میں آج بھی خود کو زندہ وتوانا ثابت کرتا ہے ۔فکروعمل کی اکائی کی اس صداقت کی بازگشت ہمیں”کمیونسٹ مینی فیسٹو“ کی تخلیق کے سال 1848میں محض 37سال کی عمر میں وفات پاجانے والے روس کے انقلابی ادبا کے ایک سرخیل ویسارین بیلنسکی کے ہاں بھی اس وقت نظر آتی ہے جب اس نے ذات کے دائروں کی اسیری کی بجائے شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کو سماجی راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ”ہر لکھاری اپنے ماحول کے مطابق لکھتا ہے اس لیے اسے سماجی حقائق کی روشنی میں پرکھنا چاہیے ۔“ کوئی پون دو صدیاں گزریں جب اس نے لکھا کہ ” فن برائے فن کہیں وجود نہیں رکھتا ۔فن خود سچائی کی پیداوار ہوتا ہے جو اپنے اندر ساری صداقتیں سموئے ہوتا ہے۔“

(2) اور پھر چرنی شیفسکی جس نے 1855میں لکھا کہ ” ادب کو نہ صرف زندگی کی ترجمانی کرنی چاہیے بلکہ اسے زندگی کے بارے میں ایک نصابی کتاب بھی ہونا چاہیے ۔اور فن کا وظیفہ محض منظر نگاری ہی نہیں بلکہ حقیقت نگاری بھی ہے لوگوں کی زندگی کے دکھ درد کو ظاہر کرتے ہوئے فن معاشرے پر تنقید کا وظیفہ بھی سرانجام دیتا ہے ۔“

(3) یہ ادب اور اور عالمی تحریک جس کے سوتے انیسویں صدی کے روس سے پھوٹے تھے ،اس نے تاریخ کے جدلی ومادی نظریات کو اپنی اساس بناتے ہوئے مارکس، بیلنسکی اور چرنی شیفسکی کے ان الفاظ کو گویا اپنا منشور بنا لیا ۔یہ ادب اور اس کے پرچارک کل اور آج بھی برملا کہتے اور سمجھتے ہیں کہ کائنات اور اس کے مظاہر سے لے کر اس مادی دنیا اور خود انسانی سماج کو دیکھنے پرکھنے کے صرف دو نقطہ ہائے نظر ،دو زاویہ فکر ہیں ۔ایک “مادیت پسندی“کا سائنسی نقطہ نظر ہے جس کا جدید سائنسی اظہار جدلی وتاریخی مادیت کی شکل میں ظہور پذیر ہوا، جو کائنات ،اس کے مظاہر سے لے کر ہر شے کو ذہنِ انسانی کی موجودگی سے آزادانہ طور پر موجود،متحرک ومتبدل سمجھتااور اس کی تشریح کرتے ہوئے اسے ثابت کرنے کی اہلیت رکھتاہے ۔یہ فکرو فلسفہ ترقی پسند ،بشر دوست اور رجائیت پسندی پر مبنی ہے جو تبدیلی پر یقین رکھتا ہے اور استحصال کی تمام شکلوں کو، طبقاتی سماج ،ذرائع پیداوار اس کی تقسیم کو نقش بر آب سمجھتے ہوئے اس کی تبدیلی کے لیے انسانوں کو آمادہ ءجہد کرتا ہے۔ دوسرا نقطہ ءنظر ”عینیت پسندی“ پر مبنی ہے جو ”مادیت پسندی “ کی ضد اور غیر سائنسی ہے۔ جوکائنات،اس کے مظاہر ،ہر موجود شے کو کسی دوسری دنیا کا پرتو سمجھتا ہے اور خیال کو وجود پر مقدم جانتے ہوئے اس کی تشریح سے عاجز ہے ۔یہ ہر شے کی طرح موجودہ استحصالی،طبقاتی نظام کو غیر متبدل،جامد وساکن اور ازلی وابدی سمجھتا ہے۔ یہ محنت کار انسانوں کی عظیم اکثریت کو تبدیلی پر آمادہ کرنے کی بجائے”صبر وشکر“ کا درس دیتا ہے۔یہ فکروفلسفہ ذرائع پیداوار اور آلات پیداوار پر قابض ایک حقیر اقلیت کی نمائندگی کرتے ہوئے انسان دشمنی ،رجعت پسند ی اور قنوطیت پر مبنی ہے ۔ اس تناظر میں ہر شاعر،ادیب ، دانشور اور تخلیق کار ان میں سے کسی نہ کسی نقطہ ءنظر کی نمائندگی کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نہ تو کوئی شاعر وادیب اور نہ ہی اس کی تخلیق ،اس کا فن غیر جانبدار یا غیر نظریاتی ہوتا ہے ۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ طبقات میں منقسم دنیا میں کچھ بھی غیر طبقاتی نہیں ہے اس لیے ہر ادیب عمومی طور پر کسی نہ کسی طبقے ،اس کے نظریات ومفادات کی ترجمانی کرتا ہے ۔جدلی و تاریخی مادیت سے وجدان پانے والا ادیب زندگی اور سماج کو آگے لے جانے والی قوتوں کا نمائندہ ہوتا ہے اس لیے وہ اور اس کا فن لامحالہ طور پر محنت کشوں،مظلوم قوموں اور سماج کی تمام مظلوم پرتوں کا ترجمان ہوتا ہے ، اسے ہونا چاہیے ۔

روس کی سرزمین پرجنم لینے والا یہ ادب جس نے قر ن ہاقرن سے طبقات میں منقسم دنیا کے جواب میں دنیا کے سب سے بڑے انقلاب کے لیے ماحول سازگار کیااور بعدازاں ایک تحریک کی شکل میں اکنافِ عالم میں پھیل گیا اس کی جڑیں انیسویں صدی کے اوائل میں پیوست ہیں۔آئیے اس عظیم ادب کی پیدائش کے عوامل اور محرکات کو سمجھنے کے لیے اس عہد کے روس پرایک نظر ڈالتے ہیں۔
جاری ہے

 حوالہ جات :
(1)کارل مارکس، فریڈرک اینگلز ، منتخب تصانیف ، حصہ اول، دارالاشاعت ترقی ماسکو ،1971،ص؛42
(2)روسی ادب ،سندھی ترجمہ ڈاکٹر بدر اجن،سندھ ادبی اکیڈمی ،سندھ ریڈرز فورم،2012،ص؛ 86
(3) اختر ،جاوید ،لینن اور جمالیات، اشاعت2013،غزنوی پبلشرز کوئٹہ،ص؛245

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *