فطری نظام ہائے معیشت کیسی ہونی چاہیے؟۔ثنا اللہ

دنیا کے دو بڑے معاشی نظام!
حضرت انسان کی نسل جب اپنے کرتوتوں کی وجہ سے روئے زمین پر پھیلنے لگی اور ا ن کی بے لگام خواہشات ان کے محدود وسائل کے لئے زہر قاتل بنیں تو حضرت انسان کے ذہن نے معیشت کے مختلف نظام سوچے. عصر قریب میں دو نظام کافی مقبول ہوئے، ان کی آپسی کشمکش نے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا. یہ نظام اپنے پیروکاروں کے لئے خدائی نظام کا درجہ رکھتے تھے.

سرمایہ دارانہ نظام!
ایک ایسا نظام جس میں سرمایہ دار /تاجر کو مکمل کھلی چھوٹ ملتی ہے . معاشی اکائیاں قدرتی قانون رسد و طلب کی بنیاد پر حل کی جاتی ہیں . اس کھلی چھوٹ نے وہ خرابیاں  پیدا کیں  کہ الأمان و الحفیظ. آخر کار نظریے میں ترمیم کرنی پڑی اور مخلوط معیشت Mixed Economy کی اصطلاح وجود میں لانی پڑی.

اشتراکیت!
ایک ایسا نظام جو بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں ظلم و ستم کے المناک واقعات کے ردعمل میں وجود پذیر ہوا. اس نظام کے تحت پیداواری وسائل میں شخصی آزادی کو بالکل سلب کردیا گیا. یعنی کوئی بھی شخص زمین، سرمایہ کا مالک نہیں بن سکتا. یہ چیزیں اجتماعی (حکومتی) ملکیت میں ہوں گی. سو سال بعد اس نظام کے علمبردار ملک کے صدر کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں”کاش اشتراکیت نظریے کا تجربہ روس جیسے عظیم ملک میں کرنے کی بجائے افریقہ کے کسی چھوٹے رقبے میں کر لیا گیا ہوتا، تاکہ اس کی تباہ کاریوں کو جاننے کے لئے 74 سال نہ لگتے”۔پریزیڈنٹ آف رشیا.نیوز ویک!

یہ الفاظ دنیا کے طاقت ور ترین شخص کے ہیں. اور اپنے ہی نظام کے بارے میں ہیں. جس کی بقاء کی جنگ ان کے پیش روؤں نے پورے سو سال لڑی تھی. آخر انسانی نظام کی خامیوں کو مانتے ہی بنی!زندگی کے ایسے موڑ پر شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کوئی تو ایسا دماغ ہونا چاہیے جو انسان کی رہنمائی کرے ،اسے بار بار ایسے طویل المدتی منصوبے پیش کرنے کی کوفت سے روکنے کا باعث بنے جن پر سو سو سال صرف تجربات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں.ایک ایسا دماغ جس کے سوچنے کا مدار انسان کے مدار سے وسیع ہو جسے معاشی فیصلوں کے اثرات کا بخوبی علم ہو. جسے اچھے اور برے میں تمیز کا علم ہو. وہ حضرت انسان سے مخلص بھی ہو.

ایسا دماغ خدا کی ذات ہی ہوسکتی ہے جس میں تمام صفات بدرجہ اتم موجود ہیں اور وہ اس لائق بھی ہے کہ اس پر اعتماد بھی کیا جاسکے.خدا ہی وہ ہستی  ہے اور اس تک پہنچنے کا ذریعہ اس کے پیغمبر ہیں. مسلمان ہونے کے ناطے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دربار اقدس سے ہی احکامات لینے کے مکلف ہیں. تو معاشی مسئلے کے حل کے لئے اسلامی نقطہ نظر کو جاننا اور سمجھنا ہی ہمارے مذکورہ بالا معیار کے متقاضی ہے.اسلامی نظام معیشت کے عنوان کو لے کر وحی، ارشادات نبوی کو کھنگالنے  سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے کوئی لگا بندھا ایسا معاشی نظام پیش نہیں کیا جس پرباقاعدہ عنوان کے ساتھ بحث موجود ہو. ایسا نظام جس کو عصر حاضر کے معاشی اصطلاحات میں تعبیر کیا گیا ہو.

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے.اسلام کا مزاج مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق احکام بیان کرنا ہے. انسانی معاشی زندگی سے متعلق احکام وحی اور احادیث میں ہمیں ملتے ہیں. جن کی روشنی سے ہم جدید معاشی اصطلاحات کو حل کرسکتے ہیں. اور ایک ایسا معاشی تصور پیش کیا جا سکتا ہے جس میں خدائی تعلیمات کی مدد لی گئی ہو. جس کے منفی اثرات سے انسان محفوظ رہے.اسلامی احکام کی رو سے مستنبط نظام اس قدر سادہ ہے کہ اس کا عملی نفاذ اتنا ہی آسان ہے جتنا کسی نظام کو معروضی طور پر سمجھنا.

1۔”اسلام نے معاشی سرگرمیوں پر حلال و حرام کی کچھ ایسی ابدی پابندیاں عائد کی ہیں جو ہر زمانے میں اور ہر جگہ نافذ العمل ہیں. مثلا سود، قمار، اکتناز، سٹہ، ذخیرہ اندوزی اور دوسری تمام بیوع باطلہ کو مکمل طور پر ناجائز قرار دیا ہے. کیونکہ یہ چیزیں عموماً اجارہ داریوں کے قیام کا ذریعہ بنتی ہیں. اسی طرح ان تمام چیزوں کی پیداوار اور خرید و فروخت کو حرام قرار دیا جن سے معاشرہ کسی بد اخلاقی کا شکار ہو. اور جس میں لوگوں کے سفلی جذبات بھڑکا کر ناجائز طریقے سے آمدنی کے ذرائع پیدا کیے جاسکیں”

2۔ان ابدی نوعیت سے ہٹ کر مباحات کے دائرے میں پابندیوں کا اختیار حکومت وقت کو دیا گیا ہے کہ وہ اجتماعی مصلحتوں کے پیش نظر کچھ روک لگا سکتی ہے.

3۔اسلام نے انفرادی طور پر جنم لینے والی خرابیوں کی  روک تھام کے لئے مادی فوائد کے منتہائے مقصود ہونے کی دل شکنی کی ہے. انسان کے معاشی فیصلے کی بنیاد تجوری بھرنے والے عمل نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کون سے عمل سے میں لوگوں کو فائدہ دے سکتا ہوں کون سے عمل کو بنیاد بنانے سے آخرت میں فائدہ ہوسکتا ہے.انفرادی پابندیوں کو اخلاقی پابندیوں سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے.ان سب کے باوجود اسلام نے زکوٰۃ واجبہ، صدقات، کسی کفارے کی صورت میں مالی جرمانے وغیرہ کا ایسا نظام بنایا ہے. جس کے ہوتے ہوئے دولت کا ارتکاز ممکن نہیں رہتا.

اسلام سے مستنبط معاشی فلسفے کا خلاصہ یہ ہوا۔۔
1۔مستقل پابندیاں. سود وغیرہ
2۔عارضی پابندیاں جو ریاستی صوابدید پر عوامی مصالح کی شرط پر. اس کا دائرہ محدود ہے یعنی مباحات۔
3۔اخلاقی پابندیاں

دولت کے نچلے درجے میں منتقلی کا نظام. تاکہ دولت چند گھروں کی لونڈی بن کر نا رہے.اس کے علاوہ تاجر آزاد ہے جو  اپنی تجارت میں صنعت میں ہے.الغرض یہ نظام سادہ، قابل قبول اور فطری اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے.

نوٹ.اس مضمون کی تیاری میں معیشت سے متعلق کتب اور اسلامی معیشت سے متعلق اسلام اور جدید معیشت سے استفادہ کیا گیا ہے.

ثناءاللہ
ثناءاللہ
چترال، خیبر پختون خواہ سے تعلق ہے... پڑھنے اور لکھنے کا شوق ہے... کچھ نیا سیکھنے کی جستجو...

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *