• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بچوں کا جنسی استحصال یا چائلڈ سیکس ابیوز۔۔۔۔توقیر یونس بُھملہ

بچوں کا جنسی استحصال یا چائلڈ سیکس ابیوز۔۔۔۔توقیر یونس بُھملہ

.بچوں کا جنسی استحصال کیا ہے، ایسے تمام بچے یا بچیاں جن کی عمریں 3 سال سے 13 سال کے درمیان ہوں اور انکے ساتھ اپنی عمر سے بڑے افراد یا بالغ افراد جسم کے حصوں کو مخصوص انداز سے چھونے، بوسہ لینے یا پھر زبردستی جسمانی تعلق قائم کریں جو تشدد کے ساتھ ہو یا بغیر تشدد کے ہو، بچوں کا جنسی استحصال کہلاتا ہے، زمانہ قدیم سے یہ مکروہ فعل معاشرے میں موجود ہے، مذہبی و قانونی اور سماجی حوالوں سے اسکی ممانعت، سزا و جزا اور مذمت کے باوجود آج بھی آپ اپنے ارد گرد گلی محلوں، مدرسوں، یتیم خانوں، ہاسٹلز، گرجا گھروں، مہاجرین کے کیمپوں حتی کہ رفاعی و فلاحی اداروں میں ملک کے اندر اور بیرونی دنیا میں یہ مکروہ فعل کے بارے میں سنتے ہیں،۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ایک جنسی نفسیاتی بیماری ہے جو انسان کو حیوان بناکر مکروہ فعل کے ذریعے جنسی تسکین کا باعث بنتی ہے، ملک عزیز میں پچھلے سات سالوں کے دوران کم و بیش 20،000 بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات ہوئے یعنی آپ اسکی اوسط نکالیں تو ہر روز تقریباً 8 یا 9  کیس  بنتے ہیں، پچھلے دنوں پنجاب اسمبلی میں ایک خاتون ممبر کی طرف سے قرارداد پیش کی گئی جس میں اس جرم پر نئے سخت قانون لگانے کی سفارش کی گئی لیکن اسمبلی کی کمیٹی نے قرار داد یہ کہہ کر نامنظور کردی کہ قوانین پہلے سے موجود ہیں لیکن مؤثر نہیں ہیں، شاید آپ میں سے کچھ لوگوں کے اذہان میں یہ بات تازہ ہو کہ ایک جاوید نامی شخص جو سو بچوں کا قاتل تھا وہ اسی مکروہ دھندے میں ملوث تھا، پھر قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور زینب کے واقعہ نے وقتی طور پر بے حس معاشرے کو ایک حد تک جھنجھوڑا، احتجاج، ایکشن اور سزاؤں کے ساتھ ساتھ نہ جانے کتنے مطالبے سامنے آئے لیکن اس کے بعد کیا ہوا آپ سب کے سامنے ہے، اس میں کون ملوث ہوتا ہے اور کیسے یہ کام ہوتا ہے اس میں دو طریقے ہیں ایک تو باقاعدہ گروہ بنے ہیں جو اکیلے معصوم بچوں کا شکار کرتے ہیں ،جنسی استحصال کرتے ہیں اور پھر مکروہ فعل کی فلم بندی کے بعد اسکو ملک کے اندر اور باہر مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ یہ ایک باقاعدہ انڈسٹری کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس میں بڑے بااثر افراد کے ملوث ہونے اور انکی سرپرستی حاصل ہونے کا امکان اور الزام ہے، گروہوں کے بعد یہی کام انفرادی طور پر بھی لوگ کرتے ہیں اس میں زیادہ تر بچوں کے شناسا لوگ شامل ہوتے ہیں جیسا کہ رشتے دار، اساتذہ، ٹیوٹر، دوکاندار، ڈرائیور، باورچی اور دوسرے پیشہ ور افراد جن کا آپ کے بچوں سے براہ راست یا بالواسطہ میل جول ہو جن پر بچوں کو تھوڑا بہت اعتبار اور شناسائی ہوتی ہے اور وہ لوگ اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے بچوں کو باقاعدہ طور پر اپنی طرف مائل کرتے ہیں جیسا کینڈی یا چاکلیٹ دینا یا کچھ پیسے دینا یا کوئی کھلونا لیکر دینا اس کام کو جس میں مجرم بچوں کے نزدیک ہونے اور انکو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسکو “گرومنگ” “Grooming ” کہتے ہیں۔

گرومنگ ان بچوں پر کرتے ہیں جو الگ تھلگ رہنا یا خاموش طبعیت والے بچے, معذور اور غریب گھروں کے  بچے، طلاق والے گھروں کے بچوں یا وہ بچے جو نوکروں اور آیاؤں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں ان بچوں کے اندر ایک احساس محرومی یا پیار کی کمی ہوتی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ انکا جنسی استحصال کرتے ہیں تاکہ یہ بچے زیادتی کے بعد شور نہ مچا سکیں یا اپنے گھر والوں کو اس سے آگاہ نہ کرسکیں یہ بچے انکا آسان ہدف ہوتے ہیں اور بچوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ انکے ساتھ کونسا جرم یا زیادتی کردی گئی ہے جس کا ان پر جسمانی اور نفسیاتی اثر وقت کے بعد ظاہر ہوگا، بچے، والدین، ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہیں انکی حفاظت، دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت ان تینوں عناصر پر فرض ہے لیکن جنسی استحصال میں ریاست اور معاشرے کے اس میں سب سے زیادہ قصور وار طبقہ والدین اور گھر والے ہیں، ہمارے معاشرے میں زنا، جنسی زیادتی کرنا تو آسان ہے لیکن اسکی تعلیم دینا اسکے بارے میں آگاہی اور روک تھام کے اقدامات کرنا انتہائی مشکل، لوگ شرم محسوس کرتے ہیں اپنے بچوں کو اعتماد اور آگاہی نہیں دیتے جس سے بچے کے اندر مدافعت یا شکایت کا عنصر باقی نہیں رہتا، اگر کہا جائے کہ اس میں معاشرے کو تعلیم دینے اور سخت قوانین کی ضرورت ہے تو کسی حد تک یہ بات درست ہے لیکن یہ سو فیصد کامیاب فارمولا نہیں کیونکہ پچھلے دنوں ملک اور بیرونی دنیا میں یونیورسٹی کا پروفیسر ڈاکٹر، پادری، کھلاڑیوں کے کوچ، انٹرویوز لینے والے ڈرامہ یا فلم میں آڈیشن لینے والے اور کچھ مذہبی تعلیم دینے والے ملوث پائے گئے ۔

امریکی عدالت نے ایک پروفیسر کو 175 سال اسی کیس میں سزا سنائی، شامی مہاجر بچوں کے ساتھ دنیا میں کیا ہوا وہ پہلے سے جنگ زدہ تھے اور  قسمت کے ماروں کے ساتھ کیمپوں میں جنسی زیادتی کی گئی، یعنی اسکو روکنے کا طریقہ میرے نزدیک اپنے بچوں کو اس کے بارے میں مکمل بغیر کسی شرم کے آگاہی دینا، انکو سیلف ڈیفینس سکھانا، یہ عمل کیسے اور کن مراحل میں ہوتا ہے اس پر والدین کو خود تعلیم لینے اور پھر بچوں کو سکھانے کی ضرورت ہے، پچھلے دنوں بھارتی ٹی وی پر عامر خان اداکار کا ایک پروگرام بھی چلتا رہا ہے جس میں وہ بچوں کو سکھاتا تھا کہ جسم کے ان حصوں کو والدین اور بہن بھائیوں کے علاوہ کوئی ا س طرح چھوئے تو کیا کرنا ہے اور چیخنا چلانا کتنے زور سے ہے مجرم کو کہاں کہاں چوٹ پہنچانے سے وہ رک سکتا ہے یعنی ہر طرح سے بچوں کو تعلیم یافتہ کریں، انکی شکایت کو سنیں، انکے رویوں میں تبدیلی اور چڑچڑا پن کو محسوس کریں انکے کھانا کھانے سے انکار اسکول یا مدرسہ جانے سے خوف کی وجوہات کو تلاش کریں انکو اعتماد دیں تاکہ وہ آپ کے ساتھ اپنے مسائل شئیر کرسکیں، مائیں بچوں کو نہلانے اور کپڑے بدلنے کے دوران انکے جسموں میں مار پیٹ، ناخنوں یا زخم کے نشانات کو سنجیدگی سے لیں، بچوں کے جسم کے پرائیویٹ حصوں میں درد تکلیف، سوجن، بچوں کی چال ڈھال میں تبدیلی بیٹھنے لیٹنے میں مشکلات کو قطعاً نظر انداز نہ کریں۔

پچھلے دنوں برطانیہ کا وزیر داخلہ پاکستان آیا تھا اس شخص نے برطانیہ میں گوگل والوں کو کہا تھا کہ وہ انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت کا ایسا ٹول متعارف کروائیں جو بچوں کی جنسی تشدد والی تصاویر اور ویڈیو کو ڈٹیکٹ کرے اس کو روکے اور اس کے پیچھے افراد یا گروہوں کی نشاندہی کرے جس کے بعد گوگل نے ایک ٹول متعارف کروایا، ہم سب کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو آگاہ کریں کہ جنسی مواد کو پڑھنا یا اسکے متعلق وڈیوز دیکھنا، ایسی ویڈیو گیمز یا کہانیاں جس میں بچے ہیرو ہیرؤن بن جاتے ہیں یا کوئی بھی ایسا کام جس سے اس میں ترغیب ملے اور طبیعت میں جنسی ہیجان پیدا ہو جس سے بچہ فاعل یا مفعول بننے کی کوشش کرتا ہے یا بنا دیا جاتا ہے، بچوں کو مہمانوں کی گود میں بٹھانا، غیر متعلقہ افراد کا اکثر والدین کے سامنے بچوں کا بوسہ لینا یا جسم پر ہاتھ پھیرنے سے بچے اسکو پیار کا اظہار سمجھتے ہیں جس کے بعد وہ زیادتی کے دوران اس عمل میں تفریق یا مزاحمت کرنے کے قابل نہیں رہتے، ہر بچہ دنیا میں بسنے والے تمام بچوں سے مختلف ہوتا ہے اور ہر بچہ ایک مختلف طریقے سے پروان چڑھتا ہے جس میں مختلف مراحل آتے ہیں ابتدائی مراحل کے دوران تو بچوں کو جنسی استحصال کے متعلق آگاہی دنیا بہت مشکل ہوتا ہے وہ بڑی بڑی چیزیں آسانی سے نہیں سمجھ سکتے یہ آپ نے طے کرنا ہے کہ کس طرح اور کس وقت انکو آگاہ کرنا اور بچانا ہے، بچوں کو کس طرح سمجھانا ہے کہ پرائیویٹ حصے کونسے ہیں انکا مقصد کیا ہے یہ کیوں دوسروں سے چھپانے ہیں عزت اور شرم و حیا کیا ہوتا ہے۔اسکو کس طرح محفوظ رکھنا ہے نا صرف اپنی حفاظت بلکہ آس پاس والے بچوں کو بچانے میں معاون و مددگار بننا ہے، بچوں کے بعد اس قبیح فعل میں ملوث بالغ افراد کی سزا و جزا کے ساتھ ساتھ انکی اصلاح بے حد ضروری ہے، صرف جنسی استحصال کی روک تھام اور اصلاح کیلئے حکومت کو کمیونٹی مراکز کی طرز پر فلاحی ادارے بنانے کی اشد ضرورت ہے، نفرت جرم سے کریں ناکہ مجرم سے، مظلوم کی مدد کے ساتھ دین ظالم کی مدد کرنے کا کہتا ہے اور ظالم کی مدد اسکی اصلاح ہے(کالم لکھنے کے دوران چند ویب سائٹ سے معلومات بھی اخذ کی گئی ہیں)

توقیر یونس بھملہ
توقیر یونس بھملہ
"جب خلقت کے پاس آؤ تو زبان کی نگہداشت کرو"

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *