مستقبل کی انجینئرنگ؟ (39)۔۔وہاراامباکر

پچھلی کئی دہائیوں سے نیوروسائنس کا ایندھن انجنیئرنگ سے آنے والی کنٹریبیوشن ہے۔ اوسلوسکوپ، ایم آر آئی مشینیں، الیکٹروڈ جیسے آلات ہیں۔ اب ہم اس وقت میں داخل ہو رہے ہیں جہاں پر یہ تعلق الٹ سکتا ہے۔ انجنیئرنگ نے بائیولوجی کو گہرائی میں سمجھایا ہے اور اب بائیولوجی سے انجنیئرنگ کو سیکھنا ممکن ہو رہا ہے۔

موجودہ انجینئرنگ امیر ترین اداروں کے صاف ترین کمروں میں ہوتی ہے لیکن یہ اپنی باریکی اور نفاست میں کسی لحاظ سے قدرت کی انجینئرنگ کے قریب بھی نہیں۔ متحرک مخلوقات جو کتوں سے ڈولفن، پانڈا سے پینگولن، بندر سے چھپکلی، جھینگر سے فاختہ تک ہیں۔ ان مخلوقات کو کسی ساکٹ میں پلگ سے لگانے کی ضرورت نہیں۔ یہ اپنی توانائی کا خود بندوبست کر لیتی ہیں۔ دوڑتی، اچھلتی، تیرتی، چڑھتی، رینگتی اور اُڑتی مخلوقات جو کچھ مشق سے سکیٹ بورڈ اور سرفنگ بھی کر سکتی ہیں۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوا کہ قدرت مسلسل جینز کے ساتھ کھیل کر نئی سینسر بناتی رہی ہے، پٹھے اور دماغ بناتی رہی ہے۔ یہ مخلوقات نقصان برداشت کر سکتی ہیں، خواہ وہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ ہو یا نصف دماغ کی عدم موجودگی۔ مصنوعی آلات میں نہ ہی وہ لچک ہے اور نہ ہی وہ سخت جانی، جو بائیولوجی کا خاصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے ابھی تک ایسے آلات کیوں نہیں بنائے؟ قدرت کے پاس اربوں سال تھے اور اکٹھے کئے جانے والے کھربوں تجربات۔ ان تجربات نے مادے سے کھیل کر ارب ہا ارب بائیولوجیکل شاہکار بنائے ہیں۔ قدرت کے اپنے لچکدار ڈیزائن کے کامیاب طریقے کا کامیاب ترین شاہکار وہ مخلوق ہے جو خود مادے سے کھیل سکتی ہے۔ اس مہارت میں چیمپئن انسانی ذہن قدرت کی نفیس ترین ٹرِک ہے۔ لیکن ہمیں ابھی اچھی مہارت حاصل کرنے میں خاصا وقت لگے گا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہم پیشرفت کر رہے ہیں۔ اپنی دنیا کے کوڈ کو توڑ رہے ہیں۔

tripako tours pakistan

ہم بہتر مشینیں کیسے بنائیں؟ آسان جواب نقل کرنا ہے۔ اس کی مثال: میکسکن ٹیٹرا غار کی ایک اندھی مچھلی ہے۔ اس کا جسم پریشر اور فلو کے سینسرز سے ڈھکا ہوا ہے جس کی مدد سے یہ گھپ اندھیرے میں پانی کے سٹرکچرز کو محسوس کرتی ہے۔ اس سے راہنمائی لیتے ہوئے سنگاپور کی انجینیرز نے آبدوز کے لئے سینسر بنائے۔ آبدوز میں روشنی توانائی خرچ کرتی ہے اور زیرِ سمندر ایکوسسٹم کے لئے اچھی نہیں۔ چھوٹے اور کم توانائی کے ان سینسرز کی مدد سے توقع ہے کہ اس مچھلی کی طرح پانی کی حرکت سے گھپ اندھیرے پانی میں “دیکھا” جا سکے گا۔

بائیولوجی کی راہنمائی سے ہم نے کئی قسم کی چیزیں سیکھی ہیں لیکن بڑا چیلنج نروس سسٹم کی طرف کا ڈیزائن ہے جو پلگ اینڈ پلے آلات کو استعمال کر سکے۔ اس کی مثال انٹرنیشنل سپیس سٹیشن ہے۔ یہ عالمی تعاون سے بنا ہے لیکن عالمی تعاون کی وجہ سے اس کی ایک بڑی انجینئرنگ پرابلم ہے۔ روسی ایک ماڈیول بناتے ہیں۔ چینی ایک اور۔ مختلف ممالک کے سینسرز کی تال میل کا مسئلہ اس کو مسلسل رہتا ہے۔ اس مسئلے کو بار بار حل کرنا ہوتا ہے۔

سائنس کیا ہے؟ ایک گھڑی میں سارا جہاں۔۔سید عبدالوہاب شیرازی
بائیولوجیکل مشینیں اس چیلنج کا حل موٹر ایکشن اور اس پر فیڈبیک کے لوپ سے نکالتی ہیں۔ سیلف کنفیگریشن کا طریقہ خلائی سپیس سٹیشن پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور مثال FPGA کی ہے جو ایک مائیکروچپ ہے اس میں صفر اور ایک روشنی کی رفتار کے قریب گھومتے پھرتے ہیں۔ اگر ان کی ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا لاجیکل آپریشن خراب ہو جائے گا۔ مائیکروچپ کی ٹائمنگ ایک پورا الگ شعبہ ہے جس پر ضخیم کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔

بائیولوجسٹ کے عدسے سے اس مسئلے کا آسان حل ہے۔ ٹائمنگ ان کے لئے بھی مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر: جب روشنی سے تاریکی میں جائیں تو دماغ اور آنکھ کے سگنل کی رفتار میں سو ملی سیکنڈ کا فرق آتا ہے۔ ہاتھ پاوٗں سے گرمی میں سگنل سردی کے مقابلے میں تیز رفتار سے جاتے ہیں۔ جب ہم بچپن سے بڑے ہوتے ہیں تو جسم کی لمبائی تبدیل ہونے کا مطلب سگنل پہنچنے میں وقت کی تبدیلی ہے۔

دماغ ان مسائل کو کیسے حل کرتا ہے؟ ٹائمنگ ویری فیکیشن پر ضخیم کتاب پڑھ کر نہیں۔ یہ دنیا میں مِشن بھیجتا ہے۔ چیزوں کو ٹھوکر مارنا، چھونا، کھٹکھٹانا۔ یہ فرض کرتا ہے کہ اگر آپ نے ایکشن تخلیق کیا تو ٹائمنگ کی واپس ملنے والے انفارمیشن کا وقت سنکرونائز کر دے گا۔ شعور دیکھنے، سننے اور محسوس کرنے کی ایڈجسٹ منٹ جاری رکھے گا۔ آخر کار مستقبل کی پیشگوئی کا بہترین طریقہ اس کو تخلیق کرنا ہی تو ہے۔ ہر بار جب دماغ دنیا کے ساتھ معاملہ کرتا ہے تو یہ ساتھ ہی ہر حس کو صاف پیغام بھی بھجواتا ہے کہ اپنی گھڑی درست کر لے۔

مائیکروچپ ٹائمنگ پرابلم کا نیوروسائنس سے انسپائر ہونے والا حل چپ سے باقاعدگی سے خود کو ایسے ہی مِشن بھیج کر کیا جا سکتا ہے۔ توقع اور اصل کے درمیان فرق کے ذریعے خود کو ایڈجسٹ کرنا سیکھ سکتا ہے اور ان ضخیم کتابوں کی ضرورت ختم کر سکتا ہے۔
سپیس ایکس۔۔دانش بیگ
جس طرح ہم دماغ کے فنکشن پر روشنی ڈالتے جائیں گے۔ یہ فنکشن ہماری تخلیقات کو بھی روشن کرتے جائیں گی۔ مصنوعی ذہانت اور آرکیٹکچر، مائیکروچپ اور گاڑیاں ۔۔۔ کچرے کے ڈھیر میں اپنے نازک آلات پھینکنے کی ضرورت کم ہوتی جائے گی۔ خود کو ترتیب دینے والے آلات بائیولوجیکل اور مینوفیکچرنگ دنیا میں داخل ہوتی جائیں گی۔

شاید، ہماری دور پرے کی اگلی نسلیں جب صنعتی انقلاب کی تاریخ پڑھیں تو حیران ہوں کہ ہمیں اتنی زیادہ دیر کیوں لگی کہ ہم قدرت کی اربوں سال پرانی بائیولوجیکل ٹیکنالوجی سے سبق حاصل کریں اور اس بائیولوجیکل انقلاب کو نقل کریں جو ہمارے ہر طرف پایا جاتا ہے۔
جب ایک نوجوان آپ سے پوچھے کہ ہماری ٹیکنالوجی آنے والے صدیوں میں کس سمت جا سکتی ہے تو آپ جواب دے سکتے ہیں کہ اس کا جواب آپ کی آنکھ کے عین پیچھے ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *