اکمل، کامل، مکمل، کمال اور ادھورے۔۔۔ قمر نقیب خان

 اکمل انسان تو ایک ہی ہے جس کا نام نامی اسمِ گرامی محمدِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے. آپ  نے اخلاق و کردار اکمل کر دیا،آپ نے دین اکمل کر دیا، دنیا اکمل کر دی، آپ اشرف المخلوقات ہیں آپ جیسا نہ پہلے کوئی تھا نہ بعد میں کوئی ہو سکتا ہے. جنھیں دیکھ کر حسان نے کہا تھا: واحسن منک لم ترقط عینی ِِ واجمل منک لم تلد النساءِِ خلقت مبرءاََ من کل عیب کاَنک قد خلقت کما تشاءِِ ۔۔

اس اکمل نے بھی زندگی کے تریسٹھ سال گزارے، اپنا مشن بھی اکمل کیا اور اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔۔پھر کاملین کا دور تھا وہ خلفائے راشدین تھے، عشرہ مبشرہ تھے، بدری تھے، بیعت رضوان والے تھے، فاتحین مکہ تھے. انہوں نے دین اسلام کی بنیادوں کو اپنے خون سے سینچا، رسول اللہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے، جان و مال، عزت و آبرو سب کچھ محمد ؐکے نام پر لُٹا دیا اور جنت خرید لی۔

پھر مکمل لوگوں کا زمانہ آیا، وہ تابعین تھے، محافظِ دین تھے، حُفاظِ حدیث تھے، علم پر حریص تھے. انہوں نے دین اسلام کی مشعل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھوں سے لی اور دنیا کے ہر کونے میں روشنی پھیلا دی.. پھر کمال لوگوں کا زمانہ آیا، وہ تبع تابعین تھے، انہوں نے ایک ایک حدیث ، ایک ایک مسئلہ لکھ کر رکھ دیا، صحیح غلط پرکھنے کے اصول بنائے، وضاعینِ حدیث کے سامنے ایسا بند باندھا کہ اگلے ہزاروں سال تک اسے کوئی توڑ نہیں سکتا. پھر آہستہ آہستہ تنزل شروع ہوا، عمل والے چلے گئے، محض علم والے رہ گئے۔

پھر علم بھی اٹھنا شروع ہوا اور ایک ایک کر کے علم والے بھی چلے گئے ۔۔آج نہ عمل والے ہیں نہ علم والے ہیں، یہ ادھوروں کا زمانہ ہے. مجھ جیسے نامی مسلمان بچے ہیں جن کا صرف نام مسلمانوں والا ہے.. میں جو کچھ کہتا ہوں پہلے کہا جا چکا ہے، آپ جو سنتے ہیں پہلے سنا جا چکا ہے. تمام اچھی باتیں کہی جا چکیں، لکھی جا چکیں. ہم سب، چبائی ہوئی، سنی سنائی چغلی چغلائی باتیں کر رہے ہیں۔۔ سن رہے ہیں، بس عمل کرنا باقی ہے۔۔  میں گناہ گار ہوں، مجھ میں غلطیاں ہیں اور میں ناقابلِ اصلاح بھی ہوں، سو مجھے چھوڑئیے ،اپنے آپ کو ٹھیک کیجئے، اپنی سیٹ بیلٹ اور آکسیجن ماسک لگائیے کہ یہ جہاز کچھ ہی دیر میں کریش ہونے والا ہے… وما علینا الا البلاغ

 

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *