• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا ٹرمپ آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی پوزیشن میں گھِر چکے ہیں؟(حصّہ اوّل)۔۔ غیور شاہ ترمذی

کیا ٹرمپ آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی پوزیشن میں گھِر چکے ہیں؟(حصّہ اوّل)۔۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING

اگلے 4 برسوں کے لئے امریکہ کی صدارت کے لئے ہونے والے 3 نومبر کے انتخابات میں حتمی نتائج کے اعلانات میں ہونے والی دیر اب جمعرات 12 نومبر تک پہنچ جانے کے امکانات ہیں کیونکہ اُس دن تک 15 الیکٹورل ووٹ رکھنے والی شمالی کیرولینا میں ڈاک کے ذریعہ ووٹ بھجوانے کی آخری تاریخ مقرر ہے۔ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ 63٪ سے زیادہ ڈیموکریٹک یعنی جو بائیڈن کے ووٹروں نے ڈاک کے ذریعہ ووٹ ڈالنے کا اختیار استعمال کیا ہے جبکہ ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے پولنگ سٹیشنوں پر جا کر ووٹ ڈالنے کو ترجیح دی ہے۔ اس ریاست میں پولنگ سٹیشنوں پر ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی کے حساب سے اب تک ٹرمپ 2،732،084 ووٹ لے کر اپنے حریف بائیڈن 2،655،383 ووٹ سے 77 ہزار سے کم ووٹوں کی سبقت لئے ہوئے ہیں جبکہ ڈاک کے ذریعہ شمالی کیرولینا کے 4 لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے ووٹ آنے ابھی باقی ہیں۔ صرف شمالی کیرولینا ہی نہیں بلکہ نیواڈا اور الاسکا میں ڈاک کے ذریعہ ووٹ پہنچنے کی حتمی تاریخ منگل 10 نومبر اور پینسلوینیا میں جمعہ 6 نومبر تک ہے۔ ان تمام ریاستوں میں ٹرمپ کو فی الحال اپنے حریف پر برتری حاصل ہے جو فیصلہ کن نہیں اور ڈاک کے ذریعہ ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی کے بعد بائیڈن کے حق میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ریاست پینسلوینیا (20 الیکٹورل ووٹوں) میں ٹرمپ 3،281،842 ووٹ لے کر اپنے حریف بائیڈن کے 3،255،710 ووٹوں سے صرف 26 ہزار سے کم ووٹوں کی برتری لئے ہوئے ہیں۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں ٹرمپ کی 3 نومبر کو برتری 5 لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی تھی مگر جیسے جیسے ڈاک کے ذریعہ ووٹ اس گنتی میں شامل ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے ہی ٹرمپ کی یہ برتری کم ہوتی جا رہی ہے اور اب یہ سکڑ کر صرف 26 ہزار کے نزدیک ہی محدود ہو چکی ہے۔ دوسری طرف نیواڈا (6 الیکٹورل ووٹ) میں بائیڈن 604،251 ووٹ لے کر اپنے حریف ٹرمپ سے صرف 12 ہزار ووٹوں کی سبقت لئے ہوئے ہیں لیکن ڈاک کے ذریعہ پہنچنے والے ووٹوں کے بعد یہ سبقت بڑھتے چلے جانے کے واضح امکانات ہیں۔

(مکالمہ کے قارئین کے لئے خصوصی طور پر تیار کئے ہوئے ان چارٹس کے عکوس کی مدد سے تمام ریاستوں کے نتائج سمیت، ٹرمپ اور بائیڈن کے جیتے ہوئے الیکٹورل ووٹوں کی تفصیلات اور جن ریاستوں میں ابھی نتائج نہیں آئے، اُن کی تفصیلات بھی واضح کی گئی ہیں)-

biden
Overall 1
Overall 2
Overall 3
Swinging
Trump

امریکی میڈیا کی طرف سے رپورٹ کردہ الیکشن کمیشن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق بائیڈن 7 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر 264 الیکٹورل ووٹ اور ٹرمپ 6 کروڑ 97 لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر 214 الیکٹورل ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ جبکہ جیتنے والے امیدوار کو اگلا امریکی صدر بننے کے لئے صرف 270 الیکٹورل ووٹوں کی ہی ضرورت ہے۔ اس صورتحال میں اگر آج بروز جمعہ ٹرمپ کو پنسلوینیا سے کامیابی مل بھی جاتی ہے تو منگل 10 نومبر تک بائیڈن کو نیواڈا میں ڈاک کے ذریعہ بھیجے جانے والے ووٹوں کی گنتی کے بعد 6 الیکٹورل ووٹ مزید مل جائیں تو وہ 270 الیکٹورل ووٹ لے کر اگلے امریکی صدر منتخب ہو جائیں گے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے ٹرمپ نے پنسلوینیا، وسکونسن، جارجیا اور مشی گن میں ووٹنگ کے دوران بے ضابطگیوں اور ڈاک کے ذریعہ ووٹنگ میں حصہ لینے والوں کی طرف سے پوسٹل بیلٹ کو روانہ کئے جانے اور الیکشن کمیشن کے مقرر کئے ہوئے مراکز میں انہیں موصول کرنے کی حتمی تاریخوں تک ان ووٹوں پر گواہوں کے دستخط جیسے الزامات کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے علاوہ 50 امریکی ریاستوں میں سے 44 امریکی ریاستوں میں منگل 3 نومبر کو پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی پوسٹل بیلٹ کے حوالے سے 300 مقدمات دائر ہو چکے تھے اور جیسے جیسے ٹرمپ کی شکست واضح ہوتی جا رہی ہے، ویسے ویسے ہی ٹرمپ کی چیخ و پکار، واویلا اور مقدمات کےاندراج میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ ان مقدمات اور سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواستوں میں صدر ٹرمپ کی انتحابی مہم کا بغیر کسی ثبوت فراہم کئے ہوئے یہ دعویٰ ہے کہ فراڈ ہو رہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پینسلوینیا – 20 الیکٹورل ووٹ (یہاں ڈاک ووٹ شامل ہونے سے ٹرمپ ہار سکتے ہیں)، وسکونسن – 10 الیکٹورل ووٹ (بائیڈن کی تقریباً 21 ہزار ووٹوں سے جیت کا علان ہو چکا ہے)، جارجیا – 16 ایلکٹورل ووٹ (یہاں ڈاک ووٹ شامل ہونے سے ٹرمپ ہار سکتے ہیں) اور مشی گن – 16 الیکٹورل ووٹ (بائیڈن کی تقریباًٍ ایک لاکھ 44 ہزار ووٹوں سے جیت کا علان ہو چکا ہے) میں ووٹوں کی گنتی روک دی جائے۔ دوسری طرف جو بائیڈن کی ڈیموکریٹ پارٹی نے بھی عدالتوں میں کچھ انتخابی عذرداریاں ایسی ریاستوں میں جمع کروائی ہیں جہاں ری پبلیکن پارٹی کی حکومت ہے۔ ڈیموکریٹس کی طرف سے ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ ڈاک کے ذریعہ ووٹوں کو حتمی گنتی میں شامل نہ کرنے کے ری پبلکن حکومتوں کے فیصلہ کی وجہ سے لوگوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ان ریاستوں کی ری پبلکن حکومتوں کا کہنا تھا کہ ووٹوں میں ہیرا پھیری کو روکنے کے لئے ڈاک کے ذریعہ آنے والے ووٹوں پر کچھ پابندیاں عائد کرنا ضروری تھا- حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ری پبلکن حکومتوں نے اس “ہیرا پھیری” کے کوئی ثبوت کہیں بھی پیش نہیں کئے ہیں-

ریاست وسکونسن (10 الیکٹورل ووٹ) میں صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے ’بے ضابطگیوں‘ کے الزام میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے جہاں سے بائیڈن کی 21 ہزار ووٹوں کی سبقت سے جیت کا اعلان کیا گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کب شروع ہو گی۔ عام طور پر دوبارہ گنتی کا عمل اس وقت تک شروع نہیں ہوتا جب تک کاؤنٹی حکام ووٹوں کا جائزہ نہ لیں۔ عدالتی حکم کے تحت ریاست وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ڈیڈلائن 17 نومبر ہے۔ سنہ 2016ء میں بھی وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوئی تھی اور ٹرمپ کی حمایت میں تقریباً 100 ووٹوں کا فرق سامنے آیا تھا۔ دوبارہ گنتی کا مطالبہ ووٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ گنتی صحیح ہوئی ہے یا نہیں- وسکونسن کی طرح ریاست مشی گن (16 الیکٹورل ووٹ) میں بھی ٹرمپ کی ٹیم نے 4 نومبر کو ‘بے ضابطگیوں’ کے الزام کے تحت ووٹوں کی گنتی رکوانے کی درخواست کی ہے جبکہ یہاں کے الیکشن کے حکام 96 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل کر چکے تھے جس کے مطابق بائیڈن ایک لاکھ 44 ہزار ووٹوں کی سبقت سے جیت رہے تھے۔ یہ ریاست بائیڈن نے ٹرمپ سے واپس چھینی ہے جہاں سنہ 2016ء میں ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو 10 ہزار ووٹوں کی سبقت سے شکست دی تھی۔

ریاست پینسلوینیا (20 الیکٹورل ووٹ) میں ٹرمپ بظاہر 5 لاکھ ووٹوں سے جیت رہے تھے لیکن ڈاک والے ووٹ شامل ہوتے گئے اور ٹرمپ کی لیڈ سکڑ کر صرف 26 ہزار تک محدود رہ گئی اور ابھی 2 لاکھ کے نزدیک ڈاک کے ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔ ٹرمپ کی ٹیم نے ممکنہ شکست دیکھ کر عدالت کا راستہ اختیار کیا ہے اور ایسے پوسٹل بیلٹس کی گنتی پر اعتراض اٹھایا ہے جنہیں پولنگ کے دن ڈاک کے حوالے کیا گیا تھا اور وہ 3 دن بعد یعنی آج بروز جمعہ 6 نومبر تک انتخابی حکام کے پاس پہنچیں گے۔ امریکی سپریم کورٹ میں یہ معاملہ پہلے بھی زیر غور رہا ہے اور عدالت اس معاملے پر منقسم تھی۔ ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نئی جج جسٹس ایمی کونی باریٹ کی تعیناتی کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے اور اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ جو بیلٹ پولنگ کے روز ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ہیں اور وہ جمعہ 6 نومبر تک موصول نہیں ہوئے، انہیں گنتی میں شامل نہ کیا جائے۔ ری پبلکن حکومت کے اہلکاروں نے پولنگ کے روز سے ایک دن پہلے یعنی پیر 2 نومبر کو ووٹروں کو پیغامات بھیجے تھے کہ وہ اپنا پوسٹل بیلٹ ڈاک کے ذریعے بھیجنے کے بجائے پولنگ سٹیشن میں ڈالیں مگر ڈیمو کریٹس کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ ایسے ووٹوں کی تعداد بہت بڑی نہیں ہو گی اور اگر انہیں جمعرات 5 نومبر تک الیکشن کمیشن کو مل جانے والے ووٹ بھی گنتی میں شام کرنے کی عدالت کی طرف سے اجازت مل گئی تو ٹرمپ یہاں سے بھی ہار سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پینسلوینیا میں ایسے پوسٹل بیلٹوں کی گنتی علیحدہ سے ہو رہی ہے جو دیر سے موصول ہو رہے ہیں اور اگر جو بائیڈن کو یہاں سے جیتنا ہے تو ان ووٹوں کا گنتی میں شامل ہونا ضروری ہو گا۔ اگرچہ یہاں سے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اپنی کامیابی کا اعلان کر رہی ہے مگر ابھی تک لاکھوں ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے اور میڈیا کے کسی بھی ادارے نے ابھی تک پینسلوینیا میں کسی ایک امیدوار کو کامیاب قرار نہیں دیا ہے۔ پینسلوینیا کی طرح جارجیا میں بھی ری پبلکن پارٹی اور صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے چیٹھم کاؤنٹی کے علاقے میں ووٹوں کی گنتی کو رکوانے کے لئے قانونی کارروائی شروع کی جسے مسترد کر دیا گیا۔ اس درخواست میں جارجیا میں ری پبلکن پارٹی کے چیئرمین ڈیوڈ شیفرڈ نے یہ مضحکہ خیز الزام لگایا تھا کہ ان کے پارٹی نگرانوں نے ایک عورت کو 50 غیر حاضر ووٹوں کو گنے جانے والے ووٹوں کے ڈھیر میں شامل کرتے دیکھا ہے۔ جب ری پبلکن پارٹی سے پاکستانی اور انڈین سٹائل کی اس انتخابی بےایمانی کا ثبوت مانگا گیا تو وہ اسے فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ جس کے بعد انہیں جھوٹے الزامات لگانے پر تنبیہ کرتے ہوئے اس درخواست کو مسترد کیا گیا۔ یاد رہے کی جارجیا (16 الیکٹورل ووٹ) میں ٹرمپ کی سبقت صرف 1،902 ووٹوں کی ہے جبکہ ابھی تقریبا” ایک لاکھ ووٹوں کی گنتی ہونی باقی ہے۔ جیسے ہی دوبارہ گنتی کا عدالتی حکم یہاں موصول ہوا تو سمجھ لیجئے کہ ٹرمپ کی سانسیں زیروبم ہونا شروع ہو جائیں گی۔

عدالتوں میں دائر درخواستوں کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی عارضی طور پر رکوانے سے یہ اگلے امریکی صدر کے اعلان کا یہ معاملہ کچھ طوالت اختیار کر سکتا ہے۔ مگر چونکہ یہ صدارتی انتخاب ہے اس لئے اسے مکمل کرنے کے لئے کئی وفاقی اور آئینی ڈیڈلائنز موجود ہیں۔ پہلے مرحلہ کے طور پر تمام ریاستوں کے لئے لازم ہے کہ وہ پانچ ہفتوں میں واضح کریں کہ ان کی ریاست سے کون سا صدارتی امیدوار جیتا۔ ان پانچ ہفتوں کی میعاد 3 نومبر سے شروع ہوتی ہے اور 8 دسمبر کو ختم ہوتی ہے۔ اگر کوئی ریاست 8 دسمبر الیکٹورل ووٹ کا معاملہ نہیں سلجھا سکتی تو پھر کانگریس اس ریاست کے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کو حتمی گنتی سے خارج کر سکتی ہے۔ اس وقت تک جن ریاستوں میں الیکٹورل ووٹوں کا اعلان نہیں ہوا اُن میں الاسکا، جارجیا، نیواڈا، شمالی کیرولینا اور پینسلوینیا شامل ہیں- ان 5 ریاستوں سے 60 الیکٹورل ووٹوں کا فیصلہ ہو گا جبکہ مشی گن اور وسکونسن ایسی ریاستیں ہیں جہاں بائیڈن کی جیت کا اعلان ہو چکا ہے مگر ٹرمپ وہاں دوبارہ گنتی کی درخواست دئیے بیٹھے ہیں۔ ان 7 ریاستوں میں سے شمالی کیرولینا، پینسلوینیا، مشی گن اور وسکونسن نامی 4 ریاستوں میں مختلف حکومتیں موجود ہیں یعنی بائیڈن کی پارٹی ڈیموکریٹ کا گورنر اور ریاستی اسمبلی میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت۔ ایسی صورتحال میں ریاستی قانون ساز اسمبلی اپنے گورنر سے مختلف راستہ اختیار کرتے ہوئے امریکی کانگرس کو اپنی الگ الیکٹورل لسٹ بھی مہیا کر سکتی ہے اور امریکی تاریخ میں سنہ 1876ء میں ایسا ہو بھی چکا ہے۔ گورنر اور ریاستی اسمبلی کی طرف سے موصوم ہونے والی ان دونوں لسٹوں کے بعد پھر کانگریس فیصلہ کرے گی کہ اسے ریاستی اسمبلی یا گورنر کی الیکٹورل لسٹ میں سے کس کو صحیح ماننا ہے۔ اگر کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اتفاق ہو جاتا ہے تو جھگڑا ختم۔ لیکن اگر کانگریس بھی منقسم ہے تو پھر کیا ہوگا اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی ہے کیونکہ اس کے بارے میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ اس ضمن میں کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں وفاقی قانون گورنر کی الیکٹورل لسٹ کے حق میں ہے۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کیا ٹرمپ آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی پوزیشن میں گھِر چکے ہیں؟(حصّہ اوّل)۔۔ غیور شاہ ترمذی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *