کتھا چار جنموں کی۔۔ قسط 5۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں گورڈن کالج راولپنڈی میں منشی تلوک چند مرحوم سے ملنے کے لیے ایک مذہبی فریضے کی طرح جانے لگاَ میں ہر دوسرے تیسرے دن، اسی وقت جب وہ لان میں کرسی پر بیٹھے ہوئے اخبار پڑھ رہے ہوتے۔ مجھے سب کچھ یاد ہے کیونکہ واپس گھر آنے کے بعد میں اپنی کاپی میں اپنے تجربات لکھتا رہتا تھا۔ آج یہ ہوا، آج وہ ہوا۔ کس لڑکے سے اسکول میں کہا سنی ہوئی۔ کس ٹیچر نے کیا کہا۔ محروم صاحب کے ارشادات تو تبرک کی طرح تھے، اس لیے انہیں لکھنا ضروری تھا۔
کچھ دنوں کے بعد میں نے اپنی غزلوں کی کاپی سامنے کر دی۔ بولے، ’’پڑھ کر سناؤ۔ تم خوش خط ضرور ہو، لیکن میں پڑھوں گا نہیں۔‘‘
میں نے پہلے ایک غزل کے اور پھر ایک دوسری غزل کے کچھ اشعار سنائے۔
چپکے بیٹھے رہے، تو میں نے پوچھا، ’’سر، کیسے ہیں؟‘‘
بولے، ’’وزن میں بے شک موزوں ہیں، لیکن کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
پھر یکدم آرام کرسی پر اٹھ کر بیٹھ گئے۔ کوئی نظم بھی کبھی لکھی ہے؟‘‘
’’جی ہاں، ‘‘ میں نے کہا، ’’تین چار نظمیں لکھی ہیں، جن میں سے ایک کو پچھلے دنوں ایک جلسے میں بہت پسند کیا گیا تھا۔‘‘
بولے، ’’سناؤ!‘‘
میں نے جلدی جلدی میں کاپی کے ورق پلٹے، نظم سامنے آئی اور سنانے لگا، تو فرمایا، ’’کھڑے ہو کر سناؤ، جیسے جلسے میں یا مشاعرے میں سناتے ہیں۔‘‘
میں کھڑا ہو گیا۔ نظریں ان سے ملائیں تو بغور میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے ذرا بلند آواز میں کہا، ’’ایک رومانی نظم پیش کر رہا ہوں۔ عنوان ہے، ’’خواب اور زنجیر‘‘۔ اور پھر ان سے نظریں ملائے بغیر، سامنے ہوا میں دیکھتے ہوئے نظم پڑھنے لگا۔

وہ خوشگوار چاندنی راتیں کہاں سے لاؤں
جو بھولتی نہیں ہیں وہ باتیں کہاں سے لاؤں
اب کیا کروں وہ پہلے سے حالات ہی نہیں
وہ راہ و رسم ہی نہیں، وہ بات ہی نہیں
کس کے لیے اداس رہوں؟ چشم تر کروں
اب کس کے انتظار میں شب کو سحر کروں
میری اداسیوں کا سبب پوچھتا ہے کون
کس حال میں ہوں، کیسا ہوں، اب جانتا ہے کون
ہر آرزو کا ایک ہی مقسوم ہو گیا
کیا ہو چکا ہے، سب مجھے معلوم ہو گیا
ہر خواب کے نصیب میں تعبیر تو نہیں
کچھ بھی ہو میرے پاؤں میں زنجیر تو نہیں!
میں نے آخری دو مصرعے دو بار پڑھے۔ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے، مجھے گلے سے لگایا، میری پیشانی چومی۔ کئی بار چومی۔ پھر کہا، ’’بہت خوب نظم ہے۔ ’پوچھتا ‘ اور ’جانتا‘ کے قوافی کو درست کر لو۔ لیکن، عزیز من، یہ نظم کیا واقعی تم نے لکھی ہے؟‘‘
میں نے عرض کیا، ’’جی ہاں، میری ہی لکھی ہوئی ہے اور کئی جگہ سنا بھی چکا ہوں۔‘‘
بولے، ’’پندرہ سولہہ برس کی عمر میں یہ نظم ! آفرین ہے تم پر … سنو، ایک بات غور سے سنو۔ میں نے تمہاری غزلیں بھی تم سے سنی ہے اور آج یہ نظم بھی۔ تم غزل شزل مت لکھا کرو، اس صنف کو تلانجلی دے دو !‘‘ کچھ سوچ کر مسکرائے۔’’تلانجلی کا مطلب جانتے ہو نا؟ ….تمہاری طبیعت نظم کے لیے موزوں ہے۔ غزل میں تمہارے ذہن سے بھرتی کے ہی اشعار نکلیں گے … میری مانو، تو صرف نظم میں ہی طبع آزمائی کیا کرو … میں نے جگن کو بھی یہی رائے دی ہے، لیکن وہ اب بھی کبھی کبھار غزل لکھ لیتا ہے۔ ‘‘
ایک دن فرمانے لگے۔ ’’جانتے ہو، ٹامک ٹوئیں مارنا کیا ہوتا ہے؟‘‘
میں نے عرض کیا، ’’جی پڑھا تو ہے، لیکن مطلب نہیں جانتا۔ ٹامک ٹوئیاں شاید جووؤں کو کہتے ہوں گے۔‘‘
ہنسے، بولے، ’’اچھا یہ بتاؤ، جب کسی بوڑھی عورت کے بارے میں لکھا جاتا ہے کہ اس نے جھک کر بچے کی بلائیں لیں، تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟‘‘
میں نے فلموں میں اس منظر کو بارہا دیکھا تھا جس میں کوئی بزرگ عورت ( مرد نہیں!) جھک کر اپنے دونوں ہاتھوں کو خم دے کر کسی بچے کے سر اور کانوں کے پاس سے واپس اپنی طرف لاتی ہے۔ میں نے فوراً کہا، ’’بلائیں لینے کا مطلب چومنا ہوتا ہے، یعنی ہاتھوں سے، ہونٹوں سے نہیں۔‘‘
پھر ہنسے، ’’جیسے کہ میں فرض کر رہا تھا، ویسے ہی جواب دے رہے ہو۔ اچھا یہ بتاؤ، کیا کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ سب اصطلاحیں یا محاورے ہمارے پنجاب کے نہیں ہیں، اس لیے ہمیں سمجھ میں نہیں آتے ۔ تو کیا یہ اشد ضروری ہے کہ ہم انہیں سیکھیں؟ کیوں نہ اردو میں پنجاب کے محاوروں کو چلن دیں؟‘‘
میری کیا رائے ہو سکتی تھی۔ اس لیے میں خاموش رہا ۔ کچھ ثانیوں کے بعد میں نے عرض کیا، ’’بلائیں لینے کا کیا مطلب ہے، سر؟‘‘
اب سنجیدگی سے بولے۔ ’’یہ فرض کیا جاتا ہے کہ بچوں کے سر پر بلائیں یعنی مصیبتیں منڈلاتی رہتی ہیں۔ بزرگ عورتوں ہاتھوں کی ان جنبشوں سے وہ بلائیں اپنے سر پر لے لیتی ہیں۔‘‘
’’اور ٹامک ٹوئیاں مارنا، سر؟‘‘
پھر ہنسے، ’’جگن کو شاید آج تک یہ لفظ نہیں آتا۔ اسے ٹامک ٹوئے مارنا بھی کہتے ہیں ۔ اس کا مطلب تو اٹکل پچو یعنی اندازے پر چلنا ہے، دوسرے الفاظ میں بغیر پوری تفتیش کیے اپنی دانست میں صحیح کام کیے جانا لیکن حقیقت میں اندازے سے چلتے جانا، جو غلط بھی ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ کشیدہ کاری سے آیا ہے، جس میں سوئی تاگے سے ٹانکے لگائے جاتے ہیں۔‘‘
سنجیدگی سے فرمایا۔ ’’میں اہلِ زبان نہیں ہوں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اردو کو اگر سارے ہندوستان کی زبان بننا ہے تو اسے صوبجات کی زبانوں اور بولیوں سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا خصوصی طور پر پنجابی سے۔‘‘

ایک دن پھر کہا، ’’بی اے کرنے کے دوران میں نے ایک کتاب پڑھی تھی، جس میں لکھا تھا کہ انگلستان میں بھی،جو ہمارے پنجاب سے بھی نصف رقبے کا ملک ہے، انگریزی ایک طرح سے نہیں بولی جاتی۔ ڈکشنری کے تلفظ کے مطابق انگریزی شاید صرف ایک یا دو فیصد لوگ بولتے ہیں جسے آر پی یا Received Pronunciationکہا جاتا ہے۔ باقی ہر پچاس سو میل پر بولنے کا انداز، تلفظ، مقامی محاوروں کا امتزاج اس کو بد ل دیتا ہے۔ اگر یہ حال انگلستان کا ہے، تو دس گنا بڑے ہندوستان میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم لکھنؤ والوں یا دلّی والوں کی اردو سیکھیں؟‘‘

ایک دن پھر ذکر آیا تو کہا، ’’ایک عالم و فاضل شاعر تھے اردو کے جن کا نام امام بخش ناسخ تھا۔ سنا ہے نام ان کا؟‘‘
میں نے عرض کیا، ’’صرف نام سنا ہے، سر۔ جانتا نہیں کہ وہ کس قسم کے شاعر تھے۔‘‘
’’شاعر تو برے نہیں تھے، لیکن کچھ کام انہوں نے ایسے کیے جواردو کے حق میں نہیں تھے۔‘‘
میں ان کا منہ دیکھتا رہا۔
بولے، ’’ناسخ نے ان سب الفاظ کو جو بھاکھا یعنی روزمرّہ کی زبان سے آئے تھے جسے ہندوستانی بھی کہا جا سکتا ہے، اردو سے خارج کر دینے کی سفارش کی۔ سفارش کیا کی، بلکہ حکم دیا کہ اگر اردو کو خالص رکھنا ہے تو اس ملاوٹ کو دور کرنا پڑے گا۔بہت سے محاوروں کو ترک کرنا پڑے گا۔ وہ الفاظ جو فارسی اور ہندی کے امتزاج سے بنے ہیں، انہیں تلانجلی دینا ہو گا۔‘‘
ہنسے، بولے۔ ’’اب میں نے ایک محاورہ تلانجلی دینا استعمال کیا ہے۔ تم اس کا مطلب جانتے ہو، مجھے یقین ہے، لیکن یہ لفظ کیسے بنا ہے، یہ نہیں جانتے۔ انجلی ہندی میں ہتھیلی کو کہتے ہیں ، تِل وہ بیج ہیں جن کا تیل نکالا جاتا ہے۔ بنگال میں کسی عورت کا مرد سے یا مرد کا عورت سے رشتہ ازدواج ختم کرنے کا ایک روایتی طریقہ یہ ہے کہ ایک فریق دوسرے کو اپنی ہتھیلی پر تل رکھ کرپیش کرے ۔۔۔‘‘
کچھ رک کر پھر فرمایا : ’’ناسخ صاحب کو یہ سوجھی کہ اردوئے معلےٰ کو مقامی ہندوستانی بولیوں کے ’ناپاک‘ الفاظ سے پاک کرنے کے لیے انہیں متروک کر دیا جائے ۔ اور انہوں نے متروکات کی ایک فہرست بنائی تا کہ شعرا اور نثر نگار ان الفاظ یا محاوروں سے پرہیز کر سکیں۔ اس میں ایسی اصطلاحیں بھی تھیں جن میں ایک لفظ فارسی کا اور ایک ہندی کا تھا۔ مثلاً ’ٹُکڑ گدا‘ جس کے معنی ہیں، روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو ترسنے والا نادار شخص۔ ان کی منطق یہ تھی، کہ ’ٹکڑ‘ ہندی کا لفظ ہے اور ’گدا‘ فارسی کا، اس لیے ان کا انسلاک بجائے خود غلط ہے ….‘‘
میں نے پوچھا، ’’تو، سر، کیا لوگوں نے یہ بولنا یا لکھنا چھوڑ دیا؟ کیا ناسخ صاحب نے اس کی جگہ کوئی اور محاورہ تجویز کیا؟‘‘
ہنسے، ’’نہیں، عزیزِ من۔ کچھ بھی نہیں ہوا، لوگ اس محاورے کو ویسے ہی استعمال کرتے رہے اور انہوں نے کوئی متبادل بھی تجویز نہیں کیا …. بس فہرست بنا کر جاری کر دی۔ ان کے چیلے چانٹے شاید اس پر عمل کرتے رہے۔ لیکن اردو شاعری کی تاریخ میں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اردو کے شاعر ہندوستان میں رہتے ہوئے بھی ہندوستانی بننے سے کتراتے رہے ہیں۔ ناسخ کو یہ چھوٹی سی بات سمجھ میں نہیں آئی ، یا وہ سمجھنا نہیں چاہتے تھے کہ عوام زبان کے پیچھے نہیں چلتے، زبان عوام کے پیچھے چلتی ہے!‘‘
پھر بولے، ’’مرزا غالب بھی اپنے فارسی کے دیوان کو وہ اہمیت دیتے تھے جو انہوں نے اپنے اردو کے دیوان کو کبھی نہیں دی، لیکن آج دیکھ لیں، ان دو دواوین میں کس کی زیادہ تاریخی اہمیت ہے!‘‘
اگلی بار میں گیا تو جیسے مجھ سے بہت سی باتیں کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ بولے، ’’یہ بتاؤ نوجوان، کہ کیا کبھی ان محاوروں پر غور کیا جن کو فارسی کی اضافت یعنی کسر سے جوڑا جاتا ہے یہ عربی کے واؤ سے جن کو گرہ بند کر دیا جاتا ہے؟
میں نے عرض کیا، ’’ سر، میں سمجھا نہیں!‘‘
’’اچھا !‘‘ بولے، ’’کچھ مثالوں سے سمجھاتا ہوں۔ کیا تم نے کبھی یہ اصطلاح پڑھی یا سنی ہے ، ’’لذّتِ کام و دہن‘‘؟ لذّت کے بعد کسر ہے اور پھر کام و دہن کے درمیان ایک عطف ہے، یعنی واؤ ہے۔ دونوں کا مقصد ان کو جوڑ کر یہ معنی نکالنا ہے، ’’ کام اور دہن کی لذت‘‘ ….
میں نے کہا، ’’جی، اتنا تو میں سمجھتا ہوں۔‘‘
بولے، ’’ہاں ہاں ، یقیناًجانتے ہو گے۔’’ دہن ‘‘کے معنی یعنی’’ منہ‘‘ بھی جانتے ہو گے۔ لیکن ’’کام‘‘ کے کیا معنی ہیں، یہ جانتے ہو؟‘‘
میں ان کا منہ تکتا رہ گیا۔ بولے، ’’تو تم بھی میرے ایف اے کے طلبہ کی طرح اس سوال کے جواب میں فیل ہو گئے۔ وہ کم بخت بھی سارے کے سارے اس کا جواب نہیں دے سکے۔ کام کے معنی وہ نہیں ہیں، جو تم جانتے ہو، یعنی جیسے گھر کا کام یا نوکری کا کام۔ اس کا مطلب ہندی کا’’ کام دیوتا‘‘ بھی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے، آدمی کے منہ میں اوپر کی چھت، یعنی تالو … گویا لذتِ کام و دہن کا مطلب ہوا، منہ اور تالو کا ذائقہ…‘‘
پھر پوچھا، ’’اچھا ، ایک اور اصطلاح واؤ کے عطف کے ساتھ بولی جاتی ہے، ’ ’بے سر و سامان‘‘ … بے تو صاف سمجھ میں آتا ہے، سر و سامان کے بیچ میں واؤ عطف ہے، اس میں لفظ ’سامان‘ بھی سمجھ آ سکتا ہے، لیکن ’سر‘ کا کیا مطلب ہے، جانتے ہو؟ یعنی کیا یہ وہ ’سر‘ ہے، جو تم اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہو؟‘‘
میں نے پھر شرمندگی سے نفی کے اظہار کے طور پر سر ہلایاتو بولے، ’’مجھے یہ علم تھا کہ تم بھی میرے ایف اے کے طلبہ کی طرح نہیں جانتے ہو گے۔پھر فیل ہو گئے۔ اچھا، میں بتاتا ہوں۔ پرانے زمانے میں جب فوجیوں کو نقل مکانی یعنی آگے مارچ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا، تو وہ اپنا سارا سامان، یعنی کپڑوں کا جوڑا، لوٹا، کچھ روٹی وغیرہ تو پیٹھ پر باندھ ہی لیتے تھے۔ یہ تو ’’سامان‘‘ تھا۔ اب ’’سر‘‘ کے معنی ہیں، وہ ہتھیار یعنی تلوار، خنجر ، تیر کمان یا پرانی بندوق وغیرہ جو انہیں ساتھ ہی اٹھانے پڑتے تھے۔ اسے ہی’’سر‘‘ کہتے تھے ۔‘‘….

.اب ایک آخری سوال …ایک اصطلاح ہے ، ’’ لُبِ لباب‘‘۔ ہم سب اس کے ماخوذ معانی سمجھتے ہیں، یعنی کسی بات کا مختصر ترین الفاظ میں بیان ۔۔ لیکن یہ دونوں الفاظ اسم ہیں، اگر نہ ہوتے تو ان کے درمیان’ کسر ‘ کیسے آ سکتی تھی۔ کیا ان دو الفاظ کے الگ الگ معانی جانتے ہو؟‘‘
میں نے فوراً کہا، ’’لب…تو میں سمجھتاہوں، یعنی ہونٹ ..لیکن لباب نہیں جانتا۔ًً‘‘
مسکرائے، ’’یہی جواب تو ان کند ذہنوں نے بھی دیا تھا کمرۂ جماعت میں، جو میٹرک پاس کر کے اب کالج میں بیٹھے ہیں۔ وہ سبھی فیل اور تم بھی فیل! یہ لفظ لب نہیں ہے، لُب ہے، یعنی ل کے اوپر ضمّہ ہے۔ اور اس کا مطلب ہے، نچوڑ، عطر، عرق وغیرہ،
اب یہ فارسی والوں کا عجوبہ ہے کہ دوسرا لفظ یعنی ’’لباب ‘‘ اسی لفظ کا صیغۂ جمع ہے۔ تو لبِ لباب کا مطلب ہوا، نچوڑوں کا نچوڑ، عطروں کا عطر… انگریزی میں کیا کہیں گے؟‘‘
میں نے فی الفور کہا، “The essence of all essences”
خوش ہو گئے۔ ’’شاباش!‘‘ اب جب بھی کبھی کوئی فارسی یا عربی اصطلاح استعمال کرو، تو یہ دیکھنے سے پہلے کہ اس کے ماخوذ معانی یعنی derivative meaningsکیا ہیں، اس کے اصل معانی دریافت کرنے کی کوشش کیا کرو!‘‘
(جاری ہے )۔۔۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *