• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ظلمت سے نور کا سفر(قسط3)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

ظلمت سے نور کا سفر(قسط3)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

SHOPPING

(ایگزئیٹی، ڈیپرشن اور ڈیتھ فوبیاز کی آگاہی کے لیے لکھی گی مشترکہ تحریر)

آساں نہیں ہے کشمکشِ  ذات کا سفر

ہے آگہی ے بعد غمِ آگہی بہت

آہ!

ہسپتال کا منظر، اس پر جھکیں نرسیں، چیک کرتا ڈاکٹر ، ہاتھوں میں لگی ڈرپ اور قطرہ قطرہ رگوں میں اترتا مائع ۔۔.
جب اس نے ہسپتال کے بیڈ پہ آنکھیں کھولیں ،نیم وا آنکھوں سے اردگرد کا منظر دیکھا تو حواس باختہ ہوتے ہوئے چیخی ۔

“اماں مجھے کیا ہوا مجھے ہسپتال کیوں لائی ہیں”۔

اماں نے اسکی طرف رخ موڑتے ہوئے اپنے تلخ تاثرات والے چہرے کے ساتھ اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور ڈاکٹر کی طرف توجہ مبذول کی۔

“ڈاکٹر صاحب میری بیٹی کو کیا ہوا ہے؟ بھلی چنگی ہے لیکن آج کل پتا نہیں کیا ہو گیا، کبھی کبھی چل بھی نہیں پاتی ۔ زندگی کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتی۔ جب دیکھو بس بیٹھی سوچتی ہی رہتی ہے۔ سست ہوتی جارہی ہے ۔ کاموں میں اس کا دل نہیں لگتا کمرے میں گھسی رہتی ہے ۔ صبح اسے بلایا تو جا کر دیکھا تو یہ ہمیں بے ہوش ملی ”

ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر پیشہ وارانہ انداز میں جواب دیا کہ
” اماں اسے کچھ نہیں ہے ذہنی تناؤ سے ایسے معاملات بن جاتے ہیں آپ انہیں سٹریس سے بچائیں اور انہیں آرام دہ ماحول دیں انکی غم گساری کریں ۔ یہ کسی صدمے کا شکار ہیں ۔ کوئی دکھ ان کے اندر پل رہا ہے ۔ ”

ہونہہ۔۔

اماں نے ناک سکڑتے ہوئے لمبا سا  ہنکارا بھرا۔۔
“ہم نے کونسا اس پر پہاڑ توڑ رکھے ہیں ۔ ملکہ کی طرح رہتی ہے اور تو اور ہم نے کبھی اس پر پابندی بھی نہیں لگائی پڑھائی کے ساتھ یہ اپنا دستکاری کا بزنس بھی کرتی ہے ۔ خودکفیل ہے اسے کونسا ڈیپرشن ہے۔ہم نے تو سارے جہاں کے دکھ جھیلے  ہیں ایسی ڈرامے بازیوں اور نزاکتوں سے دور ہی رہے ۔”
اور یہ سوچے بنا کہ پاس ہی اسی کی بیٹی سب سن رہی ہے
ماں جی نے ڈاکٹر کی بات کو ناک پر مکھی کی طرح اڑا دیا ۔ ۔۔
ٹپ ٹپ ٹپ کرتے آنسو اس کی آنکھوں سے چھلک پڑے ۔روح مزید گھائل ہوتی رہی ۔  دل سے  سرد  آہ!نکلی اس نے سوچا کتنی بے رحم ماں ہے۔۔
کسی نے درست ہی کہا لفظوں کا چناؤ موقع محل کے ساتھ یا تو اذیت سے نکال دیتا ہے یا پھر ذہنی اذیتوں کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے ۔
“میرے ایسے نصیب کہاں” ۔۔۔
اس نے منفیت سے سوچا ۔۔۔ اور پھر اسے یاسیت کا دورہ پڑنے لگا ۔سانس لینی دوبھر ہوئی اور سینے کی گھٹن نے اسے پھر اسی اذیت کے اُس مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ کچھ لمحے پہلے  تھی ۔خوف اسے لپیٹنے لگا ۔مگر جو سنگ دلی اور بے رخی طنز کے نشتر وہ محسوس کر چکی تھی ۔اسے اس دکھ کو خود ہی سہنا تھا ۔
ضبط کے طوفانوں میں   رب کا ہی سہارا ہوتا ہے جو اسے صبر اور مضبوط عزم کی نصیحت کرتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب ضحیٰ  کے اندر اٹھتے خوف کے طوفان سے بے خبر کہہ کر اپنی راہ کو چل دیے۔۔

اسے یاد آیا کہ” کرب آشنائی” ایسا عمل ہے جو ہر وقت حالات کی بھٹی میں جلاتا ہے شاید وہ اس عمل کا شکار ہونے والی تھی ۔
پھر اسے کسی کی بات یاد آئی کہ “کرب آشنائی” سے ہی” ذات کی آگاہی” کا سفر طے ہوتا ہے ۔
“کیا وہ یہ سفر طے کر پائے گی؟”
اس نے خوف سے جھرجھری لی ۔۔۔
وہ ایک بار پھر اُس اذیت جو اُس پر کچھ لمحے پہلے گزر چکی، سوچ کر ہی خوف زدہ ہو گئی ۔۔۔

منتشر خیالات سے بچنے کے لیے اس نے اپنا فون اٹھایا۔دھندلی آنکھوں سے استعمال کرنے لگی ،دھیان ہٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اسکی آنکھیں ایک سٹیٹس پر رک گئیں۔جہاں دو آیات لکھی تھی۔اس نے نم آنکھوں سے سوچا میرے پیارے اللّٰہ آپ سب جانتے ہیں۔وہ بار بار ان آیات کو پڑھ رہی تھی
“اے لوگو تمہارے رب سے نصیحت اور دلوں کے روگ کی شِفا تمہارے پاس آئی ہے اور ایمان داروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے”

مجھے اب ڈاکٹرز کی باتوں اور اپنوں کے رویوں پر مایوس نہیں ہونا میرے دل کے خوف کو قرآن کی رحمت بھری شفا میسر ہے نااااا

مگر یہ لوگوں کی باتیں اور طعنے   ،آخر یہ لوگ اپنی آخرت کے لیے کیا جمع کررہے ہیں۔کاش! یہ بھلی بات کہیں جو میرے خوف سے لرزتے وجود کو دو گھڑی سکون دے ۔ جو میری تپتے وجود پر حبس  زدہ موسم میں ٹھنڈی پھوار کی طرح پڑے، اس نے سوچتے ہوئے اگلی آیت زیر لب پڑھی۔

“کہہ دو (قرآن) الله کے فضل اور اس کی رحمت سےہے سو اسی پر انہیں خوش ہونا چاہیئے یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو  وہ جمع کرتے ہیں”

آہ میرے اللّٰہ! سکون سے انکھیں بند کیں۔ کچھ لمحے خوف سے آزاد، ایک آسودہ نیند اسکی منتظر تھی۔
جاری ہے

SHOPPING

http://ظلمت سے نور کا سفر(قسط2)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *