• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جواب۔۔۔ آسیہ۔۔۔۔۔ سلمان تاثیر اور مولوی صاحبان

جواب۔۔۔ آسیہ۔۔۔۔۔ سلمان تاثیر اور مولوی صاحبان

محترم رانا تنویر عالمگیر صاحب نے 3 جنوری کو ایک تحریر پوسٹ کی تھی جس کا عنوان تھا
آسیہ۔۔۔۔۔ سلمان تاثیر اور مولوی صاحبان
اس تحریر کی بہت سی جزئیات سے اختلاف ہونے کی وجہ سے ضروری سمجھا کہ اپنا نقطہ نظر واضح کیا جائے۔
سب سے پہلے تو ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم پیش خدمت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی قدر کا مفہوم ہے کہ
“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اپنے والدین، مال، اولاد حتی کہ اپنی جان سے زیادہ عزیز نا ہوں”

جناب گذارش یہ ہے کہ آسیہ ملعونہ کو سزا ثبوت اور گواہان کی بنیاد پر ہوئی تھی اور عدالت کا فیصلہ یکطرفہ موقف یا دباؤ کی بنیاد پر نہیں تھا۔ جہاں تک بات ہے ہر پیشی پر عدالت کے باہر نعرے بازی ہونے کی تو وہ ہر ایسے کیس میں ہوتی ہے اور ایسی ہی نعرے بازی ممتاز قادری علیہ الرحمہ کے حق میں بھی ہوتی رہی۔ ایسے ہجوم یا نعرے بازی اگر عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہو تے تو آج ممتاز قادری علیہ الرحمہ ہمارے درمیان موجود ہوتے۔
آپ نے کہا کہ “گورنر صاحب نے آسیہ کا موقف سنا اور انصاف دلانے کی یقین دہانی کروائی”
یہی تو سارے فساد کی جڑ ہے۔ گورنر کون ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی کیس میں ایک فریق کا موقف سن کر یہ فیصلہ کر لے کہ عدالت انصاف نہیں کر رہی اور اب میں انصاف کرواؤں گا۔ پاکستان کے عدالتی نظام کو مشکوک تو گورنر کا یہی طرزعمل بنا دیتا ہے، اور پھر وہ سپریم کورٹ جو سموسے کی قیمت میں اضافے پر سوموٹو لے لیتی ہو وہ اس کھلی عدالتی توہین پر خاموش رہے تو نظام انصاف سے اعتبار اٹھنا لازمی امر ہے۔تمام علماء کا موقف اس دن سے لے کر آج تک یہی ہے کہ جب ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہو اور ریاست بھنگ پی کر سو جائے تو کوئی بھی شخص جذبات میں آ کر قانون اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔ قصوروار ریاست اور ریاستی ادارے ہیں نا کہ وہ شخص۔سلمان تاثیر نے ناموس رسالت کے قانون کو صرف بی بی سی کے انٹرویو ہی میں کالا قانون نہیں کہا۔ وہ آئین پاکستان کے اس اہم حصے کو الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ آخری دنوں تک طنز اور استہزاء کا شکار بناتا رہا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام فرنٹ لائن میں اپنے آخری انٹرویو میں جب ایک طالب علم نے چودہویں پارے کی آیت پڑھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ “ہم آپ سے استہزاء کرنے والوں سے بدلہ لے لیں گے” تو سلمان تاثیر کا جواب یہ تھا کہ
“پھر اللہ کو بدلہ لینے دیں ہم قانون بنانے والے کون ہوتے ہیں”تو میرے بھائی پھر اللہ نے بدلہ لے لیا۔ دنیا نے دیکھا کہ گورنری کے زعم میں فرعونی لب و لہجہ اختیار کرنے والا 27 گولیاں سے چھلنی ہو کر ایلیٹ فورس کی گاڑی میں سپاہیوں کے قدموں میں پڑا تھا۔ریکارڈ کی درستگی کے لیے عرض کر دوں کہ سلمان تاثیر کے مرنے کے بعد علماء کو سانپ سونگھ جانے والا خیال غلط ہے۔ سب سے پہلے جماعت اہلسنت پاکستان کے 500 مفتیان کرام نے سلمان تاثیر کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا فتوی دیا۔ خاموشی نہیں چھائی۔ جسٹس ریٹائرڈ نذیر اختر صاحب اور جسٹس ریٹائرڈ نذیر احمد غازی صاحب نے برملا آئین پاکستان اور شریعت کی رو سے سلمان تاثیر کا گستاخ ہونا ثابت کیا۔
دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری صاحب سمیت اہلسنت کے کسی بھی عالم دین نے ممتاز قادری علیہ الرحمہ کے فعل کو غلط نہیں کہا۔ ہاں طاہرالقادری صاحب ایک اکیلے تھے جن کی دال روٹی چلتی ہی اہلسنت کے مجموعی موقف کی مخالفانہ رائے دینے پر ہے۔مولانا الیاس قادری صاحب کے صاحبزادے اور ان کی جماعت کے ذمہ داران کی ممتاز قادری علیہ الرحمہ کے جنازے میں شرکت اس بات واضح ثبوت ہے کہ وہ ممتاز قادری علیہ الرحمہ کو حق پر سمجھتے تھے۔
جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب نے” تیرے نام پہ دو جہاں فدا”کے عنوان سے ایک کتابچہ جاری کیا جس میں سلمان تاثیر کی گستاخی اور ممتاز قادری علیہ الرحمہ کے حق میں علماء کا موقف واضح الفاظ میں بیان کیا۔ اس کا لنک پیش خدمت ہے۔

https://drive.google.com/file/d/0Bzjr1766gk2PbmpHTGRNWnV5Rnc/view?usp=drivesdk

جو عظیم کام اللہ رب العزت نے غازی ممتاز قادری علیہ الرحمہ سے لیا تھا اس کے بعد شہادت کا انعام جھولی میں ڈالا ہی جانا تھا۔ راہ عشق کے کچھ مروجہ اصول ہیں۔ یہاں منصور اور سرمد بھی ہوں جان کا نذرانہ معمولی چیز ہے۔آپ کو مولویوں کے مجموعی طرز عمل سے اختلاف ہے وہ اپنی جگہ، مجھے بھی ہے
لیکن دعوت اسلامی ہو، جماعت اہلسنت پاکستان کی قیادت ہو یا تحریک لبیک یارسول اللہ کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ممکنہ طور پر غازی صاحب علیہ الرحمہ کی شہادت کے بعد ہونے والے احتجاجی لائحہ عمل میں منصوبہ بندی کا فقدان تو ہو سکتا ہے۔ احتجاج کو بے اثر کرنے کے لیے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ہتھکنڈے تو ہو سکتے ہیں لیکن ایک بات واضح ہے۔وہ یہ کہ تمام مذہبی طبقات اور تنظیمیں کسی بھی صورت میں 295 سی کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کریں گی۔ یہ ہمارے عقیدے کی ریڈ لائین ہے۔کسی کو مباحثے، مناظرے یا مکالمے کا شوق ہے تو آئین پاکستان کی جس شق کے بارے میں چاہے کرتا رہے۔ ہم بھی کرنے کو تیار ہیں لیکن “295 سی” ناممکن آخر میں ایک بات عرض کرتا چلوں۔ غازی صاحب علیہ الرحمہ کے جنازے کو دیکھ کر ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ،
کی محمد سے وفا تو نے، تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

Avatar
محمد وقاص
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق نے ابلہ مسجد ہوں نا تہذیب کا فرزند

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *