عمران خان کی خارجہ پالیسی۔۔۔۔۔ ثاقب اکبر/قسط1

جولائی 2018ء کو پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے، جن میں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری اور یہ امکان پہلے روز ہی پیدا ہوگیا کہ اس پارٹی کے چیئرمین عمران خان پاکستان کے مستقبل کے وزیراعظم ہوں گے۔ اگلے روز 26 جولائی کی شام کو عمران خان نے ایک مختصر خطاب کیا، جسے عالمی سطح پر ان کی ”وکٹری اسپیچ“ (Victory Speech) قرار دیا گیا۔ اسے انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کا پہلا اور غیر سرکاری خطاب بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ خطاب ہمارے نقطہ نظر سے آئندہ ایک تاریخی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ ہماری رائے میں اس خطاب میں پاکستان کی مستقبل کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کے خطوط کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ایک لحاظ سے اسے ایک نظریاتی تقریر بھی کہا جا سکتا ہے۔ عمران خان جس نئے پاکستان کا خواب دیکھتے اور دکھاتے رہے ہیں، وہ بہت عمدگی سے اس خطاب میں جھلکتا ہے۔ اس خطاب کے اور بھی کئی قابل ذکر پہلو ہیں، تاہم سطور ذیل ہم عمران خان کی اس خارجہ پالیسی کے حوالے سے سپرد قلم کر رہے ہیں، جسے انہوں نے سادگی کے باوجود جامعیت سے بیان کر دیا ہے۔
جناب عمران خان نے پاکستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا اور اس کا آغاز انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کے ذکر سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دیں گے، سی پیک کو استعمال کرکے مزید سرمایہ کاری پاکستان میں لائیں گے۔ چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، کرپشن کے خلاف ٹھوس اقدامات کئے، ہم چین کے تجربے سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے خطاب کے جواب میں چین نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو اپنا بہترین دوست قرار دیا۔ چینی دارالحکومت بیجنگ کے تھنک ٹینک کے عہدیدار گاﺅ زکی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کو بہترین دوست کی طرح سمجھا جائے گا، وہ چین آئیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ بھی پاک چین دوستی کی برسوں پرانی روایت برقرار رکھیں گے۔ چین نے عمران خان کے جواب میں یہ بھی کہا کہ چین اور پاکستان میں سدا بہار شراکت داری تبدیل نہیں ہو سکتی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی عمران خان نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں۔ پی ٹی آئی کی طرف سے چین کیلئے عمران خان کے پیغام کو چینی زبان میں ٹویٹ کیا گیا، جس کا جواب بھی چین کی طرف سے چینی زبان میں دیا گیا۔
پی ٹی آئی کے چیرمین عمران خان نے اپنے پہلے غیر سرکاری بیان میں افغانستان کا ذکر بھی بہت اچھے انداز سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں، افغانستان میں امن پاکستان میں امن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ افغانستان کے ساتھ ہمارا اوپن بارڈر ہو جیسے یورپی ممالک کے مابین ہوتا ہے۔ افغانستان میں بھی ان کے خطاب کا بہت اچھا اثر ہوا اور افغان صدر اشرف غنی نے ٹیلی فون کرکے عمران خان کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی اور دورہ کابل کی دعوت بھی دی، جو انہوں نے قبول کرلی۔ افغان صدر نے پی ٹی آئی چیئرمین سے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تاریخی تعلقات ہیں، یہ ممالک ہمسائیگی، بھائی چارے اور دوستی کے دیرینہ رشتے میں منسلک ہیں۔ اشرف غنی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان افغانستان میں بہت مقبول اور نوجوانوں کے ہیرو ہیں، انہی کی مقبولیت کی وجہ سے ہمارے یہاں کرکٹ کو فروغ ملا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مکمل امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور تحریک انصاف کی نگاہ میں پاک افغان تعلقات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات میں سرگرمی اور تحریک لائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سازی کا عمل مکمل ہوتے ہی میں افغانستان کا دورہ کروں گا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مشکل ترین باب بھارت سے متعلق ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین نے اس پر بھی اپنے نقطہ نظر کو وضاحت سے پیش کیا۔ انہوں نے انڈین میڈیا میں اپنے بارے میں منفی کوریج کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہیں انڈیا کے میڈیا نے بالی وڈ کے ولن کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت ختم کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت کو تجارت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تجارت سے پورے برصغیر کو فائدہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کور ایشو کشمیر ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بدترین مثالیں قائم کی گئی ہیں۔ کوشش ہونی چاہیئے کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کو میز پر بیٹھ کر حل کریں۔ عمران خان نے کہا کہ اگر انڈیا ایک قدم بڑھائے گا تو وہ دو قدم بڑھائیں گے۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت ہر چیز کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے۔ یہ تعلقات کے لئے اچھا نہیں ہے۔ اگر بھارتی لیڈرشپ مذاکرات کے لئے تیار ہے تو ہم بھی بالکل تیار ہیں۔ تعلقات بہتر ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان مل کر بیٹھیں اور بات کریں۔
عمران خان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا مجموعی طور پر اس کا اثر بھارت میں بھی بہت اچھا ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا جو دو روز پہلے تک عمران خان کا چہرہ انتہائی بھیانک کرکے دکھا رہا تھا، اس کے لب و لہجے میں بھی کچھ تبدیلی محسوس کی گئی۔ بالی وڈ کے کئی ایک سپرسٹارز کی طرف سے بھی عمران خان کے جذبات کو سراہا گیا۔ کرکٹ کی دنیا کے ماضی کے کئی ایک بھارتی سٹارز نے عمران خان کیلئے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت خطے کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لئے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خوشحال اور ترقی پسند پاکستان کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ نئی حکومت جنوبی ایشیا کو محفوظ، مستحکم، پُرامن اور دہشتگردی و تشدد سے پاک خطہ بنانے کے لئے تعمیری کام کرے گی۔
عمران خان نے اپنی وکٹری سپیچ میں ہمسایہ ملکوں کا ذکر کرتے ہوئے ایران کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو ہم مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ایران کی طرف سے بھی ان کے اس بیان کو سراہا گیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اپنے ایک بیان میں برادر ملک پاکستان میں گذشتہ دنوں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر پر مباکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ کی طرح اور ماضی سے زیادہ بالخصوص نئے پاکستان میں برادر اور اسلامی ملک پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے آمادہ ہے۔ بہرام قاسمی نے کہا کہ دونوں دوست اور مسلمان ممالک کے درمیان تعلقات کی توسیع پاک ایران عوام کے مشترکہ مفادات کے لئے اہم ہے۔
ایران کے ذکر کے ساتھ سعودی عرب کا ذکر نہایت ضروری تھا۔ دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنا ہمارے نزدیک پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ تاہم اس سلسلے میں عمران خان نے بہت جچا تلا بیان دیا۔ انہوں نے مشکل مواقع پر سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کی مدد کا ذکر کیا اور کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں، جنھیں مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ جب کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں پاکستان فریق بننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ یہ وہی مؤقف ہے جس کا اظہار یمن کے بارے میں پاکستان کی پارلیمان میں منظور کی گئی قرارداد میں کیا گیا تھا اور تحریک انصاف بھی اس میں خاص طور پر شریک رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا یہ موقف سعودی عرب سمیت تمام عالم اسلام کے مفاد میں ہے، کیونکہ اگر پاکستان جیسا ایٹمی ملک بھی تنازعات میں فریق بن جائے تو بڑی طاقتیں پہلے ہی اس میں فریق ہیں، پھر امن کا راستہ مزید مشکل ہو جائے گا۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے بھی ان کے اس مؤقف کو سراہا گیا۔ چنانچہ پاکستان میں متعین سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے بنی گالا میں چیئرمین تحریک انصاف سے ملاقات کی اور انتخاب جیتنے پر سعودی فرمانبروا کی جانب سے مبارکباد اور تہنیتی پیغام پہنچایا۔ سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف کا خطاب نہایت مثبت اور جامع تھا۔ ان کی جانب سے سعودی عرب کے بارے میں جن خیالات اور جذبات کا اظہار کیا گیا اسے ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔
بشکریہ اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *