جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا۔۔رحمٰن شاہ

افسوس کے ساتھ  کہنا  پڑتا ہے۔ہمارے معاشرے میں یہ زندگی کا ایک بہت ہی عیاں پہلو ہے کہ  بیشتر لوگ جنہیں زندگی میں جب کسی امتحان یا کسی مصیبت سے واسطہ پڑتا ہے یا کوئی ایسی خبر جس پر اگر وہ اس وقت کان دھریں یا توجہ دیں اور اس کے بارے میں سوچیں تو وہ اس کا حل تو ڈھونڈ سکتے ہیں،لیکن بات وہی ہے کہ یہ زندگی کا ایک نظر آنے والا پہلو ہے کہ ہم وہ امتحان ، وہ گھڑی ، وہ لمحہ اور وہ خبر نظر انداز کر کے یہی کہہ دیتے ہیں کہ جب یہ سر پر آئے گی تو تب ہی اس بلا کو دیکھ لیا  جائے گا۔ تب ہی اس امتحان کا سوچیں گے۔

دوستو! آج ہم ایک ایسے ہی امتحان، ایک ایسی ہی خبر کے حوالے سے آپ کے ساتھ بات کررہے ہیں۔  تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث ان کے بچوں کو منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔ اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا ابھی تک کوئی علاج ممکن ہی نہیں۔ اس بیماری کے شکار بچے کو ہر پندرہ دنوں بعد یا مہینے بعد خون چڑھانا پڑتا ہے۔

یہ بیماری   ہمارے بچوں کو  کیسے لگتی ہے۔؟

اگر والدین میں سے کوئی ایک بھی تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہے تو ان کے پیدا ہونے والے پچاس فیصد بچے نارمل ہونگے، جبکہ بقیہ پچاس فیصد بچے تھیلیسیمیامائینر کا شکار ہوسکتےہیں۔تھیلیسیمیا مائینر تھیلیسیمیا کی سب سے چھوٹی قسم ہے۔ تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا بچے بالکل دوسرے لوگوں کی طرح ہی زندگی گزارتے ہیں، انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی انہیں خون چڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے البتہ تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلہ عورت جب حاملہ ہوجائے تو اس میں خون کی کمی ہوسکتی ہے۔ اگر والدین میں دونوں تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہوں تو ا ن کے پچیس فیصد بچے نارمل ، پچاس فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر جبکہ پچیس فیصد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تھیلیسیمیا میجر میں مریض کا خون اتنا کم بنتا ہے کہ اسے ہر دو سے چار ہفتے بعد خون کی بوتل چڑھانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس میں مریض کی زندگی بلڈ بینک کی مختاج ہوتی ہے۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک بھی تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو تو ان کے سارے کے سارے بچے تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا ہونگے۔ اگر والدین میں کوئی ایک تھیلیسیمیا میجر جبکہ دوسرا تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہو تو ان کے پچاس فیصد بچے تھیلیسیمیا مائینر کا شکار ہونگے جبکہ بقیہ پچاس فیصدے بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہونگے۔ اگر والدین میں دونوں تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوں تو ان کے پیدا ہونے والے سارے بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہونگے۔ ثنا فاؤ نڈیشن کے تیار کردہ تحریری مواد کے مطابق اس وقت پاکستان میں تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں کی  تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے اور ہر سال ان مریضوں میں  6 ہزار کا اضافہ ہوتا ہے۔

قارئین ! یہ  ایک ایسی بیماری ہے، جس کا علاج ہی ممکن نہیں تو ایسی بیماری کے بارے تو یہی سوچتےہونگے لوگ کہ اس بیماری سے اپنے بچوں کو بچانا کس قدر مشکل ہوگا۔ لیکن  ایسا ہرگز نہیں۔ بہت ہی آسان راستہ ہے۔ بہت ہی آسانی سے ہم اس بیماری سے اپنے بچوں کے مستقبل کو بچا سکتے ہیں،ا پنے بچوں کو بچا سکتےہیں۔ جو بچے اس بیماری کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کی زندگی تو اب بلڈ بینک سے جڑی ہے۔ ان کے لیے تو کوئی چارہ ہی نہیں کہ اس بیماری کا آج تک کوئی ممکن علاج نہ ہوسکا،سوائے اس کے کہ آپ اپنے بچے کو ، آپ اپنے مریض کو ہر دو تین ہفتے بعد خون کی بوتل چڑھائیں۔

جو بچے یا جو لوگ اس بیماری کا شکار ہوئے ، ان کےلیے تو ہم اپنے طور پر یہی کرسکتے ہیں کہ ان کو جب خون کی ضرورت پڑے تو ہم ان کے لیے خون کا بندوبست کریں۔ ان کے ساتھ تعاون کریں چاہے ہم جس صورت میں کریں، لیکن جس بچے نے ابھی پیدا ہونا ہے۔۔ جس نے ابھی آنکھ کھولنی ہے، تو خدارا اس کی زندگی کو اس بیماری سے بچائیں۔ یہ بہت آسان ہے۔ جب بھی کوئی جوڑا شادی کے بندھن میں بندھنا چاہے۔ رشتہ ازدواج  میں منسلک ہونا چاہے، ان دونوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنا تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کروائیں اور اس کے ساتھ مکمل خون ٹیسٹ کروائیں، اگر آپ میں سے کسی ایک کو  بھی  اوپر بتائی گئی شکایات پائی جاتی ہیں جس کے بارے میں بتا دیا گیا ہے کہ آپ میں تھیلیسیمیا میجر یا مائینر جو بھی پایا جاتا ہے اور آپ کے بچے کے لیے وہ خطرناک  ثابت ہوسکتا ہے تو آپ اس ازدواجی رشتہ میں خدارا منسلک نہ ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ آپ کبھی بھی شادی  کےقابل نہیں رہے، آپ کے خاندان کا آپ نے اپنے لیے جو شخص پسند کیا ہے، نکاح سے پہلے یا منگنی سے پہلے ہی آپکو چاہیے کہ آپ اپنا ٹیسٹ کروائیں، بلکہ ضروری نہیں کہ آپ اسی وقت کریں اگر آپ کو موقع ملے تو آپ آج ہی اپنا ٹیسٹ کرلیں اور دیکھیں کہ آپ کہیں تھیلیسیمیا مائینر یا میجر کا شکار تو نہیں، آپ کو تو خون کی ضرورت نہیں پڑ سکتی کہ آپ تو مائینر کا شکارہونگے، لیکن اگر آپ جس رشتہ میں منسلک ہورہے اور وہ شخص بھی مائینر کا شکار ہے تو آپ کے پچاس فیصد بچے ایسے ہوسکتےہیں جن کو تھیلسیمیامیجر کی شکایت ہوسکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو تمام عمر آپ کے بچے کی زندگی بلڈ بینک کی مختاج ہوگی۔ تمام عمر آپ اپنی زندگی سفر میں گزار دیں گے کہ آپ کو کبھی کس سے کبھی کس سے خون مانگنا کے لیے پھرنا ہوگا۔ خدارا اپنی آنے والی نسل کو اس مرض سے بچائیں اور اس کا انتہائی آسان راستہ ہے۔ انتہائی آسان طریقہ ہے جو میں نے اوپر بتادیا ہے۔

ہم سب شہریوں کا حق ہے کہ ہم اس مرض کے لیے جہاد کریں۔ ہم اس قدر جہاد کریں کہ تھیلیسیمیا کی شرح بالکل صفر درجے تک آجائے اور آج جو پاکستان میں ہر سال پانچ سے چھ ہزار بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوکر پیدا ہورہے ہیں، انکی شرح بالکل صفر تک آکر پاکستان تھیلیسیمیا سے بالکل پاک صاف ہوجائے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی سطح پر “جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا” کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ہمیں اپنوں کو شعور دینا ہوگا۔ ہمیں لوگوں میں یہ رہنمائی پھیلانی ہوگی کہ اپنی   آنے والی نسل کو اس مرض سے بچائیں ۔ایک ایسے مرض سے بچائیں جس میں آپکے بچے کی تمام زندگی بلڈ بینک کی مختاج ہوتی ہے۔ بلڈ بینک سے جڑی ہوتی ہے۔

Rehman Shah
Rehman Shah
سید رحمان شاہ۔۔۔ ایک لکھاری۔۔۔ سفرنامہ نگار۔۔۔ طنز و مزاح نگار۔۔۔۔ تبصرہ نگار۔۔۔۔ اور سب سے بڑی بات۔۔۔۔ فطرت پسند۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *