اپنے بچوں کو کاروبار کرنا سکھائیے۔۔میاں جمشید

سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اپنا کاروبار شروع کریں تو اس کا مطلب نوکری کرنے کو معیوب سمجھنا یا اس کی افادیت کو کم کرنا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ نوکری کرنے کے بعد اگر کاروبار کیا جائے تو زیادہ مفید رہتا ہے کیونکہ کاروبار کرنے کے لئے ڈسپلن ، ٹائم مینجمنٹ ، اعتماد، پبلک ڈیلنگ، پلاننگ وغیرہ جیسی اہم باتیں ہم کسی جگہ نوکری کر کے ہی سیکھ سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بڑے کاروباری خاندان اپنے بچوں کو کاروبار میں شامل کرنے سے پہلے بنیادی تعلیم کے حصول کے بعد کسی جگہ نوکری ضرور کرواتے ہیں ۔

اسی حوالے سے جب آپ تھوڑی سی ریسرچ کریں گے تو پتا چلے گا کہ کاروباری لوگوں کے جن بچوں نے نوکری کی سختی سہہ کر اپنے کاروبار میں شمولیت کی ہوتی ہے، وہ زیادہ بہتر اور انفرادیت کے ساتھ کاروبار کو لے کر چلتے ہیں۔ ویسے بھی کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے سے پہلے اس کو ٹھیک طرح سے سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے اور اس کا بہترین حل نوکری کی طرح اس کام میں شمولیت ہے۔ دل نہ بھی کرے پھر بھی جاب پر جانا، وقت کی پابندی کرنا، کام کو اچھے سے اپنے وقت پر مکمل کرنا ، ہر طرح کے سمجھ و عادات والے لوگوں میں رہنا، خوش اخلاقی برقرار رکھنا ، ایک لگی بندھی تنخواہ میں گزارا کرنا وغیرہ جیسی بہت ساری ایسی اچھی و بنیادی باتیں ہیں جن کو سیکھ کر جب ہم اپنے کاروبار کی طرف جاتے ہیں تو بےحد فائدہ میں رہتے ہیں ۔

ایسا آدمی جس کا مکمل انحصار نوکری پر ہوتا ہے یا کچھ ایسے خاندان جو صرف نوکری پیشہ ہوتے ہیں اور کاروبار کرنے کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے مگر اپنے بچوں کو کاروبار کروانے کا سوچتے ہیں تو ان کے  لیے مشورہ یہی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہی کاروبار سیکھنے کی طرف لگا دیں ۔ چاہے روزانہ پڑھائی کے بعد چند گھنٹے کسی دکان پر جا کر سیکھے یا پھر کوئی آن لائن کاروبار کا چھوٹے پیمانے پر آغاز کرے ۔

میرے اپنے فیملی کے بچوں سمیت کئی جاننے والوں کے بچے مختلف کھانے کی چیزوں کو خوبصورت گفٹ پیک کی صورت بنا کر سیل کرتے ہیں ۔ اور ایسا وہ سب ابھی سے ایک ٹیم کی صورت کرتے کہ ایک بچے  کے ذمہ چیزوں کی خریداری ہے، ایک کے ذمہ گفٹ پیکنگ آئیڈیاز ہیں، کچھ کے ذمہ مختلف دکانوں پہ  جا کر آرڈر لینا اور سپلائی کرنا ہے۔ ایک بچہ حساب کتاب رکھ رہا ہے ۔ تو اگر اب دیکھا جائے تو وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ابھی سے عملی طور پر سیلز ، فنانس ، مینجمنٹ، پبلک ریلیشن وغیرہ کے شعبوں کے کام سیکھ رہے ہیں ۔

دیکھا گیا ہے کہ جہاں آج کل بچے ناصرف اچھے طریقے سے پڑھائی کر رہے ہیں وہیں اپنی کسی شوق والے کام سے پیسہ  بھی کما رہے ہیں ۔ اس کے لئے ہول سیل مارکیٹ سے کم قیمت میں چیز لے کر، منافع رکھ کر آگے فروخت کرنا ہو یا گھر میں کوئی پروڈکٹ بنا کر بیچنا ہو ۔ چاہے پھر وہ اس کے لئے آن لائن کام کریں یا پھر دکانوں پر رکھوادیں۔ اسی حوالے سے کئی بچے اپنے والدین کے موبائل اور انٹرنیٹ سے بھی فائدہ اٹھا کر آن لائن کاروبار کر رہے ہیں ۔ صرف ایک فیس بک پیج کے ذریعے گھر بیٹھے آرڈر وصول کر کے ہوم ڈلیوری کی صورت میں پیسا کما رہے اور کاروبار کرنا سیکھ رہے ہیں۔

تو جناب حرفِ آخر بات یہی ہے کہ اپنے بچوں کی روٹین لائف میں ان کے ساتھ مل کر کوئی مفید تبدیلی  لائیں۔۔ ان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنا سیکھنے دیں۔ کسی دکان پر روزانہ چند گھنٹے لگوایں یا پھر چھوٹی سی مالیت کے ساتھ ان کو خود ہی آغاز کروائیں۔ چھوٹا موٹا کاروباری نقصان ہو یا کوئی وقتی کاروباری پریشانی ، ان سب سے ابھی سے پالا پڑنے دیں ۔ یقین کریں آپ کا اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ کسی کاروباری سرگرمی میں مصروف رکھنے کا فیصلہ ان کے روشن مستقبل کا بہترین آغاز ہو گا ۔

میاں جمشید
میاں جمشید
اس تحریر کے لکھاری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مثبت طرز ِِِ زندگی کے موضوعات پر مضامین لکھتے اور ٹریننگ دیتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔