• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • زندگی:پانی کا بلبلہ،امید کا پھول،تشکر کے آنسو۔۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

زندگی:پانی کا بلبلہ،امید کا پھول،تشکر کے آنسو۔۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ محترم و پیارے احباب!
سلامتیاں، ڈھیروں پیار، نیک خواہشات اور محبت بھری پرخلوص دعائیں۔
چند دنوں سے بائیں ٹانگ اور پیٹ کے جوائنٹ پہ درد تھا جو کل شدت اختیار کر کے پیٹ کے بائیں حصے میں پسلیوں تک پھیل گیا اور میں جان بلب کیفیت کو چھوتے ہوئے احباب سے رابطے کی کوشش کرنے لگا۔ بیگم حضور میکے گئیں ہوئیں ہیں جہاں ان کی طبیعت کافی ناساز ہے اور 18 تاریخ کو ان کی MRI متوقع ہے جس کی رپورٹ ملنے کے بعد ڈاکٹر کو چیک اپ کروا کر ہی ان کا آنا ممکن ہو گا، ان کی صحت کے لئے بھی خصوصی دعاوں کی درخواست ہے۔ تو گھر میں میرے لئے درد کی شدت کی وجہ سے بستر سے وہیل چیئر پر منتقل ہونا بھی مشکل ہو گیا۔ جو ایک دو ڈاکٹرز کے فون نمبر موجود تھے ان پر رابطے کی کوشش کی تو جواب ندارد ۔۔۔۔ ایسے میں دیازی بیٹیا سے ان باکس میں پوچھا کہ کوئی ڈاکٹر ہو تو رابطہ ہو سکے ۔۔۔ بیٹیا نے کمال شفقت و مہربانی سے پوسٹ لگا دی جسے محترمہ سیدہ و پیاری شانزے بیٹیا و دیگر احباب نے بھی پوسٹ / شئیر کیا۔ جس کے نتیجے میں احباب نے رابطہ کیا تسلی دی۔ محترم احتشام الدین حیدر صاحب کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب سے فون پر بات ہوئی، انہوں نے دوائی و ٹیسٹ تجویز کیا۔ دوائی لی تو آہستہ آہستہ درد میں افاقہ ہوا اور درد میں افاقے کے ساتھ نیند آ گئی۔ دوپہر کے بعد احتشام صاحب اپنے گھر سے کھانے کے ساتھ تیمارداری کو تشریف لائے۔ شام میں عظیم صاحب تیمارداری کے لئے تشریف لائے اور بہت حوصلہ دیا۔ لیبارٹری فون کر دیا تھا جن کا نمائندہ آج صبح آ کر ٹیسٹ کے لئے نمونہ لے گیا ہے۔ دعا کیجئے گا اللہ کریم خیر و عافیت والا معاملہ فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ درد کی شدت میں تکلیف اتنی تھی کہ زندگی پانی کے بلبلے سے بھی نازک محسوس ہو رہی تھی اور جب درد کم ہوا تو سب محسنین کے لئے تشکر کے آنسو آنکھوں میں تھے اور تصویر میں نظر آنے والا پھول آج کا واحد پھول تھا جو گملے میں کھلا مجھے امید دلا رہا تھا۔ اور یہ پھول آپ سب احباب کی محبتوں، دعاوں، خلوص اور کوششوں کی نذر، میں تہہ دل سے سب کا ممنون ہوں۔ اللہ کریم آپ سب کو اجر عظیم عطاء فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

یہ ساری تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ ہاتھ جوڑ کر سب سے التجا کروں کہ اگر سانس چل رہے ہیں تو اپنے پیاروں کو سینے سے لگا لیجئے۔ جس سے ناراض ہیں اسے معاف کر دیجئے۔ جو آپ سے ناراض ہیں ان سے معافی مانگ لیجئے۔ جن کو سینے سے نہیں لگا سکتے انہیں بھی معاف کر کے زندگی میں آگے بڑھ جائیے۔ جن کا آپ کو احساس ہے انہیں بتا دیجئے کہ آپ ان کے ساتھ ہیں۔ جن سے ملے عرصہ ہوا ان سے مل لیجئے، فون کر لیجئے۔ میں نے ایک سال میں اپنے شفقت و محبت کے پیکر ابو جان، بھائیوں جیسے پیارے کزن و بہنوئی، خوشدامن اور کئی رشتے دار و دوست احباب راہی ملک عدم ہوئے دیکھے ہیں۔ میں تو وہیل چیئر پر ہونے کے باعث جنازوں کو کندھا تک نہ دے سکا۔ اس موقع پر مجھے اپنے ایک انتہائی شفیق استاد محترم یاد آئے اور ساتھ ان کے اکلوتے چچا مرحوم۔ استاد محترم کے چچا مرحوم وجیہہ و خوبرو شخصیت کے مالک، میدان وکالت کے شہسوار تھے، اپنے زمانے کے کامیاب ترین وکلاء میں شمار ہوتا تھا ان کا اور بجا طور پر اپنے شعبے کے فسوں گر تھے۔ عدالت میں جب دلائل دینے آتے تو وکالت و علم سیکھنے کے متوالے اس عدالت میں جمع ہو جاتے۔ مرحوم کا شستہ ہفت زباں انداز بیاں عدالت پر سحر طاری کر دیتا۔ آواز کا اتار چڑھاو شائستگی کا دامن کبھی نہ چھوڑتا۔ قانون تو ایک طرف ساری دنیا کے ادب نے جیسے آپ کے نہاں خانہ ذہن سے ہی جنم لیا تھا۔ ادب و شاعری و ہر علاقے و ملک کی ثقافت سے آپ کی شناسائی قابل رشک تھی اور آپ کائنات بھر سے مثالیں پیش کر کے اپنے دلائل کو مظبوط کرنے کے فن کے استاد تھے۔ اپنے وقت کے جسٹس صاحبان اپنے بچوں کو وکالت سیکھنے کے لئے آپ کے چیمبر میں بھیجا کرتے تھے تو ۔۔۔۔۔ ایک دن لاہور ہائیکورٹ کیسز سے فارغ ہو کر اسلام آباد سپریم کورٹ کسی کیس کے سلسلے میں جا رہے تھے ۔۔۔۔ راستے میں اللہ جانے کار کیسے الٹ گئی کہ  موقع پر ہی اتنے پیارے انسان کو اللہ کریم نے اپنے پاس بلا لیا۔ اللہ کریم انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطاء فرمائے آمین ثم آمین۔ جنازے کے بعد ایک دن استاد محترم سے ان کے اکلوتے چچا کی تعزیت کی تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں کہ اکلوتے چچا سے کچھ معاملات کے باعث ناراضگی چل رہی تھی کہ وہ راہی ملک عدم ہوئے تو اب ہم چچا کہاں سے ڈھونڈ لائیں۔؟ پھر استاد محترم نے بتایا کہ شاہد جو کوئی مجھ سے ناراض تھا میں نے اس کے پاس جا کر اس سے معافی مانگ لی، اس کے سینے سے لگ گیا اور جس سے میں ناراض تھا اسے معاف کر دیا اس کے پاس جا کر ناراضگی دور کی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ اور یہی سبق آج میرے سب احباب کے لئے ہے۔ بلکہ التجا ہے کہ کوئی مجھ سے ناراض ہے تو مجھے اللہ کریم کی رضا کے لئے معاف فرما دے۔ اور میری کسی سے کوئی ناراضگی نہیں۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔ سلامت رہیں۔ اللہ کریم آپ سب کو ہمیشہ اپنی رحمت، محبت اور حفاظت کے حصار میں محفوظ و مامون رکھے اور صحت و سلامتی و سکون کے ساتھ خوشیوں اور خوشحالی والی بابرکت و کامیاب عمر خضر عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *