مصباح بھائی ہماری بھی سنیں(حصّہ اوّل)۔۔جنید منصور

مصباح بھائی   آپ کے آنے سے  دل و جان سے   خوشی ہوئی تھی  کہ آپ جیسا کرکٹ کو سمجھنے والا اور انٹرنیشنل لیول پر اپنا لوہا منوانے وا لا شخص اب ہمارا  کوچ ہے۔  آپ سے توقعات تھیں اور ہیں کہ آپ  پاکستان کرکٹ ٹیم کی ڈولتی نیا کو  کنارے تک لے جائیں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ  ہمارے خون  میں بستی ہے۔ بس عرض یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کچھ دیرینہ مسائل  آپ سے بیان کر کے دل ہلکا کر لوں ۔کرکٹ سے آپ کی محبت اور کرکٹ کے لیے آپ کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ لہذا میں ہائے گل چلاتا ہوں اور آپ ہائے دل پکاریں ،اس طرح سے   بقول شاعر خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔ جو عرضداشتیں آج میں  پیش کرنا چاہ رہا ہوں  ان کا تعلق پاکستان  ٹیم کی اوپنگ سے متعلق مسائل سے ہے اور بے شک آپ ان سے آگاہ ہیں ۔

اوپنگ پیئر ہماری ٹیم کا بہت پرانا  مسئلہ ہے۔ یہ گھاؤ اتنا گہرا اور زخم اتنا پرانا ہے کہ  اب ناسور بن چکا ہے۔ جدید کرکٹ میں  اوپنرز نے تیزی سے  رنز بھی کرنا ہوتے ہیں  اور اپنی وکٹ بھی بچانی ہوتی ہے۔یہ ہر دو  خوبیاں ہماری ٹیم میں عنقا ء ہیں۔ تیز کھیل نہیں سکتے  اور وکٹ پر ٹھہرنا ناممکن ۔سوئنگ ہوتی ہوئی گیندوں سے چھیڑ چھاڑ  اور وکٹ عطیہ کرنے کی عادت تو  پرانی ہے مگر  افسوس اس بات کا کہ فلیٹ  وکٹوں پر بھی  ٹھہرنا ہمارے پلیئرز کے بس سے باہر ہے۔ گیند کی لائن میں آنا اکثر اوقات  ہمارے اوپنرز کے لیے سعی لاحاصل ہوتا ہے۔ آپ میری بات سے اتفاق کریں گے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں اوپنرز کے لیے دو  چیزیں  از حد ضروری  ہیں،بیک فٹ پر ڈرائیو کرنے کی صلاحیت اور  ہک اور پُل کرنے کی  کامل مہارت۔ بین لااقوامی معیار کا کوئی بھی بولر،  چاہے وہ  کینیا کا ہی کیوں نہ ہو، آپ کو ڈرائیو کرنے کے لیے کبھی بھی بال  تحفہ نہیں کرے گا۔ہمارے موجودہ اوپنرز  ان دو  مہارتوں میں  ابھی خام ہیں۔

بات اگر اوپنرز کی ہی چلی ہے تو  آ ئیں فٹ  ورک کی بات بھی کر لیں۔  ہمارے تمام آزمودہ اور موجودہ اوپنرز  کے بیٹ اور پیڈ میں  ہمیشہ  ایک ممتاز قسم کا خلا پایا جاتا ہے جس کے لیے  سابق انگلش وکٹ کیپر اور کمنٹیٹرجیفری بائیکاٹ کہا کرتے تھے کہ وہ   ان اوپنرز  کے  بیٹ اور پیڈ  کے درمیان میں سے  اپنی گاڑی گزار سکتے ہیں۔ آف سٹمپ کہاں ہے، آف سٹمپ کی کونسی  گیند کو چھوڑنا ہے اور کس کو کھیلنا ہے ،  آف سٹمپ کی چوتھی اور پانچویں  وکٹ والی بال کو کھیلنا ہے یا چھوڑنا ہے یا پھر  کٹ شاٹ یا بیک فٹ پر ڈرائیو کرنا ہے  یہ سبق ابھی ہمارے اوپنزر کے سیکھنے کے لیے  باقی ہیں۔اور آخر میں یہ کہ  گیند  کی  لائن میں کب اور کیسے آنا ہے ، بال پر کتنا جھکنا ہے،  کلائی سے کھیلنا ہے یہ  بیٹ کو بالکل  آخری سِرے سے پکڑنا ہےاور گیند کی  لائن میں آتے ہوئے  ایک اچھی گیند کو بھی کیسے   ٹائم کرنا ہے کہ وہ باؤنڈری کے باہر جا کر رُکے یہ سب باتیں یقیناً آپ اور ہمارے پلیئرز جانتے ہیں مگر  ضرورت اس  امر کی ہے  کہ اس پر  نیٹ پریکٹس سے ہٹ کر  میچوں میں عمل کر کے بھی دکھائیں۔

ایک دوست سے میری  بات ہو رہی تھی  موصوف سمیو لیشن کے ماہر ہیں کہنے  لگےکور ڈرائیو بھی کوئی  مشکل کام ہے بھلا۔ اپنے پلیئرز کو تین دن  روزانہ  تین  ہزار بار کور ڈرائیو کی  پریکٹس کروائیں، دیکھتا ہوں کیسے  ماہر نہیں ہو جاتے۔ بات ان کی بہت حد تک ٹھیک بھی تھی جب آپ کی زندگی ایک ہی کام کرتے ہوئے گزری ہو،  آپ ابھی بھی اسی کام میں مگن ہوں اور پوری قوم کی تو قعات کا اضافی بوجھ بھی آپ کے  شانوں  پر ہو تو آپ  اپنے کام میں ماہر نہ ہوں تو بات نہیں بنتی۔اب  آپ  پاور ہٹنگ کو ہی لے لیں۔ اول تو  اوپنرز کا کام پاور ہٹنگ نہیں بلکہ گیند کو اس کے میرٹ پر کھیلتے ہوئے  اپنی ٹیم کو ایک عمدہ آغاز فراہم کرنا ہوتا ہے۔ بالفرض اگر  وہ ٹی۔ٹوینٹی میں پاور ہٹنگ کرنا ہی چاہتے ہیں، ون ڈے کو نکال کر، تو اس کے لیے بھی تکنیک ضروری ہے۔  یا تو بال کو میرٹ پر کھیلتے ہوئے شاٹ  لگائیں  یا  پھر یہ طے کر لیں کہ ہر اوور کی  کون کون سی گیند پر  بس ہٹ لگانی ہی ہے۔ چاہے جو بھی کریں اپنی وکٹ مخالف ٹیم کو عطیہ نہ کریں یہ بات ابھی ہمارے کھلاڑیوں  کے سیکھنے والی ہے۔ پاوور ہٹنگ کے لیے بیلنس بہت ضروری ہے آپ ہمارے کھلاڑیوں کو  سکھائیں۔ گالف کا کھیل   پاور اور بیلنس کی ایک عمدہ مثال  ہے۔ یا پھر  آپ بیس بال کو مدنظر رکھ لیں۔ ہر دو کھیلوں میں بیلنس، لائن میں آنا اور ٹائمنگ سب سے پہلے آتی ہیں۔ اندھا دھند  کچھ بھی نہیں ہوتا۔

اوپنرز کے پاس ایک پلان ہوتا ہے، کس بالر کو احتیاط سے کھیلنا ہے، کس بالر پر  اٹیک کرنا ہے، نئی گیند پر  سٹروک کب کھیلنا  شروع کرنے ہیں، ہر  اوور میں کتنی بالز ڈاٹ  کھیلنی ہیں، سٹرائیک روٹیشن کا کیا فارمولا ہے، سپنرز کو کیسے کھیلنا ہے، کونسا سپنر کس انداز سے بال کرتا  ہے، کونسا فاسٹ بالر کس انداز سے بال کرتا ہے، وکٹیں ایشیا کی ہیں یا  آسٹریلیا کی یا انگلینڈ کی وغیرہ وغیرہ۔  ہمارے اوپنرز جب بھی  کریز پر جاتے ہیں ان کے مدنظر  صرف اپنی وکٹ بچانا ہوتی ہے،  بعض شائد جاتے ہی  وکٹ گنوانے کے لیے ہیں۔ پھر جب  وکٹ پر کھڑے ہوتے ہیں تو آپ کی  باڈی لینگوئج بتا دیتی  ہے کہ آپ کیا کرنے والے ہیں۔ ہمارے اوپنرز کی سہمی سہمی نگاہیں یقینا   مخالف بالرز کو  اس کبوتر کی یاد  دلاتی ہوں گی جو بلی سے چھپتا چھپتا   عین بلی ہی کے امنے آ کھڑا ہو۔سلوک بھی ہمارے اوپنرز کے ساتھ عموما کبوتروں  والا ہی کیا جاتا ہےاور وہ چھپاک کے  ساتھ پویلین میں واپس آ جاتے  ہیں۔

اگلے کالم  میں ہماری ٹیم میں اعتماد کی کمی   ،   مڈل آرڈر بیٹنگ ، جینوئین آل راؤنڈر کی کمی اورفاسٹ اور سپن  بالنگ سے متعلق گزارشات پیش کروں گا

جاری ہے۔