جمہوریت یا کلانیت

گزشتہ روز ایک”نوحوالدار” کی تحریر دیکھی تھی، اس کے متعلق کچھ لکھنے کا ارادہ تھا لیکن ایک بات یاد نہیں آرہی تھی۔ اس سلسلے میں مرشد حیدر جاوید سید صاحب سے رہنمائی لی اور خیال تھا کہ آج لکھوں گا۔ پھر بیچاری عائشہ گلالئی کا پتلی تماشا بیچ میں آگیا جس نے ثابت کر دیا کہ ہماری قومی سیاست الحمد للہ آج بھی 88ء کی سطح پر کھڑی ہے ۔۔۔۔ فرق ہے تو صرف الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا جو کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہنے دیتے۔

آمدم بر سر مطلب، اس بیچارے حوالدار کی ذہنی سطح بھی ہمارے نوزائیدہ دانشوروں کے برابر ہی دکھائی دی ۔۔۔ اس نے تحریر کیا تھا کہ ن لیگ نے وزیر اعظم آزاد کشمیر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے بیانات دلوا کر اسٹیبلشمنٹ کو للکار دیا ہے اور اب اسٹیبلشمنٹ اس کا جواب دے گی۔

پہلے تو جی چاہا کہ اس شیرخوار کی پوسٹ پر کچھ کہوں، لیکن ایک تو میں کسی وال پر اختلاف کرنے کو مناسب نہیں سمجھتا اور دوسرے یہ سوچا کہ سب نوجوان دوستوں کو بھی یہ بتاؤں کہ ہماری پیاری مسلم لیگ ن، اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور پھر مظلوم بننے کا جو تاثر دیتی ہے، اس کی حیثیت عائشہ گلالئی کے ناٹک سے زیادہ نہیں۔ ن لیگ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی نخریلی محبوبہ رہی ہے اور جیسی”لبرٹی” اسے حاصل ہے، پیپلز پارٹی یا کسی دوسری جماعت کو کبھی نہیں ملی۔

سن 1988ء میں جب جرنیلوں کی خواہشات کے علی الرغم محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور نواز شریف صاحب کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر اکتفا کرنا پڑا تو اسی مسلم لیگ نے “وفاق کو کمزور” کرنے والے وہ اقدامات اٹھائے جو اگر ولی خان مرحوم نے اٹھائے ہوتے تو محاورے کے مطابق ان کا زن بچہ کولہو میں پلوا دیا جاتا۔ یہ وہ دور تھا جب آئین کی 18ویں ترمیم ہونے میں بیس بائیس برس باقی رہتے تھے۔

صرف بے نظیر مخالفت میں حکومت پنجاب نے صوبے کے مالی معاملات نیشنل بینک آف پاکستان سے واپس لینے کے لیے بینک آف پنجاب قائم کیا۔ یوں وفاق سے الگ پہلا صوبائی بینک مسلم لیگ نے قائم کیا، دیگر بینک بعد ازاں وجود میں آئے۔ اسی پنجاب حکومت نے پی ٹی وی کی مرکزی پالیسی سے الگ ہو کر پنجاب ٹی وی قائم کرنے کی کوشش بھی کی اور سب سے بڑھ کر وفاقی کنٹرول سے آزاد بین الاقوامی تجارت کا شوشہ بھی چھوڑا گیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اقدامات غیر آئینی نہیں تھے ۔۔۔ تجارت کے سوا بقیہ غیر آئینی نہیں تھے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ایسی “آزادی”مسلم لیگ کے علاوہ بھی کسی کو حاصل رہی ہے یا نہیں۔

چھ اگست 1990 کو بے نظیر کی منتخب حکومت کو صدر غلام اسحٰق خان نے رخصت کیا تو عدالت نے اس کی توثیق کر دی جبکہ 1993 میں نواز شریف حکومت برطرف کی گئی تو سپریم کورٹ نے بحال کی۔ سیاسی بحران بڑھا تو اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کی”تالیف قلب” کے لیے غلام اسحٰق خان کو بھی میاں صاحب کے ساتھ رخصت کرنا قبول کر لیا۔

اپنے دوسرے دور حکومت میں مسلم لیگ نے جسٹس سجاد علی شاہ کو سبق سکھایا تو اسٹیبلشمنٹ خاموشی سے تماشا دیکھتی رہی۔ فاروق لغاری کو رخصت کیا گیا تو اسٹیبلشمنٹ لا تعلق رہی۔ حتیٰ کہ جنرل جہانگیر کرامت کا استعفیٰ لیا گیا تو فوج نے برداشت کیا۔ ایسی جرات کسی اور جماعت نے کی ہوتی تو جرنیلوں کے عتاب کا شکار ہونا لازم تھا۔ یہاں تک 12 اکتوبر 99 کو بھی مارشل لاء کے دوران اور بعد مسلم لیگ کو وہ کچھ نہیں سہنا پڑا جو 1977 کے بعد پیپلز پارٹی کا مقدر ٹھہرا تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ 1999 کا فوجی اقدام نواز شریف صاحب کی جس حرکت کے باعث ہوا، ایسی حماقت 1958، 1969 اور 1977 میں نہیں ہوئی تھی۔ امریکا اور سعودی عرب کی مداخلت پر شریف فیملی کو ایک معاہدے کے تحت ملک سے باہر بھیجا گیا، گویا ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ نے میاں صاحب کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو بھٹو مرحوم کا مقدر ٹھہرا تھا۔

جن دنوں جنرل کیانی نے مشرف کو رخصت کرنے کا فیصلہ کیا، انہی دنوں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ن لیگ کی قربت، کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مشرف کے بعد جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ن لیگ کے”خفیہ تعلقات” بھی میڈیا پر رپورٹ ہوتے رہے۔ شہباز شریف اور چوھدری نثار کی جنرل کیانی کے ساتھ نصف شب کی ملاقاتوں کی کہانیاں سب کو معلوم ہیں۔ یہاں تک میمو گیٹ سکینڈل میں بڑے میاں بنفس نفیس اسٹیبلشمنٹ کی کمک کو سپریم کورٹ پہنچے۔

2013 کے الیکشن میں جس طرح کیانی نے ن لیگ کو سپورٹ کیا، اس کی کہانی آپ جناب حیدر جاوید سید کے کالموں میں پڑھ چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو دباؤ میں رکھنے کے لیے ن لیگ کے میڈیا سیل نے جس طرح شکریہ راحیل شریف مہم چلائی، ڈان لیکس جیسے معاملات سامنے آئے اور ان پر اسٹیبلشمنٹ نے خاموشی اختیار کی، یہ”سہولت” کبھی کسی دوسری سیاسی جماعت کو نہیں دی گئی۔

اسٹیبلشمنٹ نے تینوں چھوٹے صوبوں میں فوجی آپریشنز کیے لیکن پنجاب کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا گیا۔ ہر سیاسی جماعت کے کرتا دھرتا، ان آپریشنز کی زد میں آئے لیکن یہاں بھی ن لیگ کو خصوصی استثنا حاصل رہا۔ ماڈل ٹاؤن سانحہ ہو یا کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کی بم دھماکے میں ہلاکت، ہر موقعے پر اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ واضح طور پر ن لیگ کی جانب نظر آیا لیکن دوسری جانب سے مسلسل یہی واویلا جاری رہا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔

حضور ۔۔۔۔ جتنی ناز برداری آپ کی ،کی گئی ہے، اتنی تو کوئی نئی نویلی محبوبہ کی بھی نہیں کرتا لیکن آپ شاید “ایبسولیوٹ پاور” چاہتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ پھر آپ کو جمہوریت کے نعرے لگانے کی بجائے علی الاعلان “کلانیت”کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔

ژاں سارتر
ژاں سارتر
ہر شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *