نبی کریم بحیثیت معلم ومربی: تعلیم کی اہمیت

نبی کریم، معلم اول صلى الله عليه وسلم کی ذات گرامی ایک کامل معلم کا نمونہ ، ایک بھرپور مربی کی تصویر، جن کی ایک مختصر عرصے کی محنت سے اس کائنات کو ایک ایسی نگری دیکھنے کو ملی جس میں بسنے والے کامیاب تربیت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت تھے جو قیامت تک کے لئے "اہل فضیلت" کی جانچ کے لئے ایک پیمانہ اور تعلیمی اداروں اور مدارس کی آزمائش کے لئے مقیاس بن گئے۔ چناچہ پیغمبر خدا صلى الله عليه وسلم کی ذات کے ان گوشوں اور پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے جن کا ایک معلم ومربی سے عمیق تعلق اور گہرا رشتہ ہے تو اس سے "تعلیم" کی اہمیت کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔

بلاشبہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ انسان اسی وقت ترقی کر سکتا ہے جب اس کے دل میں اس کی اہمیت جاگزیں ہو اور وہ اسے کائنات کی اہم ترین چیزوں کی فہرست میں شمار کرتا ہو، جب اس کا اس پر کامل ایمان ہو کہ انسانیت کا کارواں اس کے بغیر اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا اور بشریت کا طائر اسے ساتھ لیے بنا اپنے کمال کی بلندو کشادہ فضاوں میں نہیں اڑ سکتا۔ چناچہ"تعلیم" کا سرور کائنات کے ہاں،جن کی بعثت کا مقصد ہی تعلیم وتربیت کے گرد گھومتا ہے، جو مقام تھا وہ سیرت رسول کے مندرجہ ذیل واقعے سے بخوبی وآسانی جانا جا سکتا ہے جو علامہ منذری کی "الترغيب والترہيب" میں آیا ہے:
"ایک مرتبہ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ میں بیان کیا اور کچھ مسلمانوں کی تعریف فرمائی، اس کے بعد فرمانے لگےکہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ان کا یہ حال ہے کہ اپنے پڑوسیوں میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرنے اور انہیں اسلام کی تعلیم دینے کی کوشش کرتے ہیں نہ ان کے حال کی اصلاح کی فکر کرتے ہیں، انہیں نیک کاموں کی دعوت دیتے ہیں نہ برے کاموں سے منع کرتے ہیں، جبکہ بعض دوسرے لوگوں کا بھی عجیب معاملہ ہے کہ اپنے پڑوسیوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں نہ ان کے ذریعے اپنے اندر دین کی سمجھ بوجھ پیدا کرتے ہیں، (میں کہہ دیتا ہوں کہ) بعض لوگ اپنے پڑوسیوں کو دین کی تعمیل دیں، ان میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا کریں، ان کے حال کی اصلاح کے لئے کوشاں ہوں، انہیں نیکی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں، اس طرح بعض لوگ اپنےپڑوسیوں سے تعلیم حاصل کریں، دین کی سمجھ بوجھ پیدا کریں اور اپنے اصلاح حال کی فکر کریں، ورنہ بخدا میں دنیا ہی میں انہیں سزا دوں گا۔ یہ بات فرما کر اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ لوگ آپس میں کہنے لگے کہ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کا اشارہ کن لوگوں کی طرف تھا ؟ (کیونکہ اللہ کےنبی صلى الله عليه وسلم نے صاف نام لے کر تنبیہ نہیں کی بلکہ مبہم انداز میں "بعض لوگ" کہہ کر گفتگو فرمائی) ، اس پر کسی نے کہا کہ (بظاہر) اشعری قبیلہ مراد ہے کیونکہ وہ دین کا علم اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ ہیں اور ان کے بازو میں بدو اور خانہ بدوش رہتے ہیں جو بالکل اجڈ اور گنوار ہیں، ہوتے ہوتے یہ بات اشعری قبیلے والوں تک پہنچ گئی، وہ لوگ فورا اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے آپ نے بعض لوگوں کی تحسین فرمائی لیکن ہماری مذمت کی اس کی کیا وجہ ہے؟ اللہ کے نبی نے (اس جواب میں وہی بات انہی مبہم الفاظ میں دہرا دی : بعض لوگ اپنے پڑوسیوں کو دین کی تعلیم دیں، ان میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا کریں، ان کے حال کی اصلاح کے لئے کوشاں ہوں، انہیں نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اس طرح بعض لوگ اپنےپڑوسیوں سے تعلیم حاصل کریں، دین کی سمجھ بوجھ پیدا کریں اور اپنے اصلاح حال کی فکر کریں، ورنہ بخدا میں دنیا ہی میں انہیں سزا دوں گا۔ اشعری قبیلے والوں نے پھر کہا: کیا ہم اوروں میں شعور اور آگہی پیدا کریں؟ اللہ کے نبی نے وہی بات دوبارہ کی، قبیلے والوں نے پھر کہا کیا ہم اوروں میں شعور اور آگہی پیدا کریں؟ اللہ کے نبی سے سہ بارہ وہ بات کی۔ اس پر اشعریوں نے کہا کہ ہمیں ایک سال کی مہلت عنایت کر دیں۔ اللہ کےنبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں ایک سال کی مہلت عطا کی تاکہ وہ ان میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا کریں، انہیں تعلیم دیں اور ان کے حال کی اصلاح کریں، اس کے بعد اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے سورة المائدة کی یہ آیات تلاوت فرمائیں:
لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (۷۹-۷۸)
ترجمہ: بنی اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داود اور عیسی بن مریم عليهما السلام کی زبانی لعنت بھیجی گئی، یہ اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حدیں پھلانگتے تھے، (وہ نافرمانی یہ تھی کہ) جب وہ کوئی برا کام کرتے تو ایک دوسرے کو اس سے روکتے نہ تھے، کیا ہی برا کرتے تھے!

اس تفصیلی واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم کی اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کے نزدیک کیا حیثیت تھی، حتی کہ آپ نے تعلیم حاصل کرنے میں کوتاہی اور سماج کے نا خواندہ افراد کو تعلیم دینے میں غفلت ایک اجتماعی قابل تعزیر جرم قرار دیا، نیز کئی روایات میں علم چھپانا گناہ قرار پایا اور اس حدیث سے ہمیں "لازمی تعلیم" (Compulsory Education)کا تصور ملتا ہے۔
اس حوالے سے یہ روایت بہت مشہور و زباں زد عام ہے اور صحیح بھی کہ:
طلب العلم فريضة على كل مسلم (الجامع الصغير للسيوطي، وحكم الشيخ الإلباني: صحيح)
ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے (یہاں مسلمان میں مرد و زن دونوں شامل ہیں)
ذرا سوچیں کہ جس دین کی پہلی وحی ہی "پڑھو" سے شروع ہوتی ہو، وہ ناخواندگی کو کیسے برداشت کر سکتا ہے اور اس کے پیغمبر سماج میں جہالت کیسے روا رکھ سکتے ہیں؟!

نوٹ: الترغيب والترهيب سے اوپر جو حدیث نقل کی گئی ہے اسے علامہ منذری رحمه الله تعالى نے اپنی کتاب میں "عن" کے ساتھ نقل کیا ہے اور جو روایت وہ "عن" کے ساتھ لائیں، وہ ان کے نزدیک کم از کم "حسن" درجے کی ہے یا اس کے قریب قریب، جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمے میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جو روایت ان کے ہاں صحیح، حسن یا اس کے قریب قریب ہو، اسے وہ "عن" کے ساتھ نقل کریں گے۔ نیز علامہ منذری کو حدیث میں امامت کا درجہ حاصل ہے اس لئے ان کا کسی حدیث کی سند پر اعتماد ایک معنے رکھتا ہے اور اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ اور عبد الفتاح ابو غدہ رحمه الله تعالى نے بھی اپنی کتاب "الرسول المعلم وأساليبه في التعليم" کے حاشیے میں اس پر اعتماد کیا ہے۔

Avatar
مشرف بیگ اشرف
اسلامیات کا طالب علم اور کمپیوٹر پروگرامر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *