سوال ایک بستر کا

خبر دلسوز تھی البتہ دل جلانے سے کہیں بہتر دلجوئی کرنا ہے؛ دلجوئی ان کی جن کا دل آگے جا کہ ٹوٹنے کو ہے۔ یہ بات بھی جان لی جائے کہ خونی رشتے کو لحد کے سپرد کرنا دل ٹوٹنے اور جگر پھٹنے سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے۔ مزید یہ کہ معاشرے میں حسن نثار جیسے لوگ پہلے ہی بڑی تعداد میں مہیا ہیں مقصد جن کا مایوسی اور فقط مایوسی پھیلانا ہی ہے۔ نسلی و اصلی صابر “ان اللہ مع الصابرین” کا ورد جاری رکھتا ہے۔ بعض اوقات البتہ ایسے رویوں کا سامنا ہو کر رہتا ہے جن کے سامنے اچھا بھلا صابر شاکر بھی جھلا کر روپوشی اختیار کر جانے کو ترجیح دے۔ حافظ صفوان کی جگہ گر میں ہوتا تو شاید ایسا ہی ہوتا۔ اللہ مگر جس کے ساتھ ہو اسے کسی کوڈو بابے سے سروکار تو کیسا؟

خبر پر واپس آنا بنتا ہے۔ جناح ہسپتال میں موبائل سے بنی ایک ویڈیو سامنے آتی ہے۔ ایک (غالباً سرائیکی) خاتون اپنی بوڑھی ماں کو زمین پر لٹائے انٹرویو دیتی دکھائی دے رہی ہیں۔ خاتون بے ایک ضعیف العمر مریض کو فرش پہ لٹایا ہوا ہے جو بقول میڈیا ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے بعد ازاں مریض کی جان لے بیٹھا۔ یہ بات جان لی جائے کہ یہ واقعہ ایک المیے سے کم ہر گز نہ تھا۔ افسوسناک حقائق جن کی جانب توجہ مبذول کروانا مقصود ہیں بہرحال کچھ الگ ہیں۔

راقم الحروف کی ملک کہ بظاہر خستہ حالات پہ جب جب جس جس سے بھی بحث ہوئی، قصوروارانِ خاص میں سیاستدان سرفہرست، میڈیا دجال کے نام سے یاد ہوتا پایا۔ یہی میڈیا البتہ دجال کہنے والوں کے نزدیک خبر کی تحقیق کرنے کا حکم دی جانے والی آیت سے بڑھ کر “کھرا سچ” بن جاتا ہے۔ شرط بس یہ کہ ان کے خیالات و خواہشات کے موافق خبر اڑا دی جاوے۔ “ایمان لایا اے آر وائی پہ” کی گردان کرنے والوں نے بلا تحقیق خبر پہ ایمان لا کر سنت عمرانی پہ عمل پیرا ہونے کا ثبوت دیا اور لعنت بر شریفین کی تسبیح بتعداد سوا لاکھ چیے موجود فی الوقت کا ذکر ازراہِ عادت شروع ہو چلا۔ حافظ جی کی غلطی بلکہ شاید گناہ کبیرہ (کیلیفورنیا کی عدالت کے فیصلے سے شاید بڑھ کر) یہ کہ وہ مستقبل میں گھائل ہونے والے دلوں کہ بارے میں کچھ سوچ بیٹھے۔ ایک جانب خبر کی تحقیق کہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے جبکہ دوسری جانب فنڈ ریزنگ کہ آئیندہ کسی کی ماں کو جناح ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پہ بھیک میں موت نہ ملے۔ حافظ صفوان نے صدا لگائی “ایک بستر کا سوال ہے”۔ مقصد نیک تھا مگر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فرق نہ جان کر بھی سیاسی گرو کہلانے والوں سے یہ پراجیکٹ ہضم نہ ہوا اور یوں اس دودھ میں دودھ پیتے میمنوں کی جانب سے مینگیاں گرا دی گئیں۔ منہ کے مجاہدین نے سرعام منہ کالا کیا اور حافظ کی شخصیت کو جانے بغیر سوشل میڈیا کے ایک بونے کردار کی جانب سے غلاظت کا ڈھیر تحریر کر دیا گیا۔

مکالمے کا عنوان یہاں بس اتنا ہے کہ سوال تو فقط ایک بستر کا تھا وہ بھی ان غریبوں کے لیے جو فرش پر لیٹے موت کی آغوش میں جا پہنچتے ہیں۔ سوال بس یہ تھا کہ مستقبل میں ایسے کسی مجبور کو کیونکر لحد میں اتارا جائے جبکہ اس کا سدباب موجود ہو۔ سوال صرف یہ تھا کہ حکومت بالفرض اگر اپنی ذمہ داری پوری نہیں بھی کر رہی تو معاشرے کے افراد کی اس صورت میں کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ سوال یہ تھا کہ ویڈیو بنانے والے نے خاتون کی موت سے پہلے اسے فقط ایک بستر مہیا کرنے کے لیے کیا عمل کیا؟ سوال یہ تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے ڈاکٹر اور دیگر افراد پہ کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جنہوں نے ذرائع ہونے کے باوجود مرنے والے خاتون کے لئے کچھ نہ کیا؟ سوال یہ بھی تھا کہ کیا ہم حکومت پہ تمام نزلہ گرا کر خود ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟ سوال ہے تھا کہ اگر حکومت ایک جانب نااہلی دکھا بھی رہی ہے تو ہم وسائل ہوتے ہوے بھی کچھ نہ کریں؟

ارے صاحب، حکومت کی ذمہ داریوں کا اتنا ہی احساس ہے تو صوبائی حاکم اپنی ذات سے جڑے ہسپتال کی بجائے حکومتی ہسپتال میں کینسر زدہ لوگوں کے لیے الگ ڈیپارٹمنٹ کیوں نہیں بناتا؟ صوبائی حکومت کا کرتا دھرنا ہوتے ہوے بھی ایک شخص جتنی فنڈ ریزنگ اپنے ذاتی ہسپتال اور اس کی تشہیر پر کر رہا ہے اس کی آدھی صوبائی دالالخلافہ میں ایک نیا حکومتی کینسر ہسپتال بنانے پہ کیوں نہیں کر رہا؟ اور اگر آپ کا محبوب ایسا کر سکتا ہے تو حافظ صفوان کی جانب سے چند بیڈز کی درخواست پر اتنی تکلیف کیوں؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *