خدا آباد، تالپور خاندان کا تاریخی مقبرہ

ہ تالپور خاندان کا تاریخی مقبرہ ہے، اس کو خدا آباد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کے آثار تاریخی کتب میں بھی بکثرت ملتے ہیں. انگریز مورخ ٹی پوسٹن اپنی کتاب Personal Observations on Sindh مترجم ایچ ایم بھنبھرو صفحہ نمبر 136 پر لکھتے ہیں کہ حیدر آباد سے آگے ایک مقام ہے جسے خدا آباد کہتے ہیں، جس کو میر فتح علی اور میر غلام علی خاص طور پر پسند کرتے تھے۔ کسی زمانے میں یہ سندھ کا دارالخلافہ رہا۔ اکثر تالپور خاندان گھرانے کے سردار یہیں مدفون ہیں۔ خود یہ دونوں بھائی بھی اس مقبرے میں مدفون ہیں.
اسی حوالے سے یہ مقبرہ بہت اہم شخصیات کی قبروں سے بھرا پڑا ہے۔ تین سو سال یہ پرانا مقبرہ جہاں اس وقت اپنی آب و تاب کے ساتھ ہمیں تاریخی قلعے کی نشانیاں دکھاتا ہے وہاں ہمیں تالپور گھرانے کے حکومتی عروج و زوال کی داستان کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے.
کلہوڑا دورِ حکومت کے بعد تالپور خاندان نے حکومت پر اپنے پاؤں جما لیے، دوسرے حکمرانوں سے ہٹ کر یہ نرم خو، سادہ مزاج، پرامن لوگ تھے۔ اپنے دور حکومت میں کسی دوسرے علاقوں پر خونی یلغار نہیں کی۔ ہمیشہ اپنی موج مستیوں میں لگے رہے، دوسرے حکمرانوں کی طرح سندھ دھرتی کی ترقی کے لیے کوئی اچھا قدم نہیں اٹھایا، الٹا آباد شدہ زمینوں کو تباہ کرکے شکار گاہیں بنا لیں۔ تالپور شکار کے شوقین، مال اولاد سے زیادہ شکار گاہیں عزیز تھیں۔ انگریزوں سے اَن بن کے دور میں بھی جب کوئی معاہدہ ہوتا تو اس میں شکار گاہوں کے حوالے سے خصوصی شقیں شامل کی جاتیں۔ کورٹ کچہری میں بھی آخری بات شکار ہوتی تھی۔ شکار میں کتوں کے ساتھ دیسی بندوقیں استعمال کرتے تھے، لیکن جس دن شکار کے لیے نکلتے اس دن گاؤں دیہات والوں کے لیے عذاب، پورا گاؤں ان کے شکار میں شامل ہونا لازمی تھا۔ ظلم یہ کہ پورے لشکر کا کھانا رہائش کسی غریب کے سر ہوتا۔ دعوت دینے کے بعد بھی کوئی غریب ان کے ساتھ شکار کھیلنے میں مدد نہ کرتا اس کو سخت سے سخت سزائیں دیتے۔ اسی وجہ سے غریب ہفتوں ہفتوں اپنے کام دھندے سے محروم، الٹا ان کی کھیت کھلیانوں کو لتاڑ کر ان کا ستیاناس کر دیتے تھے.
ہمیشہ مختلف گروہوں میں بٹے رہتے تھے، لیکن باہر سے کسی نے کسی ایک تالپور کو تنگ کیا تو سب اختلاف بھلا کر ایک ہوجاتے تھے۔ اس اتحاد کی وجہ سے دیر تک حکومت کر پائے، لیکن کہتے ہیں کہ غربت کے ساتھ تو حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔ جب تالپور حکمران خود غریبوں کے مال پر جری ہوگئے تھے تو ان کے کارندے غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے۔ اناج کھیتیوں پر بھاری محصول، ان کی جاگیروں کو اپنی جاگیر سمجھنا، اچھی اچھی سرسبز و شاداب زمینوں کو زور زبردستی قبضہ کرکے شکار گاہیں بنانا اور ہر طرح کے حقوق کی پامالی کی وجہ سے تالپور گھرانے کا بھی زوال آنا شروع ہوا اور یہ آپس میں بھی دست وگریباں ہونے لگے جس کی وجہ غیر ان پر جری ہوگئے۔ وہ وقت بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ انگریز جو سندھ میں ان کے معاہدے کے تحت رہتے تھے، اپنوں کی دغابازیاں اور لالچی کارندوں کی وجہ سے ان کے حکمران بن بیٹھے۔
تاریخ سندھ کے مختلف حکمرانی دور:
برہمن دور کے بعد مسلمانوں کا آنا.711ع
بنی امیہ.750ع
محمود غزنوی کا حملہ.1025ع
سومرا اقتدار.1054ع
سماں اقتدار.1551ع
ارغون اقتدار.1519ع
ہمایوں کا سندھ آنا.1540ع
ترخان اقتدار.1555ع
مغل شہنشاہ .1590ع
نور محمد کلہوڑا…1736ع
نادر شاہ کا سندھ پر حملہ.1740
افغانستان کی اطاعت.1750ع
کلہوڑا دور کا خاتمہ.1786ع

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *