معاشرتی برائیاں ، ہم اور ان کا خاتمہ

بچپن میں جب بھی بڑے بوڑھوں سے نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کا سبق سنتے تو دل میں عجیب سی خواہش اٹھتی کہ ایک دن برائی کا وجود اس دنیا سے ہمیشہ کیلئے مٹا دینا ہے ۔ایک دم ختم۔ ۔

قدرت کا کرنا ایسا ہوا ہے کہ ایک دن ایسا موقع ہمیں دے دیا گیا۔ سوال پوچھا گیا کہ اگر اس دنیا سے کسی ایک برائی کو ختم کرنے کا کہ دیا جائے تو آپ کا انتخاب کیا ہوگا؟ سوال کافی پیچیدہ محسوس ہوا ۔ بچپن کی خواہش کی تکمیل کا موقع تو دے دیا گیا لیکن ساتھ ہی ساتھ حد بھی مقرر کی ۔ خیر کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا ہی بہترہے تو یہی سوچ کر اس عظیم کام کی تکمیل کا فیصلہ کیا ۔
اب مسئلہ یہ آیا کہ برائیوں کہ اس انبار میں سے کس ایک برائی کا خاتمہ کیا جائے ، دوسرا اس کی شروعات کدھر سے کی جائے ؟دوسرے سوال کا جواب تو آسانی سے مل گیا۔ سوچا کہ برائی کو ختم کرنے کی شروعات خود سے کی جائے گی۔ پہلے خود کو صاف کیا جائے پھر دنیا کی باری۔ تقاضہ بھی یہی تھا۔
اب اس برائی کو چننے کی باری آئی۔ گردن گھما کردیکھا تو جھوٹ، چوری،حسد، منافقت جیسی مختلف معاشرتی برائیاں نظر آئی۔ جھوٹ کی جانب زیادہ کشش محسوس ہوئی۔ سو فیصلہ کیا جھوٹ کو ختم کر ڈالتے ہیں۔ اب اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا کہ اندر کتنا جھوٹوں کا انبار موجود تھا۔مقدارکچھ زیادہ محسوس ہوئی۔ اب کیا کریں جی سسٹم ہی کچھ ایسا تھا۔اب عمل کی باری آئی ۔کام کافی مشکل محسوس ہوا کیونکہ اپنا تو سارا کاروبار ہی جھوٹ پر تھا ۔ اُٹھتے ، بیٹھتے، سوتے، جاگتے، کھاتے، پیتے الغرض کوئی بھی عمل جھوٹ سے پیدل نہ تھا۔

خود سے کا فی کوفت محسوس ہونے لگی۔لیکن سچائی کا ڈر برقرار تھا۔ اب اگر جھوٹ کو ختم کرنے کے چکروں میں گھر والدین کو بتا دیا جاتا کہ آپ کا بر خوردار کو آج پورے دو ہفتے ہو گئے یونیورسٹی کا منہ دیکھے ہوئے اور وہ جو ہر وقت پڑھائی کا کہ کر فلمیں اور آرام فرمایا جا رہا ہوتا ہے اور تو اور اگر صرف اصل رزلٹ ہی گھر بتا دیا جائے۔ ۔خدا کی پناہ۔جھوٹ ختم کرنے کے چکر میں کہیں خود ہی ختم نہ ہو جائیں۔ایسی سچائی کا نتیجہ سوچ کر ہی طبیعت ہلکان ہونے لگی۔

سوچا کیوں نہ کسی دوست سے مشورہ کر لیا جائے ۔ساتھ بیٹھے دوست کو ہلایا جو کہ غالباََکوئی فلم دیکھنے میں مصروف تھا اور اس کے سامنے سارا معاملہ پیش کیا اور مشورہ طلب کیا ۔ اس نے بھر پور تحمل کے ساتھ بات سنی اور جواباََ ’ابے یار! دماغ مت خراب کر ،فلم دیکھنے دے‘ کہ کر خاموش کروا دیا۔اسی اثنا ٰ میں ایک اور رومیٹ یا ہم کمرہ کہ لیجئے کمرہ میں داخل ہوا ۔ اب ہم نے اپنی توپوں کا رخ اس کی طرف کر دیا ۔ اسکے بیٹھتے ہی پہلا سوال داغ دیا۔
’ابے نانے یار اگر تجھے دنیا سے کسی ایک برائی کو ختم کرنے کا موقع دے دیا جائے تو تُو کونسی کرے گا؟‘
’جھوٹ۔ اگر جھوٹ کو ختم کر دیا جائے تو کافی حد تک برائیاں اسی کے اندر آکر ختم ہو جائیں گی‘۔
’یار بندہ تو تُوبھی اپنے مذہب کا نکلا ۔ میں نے بھی جھوٹ کا ہی انتخاب کیا ۔مگر ایک مسئلہ ہے کہ اب جھوٹ کو ختم کیسے کیا جائے؟‘
یہ سوال سن کر وہ دوگھڑی خاموش رہا پھر اچانک مسکرایا اور بولا ’یہ تو مسئلہ ہی کوئی نہیں ۔ بڑا آسان سا حل ہے اس کا۔‘
میں نے جھٹ سے استفسار کیا یار بتا نہ کیا حل ہے؟ میں گھنٹے سے سوچ رہا ہوں۔
بولا ’ایک عدد آلہ دین کا چراغ ڈھونڈا جائے اور پھر اس کے جن سے فرمائش کی جائے یار اس دنیا سے جھوٹ کو تو ختم کر دے۔لو جی مبارک ہو گیا جھوٹ ختم اس دنیا سے۔‘
’دُھر فِٹے منہ تیرا‘ غیر ارادی طور پر میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ۔
بولا ’یار غصہ نہ کر لیکن اس کے علاوہ یہ ممکن نہیں۔ برائیاں ہمارے معاشرے کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہیں ہیں ۔ تو جھوٹ کی بات کرتا ہے نہ کہ اس دنیا سے جھوٹ ختم کرنا ہے ؟ تو بھلا بتا کہ کیا تو آکسیجن کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟ کیونکہ جھوٹ ہمارے معاشرے کیلئے آکسیجن بن چکی۔ ہمارے بڑے اپنے چھوٹوں سے مصلحت کے نام پر جھوٹ بولتے ہیں ، چھوٹے بڑوں کے ڈر سے جھوٹ بولتے ہیں اور ہم عمر ایک دوسرے سے برتر ہونے کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں۔جھوٹ اس وقت ہمارے معاشرے کی بنیاد بن چکا ہے اور اگر بنیاد ہی گِرا دی جائے تو پوری کی پوری عمارت ہی ڈھے جائے گی۔تو اگر تو یہ چاہتا ہے کہ یہ معاشرہ یا یہ پوری دنیا ہی جھوٹ سے پاک کرنے کی خاطر ختم کر دی جائے تو یہ تیرے تو بس کی ہر گز بات نہیں۔ ہاں لیکن ایک حل نظر آتا ہے اس کا اور وہ یہ کہ اس معاشرے کا یہ اس دنیا کا ہر شخص انفرادی طور پر جھوٹ سے بچنے کی کوشش کرے کیونکہ یہ کام ایک اکیلے شخص کا ہر گز نہیں۔ہر شخص کو اپنے حصے کی کوشش کرنی ہو گی ۔ یہ کام مشکل کہ ساتھ ساتھ طویل بھی بہت ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں۔ اگر ابھی سے انفرادی طور پر یہ کوشش شروع کر دی جائے تو کچھ عرصہ تو مشکلات کا سامنا رہے گا آخر سچ کڑوا تو ہوتاہی ہے اور پھر جو بویا ہے وہ کاٹنا بھی تو ہے مگروقت کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا ناسور ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔لیکن ثابت قدمی اس کیلئے بہت ضروری ہے ۔پھر معاشرہ جنت کی نوید ہوگا۔جھوٹ سے بلکل پاک۔۔‘
ناجانے کیوں یہ ایک دیوانے کا خواب لگتا ہے ۔

Avatar
جہانزیب بٹ
کھوٹا سِکہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *