• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے بلنڈرز (حصہ اوّل)۔۔عامر کاکازئی

مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے بلنڈرز (حصہ اوّل)۔۔عامر کاکازئی

مسئلہ  کشمیر کا آغاز

جب برٹش گورنمٹ، کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان تقسیم کا فارمولہ بن رہا تھا تو پرنسی سٹیٹس کے بارے میں مسلم لیگ نے اپنا فارمولہ دیا، جس کے مطابق جس علاقے کا کنٹرول راجہ مہاراجہ کے پاس تھا ادھر اس راجہ کی مرضی ہوتی کہ وہ جس بھی ملک کے ساتھ چاہے انضمام کر لیں۔جبکہ کانگریس نے تجویز دی کہ تمام سٹیٹ میں الیکشن کی بنیاد پر فیصلہ کیاجائے (مسلم لیگ کے اس فارمولے کی وجہ بنٹوا مناودر ، جونا گڑھ اور حیدرآباد دکن کی مالدار ریاست کے مسلم مہاراجہ  کی دولت اکھٹی  کرنا تھا )۔ ایک ہندو اکثریت سٹیٹ جس کا راجہ بھی ہندو تھا، وہ تھی عمر کوٹ جو انڈیا سے چار سو کلومیٹر دورپاکستان کے اندر واقع تھی، نے بھی پاکستان کےساتھ جانا پسند کیا۔ پٹیل خاص طور پر ہندو راجہ سے ملنے عمر کوٹ آیا مگر اس نے انکار کر دیا  اور بولا کہ  آپ ہمیں کیسے تحفظ دیں گے؟
زیادہ تر پاکستانی مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ جس ریاست کی یاعلاقہ کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہو گی وہ خود بخود پاکستان کا حصہ بن جاۓ گی۔ حالانکہ پارٹیشن فارمولے  کے  مطابق یہ مکمل ریاست کے راجہ پر منحصر تھا کہ وہ کس کے ساتھ الحاق کرے۔

سکندر مرزا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ستمبر 1947کے مہینے میں ایک دن نو بجے اچانک مجھے وزارت خارجہ بلایا گیا، ایک ہائی پروفائل میٹنگ چل رہی تھی۔۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے مجھے کہا کہ جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا ہے،راجہ کو فوجی امداد کی ضرورت ہے۔ فوراً اس کو فوجی امداد بھیجو۔ سکندر مرزا نے لکھا کہ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ اتنی دور انڈیا کے اندر ہم جونا گڑھ کیسے اپنی فوج بھیجیں؟ بہرحال فوج نہ بھیجی جا سکی۔ سیاسی طور یہ الحاق کی منظوری تباہ کن تھی جس کا خمیازہ ہمیں کشمیر میں بھگتنا پڑا، کیونکہ جوناگڑھ ہندو اکثریت کا علاقہ تھاتو جب کشمیر کے راجہ نے انڈیا سے الحاق کیا تو پاکستان کے پاس اخلاقی طور پر احتجاج کا کوئی جواز نہیں تھا۔

ستمبر میں ہی جب کہ جوناگڑھ کی حفاظت میں پاکستان کی ناکامی کے بعد ، سردار پٹیل جو کہ ریاستوں کے ادغام کے انچارج  تھے، نے اپنا ایک ایلچی کراچی بھیجا کہ حیدرآباد کو ہمیں دو اور اس کے بدلے میں کشمیر لے لو۔ مگر حکومت پاکستان نے انکار کر دیا، کیوں؟ آخر وجہ کیا تھی؟ ۔۔۔۔دو وجوہات تھیں، ایک حیدرآباد کی دولت اور دوسری  کشمیر میں مجاہد (دہشتگرد ) بھجوا کر اسے حاصل کیا جاسکتاتھا۔

پاکستانی مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیری ہندو انڈیا کے ساتھ جانا چاہتے تھے، مگر یہ درست بات نہیں کہ دو بہت ہی مشہور کشمیری ہندو پنڈت نے برملا یہ اظہار کیا کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہیے، کیونکہ کشمیر کا مذہب، معاشیات اور جغرافیائی طور پر پاکستان کے زیادہ قریب تھا۔ان میں سے ایک رام چندرا کک، جو کہ اس وقت کشمیر کے پرائم منسٹر تھے، اور دوسرے پریم ناتھ بازاز تھے، جن کو بعد میں انڈیا نے جیل میں ڈال دیا تھا۔

ائیر وائس مارشل ریٹائرڈ اصغر خان صاحب نے اپنےایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہا کہ مہاراجہ کشمیر نے پاکستان کے وزیراعظم رانا لیاقت علی خان صاحب سے کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں رابطہ کیا تھا، مہاراجہ چاہتا تھا کہ اسے الحاق کے بعد کشمیر کا مہاراجہ رہنے دیا جائے۔اس دوران  مہاراجہ نے شمولیت کے مسئلے کو “جوں کا توں ” معاہدہ ( stand still agreement ) ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ جاری رکھا۔ کشمیر وہ  آخری ریاست تھی جس نے تقریبا ًتین ہفتے لگاۓ فیصلہ کرنے میں۔ مہاراجہ نے وزیراعظم رانا لیاقت علی کا تین ہفتے انتظار کیا، مگر جب پاکستان نے بجائے سفارتی جواب دینے کے لشکر بھیجنے شروع کیے تو راجہ نے مجبور ہو کر انڈیا سے الحاق کر لیا۔

اب وجہ کیا تھی کہ حکومت پاکستان نے جواب بھی دینا پسند نہیں کیا۔ اس کی وجہ تھی مسلم لیگ کی مصنوعی خود اعتمادی۔ مسلم لیگ شروع دن سے کشمیر کو ایک پکاہوا پھل سمجھتی تھی کہ اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں کہ یہ تو خود بخود ان کی جھولی میں گر جاۓ گا۔جناح صاحب نے اپنا آخری دورہ کشمیر 1944 میں کیا۔ اس کے بعد مسلم لیگ نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ مہاراجہ کشمیر کو قائل کیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرے۔ مسلم لیگ کا خیال تھا کہ کشمیر کے معاشی، سماجی، اور مذہبی رشتے انڈیا کے مقابلے میں پاکستان سے زیادہ قریب ہیں، اس لیے مہاراجہ یہ جرات نہیں کرے گا کہ انڈیا کے ساتھ الحاق کرے۔

کشمیر پر سیریز لکھنے میں مندرجہ  ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔
a   memoir  by  sikander Mirza
چوہدری محمد علی کی کتاب ظہور پاکستان 1967
تصویر کشمیر ۔پرتھوی ناتھ کول
جہاد کشمیر – 1947-48 میجر ریٹارڈ امیر افضل خان
مسئلہ کشمیر کا آغاز – زاہد چودھری
Understanding kashmir and kashmiris by Christopher senedden
Interview of asghar khan with khyber TV
We have learnt nothing from the history by asghar khan
Defending kashmir
The nation that lost its soul by Sardar shaukat hayat khan
Emergence of Pakistan by choudry Muhammad Ali
Halfway to freedom by margarte bourke white
Making of pakistan by richard cayman
Beyond the Lines – An Autobiography
by  Kuldip Nayar

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *