سفرنامچہ: ٹنڈو الہہ یار کا تیسرا دورہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

کئی دوست فیس بک کے تعلق کو ماننے سے انکاری رہتے ہیں۔ ایسے دعوے ہم خاموشی سے سنتے تو ہیں البتہ جواب وہی رہتا ہے۔قال انت تے فیر ٹھیک ای قال ہوسی۔ اپنا تجربہ بھیا الگ ہے۔ چار سال ہونے کو ہیں میاں صاحب (میاں منظور حسین) اورافضل سیٹھار صاحب سے بذریعہ فیس بک علیک سلیک ہوئی۔ باچیز چونکہ عرصہ سات سال سے امارات میں مقیم رہا، لہذا کبھیکبھار ہی پاکستان آکر دوست یاروں سے ملنا ہوتا تھا۔ ۲۰۱۸ میں دو سال کے خلیج کے بعد خلیج سے پاکستان آنا ہوا۔ میاں صاحباور افضل بھائی سے ملاقات ہوئی۔ یہ پہلی ملاقات تھی لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہاوپر اوپرسے رہی۔ اس دوران میاں صاحب نےہمیں ٹنڈو الہہ یار آنے کی دعوت دی جو ہم نے بخوشی قبول کر ڈالی۔ اس دن سے آج تک میاں صاحب کے ساتھ ایسا یارانہ ہےکہ اکثر خود میاں صاحب بھی گھبرا جاتے ہوں گے۔

میاں منظور، افضل سیٹھار، محمد اشتیاق، معاذ بن محمود (دائیں سے بائیں جانب)

میاں صاحب کا تعلق زراعت کے شعبے سے ہے۔ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں ٹنڈو الہہ یار کے مقامی زمینداروں کاساتھ دیتے ہیں۔ ٹنڈو الہہ یار میں کیلے کی کھڑی فصلیں سارا سال موجود رہتی ہیں۔ کیلے کا سائز و مقدار بڑھانے میں میاں صاحب کاہاتھ قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ آم، پپیتے، کپاس، گنے وغیرہ کی پیداوار بڑھانے پر بھی خوب محنت کرتے ہیں۔ میاں صاحبہماری طرح مچھلی پکڑنے کے شوقین ہیں، بلکہ تھے۔ تاہم آخری شکارِ ماہی میں ایک غیر شکاری خوشابی رقیب ذات کا جو بھٹی ہے،کی غیر متوقع پرفارمنس کے بعد سے ہم دونوں اس شوق پر چار حروف بھیج چکے ہیں۔ اب ہمارا مشترکہ شوق کھانا پینا باقی رہ گیا ہے۔ہمارا خوشابی رقیب پوٹے کے چھوٹے اور جسد کے مختصر ہونے کے باعث اس میدان میں ہمارا مقابلہ کرنے کی سکت نہیںرکھتا۔ الحمد للّٰہ۔

غیر شکاری بھٹی رقیب کی پکڑی مچھلی

لگے ہاتھوں افضل صاحب پر تمہید بھی سن لیجئے۔ آپ نے اکثر راولپنڈی خانیوال روٹ پر سیٹھار و منٹھار طیارہ نامی بسیں اُڑتیدیکھی ہوں گی۔ یہ بسیں بیشک افضل بھائی کی اپنی نہ ہوں، انہیں بنانے میں افضل بھائی سے متاثر ہونا لازمی شامل ہوتا ہے۔ انہیکی طرح ثابت قدم اور پر ہمت پھر بیشک کتنی ہی تھکی ہوئی کیوں نہ دکھائی دیں۔ یہ سیٹھار اصحاب اور سیٹھار طیاروں پر خدا کا خاصفضل ہے۔اتہاس گواہ ہے، سرفراز پھر دھوکہ دے دیتا ہے، افضل بھائی کبھی دھوکہ نہیں دیتے۔ وباء کے دنوں میں گھر رہتےرہتے چوہدری اسلم مرحوم والا چہرہ تو بنا بیٹھے مگر طرز تکلم میں جو مٹھاس اور چاشنی رکھتے ہیں، ساتھ بیٹھے بندے کا زیابیطس مریض بنجانا برحق ہوجاتا ہے۔ افضل بھائی کی دو خصوصیات کا میں دل سے معترف ہوں۔ پہلی یہ کہ سینتیس پٹواریوں میں بیٹھ کر بھی خانصاحب کے دفاع کی آخر تک کوشش برقرار رکھتے ہیں البتہ مجھ پٹواری کو کہیں زچ ہوتا دیکھیں تو بھائی بندی میں خود بھی پٹواری بنجاتے ہیں۔ دوسری خوبی یہ کہ ہر بار ملاقات پر افضل بھائی کے پاس جدید مگر بلوغت کے قطرے ٹپکاتے لطائف کی بوری بلکہ تھیلیموجود ہوتی ہے۔ ہاں ایک خوبی اور بھی ہے۔ افضل صاحب ایک ایسے سرکاری محکمے میں اسسٹنٹ  ڈائرکٹر سطح کے سرکاری افسر ہیں جس کیسربراہی خوبرو و خوبصورت ترین جوان کے ذمے ہے۔ یوں افضل بھائی کے پاس ناخوش رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں بچتی۔ ہر وقتمسکراتے چہرے کو قائم رکھنے والے اس نوجوان کا اپنے زمانے کے کووں کی تیسری نسل سے آج بھی یارانہ باقی ہے۔

جوان اور خوبصورت روح کے مالک افضل سیٹھار بھائی

خیر، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی افضل بھائی ہمیں گھر سے اٹھانے آئے اور ہم تین بندے بشمول میرے کزن، ٹنڈو الہہ یار نکلپڑے۔ راستے میں برکتِ بحریہ ٹاؤن و فضائلِ ڈی ایچ اے پر پرمغز گفتگو ہوئی جس کا حاصل یہی رہا کہ ڈی ایچ اے کے آلسیآبادکار کبھی بحریہ پر آنچ نہ آنے دیں گے کہ جس سے گلشن کا کاروبار جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر افضل بھائی نےکیا؟ چاچا گاما مرگیا؟والا لطیفہ بھی سنایا۔ اس کے علاوہ ڈی ایچ اے کی پرفارمنس پراینج پھڑدے نے لالٹینجوک بھی مارا۔

نوری آباد کی مشہور زمانہ چائے کی یاد دہانی کروائی تو بریک مارتے مارتے اصل ہوٹل سمیت دو ہوٹل اور تین پمپ چھوڑ چکے تھے۔اس تاخیر کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ ایک عدد لطیفہ ہی تھا۔ خیر، چائے پی کر ہم نے دوبارہ رخت سفر باندھا۔ ایک مقام پر پہنچے تومیاں صاحب کی کال موصول ہوئی،کدھر پہنچے؟۔  جگہ بتائی تو جواب ملا بس یہاں سے مزید پون گھنٹے کا سفر باقی ہے۔ کچھ امیدبندھی کہ سفر پر نکلنے سے پہلے باتھ روم میں کافی کوشش کے باوجود سچا پیار نہ مل پایا تھا۔ ایک گھنٹے بعد بھی جبمنزل منظورنہ ملپائی تو میاں صاحب کو پھر فون کیا۔ہاں بھئی کدھر پہنچے؟میاں صاحب نے استقامت کے ساتھ سوال پوچھا۔میاں صاحببس حیدرآباد کے پاس ہیں شاید۔ کہنے لگےاچھا اچھا۔ بس پون گھنٹے کا سفر اور ہے۔ افضل بھائی کو گھورا تو کہنے لگے میاںصاحب ایک زبان کے بندے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے راستہ ناپنے کو فون نہیں کیا۔ الحمد للّٰہ پون گھنٹے بعد واقعی ٹنڈو الہہ یارآگیا۔

میاں صاحب سے گلے ملنے پر اندازہ ہوا کہ ہم دونوں میں سے کسی ایک کا پیٹ باہر آگیا ہے۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میاںصاحب بول اٹھےسمارٹ ہو کر آئے ہو یار۔ شکر اس ذات کا جو دلوں (دال کے نیچے زیر) کی تسکین کے لیے وسیلے پیدا کرتاہے۔ افضل بھائی کی اے سی گاڑی سے اتر کے بھی ہم نے ہاتھ منہ ایسے دھوئے کہ جیسے پیدل آرہے ہوں۔ میاں صاحب کا گھرسراپا محبت ہے۔ گھر داخل ہوتے ہی میاں صاحب کا نکا فرزند عمر جو عمر سیاسی بچہ کے نام سے یو ٹیوب چینل چلا کر سیاسیمخالفین کے جملہ اعضاء جلاتا ہے، نے محبت سے استقبال کیا۔ میاں صاحب کے گھر میں خاص محبت کا ثبوت یہ ہے کہ افضلبھائی کو باوجود زور لگانے کے جو سچا پیار گھر کے باتھ روم میں نہ مل پایا وہ یہاں بغیر زور لگائے مل گیا۔

یوں تو ٹنڈو الہہ یار میں کئی ساری فصلیں کاشت ملیں البتہ یہاں کا مشہور سندھڑی جگہ جگہ لگا نظر آیا۔ اس کے علاوہ ٹنڈو الہہ یارمیں سارا سال کیلا کاشت ہوتا ہے۔ کپاس، کریلا، بھنڈی اور پپیتا بھی کئی جگہ لگا دکھائی دیا۔ ٹنڈو الہہ یار کا موسم سارا سال خوشگواررہتا ہے۔ نہ زیادہ سردی نہ شدید گرمی۔ سندھ کے چند دیگر علاقوں کی نسبت لوگ محنت کش ہیں اور زراعت کو جدید خطوط پراستوار کر رہے ہیں لہذا فصلیں عموماً اچھی پیداوار دیتی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہر جانب مسکراتے چہروں کی صورت دکھائی دیتا ہے۔ یہاںگل شیر خاصخیلی ہو یا صمد، عدنان ہو یا نیاز، سبھی آپ سے محبت کے ساتھ ملیں گے خلوص سے پیش آئیں گے۔ جب سے پہلی بارٹنڈو الہہ یار جانا ہوا اس دن سے آج تک میں سندھیوں کو پشتون اور عرب دونوں جیسا ہی مہمان نواز سمجھتا ہوں۔ تاہم مہماننوازی سے ہٹ کر ایک نرم خو محبت سے پیش آنا یہاں ہی کا خاصہ ہے۔

فصلوں کے بیچ راستہ

میاں صاحب کے گھر میں دوپہر کے لذیز کھانے کے بعد آم بازی کی پہلی قسط شروع ہوئی۔ کھانا انتہائی لذیز تھا خصوصاً چنے کی دالاور چپاتی کا حسین امتزاج ناقابل فراموش رہا۔ اس کے بعد ٹرے بھر بھر آم آنا شروع ہوئے۔ میاں صاحب نے اپنے بڑے فرزندشہیر کو شاید آم لانے پر مامور کر دیا تھا۔ دو طرح کے سندھڑی اور چونسے تھے۔ ایک وہ جو توڑ کر پکائے گئے دوسرا وہ جو پکنے پرتوڑے گئے۔ یہ آم اس قدر میٹھے تھے کہ پتہ ہی نہ چلا اور ہم کھانے سے زیادہ آم ڈکار گئے۔ کرونا سے بازیاب ہونے کے بعد پہلیخوشبو انہی آموں کی سونگھی۔ فبأی آلاء ربکما تکذبان؟

میاں صاحب سے آگے کا پروگرام پوچھا تو کہنے لگے رات کو مینگو پارٹی ہے۔ ہم نے آموں میں لتھڑے ہوئے ہاتھوں پر نظر ڈالتےہوئے پوچھاپھر یہ کیا تھا؟۔ کہنے لگے یہ تو عام سا کھانا تھا، مینگو پارٹی آپ کبھی بھول نہ پائیں گے۔ اور پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔

میاں صاحب جانتے ہیں میں فارمی پاکستانی ہوں۔ میری پیدائش سے پہلے کھڈی سسٹم ختم ہو کر بیت الخلاء بن چکا تھا۔ بچپن سےہم نے گھٹنوں کو بیت الخلاء میں قید با مشقت کی سزا سُنائی۔ جوانی تک ہم کموڈ کو پیارے ہوچکے تھے۔ ایسے میں قابل ذکر بات یہہے کہ کھیت کھلیان کا پورے قصے میں کوئی ذکر نہیں۔ دوسرے الفاظ میں بڑے بڑے سخت کام کیے ہیں البتہ چاروں اور چالو اےسی والے کھیت میں فضلے کے اخراج کا موقع کبھی نہ آیا۔ میاں صاحب نے اسی حقیقت کو جانتے بوجھتے ہم پر بم گرا ڈالامعاذبھائی جو دل خوش کرنا ہے یہیں کر لیں، مینگو پارٹی کھلے کھیت میں ہونی ہے۔ لو بھیا! مارے ٹینشن کے پیٹ میں مروڑیں اٹھناشروع۔ دو تین بار بیت الخلاء کا دورہ کیا مگر ہر خبر افواہ ثابت ہوئی۔

بہرحال دل ہی دل میں افضل بھائی کی ملکیت میں موجود ایک چادر پر بوقت ضرورت کھیت میں فراغت کے موقع پر حق جتانے کاارادہ کر کے ہم مینگو پارٹی کی طرف نکل پڑے۔ گاڑی میں بیس منٹ کی مسافت طے کر کے مطلوبہ مقام پر پہنچے تو شاندار عمارتدیکھنے کو ملی۔ یہاں اے سی بھی چالو تھا اور دو مرلے پر مشتمل باتھ روم بھی موجود تھا۔ اس پر ہم نے میاں صاحب پر ایکخونخوار نظر ڈالنے پر ہی اکتفا کیا۔

کچھ دیر اے سی میں بیٹھنے کے بعد بتی گل ہوگئی۔ اب چھت پر بیٹھنے کا قصد ہوا۔ دل میں اک خوف سا اٹھا کہ اب گرمی میں بیٹھناہوگا۔ لیکن چھت پر پہنچے تو ماحول بنا ہوا تھا۔ دو چارپائیاں، سات آٹھ کرسیاں اور ان کے بیچ میں دو میزیں بچھی پڑی تھیں۔یہاں غیر نصابی سرگرمیوں کا ایک دور شروع ہوا جس کی تفصیلات پھر کبھی کے لیے رکھتے ہیں۔ فی الوقت بس اتنا ہی کہ ہمارےباہمی دلچسپی کے امور میں سے ایک جنت کی بوٹیتھادلرہی۔ تھادل کو عرف عام میں کیا کہتے ہیں وہ بقول لڈن جعفری صاحبمیں نہیں بتاؤں گا۔ بس اتنا جان لیجیے کہ ٹھنڈ مارنے کے لیے تھادل بہترین مشروب ہے۔ اسے نہایت ہی جانفشانی سے کوٹ کربادام، پستے، اخروٹ، خشخاش وغیرہ ملا کر دودھ میں ڈال کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہم نے نیاز بھائی سے پوچھا نیاز بھائی اس کا اثر کتنااور کیا رہتا ہے؟ جواب ملاسائیں ۲۴ سے ۳۶ گھنٹے پہلی بار والے کو۔ ہم جو تھادل کی ٹھنڈک آزمانے کا سوچ رہے تھے وہیںٹھنڈے پڑ گئے۔ اب ہم نے دوسرا سوال داغا۔نیاز بھائی اس کا اثر کیا ہوتا ہے؟۔ جواب میں نیاز بھائی نے چشم کشا انکشافکیا۔سائیں ہمارے یہاں الگ الگ اثر والی تھادل دستیاب ہوتی ہے۔ کچہری (بحث مباحثہ) کے لیے الگ، ہنسنے کے لیے الگ،سیکس کے لیے الگ، رونے دھونے کے لیے الگ۔ اب ہمیں باقاعدہ تشویش لاحق ہوگئی۔ کیا معلوم ہم کچہری والی تھادلبنوائیں اور آجائے سیکس والی۔ یہ سوچ کر جھرجھری سی آگئی۔ میں اور افضل بھائی شاید دونوں ہی ایک ہی بات سوچ رہےتھے۔ ہم دونوں نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا اور سر نفی میں ہلاتے ہوئے سگریٹ کے کش لگانا شروع کر دیے۔ نیاز بھائیغالباً ہماری پریشانی بھانپ گئے۔ کہنے لگےسائیں آپ کے لیے ہم ہلکا مال تیار کرواتے ہیں ٹینشن نہ لو۔ دل کو اطمینان حاصلہوا تاہم ۲۴۳۶ گھنٹے کا سوچ کر پھر پھریری آگئی۔

کچھ دیر میں جگ بھری تھادل ہمارے سامنے تھی۔ ہم نے داہنے ہاتھ سے قبلہ رخ ہوکر گلاس تھاما اور چڑھا گئے۔ منٹ فلیور لسینما یہ مشروب نہایت ہی فرحت بخش تھا۔ دو گلاس تھادل انڈیلنے کے بعد جب ہم نےبس ہوگئیکا اظہار کیا تو نیاز بھائی نے سواگلاس مزیدسوائیکے نام پر تھما ڈالا۔ سوائی کا مطلب پوچھا تو بتایا گیا یہ تھادل کے اثرات بد سے بچنے کا ایک مجرب ٹوٹکا ہے۔مرتے کیا نہ کرتے، ٹوٹکا بھی آزما لیا۔

جنت کی بوٹی، تھادل شریف علیہ رحمہ

ابھی پیٹ پکڑ کر بیٹھے ہی تھے کہ نیاز بھائی نے چکن پکوڑا منگوا لیا۔ یا اللہ اب یہ کون کھائے گا۔ خیر چکن کو مخصوص طریقے سےغالباً دودھ میں رکھ کر فرائی کر کے بنا ہوا یہ چکن پکوڑا اس قدر لذیز رہا کہ جانے کتنے پیس کھا بیٹھے۔ ابھی ڈکار مارنے کا سوچا ہی تھا کہمنادی کر دی گئی۔سائیں مینگو پارٹی تیار ہے۔ اللہ اکبر! ابھی مینگو بھی باقی ہیں؟

فیصلہ ہوا مینگو پارٹی کا مین کورس نیچے ہوگا کہ بجلی واپس آچکی تھی اور اے سی چل چکا تھا۔ ہم اپنے اپنے تھادل بھرے مثانےخالی کر کے کمرے میں پہنچے تو دو طرح کے چاولوں کے ساتھ کچھ منفرد سی دال اور تین ٹرے بھرے آم پڑے تھے۔ پروٹوکولپوچھا تو معلوم ہوا دال چاول کے ساتھ آم تناول کرنے ہیں۔ یہ تصور ہمارے لیے نیا اور اچھوتا تھا۔ مغربی پکوان میں مرغ کےساتھ شہد یا ہلکا میٹھا ہم قبول کر لیتے ہیں۔ سوچا سندھی کھانا آزمانے میں کیا ہرج۔ اب ہم نے نیاز بھائی کی دیکھا دیکھی دال چاولکے ساتھ نسلی قسم کا سندھڑی جو پھانکا تو خدا کی قسم مزا آگیا۔ ذائقے کا یہ زاویہ ہمارے لیے نیا تھا۔

مینگو پارٹی

مقامی سندھڑی کے علاوہ یہاں ٹنڈو الہہ یار ہی کا چونسہ، بینگن پالی اور دیسی آم بھی موجود تھا۔ ہر آم پچھلے کے مقابلے کا میٹھا تھا۔سندھڑی اور چونسے سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔ بینگن پالی حجم کے لحاظ سے کافی بڑا آم ہوتا ہے۔ اس کا گودا جوس کمپنیاںخریدتی ہیں جس کی وجہ اس میں زیادہ گودے کا ہونا ہوتا ہے۔ دیسی آم دراصل وہ اصلی آم ہوتا ہے جو کسی بھی قسم کے آمکاشت کیے جانے پر گرافٹنگ نہ ہونے پر پیدا ہوتا ہے۔ مجھے سندھڑی کے بعد بینگن پالی مزے دار لگا۔

نیاز بھائی

نیاز بھائی نے دو بندے صرف آم کی فراوانی کے لیے لگا رکھے تھے۔ ان جوانوں کا کام تمام اقسام کے دستیاب آموں کی تینٹرے دسترخوان پر برقرار رکھنا تھا۔ جس حساب سے میں، عظیم، میاں صاحب اور اسلم صاحب آم کھا رہے تھے، دونوں جوانوں کوٹف ٹائم ملتا رہا۔ بھرے پیٹ کو مزید آموں سے بھرنا بخدا کسی امتحان سے کم نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پیٹ بھرنے کے بعد سانس بھیچڑھنے لگا اور ساتھ خمار بھی۔

اب تک تھادل اپنا اثر دکھانا شروع کر چکی تھی!

یہ بات ہمیں کھانے کے بعد گپ شپ لگاتے محسوس ہوچکی تھی۔ تھادل کی یہ قسم واقعی کچہری والی تھی کیونکہ اسے پی کر کم از کممیری بک بک سات گنا بڑھ چکی تھی۔ شاید ہم سب یہ بات بھانپ چکے تھے لہذا رات کے ایک بجے کچہری شروع کرنے سے پہلےنیاز بھائی سے اجازت لی اور میاں صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ یہاں افضل بھائی نے کچہری لگانے کی کوشش کی مگر نیند کے ہاتھوںمجبور ہوئے اور سو گئے۔ میاں صاحب افضل بھائی سے پہلے ہی نیند کی آغوش میں پہنچ چکے تھے۔ اب رہ گیا میں۔ سونے سے آدھاگھنٹا پہلے میں نے اپنی عمومی دوا لی تھی۔ خیال آیا کہیں تھادل اور دوا آپس میں لڑ نہ گئے ہوں۔ تھوڑا سا پینک ہوا۔ پھر مشاہدہکرنے کی کوشش کی کہ الگ کیا ہے۔ محسوس ہوا سینے میں جیسے ٹھنڈ کا فوارہ لگا پھوٹ رہا ہے۔ کچھ دیر پینک میں رہا پھر جانے کبنیند آگئی۔

اگلی صبح خوب تازہ دم اٹھے۔ آج کا دن گزشتہ روز سے زیادہ مصروفیات طے تھیں۔ سب سے پہلی سرگرمی ٹنڈو سومرو میں نظامانی لنچتھا۔ ٹنڈو سومرو، ٹنڈو الہہ یار میں واقع ایک چھوٹی سی کمیونٹی ہے۔ یہ کئی اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں گزشتہ ۱۵ برس سےکوئی چوری کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ علاقے کے تمام ترقیاتی کاموں کے لیے ایک باڈی موجود ہے۔ تمام اہل علاقہ اپنی وساطت کےمطابق اس باڈی کو سالانہ فنڈ فراہم کرتے ہیں۔ اسی نظام کی بدولت ٹنڈو سومرو کا اپنا سیکیورٹی نظام ہے اور اسی کے تحت نکاسیآب کا زیر زمین جال بچھا پڑا ہے۔ یہاں مذہب، مسلک اور قومیت سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کے گھروں میں رشتے بھی طےکیے جاتے ہیں اور ہر طرح سے ایک دوسرے کی مدد بھی۔ صمد بھائی کی اوطاق (ڈیرے) کے باہر پچھلی بار ایک چوکی قائم تھی جواس بار نظر نہ آئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مخدوش ہونے کے سبب گرا دی گئی ہے۔ میں یہ سن کر بھی حیران ہوا کہ اتنے کھلےعلاقے میں بھی گورننگ باڈی کی اجازت کے بغیر گھر کے باہر گاڑی کھڑی کرنے کے لیے شیڈ بنانا ناممکن ہے۔ میرے لیے یہمعلومات نئی تھیں۔ اب کی بار ڈیرے پر لگا اے سی بھی سولر پینل پر چل رہا تھا۔ ٹنڈو سومرو آگے بڑھ رہا تھا۔

یہاں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نظامانی احباب نے خلوص اور محبت بھری اپنی خاندانی سبزی کھلائی۔ نہایت سادہ مگر خوب محنتسے بنا یہ کھانا مائیکرو سائز کی منفرد بھنڈی، کریلے، تلی ہوئی توری اور کدو پر مشتمل تھی۔ میں کھانے کا نہایت شوقین ہوں۔ سبزیاںمجھے ویسے بھی اچھی لگتی ہیں تاہم سبزی کی یہ شکل میں آج تک کہیں نہ کھا سکا۔ گل شیر خاصخیلی بھائی نے بتایا کہ اس طریقے سےاب گاؤں میں بھی شاذ ہی سبزی پکائی جاتی ہے۔ نیز یہ دعوت بھی بہت ہی مخصوص مہمانوں کے لیے مختص ہے۔ رج کر سبزیاور چھاجھ پینے کے بعد ایک بار پھر آموں کا دور شروع ہوا۔ جب تک پیٹ پھٹنے کی حد تک نہ بھرا ہمارے میزبان ہمیں کھلاتےپلاتے ہی رہے۔

یہاں سے فارغ ہو کر اگلا منصوبہ دیسی سوئمنگ پول المعروف ٹیوب ویل پر نہانے کا تھا۔ پچھلی بار جس ٹیوب ویل میں نہائے تھےوہاں کا پانی برف مانند ٹھنڈا تھا۔ اس روز ٹیوب ویل بدلنے کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ اس دن کا موسم تھا جو ٹھنڈا تو نہیں مگراتنا گرم بھی نہیں تھا۔ دوسری وجہ آج کل ٹنڈو الہہ یار میں بجلی کی بار بار بندش کا تھا جس کے باعث پچھلا ٹیوب ویل بوجہ سرکاریبجلی پر ہونے کے بند ہونے کے امکانات تھے۔ جس ٹیوب ویل پر اب گئے وہ جنریٹر سے چلنا تھا، اور کسی وجہ سے یہاں کا پانینسبتاً کم یخ تھا۔

ٹیوب ویل کا دیسی سوئمنگ پول

ٹیوب ویل کا پانی زیادہ گہرا نہیں تھا۔ شاید چار پانچ فٹ گہرائی ہی تھی۔ تین چوتھائی حصہ سبزے سے ڈھکا جبکہ باقی پر دھوپ پڑرہی تھی۔ پانی بہت نہ بھی سہی، اچھا خاصہ ٹھنڈا ضرورت تھا، کم از کم اتنا کہ قدم رنجہ ہوتے ہی سانس رک سا گیا۔ مکمل ڈبکیلگانے کی نیت تھی مگر ہمت ندارد۔ میاں صاحب کا چھوٹا بیٹا عمر دیکھ رہا تھا۔ آخر تنگ آکر اس نے پانی پھینکنا شروع کر دیا اورمجھے مجبوراً غوطہ نما لگانا پڑا۔ کامل غوطہ یوں نہ لگا سکا کہ تیراکی سے نابلد ہوں۔

قریب ایک گھنٹہ گزرا ہوگا کہ یہاں بھی آم آگئے۔ ٹیوب ویل چلانے پر مامور چاچا جی نے آم کی پلیٹیں چلانا شروع کر دیں۔ ہم نےسوچا جلدی ختم کر کے واپس ٹیوب ویل پر چلتے ہیں مگر نصف پر پہنچے ہی تھے کہ ایک اور پلیٹ آگئی۔ اس پر ہاتھ ڈالا تو ایک اور۔پھر ایک اور۔ ایک اور۔ چاچا کی جانب احتجاجی نظروں سے دیکھا تو بولےسائیں دو آم کھاؤ اور ڈبکی لگا کر آؤ سب ہضم ہوجائےگا۔ ہمچاچا ہن ایویں کریسیںکہہ کر ڈبکی لگانے نکل پڑے۔ پھر واپس آتے، آم کھاتے پھر پانی میں نکل جاتے۔ پانچ چھ بارایسا کیا تو ایک وقت ایسا آیا کہ معدے نے احتجاج شروع کر دیا۔ ہم نے باقی ماندہ آموں سے معذرت بھری اجازت چاہی اور دورجا کر پانی میں ہی بیٹھ گئے۔

جب تک ہم نہاتے رہے، معمول کے مطابق ٹیوب ویل کا مزا لینے والے گاؤں کے بچے بیچارے ہمیں للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتےرہے۔ آم والے چاچا نے انہیں باقی کے آم کھلا کر ان کی دلجوئی کی اپنی سی کوشش کی مگر ان کا جی نہانے میں ہی لگا رہا۔ قریبدو گھنٹے ٹیوب ویل میں شغف لگانے کے بعد ہم نے واپسی کا ارادہ کیا۔ ہم باہر نکلے تو چاچا نے منتظر بچوں کو گرین سگنل دیا۔ بچےیہ جا وہ جا ٹیوب ویل میں۔

نان وی آئی پیز ٹائم

یہاں پر کپڑے تبدیل کر کے ہم گھر کی طرف نکلے۔ میاں صاحب کے دل میں نجانے کون سے خواہش مچلی کہ اچانک پوچھامیرے پپیتے دیکھنے ہیں؟۔ یہ سوال تھوڑا عجیب کسی حد تک فحش اور بہت حد تک غیر متوقع تھا۔ ہم سب نے میاں صاحب کوگھور کر دیکھا تو انہیں شاید اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ کہنے لگےمطلب میرے پپیتوں کی کاشت دیکھنی ہے؟۔ اگرچہ میاںصاحب کے پپیتوں کی کاشت واضح طور پر ہم جانتے تھے، پھر بھی مزید اعتراض مناسب نہ سمجھا۔ اثبات میں سر ہلایا اور میاںصاحب کے پپیتوں کی طرف نکل پڑے۔

میاں صاحب کے پپیتوں کا باغ

میاں صاحب نے آٹھ ایکڑ پر پپیتے لگا رکھے تھے۔ مجھے پہلے تو سمجھ نہ آیا کہ اتنے پپیتوں کا کریں گے کیا میاں صاحب لیکن پھر پتہ چلاڈینگی کے بعد کے پاکستان میں پپیتوں کا بڑا سکوپ ہے۔ کزن اتنے سارے پپیتے دیکھ کر نیم پاگل سا ہوگیا کہ فلاں کو ڈینگی ہوا تھا تومیں ان کے پتوں کے پیچھے مارا مارا پھرتا رہا اور یہاں پپیتے ہی پپیتے پتے ہی پتے۔ بہرحال ہم سب نے نہایت قریب سے میاںصاحب کے پپیتوں کی جانچ پڑتال کی۔ افضل صاحب نے باقاعدہ ہاتھ میں لے کر دیکھے۔ مجھے پپیتوں کا شغف نہیں البتہ افضل بھائیکو خوب پہچان ہے۔ جس قدر تعریف کی ایمان لانے کو وہی کافی تھی۔ میاں صاحب کے پپیتوں کی خاص بات یہ رہی کہ فروریمیں لگائے پپیتے دسمبر میں لگائے پپیتوں کی نسبت زیادہ پھل پھول چکے تھے۔ خیر ہم نے میاں صاحب کے ہرے بھرے پپیتوںکے حق میں دعائے خیر کی اور واپس ان کے گھر لوٹ آئے۔ رات کو ہم نے کراچی کے لیے واپس نکلنا تھا۔

میاں صاحب کے پپیتے

گھر پہنچ کر کچھ دیر آرام کے بعد چھت پر بار بی کیو کا منصوبہ تھا۔ ویسے تو مجھے دعوتِ بار بی کیو سے پیار ہے تاہم چونکہ عام حالاتمیں کام خوب کرنا پڑتا ہے لہذا خواری کا احتمال بھی رہتا ہے۔ چھت پر البتہ میاں صاحب نے ہمارے اندر کا ہڈ حرام جگانے کاپورا بندوبست کر رکھا تھا۔ ایک عدد باورچی قریب سات فٹ لمبی انگیٹھی میں متعدد قسم کے الحام تیار کرنے میں پہلے ہی مصروفتھا۔ کچھ دیر میں، میاں صاحب اور افضل بھائی ایک دوسرے پر جگتیں لگاتے رہے۔ کچھ دیر بعد دیگر اصحاب بشمول عدنان بھائی،صمد بھائی، نیاز بھائی اور ایک مولوی صاحب بھی اس کار خیر میں شامل ہونے پہنچ گئے۔ اس کے بعد چاول اور آم پھر آگئے۔ایک بار ایسا لگا جیسے بار بی کیو کا بتا کر میاں صاحب نے ایک اور مینگو پارٹی کا بندوبست کیا ہے تاہم کچھ لمحے تھادل کی راہ دیکھنےکے بعد جب بار بی کیو سامنے آیا تو تسلی ہوئی۔

میرے ساتھ سفر کے معاملے میں ایک مسئلہ ہے کہ گاڑی اپنی نہ ہو یا سفر پاکستان میں ہو جہاں بیت الخلاء خال خال پایا جاتا ہےوہاں نکلنے سے پہلے کھانا کم کھاتا ہوں۔ وجہ اس کی وہ مروڑ ہے جو ٹینشن کے باعث پیٹ میں اٹھنا شروع ہوجاتی ہے۔ میاںصاحب نے جس لذیز گوشت کا بندوبست کیا اس کے سامنے البتہ میں ہاتھ نہ کھینچ پایا۔ اتنا کھایا کہ سانس لینا دشوار ہوگیا۔ اس کےبعد آم الگ۔ معدے کی اگر زبان ہوتی تو کم از کم اس وقت اس کا بدزبان ہونا ثابت ہوجاتا۔ بہرحال ہم کھانا کھا کر کچھ دیر باقیمہمانان گرامی کو الوداع کہنے نیچے گئے اور پھر سفر کی تیاری پکڑنے واپس اوپر پہنچ گئے۔

رسمِ بار بی کیو کے بعد

اب سے کراچی کو نکلنے تک میں تین بار بیت الخلاء گیا۔ ہر بار ایسا محسوس ہوا کہ بالآخر سچا پیار مل ہی گیا تاہم اگلی ہی بار پچھلے سےبہتر سچا پیار مل جاتا۔ یوں بجائے راستے میں رفع حاجت کے بارے میں بے فکر ہونے کے مزید فکر مند ہوا کیونکہ ہر بار بیت الخلاءچکر مارتے ہوئے پچھلی بار کا عین الیقین ضائع ہوجایا کرتا۔ تیسری بار بھی سچا پیار ملنے کا گمان ہوا تو تنگ آکر ہم نے رسک لینے کافیصلہ کر ڈالا۔ یوں رسک لینا انتہائی خطرناک فیصلہ ثابت ہو سکتا تھا تاہم اب بندہ کے مرتبہ بیت الخلاءسے نکل کر سیدھا گاڑی میںجا کر بیٹھ گیا۔ اس سے پہلے ہم میاں صاحب کی توند سے توند ٹکراتے ہوئے بغل گیر بھی ہوئے جس کے اختتام پر ہر دو فریقین نےتوند کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ افضل صاحب اس ضرورت کو غیر ضروری کہتے رہے۔ ان کا استدلال یہی رہا کہ توند مرد کازیور ہوتی ہے۔ ان کے رد کے لیے ہم نے بھٹی صاحب کا سنہری لفظوں میں لکھے جانے والا فقرہ سنایا جس کا لب لباب یہی تھاکہناں اؤئے جھلیاں، مرد کا زیور توند نہیں اس سے ذرا نیچے ہوا کرتا ہے۔ یہاں اتمام حجت برحق ہوئی اور ہم سب گاڑی میںبیٹھ کر واپس کراچی کے لیے روانہ ہوگئے۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی ہم چند حقائق پر عقیدہ راسخ کر کے واپس ہوئے۔ پہلی یہ کہ سندھ کے حالات اتنے برے نہیں جتنا میڈیادکھایا کرتا ہے۔ کم از کم ٹنڈو الہہ یار کی حد تک میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں۔ دوسری حقیقت یہ کہ ہمارے سندھی بھائیناصرف محبت کا استعارہ ہیں بلکہ انتہاء کی حد تک مہمان نواز بھی ہیں۔ تیسری بات میاں صاحب اور افضل بھائی دونوں بے انتہاءپیاری شخصیات ہیں جن کے لیے انسان، دوستی اور انسان دوستی رنگ، مذہب، مسلک، نسل، اور سب سے بڑھ کر سیاسی نسبتسے بڑھ کر ہے۔ چوتھی اور سب سے آخری بات سوشل میڈیا کی وساطت سے بننے والے رشتے فقط زبانی کلامی نہیں ہوتے بلکہحقیقت میں اپنا وجود بھی رکھتے ہیں۔ ہم تینوں کی دوستی اس کا ثبوت ہے۔

نیاز بھائی نے تھادل کا اثر زیادہ سے زیاد ۳۴ گھنٹے بتایا تھا۔ میرا گمان ہے کہ ان کے پاس جنت کی ایک بوٹی محبت کا اثر دکھانے والیبھی موجود تھی جو انہوں نے خاموشی سے ہمارے فردوسی مشروب میں ڈال بلکہ شاید انڈیل دی تھی۔ باچیز اس محبت کا اثر ابھیتک محسوس کر رہا ہے اور شاید زندگی بھر اس نشے میں مخمور رہے گا۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *