فیض اور فیض رسانی۔۔ ڈاکٹر اظہر وحید

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ یاد رکھو‘ فیض کسی ایسی شے کا نام نہیں ہو سکتا جو مسلم اور غیر مسلم دونوں کے پاس بیک وقت موجود ہو۔ آپؒ اِسی رَو میں جلال کے عالم میں فرماتے کہ تم حرام کی کمائی سے مکان بناتے ہو اور اس کی پیشانی پر لکھوا دیتے ہو۔۔
“ہذا من فضلِ ربی”
لہٰذا ایک غریب مسلمان جب تمہارا مکان اور اس پر “فضل خداوندی” کا لیبل دیکھتا ہے تو یہ سوچ کر مایوس سا ہو جاتا ہے کہ شاید اس کا رب اس سے ناراض ہے۔ مرشد کے قول سے یہ اَخذ کیا جا سکتا ہے کہ فیض کسی مادی یا مالی حالت کا نام نہیں۔ فیض کسی tangible اثاثے کا نام نہیں، کسی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا نام نہیں، دولت ، شہرت اور حکومت کا نام نہیں۔۔یہاں تک کہ کسی مادّی علم و ہنر بشمول دانش اور دانشوری کا بھی نام نہیں۔ یہ جملہ اثاثہ جات غیرمسلم لوگوں کے پاس بھی وافرپائے جاتے ہیں۔ بل گیٹس، مارک زکربرگ، سٹیفن کووے اور سٹیو جاب کے علم و ہنر کو فیض کا نام نہیں دیا جاسکتا، اور ان کی کسی سوشل میڈیا مارکیٹنگ ٹیکنیک کو فیض رسانی کا ذریعہ نہیں کہہ سکتے۔ بقول حضرت واصف علی واصفؒ کلمہ اور کلمے والےﷺ کی محبت، ایمان اور ایمان والوں کی محبت‘ یہ ایسی چیزیں ہے جو کسی غیر مسلم کے پاس نہیں ہو سکتیں۔اِس لیے انہیں فیض کہو۔

فیض رسانی کیلئے ایک فیض یافتہ شخصیت کا ہونا ضروری ہے، فیض ہوا میں ٹیلی مواصلاتی رابطوں سے طے نہیں پاتا، اور نہ کسی فیض یافتہ شخصیت کی تحریر و تقریر یاد کر لینے سے حاصل ہوتا ہے۔کوئی کتاب، خواب یا مزار ایک جیتے جاگتے مرشد کا قائم مقام نہیں۔ مرشد ارشاد کے بغیر بھی تزکیہ کر سکتا ہے۔ اس کا قرب اس کے کلام کی جگہ لے لیتا ہے۔ تزکیہ نفس کیلئے ایک ذی نفس کی ضرورت ہوتی ہے۔ صاحبانِ مزار نفس کی علتوں سے پاک ہوتے ہیں ، وہ مجرد روح ہیں۔ صاحبِ مزار ایک عمومی فیض بمعنی سکون، عافیت اور محویت اپنے ہر زائر کو حصہ بقدرِ جثہ عطا کرتا ہے لیکن خصوصی فیض کیلئے وہ اسے کسی مرشد کی طرف روانہ کر دیتا ہے۔ تربیت ایک ذاتی سطح کا انٹرایکشن interaction ، یعنی یہ ایک نفس کا دوسرے ذی نفس کے ساتھ ذاتی سطح کی تعلیم و تربیت کا معاملہ ہے۔ اسے نفس اور زبان پر قابو پانا سکھایا جاتا ہے۔ یہ اطاعت میں نفس کی شرارت کو نکالنے کا طریق ہے۔ اطاعت کو منشا کے مطابق سیکھنے کا طریقہ طریقت کہلاتا ہے۔ منشا کی پہچان ذات کی پہچان سے مشروط ہے۔ عین ممکن ہے ایک شخص تعلیم یافتہ ہو لیکن تربیت یافتہ نہ ہو۔ یہ امر مسلم ہے کہ تعلیم یافتہ سے زیادہ تربیت یافتہ ہونا اہم ہے۔ تعلیمی حقائق اور ہوتے ہیں اور حقائق کی تعلیم اور۔ نفس کی شرارتوں کے متعلق حقائق کی تعلیم دینے والی ایک برگزیدہ شخصیت صاحبِ کشف المحجوب۔۔۔ حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ لکھتے ہیں کہ “نفس کی رعونت کی کوئی حد نہیں” سچ ہے نفس اپنی رعونت میں فرعون کا ہم نشیں ہو جاتا ہے۔۔ شبانی سے کلیمی کا سفر طے کرنے والی کوئی موسیٰ صفت جسے کوئی شعیب میسر آجائے،اپنا عصائے طریقت نکالتی ہے اور فرعون نفس کو للکارتی ہوئی اس کے محلِ جاہ حشمت میں اس کو جا لیتی ہے۔

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کی محافلِ گفتگو میں بیٹھنے والے لوگ اس بات کی گواہی دیں گے ( اور اب یہ بات گفتگو کی ٹرانسکرپٹ میں بھی بطور سند موجود ہے ) کہ آپؒ فرمایا کرتے کہ فیض کیلئے ایک گوشت پوست والا مرشد چاہیے ہوتا ہے، مفہوم واضح کرنے کیلئے آپ لفظ “گوشت پوست” پر خوب زور دیا کرتے۔ فیض کیلئے شرط اگر محبت ہے، تو یہ محبت ایک جیتے جاگتے انسان سے محبت ہے ۔۔یہ کوئی فاصلاتی یا تخیلاتی محبت نہیں کہ تاریخ کے جھروکے میں بیٹھی کوئی شخصیت کسی کو اپنا درشن دینے کیلئے زمانۂ حال میں چھلانگ لگا دے اور زمین پر شورمچ جائے کہ فلاں شخصیت نے فلاں ابنِ فلاں کو فیض یاب کر دیا ہے۔ اس ضمن میں اِقبالؒ اور رومیؒ کی مثال عام طور بہت کوٹ کی جاتی ہے… اور یہ خبر کمیاب ہے کہ حضرتِ اقبالؒ کا مولانا جلال الدین رومیؒ سے روحانی مکالمہ‘ دراصل اقبالؒ کے ایک معراجی سفر کی داستان ہے، اِس روحانی سفر میں اقبال ؒ کا مکالمہ‘ حضرت رومیؒ کے علاوہ اور بھی بہت سی ہستیوں کے ساتھ جاری رہا۔ اپنے اس معراجی سفر میں اقبالؒ نے اَز راہِ عجز و انکسار خود کو”مرید ہندی” لکھا اور مولانا رومؒ کو “پیررومیؒ” کہا۔ اِس روحانی سفر پرروانہ ہونے سے بہت پہلے اقبالؒ فیض یافتہ ہو چکے تھے … وہ اُن خرقہ پوشوں سے اِرادت قائم کر چکے تھے‘ جو آستینوں میں یدِ بیضا لیے بیٹھے ہوتے ہیں … وہ قادری سلسلے کے ایک بزرگ کے ہاتھ پر بیعت ہونے کے بعد بالمشافہ اس قدر فیض پا چکے تھے کہ اُن کی روح اِس دنیا میں رہتے ہوئے عالمِ بالا کی بلند تر اَرواح سے رابطہ قائم کر چکی تھی۔ اپنے ایک خط بنام سید سلیمان ندویؒ 12 نومبر 1916ء علامہ تحریر فرماتے ہیں کہ وہ سلسلہ قادریہ میں بیعت ہیں۔

ہمارے مرشد و مربی حضرت واصف علی واصفؒ بھی سلسلسہ چشتیہ اور قادریہ میں بیعت ہیں، ان کے شجرہ ہائے طریقت ان کے روحانی سفر کے ریکارڈ کا حصہ ہیں اور منظرِ عام پر ہیں۔ اگر فیض رساں ہستی سے زمینی رابطہ غیر ضروری ہوتا تو حضرت ِرومیؒ اپنے پیر شمس تبریزیؒ کی تلاش میں علم و ہنر کی مسند چھوڑ کر سالہا سال دشتِ فراق میں آبلہ پائی نہ کرتے۔ مولوی جلال الدین کو مولائے روم علیہ الرحمۃ بنانے والا واقعہ حضرت شمس تبریزیؒ کے ساتھ محض ایک اتفاقیہ ملاقات نہیں بلکہ برس ہا برس کی سنگت و یگانگت ہے۔

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلامِ شمسِ تبریزیؒ نہ شد

کم فہم لوگ اِس حوالے سے اکثر ذاتِ رسولﷺ اور اُمت کی مثال دیتے ہیں کہ شخصیت موجود نہیں لیکن کلمہ موجود ہے، اس لیے شخصیت کے بغیر کلمہ پڑھ کر ہمارا ایمان گویا صحابہ کے ایمان کے برابر ہو جاتا ہے۔ ذاتِ پیغمبرؐ ہر حال میں استثنائی مقام کی حامل ہے… وہ اوّلین اور آخرین کے نبی ہیں، پچھلی سب اُمتوں اور ان کے انبیا کیلئے حجت …اور تا قیامت تمام انسانوں اور جہانوں کیلئے حجتِ تام۔ مرشدیؒ فرماتے ہیں کہ “انﷺ کا نام ہے اور آپ کا ایمان ہے”۔۔۔۔ اس لیے اُس ذاتِ والاصفات ؐ کی مثال اُمتیوں پر منطبق کرنا حدّ ادب ہے۔ ہمارا درجۂ ایمان کبھی بھی صحابہ اکرام کے درجے کے برابر نہیں پہنچ سکتا ہے، بلکہ وہاں بھی سابقون الاوّلون کا درجہ دیگر صحابہ سے بہت بلند ہے کہ ہجرت سے پہلے جواَصحاب ایمان لائے اور فتح مکہ کے بعد جولوگ اسلام لے کر آئے‘ اُن میں بہت فرق ہے، اس پر قرآن کی سورۃ حجرات قیامت تک کیلئے گواہ ہے۔ کلمہ سب پڑھتے ہیں، لیکن سب لوگ کلمہ پڑھ کر صحابی نہیں بن سکتے، ہر کلمہ پڑھنے والا ولی اللہ نہیں ہوتا۔ ولی کو ولی بنانے والی ایک ذات ہوتی ہے‘ کتاب نہیں۔ “ہمارے لیے کتاب کافی ہے” کے فلسفے پر چلنے والے اُن اصطلاحات پر شب خون نہ ماریں جو فقراء اور اولیاء کے ہاں استعمال ہوتی ہیں۔ نفس اپنی شرارتوں سے کب باز آتا ہے… خود کو فیض یافتہ منوانے کیلئے فیض کے معانی ہی بدل ڈالتا ہے۔ اقبالؒ کا شکوہ بجا ہے
“خود بدلتے نہیں‘ قرآں کوبدل دیتے ہیں”
فیض یافتہ اور فیض رساں ہستیوں نے اپنی عمرِ تمام اِس کارگۂ شیشہ گری میں تمام کی ہے‘ اور اُن کی احتیاط کا یہ عالم ہے کہ

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگاہِ شیشہ گری کا

“کاتا اور لے اُڑی” والے لوگ اور ہیں، یہ اپنی فکر کی ڈور بھی اُلجھا دیں گے… دوسروں کی فکر کا سلجھاؤ اور سبھاؤ تو الگ داستان ہے۔
“گمنام ادیب” قارئین کے خطوط پر مشتمل ایک نایاب کتاب ہے ، یہاں ایک خط کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا، ایک شخص حضرت واصف علی واصفؒ کے نام اپنے خط میں لکھتا ہے کہ حضور! میں نے اپنے والد گرامی کو بہت اعلیٰ پائے کا بزرگ پایا ہے اور میں نے سوچا ہے کہ بس اب وہی میرے مرشد ہیں۔ اس کے جواب میں آپؒ نے جو عبارت تحریر کی‘ اس کا اختصار یہ ہے کہ والدِ محترم کی خدمت اور محبت اپنی جگہ ایک دینی فریضہ ہے لیکن یہ بیعت کا قائم مقام نہیں ہو سکتا‘ کیونکہ بیعت اور پیری مریدی ایک باقاعدہ نظام ہے۔ ہاتھ میں ہاتھ دینے کا ایک باقاعدہ سلسلہ ہے جو چودہ صدیوں سے رائج ہے، کوئی کتاب، کوئی شاعری، کوئی ماڈرن ٹیکنیک اسے موقوف نہیں کر سکتی۔ اگر کتاب کافی ہوتی تو سلاسل کا کوئی سلسلہ وجود میں نہ آتا، بلکہ اس کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔
فیض اور فیض رسانی فقیری کا شعبہ ہے۔ فقراء نے اپنے رب کے راستے کی طرف جانے والی سنگتیں تیار کیں، انہوں نے اپنے رب کی طرف لے جانے والوں راستوں پر شب و روز اپنے خونِ جگر سے دیپ جلائے، وہ اُس کی راہ کا غبار اِس طرح ہوئے کہ صراطِ مستقیم کے سفر میں سنگِ میل قرار پائے۔ اِن درویشوں نے اپنی محفل میں بیٹھنے والے لوگوں کے نفس کا تزکیہ کیا، اُن کے قلوب کا تصفیہ کیا اور اُن کی روح کا تجلّیہ کیا… اور یہ تزکیہ ، تصفیہ اور تجلیہ بالمشافہ بنفس نفیس کیا جاتا ہے، اس کیلئے کتاب کی نہیں‘ ذات کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیض رساں ہستی کے گرد سب حیثیتوں کے لوگ بیٹھتے ہیں، یہ فقیر کا ظرف ہے کہ وہ کسی کو اپنی محفل سے اُٹھ جانے کو نہیں کہتا۔۔ ہم ایسے کئی ناقص و ناکس بھی اُن کی محفل میں ایک بوجھ بن کر بیٹھے ہوتے ہیں، بعد میں آنے والا کوئی حساس طبع شخص ہمیں دیکھ کر ممکن ہے اس نظام کی افادیت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جائے… لیکن حقیقت اپنی جگہ قائم ہے۔ بجا ہے کہ ہم ایسے مسلمانوں کو دیکھ کر غیر مسلم اسلام کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔

فقیر جسے فیض دے گا‘ اُسے فقیری عطا کرے گا۔ اپنے دَر پر آنے والے ہر سائل کا کاسہ بھرنا ایک الگ بابِ سخاوت ہے۔ سوال دولت کا ہو یا شہرت کا‘ یا پھر حصولِ جاہ و منزلت کا، سوال کرنے والا سائل رہے گا۔۔اور سائل اور طالب میں فرق رہے گا۔ یہ لوگ کسی سائل کو خالی نہیں لوٹاتے، لیکن طالب کو پاس بٹھا لیتے ہیں۔ طالب فقط ذات طلب کرتا ہے،وہ صفات اور صفاتی علوم سے حذر کرتا ہے۔ طالب کی طلب ذات ہے … وہ منزلِ بے نام کا راہی ہے، وہ مقامات اور تذکرۂ حسنِ مقامات میں گم نہیں ہوتا۔ وہ خطیب ہوتا ہے، نہ پیشہ ور مقرر… وہ کامیابی کے گر نہیں سکھاتا، بلکہ “کامیابی” سے بچ نکلنے کا ایک باوقار راستہ بتاتا ہے اور کامیابی اور ناکامی دونوں سے اک گونہ شانِ استغنا عطا کرتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا مضمون “کامیابی” اس موضوع پر ایک مکمل تھیسیس ہے۔

فقیر سے فیض مانگنا خطرے سے خالی نہیں۔ فیض کے سوال پر اگر اُس نے فقیری عطا کردی تو …؟؟ راہِ فقر اور وادی ء  دولت و شہرت میں وہی فرق ہے، جو دن اور رات میں ہوتا ہے۔ فقیر جب فیض دیتا ہے تو سالک کیلئے دولت و شہرت بے وقعت بنا دیتا ہے، اور کوئی لذتِ جسمانی بھی اس کیلئے سامانِ تسکین نہیں بن پاتی۔ فیض کیلئے فیض رساں ہستی سے رابطہ ضروری ہے… اور یہ رابطہ زمینی حقائق کی طرح ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ فیض کے سلسلے جاری ہیں،سلسلہ در سلسلہ، سینہ بہ سینہ  اور تا مدینہ، درِ علمؑ سے ہوتے ہوئے شہرِ علم ؐ تک! ہمیشہ سے، ہمیشہ کیلئے  اور ہمیشہ تک۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *