ایرانی الیکشن اور علاقائی سیاست

آنیوالے ایرانی الیکشن میں ایک دلچسپ واقعہ ہوا، سابق صدر احمدی نژاد نے ایرانی سپریم لیڈر خامینائی کے مشورہ کے برعکس صدارتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تو یہ تاثر ملا کہ سخت گیر احمدی نژاد کے اس فیصلہ کے پیچھے شائد ایرانی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی اشارہ موجود ہے۔ لیکن اس تاثر کی تردید اس وقت ہوگئی جب ایرانی شوری نگہبان نے احمدی نژاد کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئے۔ تو اس کا کیا مطلب لیا جائے؟ عمومی تاثر یہ ہے کہ ایران پہ ملاؤں کی حکومت ہے اور اصل طاقت انہی کے پاس ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اتنے عرصے کے حکومتی تجربہ کے بعد ایران کی اصل حکمران مذہبی قیادت عملاً ایک اسٹیبلشمنٹ کی طرح کا ہی رویہ رکھتی ہے، نظریاتی کم اور عملیت پسند زیادہ واقع ہوئی ہے۔
ان قیاس آرائیوں کے پیچھے ایک ٹھوس وجہ موجود تھی۔ ایرانی اسٹیبلشمنٹ عالمی اور علاقائی سیاست کی رجحانات کے پیش نظر سخت گیر یا اعتدال پسند امیدوار کے حق میں اپنا وزن ڈالتی آئی ہے۔ پاکستان کے لئے اس میں اہمیت کی بات یہ ہے کہ اعتدال پسند قیادت انڈیا کی طرف جھکاؤ رکھا کرتی ہے اور سخت گیر قیادت کی ایسی کوئی ترجیح نہیں ہوتی۔
احمدی نژاد کا راستہ روکنے سے یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا کہ شائد ایرانی اسٹیبلشمنٹ چین کے مقابلہ میں انڈیا کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ لیکن ایسا کچھ کہنا ابھی بہت قبل از وقت ہوگا کیونکہ اب روحانی کے مقابلے میں اہم ترین امیدوار ابراہیم ریئسی رہ گیا ہے جو نہ صرف سخت گیر شمار کیا جاتا ہے بلکہ خامینائی کا قریبی ساتھی اور جانشین تصور کیا جاتا ہے۔
عین ممکن ہے کہ قدامت پسند اور سخت گیر ووٹ بینک کو نژاد اور ریئسی کے درمیان تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہو۔ اگرچہ نژاد کے دور حکومت کے آخری دور میں اس کے اور مذہبی قیادت کے درمیان کافی اختلافات پیدا ہوچکے تھے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روحانی کی امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل وہ نتائج پیدا نہیں کرسکی جس کی امید تھی عملاً ایران کے لئے یہ ناکام ڈیل ہی تھی ایران تو اپنے نیوکلیئر اثاثوں سے دستبردار ہوگیا لیکن اس پہ مغرب کی معاشی پابندیاں بدستور عائد رہیں بلکہ ٹرمپ نے تو اس ڈیل سے ویسے ہی انکار کردیا ہے۔
اس کا اثر لازماً صدر روحانی کی انتخابی مہم پہ منفی طور پہ اثرانداز ہوگا جس کے دور صدارت کا بڑا فیصلہ یہی تھا۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ روحانی اس کے نتیجہ میں الیکشن ہار سکتا ہے لیکن ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش یہ ہوسکتی ہے کہ سخت گیر صدر سامنے آئے۔ بہرحال اگر اعتدال پسند روحانی بھی کامیاب ہوجاتا ہے تو بھی ایران کے لئے مشکل فیصلوں کا دور شروع ہونے والا ہے اور حتی کہ روحانی کو بھی اپنی پالیسی کا تسلسل جاری رکھنا بہت زیادہ مشکل ہوگا۔ نوے کی دہائی سے ایرانی خارجہ پالیسی کے کچھ مستقلات تھے جو اب تبدیل ہوچکے ہیں۔ ایران روایتی طور پہ انڈیا اور روس کا حلیف تھا جبکہ پاکستان چین اور خلیجی عرب ممالک کا۔ ایران اور خلیجی عرب ممالک ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ ایران ان ممالک کو بشمول امریکہ اور اسرائیل کے، اپنی سلامتی کے لئے خطرہ تصور کرتا تھا اور یہ ممالک ایران کو خطرہ تصور کرتے تھے۔
لیکن اب خطہ کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی آچُکی ہے۔ انڈیا روس سے دور ہوکر امریکہ، خلیجی ممالک اور اسرائیل کے قریب آچکا ہے جبکہ روس اور پاکستان ایک دوسرے کے بہت قریب آچکے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ روس اور پاکستان گریٹ گیم کے ایک دوسرے کے حلیف بن چکے ہیں۔ ایران اور انڈیا کے درمیان اختلافی نکات کافی ہیں اور انکی گہرائی بھی بہت ہے۔
افغانستان ، جہاں انڈیا نے امریکی چھتری کے سائے تلے داعش خراسان کو منظم کیا، یہاں تمام امریکی اتحادیوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ انڈیا جہاں اس پراکسی کی مدد سے طالبان کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو ایران اب طالبان کا حلیف ہے، انڈیا اگر داعش کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے تو امریکہ کو اس کا دائرہ روس اور چین تک وسیع کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ انڈیا کے نئے حلیف اسرائیل اور گلف اسے ایران کے خلاف استعمال کرنا چاہیں گے۔ ایران اپنی مغربی سرحد پہ پہلے ہی داعش سے نبردآزما رہا ہے اب مشرق میں بھی داعش کی موجودگی اس کے لئے سردردی کا باعث ہوگی اور وہ خود کو گھیرے میں محسوس کرے گا۔
جہاں امریکہ انڈیا کو ایران سے دور کرکے اپنی طرف کھینچنا چاہتا تھا وہیں ایران انڈیا کو امریکہ سے دور رکھ کے اپنی اور روس کی طرف لانا چاہتا تھا جس میں ایران کو کامیابی نہ ہوئی۔ اسی لئے پچھلے سال امریکہ انڈیا دفاعی معاہدہ سے قبل ایرانی کمانڈر انچیف نے انڈیا کا دورہ کرکے اسے پیشکش کی کہ ایران ، انڈیا اور روس ، افغانستان میں مشترکہ پالیسی اختیار کرسکتے ہیں انکا مقصد انڈیا کو امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ سے روکنا تھا۔ جس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ دوسرا اہم معاملہ اسرائیل کا ہے۔ کافی عرصہ سے انڈیا اور اسرائیل قریب آرہے تھے۔ اسرائیل انڈیا کو جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہلکے ہتھیار مہیا کرنے لگا تھا لیکن ایک سطح پہ یہ تعاون رک گیا کیونکہ اسرائیل کا مطالبہ تھا کہ مزید تعاون تبھی ممکن ہے جب انڈیا ایران سے دوری اختیار کرے۔ لیکن اب یہ تعاون نئی جہت لیتا نظر آرہا ہے کیونکہ جون میں مودی نے اسرائیل کا دورہ کرنا ہے اور اسرائیل اب انڈیا کو سٹریٹجک نوعیت کے میزائل شکن دفاعی نظام فروخت کرنے پہ تیار ہے تو لازمی امر ہے کہ انڈیا نے ایران کے سلسلہ میں اسرائیل کے تحفظات دور کردیئے ہیں اور کچھ وعدے وعید ہوچکے ہیں۔
اسی طرح معاملہ خلیجی ممالک کا ہے۔ ایران عرب اور خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کے لئے خطرہ تصور کرتا ہے جبکہ یہ ممالک حالیہ سالوں میں پاکستان سے دور ہوکے انڈیا کے بہت قریب ہوگئے ہیں۔ امارات اور سعودیہ کے ساتھ تو انڈیا کے دفاعی تعاون کا معاہدہ بھی ہوچکا ہے۔ محفوظ طور پہ یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ خطے کی سیاست کی بدلی ہوئی مساوات میں انڈیا بالاخر ایران کو بطور اتحادی دستیاب نہ ہوگا۔ تو کیا اس صورت میں پاکستان بطور ایرانی اتحادی انڈیا کی جگہ لے سکتا ہے؟
طویل المدتی رجحان اور ریاستی تزویراتی مفادات کو دیکھا جائے تو جواب ہاں میں ہی ہے۔ خطے کی بدلی ہوئی سیاسی مساوات بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہے۔ جہاں گوا میں ہونے والی برکس کانفرنس میں شام کے لئے مالیاتی پیکیج کا اعلان صرف اس وجہ سے نہ ہوسکا کہ انڈیا اس پہ تیار نہ تھا وہیں پاکستان نے شام کے معاملہ میں کھل کے ایس سی او کے موقف کی تائید کی اور کسی غیرملکی مداخلت سے بشار کو ہٹانے کی مخالفت کی۔ دونوں ملکوں کا جغرافیہ بھی اس کا متقاضی ہے دونوں کا اشتراک عمل ہی افغانستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ دونوں ہی افغان طالبان کے حلیف ہیں اور داعش خراسان کو اپنی سلامتی کے لئے چیلنج تصور کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے بڑے عالمی اتحادی روس اور چین کی بھی یہی کوشش ہے کہ دونوں بیک وقت وسیع تر یوریشیائی پلان کا حصہ بنیں۔
لیکن قلیل المدتی سطح پہ کچھ مسائل بھی موجود ہیں۔ نوے کی دہائی کی پراکسی وار اور ماضی کا بوجھ اتار پھینکنا اسلام آباد کے لئے زیادہ آسان ہے کیونکہ اس کی خارجہ پالیسی کسی سیاسی نظریہ کے گرد نہیں بلکہ قومی مفادات کے گرد گھومتی ہے اس لئے اسلام آباد کے لئے یوٹرن لینا کچھ مشکل نہیں ہوتا لیکن ایرانی اسٹیبلشمنٹ اندر سے جتنی بھی عملیت پسند ہو اسے ایک نظریاتی چولا پہنانا اس کی مجبوری ہوتا ہے۔ اسی طرح ماضی کے بھوتوں سے جان چھڑاتے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک تو بدلی ہوئی سیاست میں پاکستان سے دور ہوگئے لیکن سعودیہ، پاکستان سے فاصلہ اختیار کرنے پہ تیار نہیں۔ نہ ہی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سعودیہ کی قیمت پہ ایران سے تعلقات استوار کرنے کو تیار ہے۔ کیونکہ وہ یہ خوب جانتے ہیں کہ بدلے ہوئے حالات اور مشترکہ اتحادیوں کا دباؤ ایران کو بالاخر پاکستان کے قریب لائے گا لہذا واہ کسی جلدبازی کی بجائے ایران اور سعودیہ سے بیک وقت قریبی اتحاد قائم رکھتے ہوئے انکے اختلافات کم کرنے کی کوشش کرینگے۔ ادھر ایرانی بھی سودے بازی میں سخت ہیں لہذا کسی فوری بریک تھرو کی امید عبث ہے۔ الیکشن کے بعد ایرانی پالیسی زیادہ کھل کے سامنے آئے گی لیکن اگر روحانی ہی دوبارہ بطور صدر کامیاب ہوتا ہے تو بھی پرو انڈیا روحانی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ ماضی کی پالیسی یعنی انڈیا سے قریب تعلقات رکھتے ہوئے اس کی مدد سے امریکہ سے اختلافات کم کرنے کی کوشش، کو آگے بڑھائے۔ یہ پالیسی پہلے ہی ناکام ہوچکی تھی۔ اور اس کا محرک صرف سخت گیر ٹرمپ ہی نہ تھا بلکہ امریکہ میں موجود بے حد مضبوط عرب اور اسرائیلی لابی کا کردار بنیادی تھا۔ ٹرمپ کی آمد اس میں اضافہ کا باعث بنی

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *