یاسر پیرزادہ، - ٹیگ

ایک ٹھنڈے مزاج کا شہر۔۔یاسر پیرزادہ

جہاز نے مسقط کے ہوائی اڈے پر اترنے کیلئے پر تولے تو میری نظر نیچے عمارتوں پر پڑی ،زیادہ تر عمارتیں سفید رنگ کی تھیں ، کچھ مٹیالے اور باقی زردی مائل ۔کسی بھی ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے میں←  مزید پڑھیے

آزادی اظہار کا حق اب کیوں یاد آیا؟۔۔یاسر پیرزادہ

ایک سوال بہت زور وشور سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا آپ آزادی اظہار کی حمایت کرتےہیں اور اگر کرتے ہیں تو کیا آپ اُن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو اِس آزادی کا حق استعمال کرنے کی پاداش←  مزید پڑھیے

زبان و بیان کا آئین۔۔یاسر پیرزادہ

آج کل ملکی سیاست نے ہر خاص و عام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے ،چرند ، پرند ، درند کوئی بھی اِس سے محفوظ نہیں ، جہاں چلے جاؤ ایک ہی موضوع سننے کو ملتا ہے ، یوں لگتا←  مزید پڑھیے

کریلے گوشت کا بیانیہ۔۔یاسر پیرزادہ

آپ کو یاد ہوگا شروع شروع میں جب ا سمارٹ فون بازار میں آیا تھا تو اسے استعمال کرنا کافی مشکل لگتا تھا اسی لیے کچھ لوگوں نے اسے مسترد کردیا ،یہ لوگ اُن دنوں بہت فخریہ انداز میں کہتے←  مزید پڑھیے

جیمز ویب ٹیلی اسکوپ اور کائنات کا آغاز۔۔یاسر پیرزادہ

ماضی میں کیسے دیکھا جا سکتا ہے، کیا زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے،بلیک ہول کیا ہے ، ستارے کیسے بنتے ہیں ، اِس کائنات کا رازکیا ہے ، کیا کبھی یہ معلوم ہو سکے گاکہ ہم کہاں←  مزید پڑھیے

کرونا وائرس سے بچنے کی دعا۔۔یاسر پیرزادہ

چودہویں صدی کا طاعون انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک وبا تھی، یہ وبا چین سے شروع ہوئی اور 1347میں اٹلی کے شہر سسلی پہنچ گئی، دیکھتے ہی دیکھتے اِس نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور←  مزید پڑھیے

ثابت کرو کہ تم وجود رکھتے ہو۔۔یاسر پیرزادہ

فلسفے کا استاد کمرے میں داخل ہوا اور اپنے شاگردوں سے بولا ’’آج میرا آخری لیکچر ہے، آج میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اِس سوال کے جواب سے مجھے اندازہ ہوگا کہ میں نے جو فلسفہ پڑھایا وہ←  مزید پڑھیے

ڈاک بنگلے میں گزری ایک شام۔۔یاسر پیرزادہ

فروری کی دھوپ ہو، نیلا آسمان ہو، پنجاب کے کھلیان ہوں، بیچوں بیچ پگڈنڈی ہو، پراٹھوں سے اٹھتا دھواں ہو، کوئی مدھر سا گیت ہو اور ساتھ میں یار بیلی ہوں تو ایسے میں لگتا ہے جیسے پوری کائنات گنگنا←  مزید پڑھیے

میرا دماغ، میری مرضی۔۔یاسر پیرزادہ

ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں، ایک خودکار اور دوسرا سوچنے سمجھنے والا، یہ حصے دو مختلف طریقوں سے کام کرتے ہیں، دماغ کا خودکار نظام الہامی انداز میں چلتا ہے، یعنی جونہی آپ کو کوئی معاملہ پیش آتا ہے،←  مزید پڑھیے

ہمیں ایسی’’جنت‘‘ نہیں چاہیے۔۔یاسر پیرزادہ

آج سے تقریباً تین سو سال پہلے نظام الملک آصف جاہ نے حیدرآباد ریاست کی بنیاد رکھی اور دکن کے حکمران بنے، ہر بادشاہ کی طرح اُنہوں نے بھی اپنا قانون بنایا اور ریاست کی فوج کھڑی کی، دکن کے←  مزید پڑھیے

بیجنگ سے دو شکایتیں ۔۔یاسر پیرزادہ

بیجنگ سے دو شکایتیں تھیں، ایک سردی جعلی ہے اور دوسرے کافی پینے کا سلیقہ نہیں۔ سردی کا گلہ تو بیجنگ نے ایسے دور کیا ہے کہ چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ چنگ شا سے جب جہاز بیجنگ میں←  مزید پڑھیے

ضرورت ہے اٹھارہ فلسفیوں کی ۔۔۔یاسر پیرزادہ

ایڈورڈ گبن ایک تاریخ دان تھا، رومن سلطنت کے عروج و زوال پر اُس نے شاہکار کتاب لکھی، اِس کتاب کو بلاشبہ انگریزی میں تاریخ پر لکھی گئی سب سے مستند اور جاندار کتاب سمجھا جاتا ہے۔ گبن برطانوی پارلیمان←  مزید پڑھیے