ایک پردیسی کی سچی کہانی/ڈاکٹر نوید خالد تارڑ
“ڈھائی سو لوگوں کا کھانا بنانا ہوتا تھا، دن میں دو بار، ڈھائی سو لوگوں کا کھانا بنانے والا میں اکیلا تھا لیکن میں خوش تھا کہ خدا نے روزگار دیا ہے۔ بہت محنت کرنی پڑتی تھی لیکن میں نے← مزید پڑھیے
