ادب نامہ

طوائف۔۔۔ مریم مجید

دسمبر کی سرد اور کہر آلود رات نے ابھی نصف سفر بھی طے نہیں کیا تھا مگر پالے نے شہر کی سڑکوں پر جو ویرانی پھیلا رکھی تھی وہ نصف شب کا سماں باندھ رہی تھی ۔لوگ باگ اپنے اپنے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔جاویدخان/قسط6

ناران بازار دریا کُنہار کے کنارے آباد ہے۔بازار کے آغاز ہی میں خیمہ بستی ہے اور ہوٹل ہیں۔شہر دواطراف سے پہاڑوں نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔جِست کی چادروں جوفولادی ستونوں پہ کھڑی تھیں اُن کے نیچے بجری پہ←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ ٹارگٹ ٹارگٹ ۔کرنل ضیاء شہزاد/قسط 17

چاچا کمپس رات کا وقت فوجی کارروائیوں کے لئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے کیونکہ رات کی تاریکی میں دشمن کے خلاف سرپرائز حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر فوجی تربیت میں رات کے وقت آپریٹ←  مزید پڑھیے

یادوں کے جگنو۔رفعت علوی/قسط5

طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں! اور انسان کے نجات دھندہ نے یہاں بپتسمہ لیا۔۔جان دہ بیپٹسٹ نے یسوع کو اس چشمے کے پانی سے پوتر اور طاہر کیا،یوحنا کا چشمہ←  مزید پڑھیے

اداس لمحوں کی داستانیں ۔اسماء مغل

اداسی کی کیا تعریف ہو سکتی ہے؟ فیض نے تو اسےچند لائنوں میں یوں بیان کیا ہے۔۔ نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے امید یار  ←  مزید پڑھیے

خاکی وردی آلا چن۔سائرہ ممتاز/آخری قسط

کرتار صغراں دے دکھی مہاندرے نوں تک کے اپنڑے وجود نوں سانبھیا تے کہن لگا “ایہہ کداں ہو سکدا اے، ماسی حمیداں اینی چھیتی ویاہ لئی  سوچن لگ پئی ۔ اجے تاں توں میٹرک دا داخلہ وی نہیں تاریا. ”←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔نیا روپ /ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔ قسط 10

چونکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کوٹ سارنگ جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا، جہاں بقول ماں کے،سبھی مسلمان ان کے بھائی بہنیں تھے اور کوئی واردات نہیں ہو سکتی تھی، اس لئے یہی طے کیا گیا کہ آریہ محلے کے←  مزید پڑھیے

خاکی وردی آلا چن۔سائرہ ممتاز/پنجابی افسانہ۔قسط 1

اِک اُونکار سَتِ نام کرتا پُرکھ نِربھو نِروَیر اکال مورتِ اجُونی سَے بھنگ گُر پرساد آد سچ جگاد سچ رہے بھی سچ نانک ہوسی بھی سچ اک رب توں سوا کوئی سچائی نہیں، ناں اوہنوں کسے دا  ڈر ہے، اوہدی←  مزید پڑھیے

ایک سبق ریاضی کا۔۔۔ مدثر ظٖفر

تمھارے پاس دس روپے ہوں تو تم ایک درجن کیلے خرید سکتے ہو  ، اگر پندرہ روپے ہوں تو کتنے کیلے آئیں گے ؟ لیکن سر میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں ۔ اس کے جواب  سے  مایوسی  جھلک رہی←  مزید پڑھیے

محبت کی سرگوشیاں۔سائرہ ممتاز

زندگی یوں تو چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ کے مرغولوں میں بھی سما سکتی ہے لیکن سیمابی ء  فطرت کا تقاضا ہے کہ بھاپ کو دور تک جانے دیا جائے اور پھر بخارات کی کمی سے جنم لینے والی←  مزید پڑھیے

ماں۔فرحانہ صادق/افسانہ

 آج سدرہ نے پھر ویسا ہی خواب دیکھا ۔ وہ ایک سرسبز چراہ گاہ کے بیچ و بیچ دونوں بانہیں پھیلائے کھڑی ہے ۔ دور تک سنہری دھوپ کھلی ہوئی ہے ۔ شہابی رنگت اور سنہری بالوں والا تین چار←  مزید پڑھیے

پرواز۔۔۔ ساجدہ سلطانہ

  آج وہ پھر روزانہ کی طرح اس کے در پہ جا پہنچا۔ وہ اسی طرح اداس سی، سر نہوڑاے کھڑکی میں بیٹھی تھی۔ اسے اس طرح قیدِ تنہائی میں سسکتا دیکھ کر اس کا دل بھر آیا۔ کہیں ایسا←  مزید پڑھیے

جرنیلی سڑک۔۔۔ ابن ِ فاضل /قسط6

کھاریاں کے متعلق قابل خرگوشی کا شگوفہ ہے کہ وطنِ عزیز کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ‘کھا ریاں’ ہونا چاہیئے ۔مثلاََ اگر کوئی کسی بٹ یا کسی عوامی نمائندے سے پوچھے کہ کیہہ کررہے ہوپائین؟ اور وہ جواب←  مزید پڑھیے

پاگل۔۔۔مظفر عباس

میں آئینے میں ایک پاگل کو دیکھ کر مخاطب ہوا۔ سب لوگ کہتے ہیں میں پاگل ہوں۔ ہاں شاید میں پاگل ہی ہوں گا۔ کیونکہ اگرمیں اپنے آپ کو پاگل نہیں سمجھتا تو اس کا مطلب ہے کہ میں پاگل←  مزید پڑھیے

اپنی دنیا خود پیدا کر۔۔۔ رابعہ احسن

اس کی آ نکھوں کے سامنے اس وقت جو منظر تھا وہ کسی قیامت کا ہی حصہ ہوسکتا تھا وہ جو اپنے نازک احساسات اور جذبات لئے کتنی دیر سے انتظار کی گھڑیاں گن رہی تھی اپنےحنائی ہاتھوں پہ اک←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ ،ٹارگٹ ،ٹارگٹ۔کرنل ضیا شہزاد/قسط 16

بِل وِل مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال←  مزید پڑھیے

خواہش۔۔۔ جانی خان

کڑکتی دھُوپ اور ناہموار سی سڑک پر سلیم دُوکانداروں کے سامان سے لدی ریڑھی کھینچے جارہا تھا۔ ریڑھی کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ اور بے ترتیب سی چال سے اُن پہیوں کی ضعیفی کا پتہ چلتا تھا۔ جس سے ریڑھی کو←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط9

راولپنڈی میں، جہاں میں مشن ہائی سکول میں میٹرک کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، مارچ ۱۹۴۷ء کو فسادات پہلے شروع ہوئے۔ کچھ لوگ مارے گئے، کچھ گھر جلا دئے گئے۔ میرا پنجاب یونیورسٹی کا میٹرک کا امتحان ۴ /←  مزید پڑھیے

میری کتوں سے نہیں بن پائی۔شاہد یوسف خان

اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے کتوں سے تعلقات ذرا کشیدہ ہی رہے ۔اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ بچپن میں دو بار چوری سے کاٹ لیا ہے۔ پھر تو انہیں آج تک جہاں بھی دیکھتا ہوں لتاں←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔جاویدخان/قسط5

اس سارے علاقے میں مچھلی کے فارم بنائے گئے ہیں۔مچھلی کی صنعت کو اس شفاف پانی والے علاقے میں مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔مچھلی کی مانگ اس وقت پوری دنیا میں دن بدن بڑھ رہی ہے۔یوں ضرور ت اور معیشت←  مزید پڑھیے