ادب نامہ

مہنگائی نہیں ، ہمیں تو سستائی مار گئی۔۔سید عارف مصطفٰی

چکن کا مہنگا ہونا افسوسناک ہوتا ہے لیکن سستا ہونا خطرناک ہے بلکہ خاصی حد تک تشویشناک بھی ۔۔۔ اب اس بارے میں وضاحتاً صرف یہی بتاسکتا ہوں کے چند ہفتوں سے یہ نامراد مرغی کی قیمت کیا گری ہے←  مزید پڑھیے

کتے اور سور ۔۔۔ مبشر زیدی

ڈوڈو کے گاؤں اور میری بستی کے بیچ میں جنگل ہے۔ ڈوڈو جب آتا ہے، ہاتھ میں سونٹا ہوتا ہے۔ کوئی کتا، گیدڑ یا سور قریب آئے تو گھما کے مارتا ہے۔ کل ڈوڈو اپنے بچوں کے ساتھ آیا، ہاتھ←  مزید پڑھیے

دس ضرب دو برابر صفر ۔۔آدم شیر

لاہور کے شمال میں ایک پرانی بستی ہے جس کی ایک تنگ اور بند گلی میں موجود اکلوتے کمرے کے مکان میں بلو کرائے پر رہتی تھی۔ اِس شہر کی ٹیڑھی میڑھی تنگ گلیاں اندر سے بڑی کھلی ہوتی تھیں←  مزید پڑھیے

سناٹا۔۔قراۃ العین حیدر

“لو یہ کھا لو۔” “یہ کیا ہے؟ ” “Safety measure” “اس کا مطلب ہے کہ تم نے پھر کوئی احتیاط نہیں کی”۔ “نہیں۔۔۔۔۔ اگر احتیاط کے بارے میں سوچتا تو اتنا پرسکون کیسے ہوتا” “اگر مجھے کچھ ہوگیا تو۔۔۔۔۔” اس←  مزید پڑھیے

زندہ رہنا چاہتے ہیں؟۔۔گل نوخیز اختر

ڈاکٹرصاحب کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ زندگی چاہتے ہو تو روٹی سے پرہیز کرو کیونکہ روٹی کھانے سے چربی بڑھتی ہے جس سے موٹاپا ہوجاتاہے اور موٹاپا سو بیماریوں کی جڑ ہے۔ میں←  مزید پڑھیے

مجھے آج تک پتا نہ چلا ، میں کون ہوں ؟۔۔۔راجندر سنگھ بیدی

شاید اس سے کوئی یہ مطلب اخذ کرے کہ میں عجز وانکسار کا اظہار کر رہا ہوں ، تو یہ نا درست ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ جو آدمی کسی دوسرے کے آگے نہیں جھکتا ، یا کسی خاص←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط20

وزیر آغا صاحب (اب جو مرحوم ہیں) سے میری خط و کتابت تیس برسوں کے طویل عرصے پر محیط رہی۔ خدا جانے میں نے کتنے مکتوب لکھے ہوں گے لیکن ان کی طرف سے جو مکتوب مجھ تک پہنچے، ان←  مزید پڑھیے

پیسے دو, رشتہ لو۔۔ماہ وش طالب

وہ کبھی بھی اپنی اماں کی لاڈلی نہیں رہی تھی, ہوتی بھی کیسے لڑکی جو تھی, میٹرک ہوتے ہی اماں کو اس کی شادی کی فکر ستانے لگی, جبکہ اس نے آپاں کے تجربے سے نصیحت پکڑ  لی تھی کہ←  مزید پڑھیے

ٹیکسیاں ۔۔قربِ عباس/افسانہ

 زینت کی کلائی میں چوڑیاں کھنکتی تھیں، مگر شاہد ان کی کھنک کو کب سنتا تھا وہ تو اپنے اندر بجنے والے سکّوں کی چھنکار کے تابع تھا۔ سورج کی ٹھنڈی روشنی کمرے میں داخل ہوچکی تھی۔ زینت نے آنکھیں←  مزید پڑھیے

سابقہ۔۔محمد علی جعفری

ہمارے وقت نے ہم کو شکست بھی دے دی، وہ ماہ و سال جو میراثِ مشترک تھے کبھی، وہ اب مقدمہِ تقسیم کا اثاثہ ہیں، مگرفراق و وصل میں تو کچھ عجیب نہیں، عجب نہیں  کہ مجھے تیری زلف کا←  مزید پڑھیے

لاوارث۔۔قراۃ العین حیدر/افسانہ

جب اسے ہوش آیا تو زمین پر ہر طرف لاشیں اور خون بکھرا ہوا تھا۔ جابجا انسانی اعضاء ارد گرد پھیلے ہوئے تھے۔ چاروں اطراف میں ایمبولینسوں کے سائرن گونج رہے تھے۔ چیخیںں ، آہ و پکار مچی ہوئی تھی←  مزید پڑھیے

بے گھر ۔۔مبشر علی زیدی

خدا ایک ویران سڑک پر درخت کے نیچے بینچ پر اداس بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ پیشانی پر شکنیں تھیں۔ ہونٹ بھینچے ہوئے تھے۔ جھٹپٹے کا وقت تھا۔ اندھیرا دھیرے دھیرے چاروں طرف پھیل رہا←  مزید پڑھیے

آوارہ عورت۔۔مریم مجید/،قسط1

گیلی ریت پہ چلتے چلتے ہم جانے کتنی دور نکل آئے تھے کہ لوگوں کا شور، ہنگامہ کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ سمندر کے اس کنارے پہ اکا دکا لوگ ہی تھے یا پھر لہروں کے ساتھ ساتھ اڑتے سمندری←  مزید پڑھیے

دریا کی خاموشی۔۔زکریا تامر(ترجمہ۔۔آدم شیر)

  اگلے وقتوں کی بات ہے کہ دریا باتیں کرتا تھا اور اسے بچوں سے گفتگو کرنا بہت پسند تھا جو پانی پینے اور ہاتھ منہ دھونے آتے تھے۔ وہ مذاق کرتا، ’’کیا زمین سورج کے گرد چکر کاٹتی ہے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 19

1991 کی شروعات۔۔۔یونیورسٹی میں میری تین برس کی تقرری ختم ہونے کے قریب تھی۔ ساؤتھ ایشیا پوئٹری پراجیکٹ بھی مکمل ہو چکا تھا کہ مجھے سعودی عرب میں آنے کی دعوت ملی۔ کام وہی تھا، نصاب سازی اور کورس پلاننگ←  مزید پڑھیے

بچے غیر سیاسی نہیں رہے۔۔گل نوخیزاختر

بیٹے نے بتایا کہ ’’بابا ہمارے سکول میں آج ایک ٹیچر بتا رہی تھیں کہ فلاں سیاسی پارٹی اچھی ہے ‘‘۔ ایک دم سے میرا ماتھا ٹھنکا۔ اگلے دن میں اس کے سکول پہنچا اور پرنسپل صاحب سے گذارش کی←  مزید پڑھیے

اکّڑ بکّڑ بمبے بو۔۔شکور پٹھان

(صرف بالغان کے لئے) چالیس سال سے کم عمر بچے اسے نہ پڑھیں۔ کہاں گیا میرا بچپن ۔ ( پھول چمن اور ہری من بھری) جانے کہاں یہ جملہ پڑھا تھا کہ اپنے یہاں بچے ، بچپن سے سیدھے بڑھاپے←  مزید پڑھیے

فسق و فجور۔۔قربِ عباس

“ویلنٹائن کو محض اس لیے مار دینا کہ وہ محبت کرنے والوں کی شادیاں کرواتا تھا، ایک ٹریجڈی ہے۔ لیکن اسی تصویر کا دوسرا رُخ بھی تو دیکھو۔۔۔ ایک طرح سے اس نے جرم بھی کیا تھا۔” میرے دوست نے←  مزید پڑھیے

احوال ذلالت بطرز جدید چال چلن ۔۔مریم مجید/ آخری قسط

اگلی سویر جب میں دوکان کھول کر جھاڑ پونچھ کر رہا تھا تو محلے کی مسجد کمیٹی کے رکن حاجی دلبر نازل ہو گئے۔ حاجی صاحب کا سراپا نعمتوں کے کثرت استعمال سے ایسا ہو چکا تھا کہ جناب سر←  مزید پڑھیے

غالب داورِ محشر کے حضور میں۔۔۔ شاہ محی الحق فاروقی

صور کی مہیب آواز سے دل بیٹھا جارہا تھا۔ مُردوں کی دنیا میں ایک ہنگامہ سا بپا تھا۔ سب کے سب ایک دوسرے کو دھکا دے کر آگے بڑھنے اور پیچھے ہٹنے کی کوشش کررہے تھے۔ قیامت آگئی، قیامت آگئی←  مزید پڑھیے