ادب نامہ

ناگفتی۔۔۔۔۔ محمد خان چوہدری

گُزرے ہیں عشق میں،ایسے بھی امتحاں ہار کے تو ہارے، جیت کر بھی ہارے یہ تقریباً حقیقت میں ہوا واقعہ لگتا ہے ! ناگفتنی۔۔۔ صوبیدار انکل نے اپنی بیٹھک میں میرے سامنے والے صوفے پے بیٹھتے ہوۓ کہا، بیٹا آپ←  مزید پڑھیے

ناآسُودہ آسودگی”دل خراش”۔۔۔۔۔محمد خان چوہدری

بچے ، خواتین اور کمزور دل احباب اسے مت پڑھیں! ابا میں ہوں تیری بیٹی مقدس، دیکھ گور کن چاچا تیری قبر بھول گیا پر میں نہیں ، کوئی  بات نہیں  رات ہے اندھیرا ہے، اچھا ابا میں جا رہی←  مزید پڑھیے

شام ,امن سے جنگ تک/سلمٰی اعوان۔۔۔۔قسط4

دمشق جسے رومن شہنشاہ جولین Julian نے مشرق کی آنکھ کہا۔ تین ہزار قبل مسیح کا یہ شہر جو دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ کبھی یونانیوں،کبھی رومیوں،کبھی بازنطینیوں کا مرکز نگاہ۔ دریائے برادہBarada کا عرب دنیا←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 24۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

بس جب سے روانہ ہوئی ہے جمپ پہ جمپ لگ رہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ ملک کب سیدھا ہو گا۔ کرپٹ سور کب سے ملک کو کھا رہے ہیں۔ یہ گیارہ بارہ کلومیٹر سڑک کا ٹوٹا اِن سے صحیح نہیں ہو رہا۔ بس ایسے←  مزید پڑھیے

بنا ہے شہ کا مصاحب ، پھرے ہے اتراتا۔۔۔(سفرِ جوگی) اویس قرنی/قسط4

گوگل نقشہ کی مدد سے منزلوں کا تعین اور سفری دورانیے کا تخمینہ لگا کر یہ طے ہوا کہ اگر ہم صبح سات بجے دھنوٹ سے نکلیں تو مملکتِ رحیم یار خان کی حدود پار کرکے زیادہ سے زیادہ ساڑھے←  مزید پڑھیے

“شائقینِ فن دوحہ” قطر کے زیرِ اہتمام تقریبِ یومِ پاکستان وعالمی مشاعرہ۔۔۔سانول عباسی

رپورٹ از ساؔنول عباسی انفارمیشن سیکریٹری  شائقینِ  فن دوحہ قطر ٢٨ مارچ ٢٠١٩ بروز جمعرات ادبی و ثقافتی تنظیم “شائقینِ فن دوحہ” کے زیرِاہتمام ٧٩ویں یومِ پاکستان کے سلسلہ میں ” البنوش کلب مسیعید ” میں پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔←  مزید پڑھیے

انصاف۔۔۔۔۔سعید احمد/نظم

آج انصاف ہواتھا آج انصاف کا دن ہے آج کے دن انصاف ہواتھا آج لوگ روۓ تھے آج لوگوں کے چہرے اداس تھے گھروں میں کوئی مر گیا تھا نہ میت تھی نہ کوئی جنازہ اٹھا آج انصاف ہواتھا لاکھوں←  مزید پڑھیے

شیری کا انتقام….روبینہ فیصل

مین ہیٹن نیویارک کی ایک پررونق سڑک کے کنارے ایک درمیانے قد اور درمیانی عمر کی ایک بے ڈھنگی سی عورت کھڑی ہے۔اس کے بال ترشے ہوئے ہیں اور موٹے موٹے ہونٹوں پر گہرے گلابی رنگ کی لپ اسٹک کی←  مزید پڑھیے

غیرت۔۔۔محمد خان چوہدری/افسانہ

نمبردار قادر بخش کا دادا خدا بخش گاؤں کا بڑا زمیندار تھا، سو بیگھے مزروعہ ملکیت کے علاوہ شاملات ملا کے وہ تین سو بیگھے زمین کا مالک تھا۔انگریزوں کے وقت فوج میں بھرتی ہوا، اور پاکستان بننے کے ایک←  مزید پڑھیے

شام، امن سے جنگ تک/ دمشق کا پاکستانی سکول اور المرجع یا شہدا چوک/سلمٰی اعوان۔۔قسط3

ٹیکسی کے لئے تھوڑاسا بھاؤ تاؤ کرنا پڑا۔ تاہم لوٹنے کا رحجان نظر نہیں آیا۔ تقاضا اُس نے تین سولیرا کاکیا ۔ میں نے کچھ کمی کا کہا تو ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بولا۔ ’’ شہرکا شمالی حصّہ ابراہیم حنانو←  مزید پڑھیے

گلابو ۔۔۔شجاعت بشیر عباسی/قسط1

ملک افضل کے ڈیرے پر آج شام سے ہلچل مچی ہوئی تھی۔انتخابات کا دور دورہ تھا اہم ملاقاتیں پچھلے کئی دنوں سے زور شور سے جاری تھیں۔ ملک افضل سیاسی پارٹیاں ہمیشہ سے ہی بدلتا آیا تھا سیانا کوا تھا←  مزید پڑھیے

کبھی سانس لی ہے؟۔۔۔۔نورِ مریم کنور

“کبھی سانس لی ہے؟” ہاں لی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک حبس زدہ چھوٹا سا بند کمرہ ہو جو ایسے گھر میں ہو جس میں سورج تک نہ آنا چاہے، کہ جس کا راستہ اتنی تنگ گلیوں کے گچھے←  مزید پڑھیے

لیکن ہار مقدر تھی۔۔۔رابعہ احسن

وقتی اور لمحاتی کیفیتوں کا خمار چند لمحوں کیلئے خود سے پرے کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہےاس سے زیادہ سکون اور کہاں ہوگا مگر یہ کیساسکون ہے جس کا وجود مجھ میں سرائیت کرکےتکمیل ہی نہیں کر پاتا ۔←  مزید پڑھیے

قرآن کریم۔۔۔شاہد کمال

آئینہ در آئینہ در آئینہ قرآن ہے مصطفیٰ قرآن ہے اور مرتضیٰ قرآن ہے جو مشیت کے لبوں پر رقص فرماتا رہا ہاں وہی رمزِ سکوتِ  ماورا قرآن ہے کر رہا ہے وہ جو تدوین ِ نصابِ کائنات سینہء کُن←  مزید پڑھیے

اک سوال۔۔۔۔انعام رانا

جنگ ختم ہوئی لوٹ آئے سب سپاہی بھی کاروبار دنیا بھی اب رواں ہے پہلے سا آگ میں سیاست کی پھر دھواں ہے پہلے سا، پوچھنا بس اتنا تھا خوبرو سے حاکم سے دیانتوں کے حاتم سے بات تھی جو←  مزید پڑھیے

پازیب۔۔۔۔۔۔ پشتو کہانی کا اردو ترجمہ:فیروز آفریدی

جمیل اپنی بیوہ ماں کا فرمان بردار اکلوتا بیٹا تھا۔ گاؤں سے پرائمری اسکول تک پڑھنے کے بعد جمیل مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔ کیوں کہ ماں کو اکیلا چھوڑ کر شہر جانا اس کے لئے مشکل تھا۔ جبکہ←  مزید پڑھیے

شام، امن سے جنگ تک/ دنیا کے کلاسیکل حسن والے شہر دمشق کا سفر/سلمٰی اعوان۔۔قسط2

زینبیہ زائرین کی جائے عقیدت! صبح کا ناشتہ نسرین نے بنایا۔ وہ اپنے موٹاپے کے باوجود اچھی خاصی چُست اور متحرک خاتون تھی۔ میر ی عمر کی ہوگی یا مجھ سے دو تین سال چھوٹی۔ میں نے لنگر والے کچن←  مزید پڑھیے

لبِ شیریں۔۔۔۔۔سحرجول بلوچ

کچن عورت کی سلیقہ مندی کا آئینہ ہوتا ہے۔۔ امی نے برتن دھوتی فرحین سے کہا جو چائے کے کپوں کو دھو کر واپس سنك میں رکھے جا رہی تھی جس کا دھیان برتنوں کی طرف کم اور گزشتہ رات←  مزید پڑھیے

تقریباً پونے گیارہ بجے۔۔۔۔۔۔ شکیل احمد چوہان

’’جہاں خیر نہیں ہوتا وہاں شر ہوتا ہے اور جہاں لنگر نہ ہو وہاں بھوک ہوتی ہے۔ آپ اگر لنگر کو ختم کرو گے تو بھوک دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گی، بھوک ہاتھی کو بندر بنا←  مزید پڑھیے

خوشونت سنگھ کی کہانی خود اُن کی زبانی

میں جانتا ہوں کہ میں کہاں پیدا ہوا تھا۔ میں کب پیدا ہوا تھا، ایک قیاس تک محدود ہے۔ صحرائے تھل کے ریتلے ٹیلوں میں چھپے ہوئے ایک بہت ہی چھوٹے گاؤں جسے ’’ہڈالی‘‘ کہتے ہیں، میں پیدا ہوا۔ یہ←  مزید پڑھیے