ادب نامہ

“ملک صاب”…محمد اشفاق

اپنے اپنے ذوق کی بات ہے، مگر میانوالی اور سرگودھا کے لہجے میں گالیوں کی آن، بان اور شان ہی کچھ نرالی ہوتی ہے- میانوالی کے لہجے سے ہمیں روشناس کرانے والے ملک صاحب تھے- سات پشتوں سے آباء کا←  مزید پڑھیے

انصاف حماتوما (ایتھوپیا) مترجم : حمید رازی

ایک دن ایک عورت کی کچھ بکریاں ریوڑ سے بچھڑ گئیں۔وہ انہیں کھیتوں میں ادھر ادھر ڈھونڈتی سڑک کے قریب پہنچی تو دیکھا کہ ایک شخص اپنے لئے کافی بنا رہا تھا. عورت کو پتہ نہیں تھا کہ وہ بہرا←  مزید پڑھیے

مرجع ۔۔۔قمر سبزواری

مولوی صاحب؟ ہاں بول؟ باہر ڈاکٹر صاحب، وکیل صاحب، کونسلر صاحب، پٹواری صاحب چودھری صاحب اور ملک صاحب آئے ہیں جی۔ ابے کیا کہتے ہیں؟ پتہ نہیں جی، آپس میں بڑی پریشانی میں باتیں کر رہے ہیں، کہہ رہے تھے←  مزید پڑھیے

ژاں ژینے سے سات ملاقات۔۔۔ مترجم احمد سہیل

فرانسیسی ڈراما نگار، ناول نگار، سوانح نگار، فلمی لکھاری، سیاسی مزاحمت کار ژاں ژینے (Jean Gengt) 19 دسمبر 1910ء کو پیرس (فرانس) میں پیدا ہوئے۔ وہ ناجائز اولاد تھے۔ ان کی والدہ طوائف تھیں۔ ژاں ژینے نے ایک رضاعی گھر←  مزید پڑھیے

متفکرات۔۔۔۔کے ایم خالد

  کھانا کھل گیا ہے کچھ عرصہ سے پرنٹ ،الیکٹرونک اور سوشل میڈیا جیالے، متوالے اورسر فروش قسم کے پارٹی ورکرزکو ’’ایکسپوز‘‘کرنے پر تلا ہوا ہے۔ظاہر ہے جہاں پر کھانا ہو گا ،وہاں پر افراتفری تو مچے گی۔آپ پورے پاکستان←  مزید پڑھیے

موگیمبو خوش ہوا۔۔۔۔ گل نوخیزاختر

اگرچہ موبائل پر نیوی گیشن کے ذریعے ایڈریس معلوم کیا جاسکتا تھا‘ پھر بھی میں نے شمسی صاحب کی فرمائش پر گاڑی ایک سائیکل والے کے پاس روک دی۔شمسی صاحب نے شیشہ نیچے کیا اور بولے’’بھائی صاحب گلبرگ کس طرف←  مزید پڑھیے

دکھوں کا ابراہیم۔۔۔۔رفعت علوی/قسط 1

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ! خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو لٹریچر کی پرہجوم کلاس تھی، میں نے ابھی اقبال کے فلسفےمرد←  مزید پڑھیے

دین محمد کی کہانی ۔۔۔رڈیارڈکپلنگ/ترجمہ عامر صدیقی

ٖٖوہ ایک پرانی،بدنما، کھردری اورگھسی ہوئی پولو کی گیند تھی، جو مینٹل پیس پر پائپوں کے برابر رکھی ہوئی تھی۔میراخدمتگار امام دین ان پائپوں کی صاف صفائی کر رہا تھا۔ ’’کیاسرکار کو اس گیند کی ضرورت ہے؟‘‘امام دین نے مودبانہ←  مزید پڑھیے

میرے حسین علیہ السلام۔۔۔مبشر علی زیدی

مجھے سوال کرنے کی عادت بچپن سے تھی۔ کسی کو سوال پسند آئے یا نہ آئے، جواب ملے یا نہ ملے، سوال کرنا ضروری تھا۔ امی مجھے منہ پھٹ کہتی تھیں کیونکہ مہمانوں کے سامنے میرے سوال کبھی کبھی پریشان←  مزید پڑھیے

چھپر کھٹ کا ناگ۔۔۔مریم مجید ڈار/افسانہ

سہاگ کی سیج پر بیٹھی شمع کا دل ہر گزرتی گھڑی کے ساتھ آنے والے لمحات کی رنگینی و سنگینی کے تصورات کے بھاری پتھر سے بندھا ایک عجیب سی کیفیت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔ اس کا←  مزید پڑھیے

نمازی ۔۔۔ قمر سبزواری

  کیا گلی کی نکڑ پر بیٹھا رہتا ہے یار؟ کبھی مسجد چلنے کی توفیق تو  ہوئی نہیں تجھے۔ ہاں یار کہتا تو تَو سچ ہے۔  دل تو چاہتا ہے لیکن،  بس ۔۔۔۔ ابے چھوڑ یہ سب بہانے ہیں مجھے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر26

وِلے نیل۔ ایک فرانسیسی صنف۔Oral Literature = Orature اوریچر انگلستان کے 1971-73 کے قیام کے دوران ایک اور شخصیت سے ملاقات ہوئی جو خود چاہتے تھے کہ مجھ سے ملیں۔ یہ والٹر جے اونگؔ Walter J. Ong تھے جو ایک←  مزید پڑھیے

عوامی شاعر۔۔عالی جی،رئیس امروہوی۔۔۔۔شکور پٹھان

ہمالیہ کی یہ وادی، گنگ و جمن، پدما، پنج دریا اور اباسین کی یہ سرزمین شاید ایشیا کا مردم خیز ترین خطہ ہے۔ کیسے کیسے گوہر آبدار، ایک سے بڑھ کر ایک باکمال لوگ اس زمین کی کوکھ نے جنم←  مزید پڑھیے

خواتین وحضرات کے مسائل۔۔۔ گل نوخیزاختر

خواتین وحضرات کے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور حیرت ہونے لگتی ہے کہ اتنے مشکل حالات میں بھی یہ کیسے زندہ ہیں۔پہلے خواتین۔۔۔میری طویل تحقیق کے نتیجے میں خواتین کے بلڈ پریشر←  مزید پڑھیے

غمِ حیات ،مکتب سکول۔۔۔۔ ابو عبداللہ

ضیاء الحق کی حکومت تھی، جب سکول جانا شروع کیا. اپنے گاؤں میں کوئی سکول نہیں تھا، اس لئے چار کلومیٹر دور ساتھ والے گاؤں میں ایک مسجد میں پڑھائی شروع کی جو مکتب سکول کے نام سے مشہور تھا.←  مزید پڑھیے

تبدیل ہوتے سماجی اقدار کے تناظر میں ہندی ناول، نکی میل۔۔ عامر صدیقی

تبدیل ہوتے سماجی اقدار کے تناظر میں ہندی ناول’’گلِگڈُو‘‘: عمر رسیدگی کے مسائل کے خصوصی تعلق کے حوالے سے نکی مِیل ’’بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کرے‘‘ اکبر←  مزید پڑھیے

عاشق اور شہید لوٹ آتے ہیں۔۔۔امر جلیل/سندھی کہانی،ترجمہ شاہد حنائی

ہم نے محرم علی کا بِنا سر کا دھڑ دفنا دیا۔میوہ شاہ قبرستان سے لوٹتے ہوئے راستے میں سورج غروب ہو گیا۔گھرپہنچے تو وہاں گھپ اندھیرا تھا۔بتی جلانے کی اجازت نہیں تھی۔کسی بھی وقت حملہ ہونے کا خدشہ تھا۔موت آسمان←  مزید پڑھیے

فاحشہ۔۔۔مریم مجید ڈار

(ایڈز کی مریضہ طوائف ) گاہک کی مٹھیوں میں اس کے بال کسے ہوئے تھے۔۔ اور مسہری کی سلوٹوں میں اس کا صدیوں پرانا بدن درزوں اور ریخوں کے بیچ سے جھانکتا تھا۔ ۔۔۔۔ گاہک نے جو نوٹ نائیکہ کو←  مزید پڑھیے

لَو، ایوان یونین/ ترجمہ نئیر عباس زیدی

انہوں نے رات کا کھانا کھایا، روشنیوں سے چکا چوند ڈائننگ روم سے باہر آکر عرشے پر لگے کہڑے پر آکر کھڑے ہو گئے۔ خاتون نے اپنی آنکھیں موند لیں، ہتھیلیاں باہر کی طرف کر دیں، پھر اپنے ہاتھوں کو←  مزید پڑھیے

نظم اور غزل کا فرق جان کر جیو۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ظفر اقبال صاحب شاید ابھی تک انیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ وہ انگریزی اور اس کے وسیلے سے یورپ کی دیگر زبانوں کے ادب سے نا آشنا ہیں۔ مجھے یہ باور کرنے میں بھی←  مزید پڑھیے