آدھی چھٹی ۔۔۔۔ محفل عروج پر تھی اور ہم نے معذرت کرکے رخصت لی۔ اب اپنی ذات کی انجمن میں رونق افروز ۔ خوب بھرا میلہ ہے ادھر بھی۔ نہ کسی معصوم بھروسے کے ٹوٹنے کا ڈر۔ نہ حسن ظن،← مزید پڑھیے
تصویر اگر صرف ایک تقریب کی ہے تو کوئی بات نہیں تحریر تو ساتھ تینوں تقریبوں کی لکھی ہوئی ہوگی نا ؟ ان تین تقریبوں کی روداد کا طویل ہونا بنتا ہے ۔ شاید آپ ان تین تقریبات کی روداد← مزید پڑھیے
محبت کے سرخ پھول۔۔۔ ہفتہ محبت شروع ہے ایک ہفتے میں ختم بھی ہو جائے گا آؤ گلہریوں کی باتیں کریں۔ اس برڈ فیڈر کی بات کریں؛ جو بہار میں آنے والے پرندوں کو دانہ ڈالنے کے لئے خریدنا ہے۔← مزید پڑھیے
ہر آدمی کا اپنا “داغستان”(علاقہ) ہوتا ہے، ایک اپنا “سدا” (گاؤں) اور ایک اپنی زبان ( آوار) بھی۔ ہر آدمی کی دنیا میں کوئی “حمزہ” تو کوئی نہج کوئی “ابو طالب” (دوست) بھی ہوتا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے ہر← مزید پڑھیے
گھر کی پکی کہانی۔ ہم اکثر کہانی گھر پر ہی پکا لیتے ہیں۔ کبھی دور سے جا کر لے آتے ہیں۔ دور جزیروں سے اٹھا لاتے ہیں ادھ پکی ایک کہانی مگر اسے پکانا تو گھر پر ہی ہوتا ہے۔← مزید پڑھیے
عاطف کی زندگی کا کل اثاثہ ایک ہی تھا: تی تی تی، چرّی چرّی چرّی عاطف کا پورا بچپن گاؤں میں گزرا تھا۔ اس کو گاؤں کی صاف ہوا، شفاف چشمے، سرسبز باغات، پرندوں کی چہچہاہٹ اور دودھ، پنیر، دیسی← مزید پڑھیے
’’کیا سب سزائیں جرم ہی کے سبب ہو اکرتی ہیں؟‘‘ یہاں ہم ایک پرانے متن سے ، مثال پیش کرنا چاہتے ہیں ، جس میں انسان کی عمومی حالت ہی میں سزا کا بیج موجود ہے،اور یہ سزا، کسی جرم← مزید پڑھیے
ڈسپوزایبل محبت کیا کریں ہمیں ایک تومحبت ہو جاتی ہے۔ وہ بھی بہت جلدی ہو جاتی ہے۔ ہر راہ پر ہر موڑ پر ہر ایک سے ہوجاتی ہے۔ چند لوگوں سے تو خاص ہی ہوتی ہے اور کسی ایک سے← مزید پڑھیے
ادب ایک ایسی جگہ ہے، جس کا مرکزی استعارہ گھر کا ہے۔ادب، گھر کی مانند ’تعمیر ’ کیا جاتا ہے اور اس کی آرائش کی جاتی ہے۔ ہم یہاں قیام کرتے ہیں؛ رہتے بستے ہیں، اور ادب کو بسر کرتے← مزید پڑھیے
میز پر دھرے پراٹھے کے بچے ہوئے ٹکڑے کا ذائقہ اس جھوٹ جیسا تھا جو عموما ہم اپنے باپ کے ساتھ بولتے ہیں ۔ اس کے ساتھ رکھی چائے کی پیالی سے اٹھتی بھاپ کسی بوڑھے کی آخری ہچکیوں کی← مزید پڑھیے
میچ میکنگ۔۔ “آپ کی نظر میں کوئی رشتہ ہے”؟۔ میری دوست نے کہا ۔ “کس کے لئے ؟ “ میں نے پوچھا۔ “میرے بیٹے کے لئے اور بیٹی کے لئے “ پھر خود ہی تعارف بڑھاتے ہوئے بولی۔”ماشاللہ دونوں ہی← مزید پڑھیے
اختصار ایک دوہرا معیار ہے سطحی نظر میں یہ سہل انگاری اور بے توجہی کا پہلو دکھائی دیتا ہےمگر حقیقت میں اس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی فنی ریاضت درکار ہوتی ہے۔ جامعیت اور اثر انگیزی کے← مزید پڑھیے
آج کی دھمال۔۔ ہر چیز جو اب جھیلی نہیں جاتی۔ جاو اداسی اب بہت ہوچکی اب دل سے اتر گئی ہو۔ جدائی! اب جدا ہوجاو ۔ وقت جدائی ہے۔ اے زہر کے پیالو! اب زہر کی معیاد بھی ایکسپائر ہوچکی← مزید پڑھیے
عبدالمجید کے دفتر کی فضا میں ایک ایسی مصنوعی تازگی تھی جو صرف مہنگے فلٹریشن سسٹم اور اقتدار کی قربت سے میسر آتی ہے۔ میز پر پھیلے ہوئے رنگین بروشرز اور ’اردو کتب میلے‘ کے نقشے کسی جنگی حکمت عملی← مزید پڑھیے
اندھیرا گہرا نہیں تھا۔ یہ سیاہی نہیں تھی، بس روشنی کی غیر موجودگی تھی۔ اور وہ اس غیر موجودگی کے عین بیچ میں کھڑا تھا۔ نام؟ اس کے لیے نام ایک اضافی بوجھ تھا۔ وہ تو بس ہونےکا ایک نقطہ← مزید پڑھیے
ہومی کے بھابھا ( Home K. Bhabha) ایک ممتاز ہندوستانی مفکر، تنقیدی نظریہ ساز اور مابعد نوآبادیات مطالعات پر نظر رکھنے والے دانشور ہیں۔ وہ ثقافتی تحقیق، ادبی تجزیہ اور استعماری اثرات کے مطالعہ میں اپنی گہری بصیرت کے لیے← مزید پڑھیے
یہاں ہم ایک پرانے متن سے ، مثال پیش کرنا چاہتے ہیں ، جس میں انسان کی عمومی حالت ہی میں سزا کا بیج موجود ہے،اور یہ سزا، کسی جرم کے سبب نہیں ، آدمی ہونے کے سبب ہے۔ آدمی← مزید پڑھیے
حاضرینِ محفل! سب سے پہلے تو اربابِ قلم کے تمام معزز دوستوں کا شکریہ کہ انہوں نے آج محترمہ شکیلہ رفیق اور ڈاکٹر ستیہ پال آنند کو خراج عقیدت و محبت پیش کرنے کا اہتمام کیا۔ دوسرا شکریہ آپ سب← مزید پڑھیے
ننانوے خوابوں کا گیت۔ ریسائٹل کی شام99 سالہ بوڑھا سٹیج پر گٹار بجا رہا تھا۔ اس کی 89 سالہ بیوی ایسی قوت سے گا رہی تھی جیسے وہ اٹھارہ سال کی لڑکی ہو۔ طویل قامت ننانوے سالہ بوڑھا بچوں کی← مزید پڑھیے
شام کے سائے گول باغ کی روشوں پر اس طرح پھیل رہے تھے جیسے کسی قدیم مسودے پر سیاہی گر گئی ہو۔ گول باغ کے عین وسط میں، جہاں پرانی بنچیں جڑوں سے اکھڑے ہوئے کسی بوڑھے درخت کے دانتوں← مزید پڑھیے