Syed Mohammad Zahid کی تحاریر
Syed Mohammad Zahid
Dr Syed Mohammad Zahid is an Urdu columnist, blogger, and fiction writer. Most of his work focuses on current issues, the politics of religion, sex, and power. He is a practicing medical doctor.

عشق بالرضا (نظم)۔سید محمد زاہد

مورتیوں کے حسن کی تپش سے جنس عبادت کی لو میں گھلتی ہے۔ دیویوں کے تن بدن سے، معبد خال و خط ادھار لیتے ہیں۔ مردانہ وجاہت کے سوتے دیوتاؤں کے حسن کے بیان سے پھوٹتے ہیں انگلیاں کاٹنے والیاں←  مزید پڑھیے

عزازیل/سید محمد زاہد

وہ برکانی شیشے اور آتش فشانی انگاروں سے بنے تخت پر بیٹھا خنجر کی نوک سے ناخنوں میں الجھی راکھ صاف کررہا تھا۔ پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کچھ نہ سوجھا تو اسی خنجر سے تخت پر جڑے زبرجد، عقیق←  مزید پڑھیے

موت کا کنواں/سید محمد زاہد

آج عرس مبارک کا آغاز تھا اور آج ہی ڈاکٹر نے پلاسٹر اتار کر کہا تھا کہ ہڈی جڑ چکی ہے، اب وہ چلنے پھرنے میں آزاد ہے۔ سینے کا درد بھی ٹھیک ہو چکا تھا۔ مهک کو پچپن کے←  مزید پڑھیے

لمس ایک دھوکا ہے/سیّد محمد زاہد

’’اس ملک میں لوگ ایک دوسرے کو ہمیشہ رشتوں سے پکارتے ہیں. کسی کو بھائی بنا لیا، کسی کو بہن کہہ دیا۔ جگری دوست کو بھی بلانا ہے تو اس کا نام لینے کی بجائے بہن بھائی کہہ کر پکارا←  مزید پڑھیے

زومبیوں کا جتھا/محمدزاہد

برچھی ڈھال سے ٹکرائی اور تلوار تلوار سے۔ لوہے سے لوہا ٹکرانے کی یہ جھنکار وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تیزی لارہی تھی۔ بے روح جسموں میں تھکن کے آثار دور دورتک نہیں تھے۔ بے خوف و خطر لڑنے←  مزید پڑھیے

جدید دیوتاؤں کی تخلیق/سیّد محمد زاہد

وہ کئی دن سے اس سنگ مرمر کو دیکھ رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ یہ چٹان اس کے حسین تصورات کا روپ دھارے گی۔ سرمئی دھنک اور سپیدی سے ابھرتی باریک سیاہ لکیروں میں خلط ملط شبیہ ظہور پذیر←  مزید پڑھیے

مریم نواز ہیلتھ کلینک: مسائل، امیدیں اور خدشات/سیّد محمد زاہد

مشترکہ ہندوستان میں مغربی طریقہ علاج کی تاریخ 1600 کی ہے، جب پہلے ڈاکٹر ایسٹ انڈیا کمپنی کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ سرجن کے طور پر ہندوستان پہنچے۔ 1757 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی حکمرانی قائم←  مزید پڑھیے

اردو بازار کے بزنس ٹائیکون/سیّد محمد زاہد

شام ڈھلنے لگی تو اورئینٹل کالج سے باہر نکل آیا۔ چند قدم چلنے کے بعد دائیں طرف مڑ گیا۔ کالج کی دیو مالائی عمارت داہنے ہاتھ پر تھی۔ رک کر اس مادر علمی کو آخری بار دیکھا۔ اس کا نقشہ←  مزید پڑھیے

پُر امن مسکن/سید محمد زاہد

مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی موت و حیات کے گہوارے میں جزر و مد کی طرح جھولتی رہتی ہے۔ جہلم ندی کی موجیں انہیں جھولے جھلا رہی تھیں۔ لائف جیکٹس سے کبھی ہوا نکال کر گہرے پانی میں غوطہ←  مزید پڑھیے

وجود/سید محمد زاہد

’’گڈ مارننگ! اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں۔ یونیورسٹی کی تعلیم سکول←  مزید پڑھیے

غزل/سیّد محمد زاہد

ہر نئی غزل ہے میرے گناہوں میں اضافہ پاپی اباحی کو رہین منت گناہ ہی رکھنا بار محبت سے ہے میری فروتنی قائم بندہ عاجز کو رہین منت چاہ ہی رکھنا نگاہ ناز سے ہو جاتے ہیں طبق روشن لپکتے←  مزید پڑھیے

اک رات کی تلاش/سیّد محمد زاہد

صدیاں بیتیں، یگ بیت گئے اک آرزو تھی تجھے پانے کی اک رات ساتھ بیتانے کی وہ اک رات جب میں تیرے پہلو میں تھی وہ اک رات جو چند لمحوں میں تکمیل کو پہنچی صدیاں بیتیں، یگ بیت گئے←  مزید پڑھیے

بدن/نظم؛سیّد محمد زاہد

ساعت وصل میں بس، یہی نیکو کاری ہے کار محبت اور بڑھاؤ، بہت بے قراری ہے اک لمحہ ہجر کبھی، نصیب ہی نہیں ہوا بدن سے مکالمہ میں، زندگی گذاری ہے کمر کی یہ وادیاں، سریں کی وہ گھاٹیاں سینے←  مزید پڑھیے

موت/سید محمد زاہد

دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روازنہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جاتے سورج کی روشنی ڈھلنے سے بہت←  مزید پڑھیے

ملن کے گیت/سیّد محمد زاہد

سردیوں کی لمبی اور اداس رت میں دھڑکنیں بھی برف ہو جاتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سورج نے منہ دکھایا تو برف پگھلنا شروع ہوئی۔ درختوں سے جھانکتا سورج بمشکل اتنا گرم تھا کہ دیودار اور صنوبر کے درختوں←  مزید پڑھیے

پیار اور محبت کے اس ’مکالمہ‘ کو سالگرہ مبارک/سیّد محمد زاہد

درد کا رشتہ سب سے بڑا رشتہ ہے۔ غم گسار اکٹھے ہو کر اپنے غم کا ذکر کرتے ہیں۔ زبان درد بیان کرتی ہے تو دکھ کم ہو جاتا ہے۔ رنج و الم کے اس بیان کو قلم سنواراتی ہے←  مزید پڑھیے

جنتِ گم گشتہ/سیّد محمد زاہد

اس شہر کا نام تھا، فردوس بریں۔ سائنسی ترقی کے سامنے دنیا بھر کی مشکلات سرنگوں ہوئیں تو انسان کی سب خواہشات بھی پوری ہوگئیں۔ چمکتا سورج اور روشن نیلا صاف آسمان، عالی عمارتیں، لوازم شاہانہ سے آراستہ اور ان←  مزید پڑھیے

انتہا پسندوں کی جمہوریت/سید محمد زاہد

1835 میں امریکی صدر پر پہلا قاتلانہ حملہ ہوا اس کے بعد سے اب تک کے سولہ حملوں میں ملوث ملزمان کی زندگی پرلکھی جانے والی کتاب American Assassains: The darker side of politics. میں مصنف کلارک لکھتے ہیں کہ←  مزید پڑھیے

سر برہنہ لاشے کا ماتم/سیّد محمد زاہد

اشاروں کنائیوں کی زبان وہ بہت اچھی طرح سمجھتی تھی کیونکہ وہ طوائف تھی اور گاہک کی رگ رگ سے واقف۔ طوائفوں سے عشق نہیں ،سودا ہوتا ہے۔ لوگ کھلونوں سے دل بہلانے آتے ہیں اور وہ ان کی جیبوں←  مزید پڑھیے

ماں کو حنوط کرنا/سیّد محمد زاہد

کوئی رات اس پر اتنی بھاری نہیں تھی۔ کسی رات کا سکوت اتنا گہرا نہیں تھا۔ آج تو دنیا کی ہر چیز، ہر ذرہ اس خاموشی سے چھو کر ایک سکتے میں بدل گیا تھا جیسے بن چاند کی رات←  مزید پڑھیے