شیخ خالد زاہد
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔ ان کے منتخب مضامین کا پہلا مجموعہ بعنوان قلم سے قلب تک بھی شائع ہوچکا ہے۔
ہم اس دور میں پہنچ چکے ہیں جہاں سال مہینے ، مہینے دنوں میں اور دن گھنٹوں میں گزرنا شروع ہوجائیں گے، گویا وقت کو پَر لگ جائیں گے ۔ جو لوگ وقت کے پیروں میں یا پروں کیساتھ چلنے← مزید پڑھیے
ملک کو چلانے والے جب اس بات سے مبرّا ہوجائیں کہ جس سرزمین کی آبیاری پر انہیں تعینات کیا گیا ہے ،جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے انکے کسی عمل سے اسے نقصان تو نہیں پہنچ رہا ۔← مزید پڑھیے
راستے پر بیٹھے ایک بزرگ نے سامنے سے گزرنے والی عورت کی خوبصورتی کی تعریف کر دی جو اس عورت کے ساتھ چلنے والے شخص کو ناگوار گزری اور اس نے بزرگ پر ہاتھ اٹھا دیا اور آگے بڑھ گئے۔← مزید پڑھیے
بہت عرصہ اس خوف میں بیت گیا کہ قلم کو روندے جانے کی جو رسم چل پڑی ہے اس میں ہمارا قلم بھی کہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو جائے، گوکہ ہم نے ہمیشہ اس بات کو ملحوظِ خاطر ← مزید پڑھیے
ہم اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہوگا کہ اس نے ہمیں رہنے کیلئے دنیا جہان کی نعمتوں سے بھرپور ایک خطہ زمین ہمارے آباءو اجداد کی قربانیوں کی بدولت عطاء فرمایا ۔ اس خطہ کی← مزید پڑھیے
دنیا جہان کی طرح پاکستان میں بھی مکانات اور رہنے کیلئے بنائی گئی رہائشگاہیں موسموں کی مناسبت سے بنائی جاتی ہیں ۔ وہ علاقے جہاں بارشیں یا برفباری ہوتی ہے وہاں مخصوص چھتوں والے مکان بنائے جاتے ہیں تاکہ پانی← مزید پڑھیے
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد 2 کروڑ بتائی جاتی ہے جبکہ پاکستان کی اکثریت آبادی مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زندگیاں گزار رہی ہے ۔ جہاں ایک گھر میں تین یا اس سے بھی← مزید پڑھیے
ملک انتہائی تکلیف دہ حالات سے دوچار ہے اور ان تکلیف دہ حالات کا سبب ملک کو خودمختار ہونے سے روکنا ہے ۔ روایتی حالات کے عادی اور صحیح غلط سے عاری طرزِ حکمرانی کے نظام کو چلانے والے بھلا← مزید پڑھیے
وقت کسی بپھرے ہوئے سمندر کا رویہ اختیار کر چکا ہے جس کی وجہ سے ساری دنیا کے حالات غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔ جیسا سوچا تھا ویسا تو ہوا نہیں اور ویسا ہوگیا جس کا خیال← مزید پڑھیے
بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگیاں کسی کوہلو کے بیل کی طرح گزرتی جارہی ہیں یعنی گردشِ ایام ایک مخصوص گرداب کی زد میں ہے ۔ بقول شاعر کے ْرخ ہواءوں کا جدھر ہے ادھر کے ہم ہیں← مزید پڑھیے
ریوڑ سے قوم بننے کا سفر۔۔شیخ خالد زاہد/پاکستان کی تخلیق کا بنیادی نقطہ کلمہ لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ تھا جس پر برِ صغیر کے مسلمانوں کی اکثریت نے لبیک کہا اور تحریک پاکستان کا وجود عمل میں آگیا ۔ یہ کلمہ حق جو مسلمانوں کی میراث ہے پاکستان کے حصول کا نظریہ بھی رہا← مزید پڑھیے