کیا پاکستان کو میری ضرورت ہے؟/شیخ خالد زاہد

ہم اس دور میں پہنچ چکے ہیں جہاں سال مہینے ، مہینے دنوں میں اور دن گھنٹوں میں گزرنا شروع ہوجائیں گے، گویا وقت کو پَر لگ جائیں گے ۔ جو لوگ وقت کے پیروں میں یا پروں کیساتھ چلنے کی کوشش کرینگے وہ ہلکان ہوجائیں گے اگر ہلکان ہوکر بھی خود کو وقت کی رتھ سے الگ نہیں کرینگے تو تقریباً ضائع ہوجائیں گے کیونکہ وقت کسی کے بس میں نہیں آنے والا ۔ کوئی کتنا ہی بڑا وقت کوانتظام سے چلانے والا کیوں نا ہو ،وہ وقت کو قابو میں کر ہی نہیں سکتایہ اور بات ہے کہ آپ اپنے آپ کو انتہائی محدود کر کے زندگی کے راستے پر یا پھر پگ ڈنڈی پر چلاتے رہیں ۔ طاقت وقت کو قید کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور جز وقتی ایسا ممکن ہوتا دکھائی بھی دیتا ہے لیکن جیسے ہی ذرا سی طاقت میں کمی آتی ہے وقت ایسے بھاگتا ہے کہ اگلی پچھلی ساری کسر  نکال دیتا ہے ۔

ایک بہت ہی سبق آموز چند الفاظ پر مشتمل تحریر :میرا یہ وہم تھا کہ میں سب سے اہم تھا”سماجی ابلاغ پر کئی دنوں سے دیکھی  جا رہی  ہے ۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ اس بات پر ڈٹے رہتے ہیں کہ میں بہت اہم ہوں لیکن یہ دنیا کس بے دردی سے وقت کے ہاتھوں روندتی ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن اگر ہم بینائی رکھتے ہیں تو دیکھ سکتے ہیں کہ کس کس طرح سے اپنے اپنے وقت کے خداؤں کو   غیر اہم قرار دیا گیا اور جو غیر اہم تھے انہیں کس کس طرح سے اہم قرار دیا گیا ۔

ہم نے ہمیشہ یہ پڑھا ، سنا اور لکھا ہے کہ پاکستان وقت کے سب سے سنگین دور سے گزر رہا ہے سو آج کے دن بھی ایسا ہی ہے ، پاکستان کو اس حال پر پہنچا دیا گیا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت پاکستان پر حملہ کئے بغیر پاکستان کی داخلی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو کمزور ترین کر چکی ہے ۔ ملک کی بد تری میں ہمیشہ سے ایک عنصر مشترک رہا ہے اور وہ ہیں  ہمارے داخلی حالات جو صرف اور صرف اقتدار کے حصول کیلئے خراب کرنے سے گریز نہیں کیا گیا، اور اقتدار کا حصول یا اقتدار میں رہنا کیوں ضروری رہا ہے تاکہ اپنی کی گئی بدعنوانیوں پر سے کوئی پردہ نہ  اٹھا سکے ۔ اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں موروثی سیاست بھر پور طریقے سے نشو و نما پارہی ہے ۔ عوام کے مسائل آج بھی ویسے ہی ہیں   جیسے پہلے تھے ۔

قابلِ  تعریف بات یہ ہے کہ سب سے پہلے والے کام کروائے جاتے ہیں جن کاموں کی افادیت تقریباً فوت ہوچکی ہوتی ہے اس طرح سے عوام کے لئے کوئی ایسا کام جس سے فوری فائدہ پہنچ سکے نہیں کیا جاتا ۔ کبھی بجٹ کبھی کچھ تو کبھی کچھ سے بہلاوے دیے جاتے رہتے ہیں ۔ پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں اپنی ضرورت کیلئے آئین تک معطل کر دئیے گئے ۔ پاکستان کو کبھی لسانیت نے تقسیم کیا ، کبھی فرقہ واریت نے نقصان پہنچایا تو کبھی پاکستان کسی اور کی جنگ میں اپنا سارا وجود لہولہان کربیٹھا ۔

آج پاکستان حقیقت میں کسی ایسے جہاز  کی  صورت دکھائی دے رہا ہے جو سمندر کے تھپیڑے کھا کھا کے بے حال ہوچکا ہے اور بظاہر تو نہیں لیکن اسکی مخدوش حالت جاننے والے دیکھ سکتے ہیں کہ کبھی بھی کچھ بھی بہت زیادہ برا ہوسکتا ہے ۔ اتنا برا کہ آپ کو باقاعدہ بھکاریوں کی طرح بھیک مانگنی پڑسکتی ہے یا پھر اپنے قیمتی اثاثے گروی رکھوانے پڑ سکتے ہیں ۔ پاکستان کو اس حال میں پہنچانے والے اتنے پیسے والے ہیں کہ اگر واقعی یہ ملک و قوم سے مخلص ہوتے تو نوبت اس نہج تک کبھی نہیں پہنچتی ۔ ہم نے تقریباً لکھنے سے اپنے آپ کو باز رکھ لیا تھا اسی اثناء میں ارشد شریف شہید کا واقعہ  ہوگیا، اور رہی سہی جرات بھی گویا سسکیاں لینے لگی لیکن آج ایسا لگا کہ  پاکستان کو ابھی میری ضرورت ہے ابھی لوگوں میں آگہی کا دیا جلائے رکھنے کی ضرورت ہے جو آنے والے وقت کا اندازہ لگانے کے اہل ہو سکیں اور جان بوجھ کر کسی ایسی غلطی کے مرتکب نہ  ہوجائیں کہ جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

وقت ہم سب سے پاکستان کا ساتھ دینے کا تقاضا  کر رہا ہے وہ ہم سے نا صرف ہماری نسلوں کی حفاظت کا ساتھ مانگ رہا ہے بلکہ وہ دنیا میں بتدریج ہونے والی جگ ہنسائی سے بھی پناہ کی درخواست کر رہا ہے ، پاکستان کو آج پھر پاکستانی قوم کی ضرورت ہے اگر ہم نے اس ضرورت کے وقت میں پاکستان کا ساتھ نہ  دیا تو پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا،خاکم بدہن ہم پاکستانی کہلانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ تو اٹھ جائیں اور ہر اس فرد کو جھنجھوڑیں جو پاکستانی ہونے کا دعویدار تو ہے لیکن پاکستان کی ضرورت سے بے خبر ہے ، پاکستان کسی سرطان میں مبتلاء مریض کی طرح کسی شوکت خانم کینسر ہسپتال میں داخلے کیلئے اپنے عزیزو اقارب کا انتظار کر رہا ہے چلیں آئیں آج پھر ہمارے پاکستان کو  ہماری ضرورت ہے ۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

شیخ خالد زاہد
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔ ان کے منتخب مضامین کا پہلا مجموعہ بعنوان قلم سے قلب تک بھی شائع ہوچکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply