شاہد کمال کی تحاریر

ماں ۔۔۔۔۔شاہد کمال

مرا وجود مری روح میری جان ہے ماں غموں کی دھوپ میں خوشیوں کی سائبان ہے ماں مرے وجود کے لہجے میں گفتگو اس کی مری زمین تخیل پہ آسمان ہے ماں اسی کا لمس حقیقت ہے استخوانوں میں مرے←  مزید پڑھیے

رمضان المبارک خود احتسابی اور ظلم کے خلاف تجدید عہد کا نام ہے۔۔۔ شاہدؔکمال

تقویم ایام اور سنین و شہور کا فلسفہ بہت قدیم ہے۔اس کے بادی النظر مباحث بڑے پیچیدہ ہیں۔ چونکہ پورے نظام کائنات کا استقر ار انھیں گردش ایام ِ ماہ  و سال پر انحصار رکھتا ہے۔اگر ہم اس فلسفے کو←  مزید پڑھیے

ایک خوبصورت اداکارہ کا عبرتناک انجام۔۔۔شاہد کمال

یہ دنیا جتنی خوبصورت ہے اس کا اندرون اتنا ہی پُر پیچ، خوفناک اور بدترین ہے۔اس دنیا کے سیکڑوں چہرے اور ہزاروں روپ ہیں۔یہ ہر لمحہ ایک نئی شکل و صورت کے ساتھ خود کو ظاہر کرتی ہے۔یہ اپنے دام←  مزید پڑھیے

حیوانیت زدہ معاشرے کی جنسی تہذیب۔۔۔۔شاہد کمال

ہم جس انسانی سماج ومعاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔اس کی تاریخ بہت قدیم ہے ۔ہماری تہذیب نے پتھروں کے عہد سے اپنی مسافت کا آغاز کیا ۔انسانوں کی لاکھوں سالہ تہذیب عہد بہ عہد اپنے تدریجی مراحل سے ہوتے←  مزید پڑھیے

قرآن کریم۔۔۔شاہد کمال

آئینہ در آئینہ در آئینہ قرآن ہے مصطفیٰ قرآن ہے اور مرتضیٰ قرآن ہے جو مشیت کے لبوں پر رقص فرماتا رہا ہاں وہی رمزِ سکوتِ  ماورا قرآن ہے کر رہا ہے وہ جو تدوین ِ نصابِ کائنات سینہء کُن←  مزید پڑھیے