ایک خوبصورت اداکارہ کا عبرتناک انجام۔۔۔شاہد کمال

یہ دنیا جتنی خوبصورت ہے اس کا اندرون اتنا ہی پُر پیچ، خوفناک اور بدترین ہے۔اس دنیا کے سیکڑوں چہرے اور ہزاروں روپ ہیں۔یہ ہر لمحہ ایک نئی شکل و صورت کے ساتھ خود کو ظاہر کرتی ہے۔یہ اپنے دام فریب میں گرفتار کرنے والے شخص کو ہلاک کردیتی ہے۔کچھ ایسا ہی ساوتھ انڈین فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی حسین و خوبرو ادا کارہ “نشا نور”کے ساتھ ہوا، 80 اور 90 کے عشرے میں،یہ  اداکارہ   اپنی خوبصورتی اور اداکاری کے جوہر سے، اس عہد کے نوجوان دلوں کی دھڑکن بنی رہی۔ساوتھ فلم انڈسڑی میں اس اداکارہ نے ایک کے بعد ایک کئی سپر ہٹ فلمیں دیں۔1981میں فلم” ٹک ٹک ٹک”1986 میں” کلیاڑا آگیتیگل”1990 میں،”آیر دی گریٹ” جیسی فلموں میں مرکزی کردار (ہیروئن) ادا کیا، اپنی بے پناہ خوبصورتی اور جاندار اداکاری سے سنہری  سکرین پر نمایاں رہی۔
لیکن فلمی دنیا میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ، جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ کچھ یہی نشا نور کے ساتھ بھی ہوا، جب نشا نور کی حسن و خوبصورتی کی دہلیز پر خزاں کے زرد موسم نے دستک دی، تو ان کی شہرت کا چمکتا ہوا سورج بھی اپنی زرتار کرنوں کو سمیٹ کر بلندی کی سیڑھیوں سے گمنامی کے نشیب میں یوں اترنے لگا، جیسے ڈھلتی ہوئی شام کے ساتھ انسان کے  جسم سے اس کا سایہ دور ہونے لگتا ہے۔دنیا نے نشا نور کو نظر انداز کرنا شروع کردیا، یہاں تک کہ انھیں فلمیں ملنا بند ہوگئیں، دھیرے دھیرے وہ صرف پردہ سیمی سے ہی غائب نہیں ہوئیں بلکہ لوگوں کے حافظے سے بھی ان کی شخصیت کے ساتھ ان کا نام بھی مٹ گیا۔نشا نور کی زندگی کے ساتھ اس دنیا نے ایک انتہائی سفاک مذاق کیا، جس کی وجہ سے وہ زندہ رہتے ہوئے بھی گمنامی کے اندھیرے میں ہمیشہ کے لیے غائب ہوگئیں، نشا نور اپنی زندگی کے آخری لمحہ میں ایک درگاہ کے پاس فقیروں کی  صف میں پڑی ہوئی ملیں ۔اس حالت ناپُرسانی میں بھی ان کے کچھ مداحوں نے انھیں پہچان لیا۔لیکن اسوقت ان کی حالت ایسی تھی کہ صرف کچھ ٹوٹتی اور بکھرتی ہوئی سانسیں ان کی زندگی کا آخری سرمایہ تھیں۔وقت کے سفاک ہاتھوں نے ان کے جسم کی ہڈیوں سے سارا  گوشت نوچ لیا تھا۔ ان کے بدن پر چیونٹیوں اور بھنبھناتی ہوئی مکھیوں نے قبضہ جما لیا تھا۔ان کا پورا جسم ماضی کی ایک خوبصورت داستان کا ایک ایسا ملبہ بن کر رہ گیا تھا جسے دیکھ کر انسان سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کرسکتا تھا۔


نشا نور کو اس انتہائی خراب حالت میں وہاں سے اٹھا کر چنئی کے ایک اسپتال میں ایڈمٹ کروا دیا گیا، لیکن وہ دوبارہ صحتیاب نہ ہوسکیں، کچھ دن کے بعد اسی اسپتال میں انھوں نے اپنا دم توڑ دیا۔لیکن ڈاکٹروں کی رپورٹس سے اس بات کا انکشاف ضرور ہوا کہ انھیں ایڈز  جیسی بیماری لاحق ہوگئی تھی۔اس سے فلمی دنیا کے سنہری پردے کی پیچھے کی کالی دنیا کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔سر دست مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آگیا اسے آپ بھی سنتے چلیں۔
نہ جا ظاہر پرستی پر اگر کچھ عقل و دانش ہے
چمکتا جو نظر آتا ہے سب سونا نہیں ہوتا

اس طرح دنیا کے ہاتھوں مارے جانے والی مشہور ہستیوں کے باب میں ایک اور اضافہ ضرور ہوگیا۔
میر انیس نے اس نیرنگی دنیا، اور اس کی بے ثباتی سے متعلق کیا خوب کہا ہے۔
کسی کی ایک طرح سے بسر ہوئی نہ انیس
عروج مہر بھی دیکھا تو دوپہر دیکھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *